جمعیت علماء هند

گیان واپی اور متھرا عید گاہ سے متعلق تجویز

بموقع اجلاس مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند۔ 28،29/ مئی 2022دیوبند

پیش کنندہ: حافظ عبید اللہ صاحب بنارس
جمعیت علمائے ہند کایہ اجلاس قدیم عبادت گاہوں کے تنازعات کو بار بار اٹھا کر ملک کے امن و امان کو خراب کرنے والی طاقتوں اور ان کے پس پشت سیاسی مفاد رکھنے والی جماعتوں کے رویے سے سخت نفرت و بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔گیان واپی مسجد، متھرا عید گاہ اور دیگر مساجدان دنوں ا سی منافرتی مہم کی زد میں ہیں، جس کا حتمی نتیجہ ملک کے امن و امان اور اس کے وقار و سالمیت کو نقصان پہنچانا ہے۔
ایودھیا تنازع کی وجہ سے پہلے ہی سماجی ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ امن وامان کو بہت نقصان پہنچاہے۔ اب ان تنازعا ت نے مزید محاذ آرائی اور اکثریتی غلبہ کی منفی سیاست کونئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ حالاں کہ پرانے تنازعات کو زندہ رکھنے اور تاریخ کی مزعومہ زیادتیوں اور غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کرنے سے ملک کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔اِس سلسلے میں بنارس کی ذیلی عدالت نے تفرقہ انگیز سیاست کو مدد فراہم کی ہے اور عبادت گاہ (خصوصی دفعات) ایکٹ1991ء کو صریح طریقے سے نظرانداز کیا ہے، جس کے تحت یہ طے ہوچکا ہے کہ 15/اگست1947 کو جو عبادت گاہ جس حیثیت پر قائم تھی، اُسی پر قائم رہے گی۔نیز بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو نظر انداز کیا ہے، جس میں دیگر عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے سے متعلق اس ایکٹ کا خاص طور سے تذکرہ کیا گیا تھا۔
جمعیت علمائے ہند ارباب اقتدار کو متوجہ کرتی ہے کہ تاریخ کے اختلافات کو زندہ کرنا؛ملک کے امن و امان کے لیے ہرگز مناسب نہیں ہے۔ خود سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے فیصلے میں عبادت گاہ ایکٹ 1991کو آئین کے بنیادی ڈھانچے کی اصل روح بتایا ہے، جس میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ حکومت، سیاسی جماعتوں اورمذہبی گروہوں کو اس معاملے میں گڑے مردے اکھاڑنے سے اجتناب کرنا چاہیے، تب ہی جاکر آئین کے ساتھ کیے گئے عہد کی پاسداری ہوگی، ورنہ آئین کے سا تھ بہت بڑی بدعہدی کہلائے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: