اسلامیاتزبان و ادبمضامین

ہاں میں دارالعلوم دیوبند ہوں!

نقی احمد ندوی ریاض سعودی عربیہ

ہاں میں وہی دارالعلوم دیوبند ہوں جس کا نام اور شہرہ چہار دانگ عالم میں ہے۔ ٓآج سے ایک سو چھپن سال پہلے 1857 کی جنگ کے بعد جب ہندوستانی مسلمانوں پر شکست کی وجہ سے ایک پزمردگی چھاگئی تھی تو ایک عظیم مجاہد آزادی مولوی محمد قاسم نانوتوی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر میری بنیاد 30 مئی 1866 کو دیوبند میں رکھی۔ ہندوستان کی اور خاص طور پر مسلمانوں کی دیڑھ سو سالہ تاریخ میرے فرزندوں کی قربانیوں سے معمور ہے جسے دنیا کا کوئی بھی مورخ نظر انداز نہیں کرسکتا۔

ہاں میں وہی دارالعلوم دیوبندہوں جس نے ہندوستان کی آزادی میں اپنے فرزند نچھاور کئے۔ محمود حسن دیوبندی، عطاء اللہ شاہ بخاری، شبیر احمد عثمانی، حفظ الرحمان سیوہاروی اور عبیداللہ سندھی جیسے سیکڑوں میرے فرزند تھے جنھوں نے ہندوستان کی آزادی میں ایسا کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ اور میرے بانیوں کا مقصد صرف علم دین کی حفاظت نہیں بلکہ ایسے انقلابی علماء پیدا کرنا تھا جو ہندوستان کی تاریخ بدلنے کی اہلیت رکھتے ہوں اور یہ کام بخوبی شروع کے ایام میں میرے فرزندوں نے کر دکھایا۔

چنانچہ ہندوستان میں جو بھی تعلیمی تحریکیں اٹھیں ان میں میرے ہی فرزندوں کا کلیدی رول رہا ہے۔ ندوہ کس نے قائم کیا۔ سہارنپور کس کی دین ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ دینیات کس نے قائم کیا۔ تبلیغی جماعت جو دنیا کی سب سے بڑی دعوتی تنظیم ہے کو شروع کرنے والے کون تھے۔ یہی نہیں، جامعہ ملیہ اسلامیہ جو آج دنیا میں مشہور ہے اس کے بانی حضرات کون تھے؟ ان سب کے پیچھے بالواسطہ یا بلا واسطہ جن شخصیات کا ہاتھ تھا وہ سب کے سب میرے ہی چشمہ علم سے فیضیاب تھے۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ ہندوستان میں دینی تعلیم کی شمع جس نے سب سے پہلے جلائی وہ میں ہی تو ہوں۔

ہندوستان ہو یا پاکستان، برطانیہ ہو یا کناڈا، جنوبی افریقہ ہو یا بنگلہ دیش، جہاں بھی علم دین کے جلتے ہوئے قمقمے آپ کو نظر آتے ہیں، ان سب کے قیام کے پیچھے میرے ہی فرزندوں کا ہاتھ نظر آئیگا۔ مظاہر العلوم، ندوہ، مدرسہ امینیہ، جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی، جامعہ اسلامیہ ڈابھیل، دارلعلوم کراچی، جامعہ بنوری ٹاون کے علاوہ سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مدارس دنیا کے گوشہ گوشہ میں جو علم دین کی روشنی پھیلارہے ہیں ان سب کا رشتہ کہیں نہ کہیں سے مجھی سے جاکر ملتا ہے۔ مدارس کیا، تحریک کیا بلکہ انقلابی تنظیمیں جو بھی آپ کو ہند وپاک میں نظر آرہی ہیں ان سب کا تخم میرے ہی فرزندوں نے ڈالا تھا۔ جمعیت علماء ہند، جمیعت علماء پاکستان، تحریک اسلامی طالبان، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ، حفاظت اسلام بنگلہ دیش، تبلیغی جماعت، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، اور اسلامک فقہ اکیڈمی کو میرے ہی لاڈلوں نے قائم کیا۔

حدیث، فقہ، تفسیر، بلاغت، ادب اور علوم دینیہ کے دیگر شعبوں میں ہزاروں تصانیف اگر میری نیک نامی کا سبب بنیں تو دوسری طرف اشرف علی تھانوی، محمد شفیع عثمانی، انور شاہ کشمیری اور دیگر سیکڑوں علماء نے برصغیر ہند وپاک میں جو علمی، روحانی اور دعوتی خدمات انجام دیں وہ میرا ہی شاہکار تو ہیں۔

ستر ایکڑ میں پھیلے ہوئے میرے صحن میں پانچ ہزار طلبہ میرے چشمہ فیض سے سیراب ہوکر جب نکلتے ہیں تو فرشتے ان کے لئے اپنے پر پھیلادیتے ہیں۔

مگر میری کچھ یادیں بہت تلخ ہیں۔ ایسی تلخ کہ بارہا میری زبان پر یہ شعر آجاتا ہے۔

یاد ماضی عذاب ہے یارو

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

ایک سو سولہ سال تک میرے صحن میں طالبان علوم نبوت ہنستے مسکراتے اور کھیلتے رہے۔ مگر 1982 میں کچھ مفاد پرست لوگوں نے میرا سینہ چاک کردیا۔ میرے بانی کی آل اولاد کو انھیں کے گھر سے نکال دیا۔ مولوی طیب قاسمی کو مجبور کردیا کہ وہ مجھ سے جداہوجائیں اور ایک الگ ادارہ قائم کریں۔ چنانچہ میں دو ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ کسی نے بھی میری عزت وعظمت کا خیال نہیں کیا۔ یہ وہ زخم تھا جوآج تک ہرا ہے۔

ہاں میں وہی دارالعلوم دیوبند ہوں جس کی تاریخ جتنی شاندار ہے اتنی ہی دردناک اس کی کہانی ہے۔ مولوی قاسم نانوتوی نے جب مجھے قائم کیا تو اس وقت پورے ہندوستان میں مدارس میں امتحانات کا رواج نہ تھا۔ ہاسٹل کا نظام نہ تھا۔ نصاب کا قیام نہ تھا۔ مگر مولوی قاسم جتنے مخلص تھے اتنے ہی وہ دانشور، وسعت نظری کے حامل دور اندیش عالم دین بھی تھے۔ انھوں نے نہ صرف یہ کہ مجھے جدید طرز پر قائم کیا بلکہ یہ اپنے چھ اصولوں میں ایک اصول یہ بھی لکھا کہ میرے نصاب میں وقت کے لحاظ سے تبدیلی کی جاتی رہے۔ مگر ان کے بعد کے لوگوں نے ان کی ایک نہ سنی۔ دیڑھ سو سال تک مجھے جمود، تعطل اور قدامت پرستی کی زنجیروں میں جکڑے رکھا۔ ہزاروں فارغین نکلے مگر کسی نے کوئی نیا نصاب نافذکرنا تو دور نصاب تک تیار نہیں کیا۔ سائینس اور جدید علوم پڑھانا تو دور انگریزی تک کی تعلیم کو حرام سمجھا۔ ان کی ترجیح میں صرف بدعت کے نام پر فرقہ بندی، دعوت دین کے نام پر مناظرہ، حدیث کی خدمت کے نام پر شروحات کی تالیف اور سب سے بڑھ کر مجھ کو حنفی مسلک کا ایک بت خانہ بنادیا جہاں صرف حنفیت اور فرقہ واریت کے اصنام باطلہ پوجے جانے لگے۔ میری تعمیر اسلام کی تعلیم کے نام پر ہوئی تھی مگر میرے چاہنے والوں نے مسلکیت اور فرقہ بندی کا مجھے اڈہ بنادیا۔ میرا دم گھٹنے لگا۔ مگر میرے احساسات کو کبھی محسوس کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ میں چیخ چیخ کر بولتی رہی کہ مجھے باد بہار ی کے کچھ نئے جھونکے دیدو میر ادم گھٹ رہا ہے مگر یہ لوگ مجھے سیکڑوں سال پرانی کتابوں کے بوسیدہ اوراق سے ہوا دیتے رہے۔

ہاں میں وہی دارالعلوم دیوبند ہوں جہاں تصوف، تبلیغی جماعت، شروحات کی تصنیف وتالیف، مناظرہ بازی اوربزرگوں کا تقدس اور اپنے علاوہ ہر ایک کوکافر گرداننے اور قرار دینے کے ملکہ حاصل کرنے کو کامیابی سمجھا جانے لگا۔ میری روح کانپ رہی تھی کہ اب میرے فرزندوں کو دنیا کس نگاہ سے دیکھنے لگی ہے۔ مولوی قاسم کے دور میں جو نسل نکلی وہ اب کیوں نہیں نکل رہی ہے۔ فرق صاف تھا۔ مولوی قاسم نے تو اپنے زمانہ کے لحاظ سے سب سے اپ ٹو ڈیٹ مدرسہ کھولا تھا مگر ان کے بعد کے لوگوں نے زمانہ کے لحاظ سے کوئی بھی تبدیلی نہیں کی۔ اس لئے آج کے میرے فرزند میری نیک نامی کا باعث نہیں بن پارہے۔ مگر میں کسے سمجھاوں اور کیسے سمجھاوں۔ جو میری عمارتوں پر قابض ہیں ان پر پر تقدس کے نام پر جہالت، دینی علوم کے نام پر قدامت پرستی اورعصری علوم کے نام پر کج فہمی قابض ہے۔ ہم دونوں کسی نہ کسی کے قبضہ میں مجبور وبیکس ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ بول سکتے ہیں اور میں بول نہیں سکتا۔

ہاں میں وہی دیوبند ہوں جہاں دیو کے گیت کے بدلے لاالہ الا اللہ کے نغمے جب بلند ہوتے ہیں تو ہر طرف تسکین وروحانیت کی فضا چھاجاتی ہے۔ مگرمیری روح کو تسکین نہیں ملتی۔ ہمیں کوئی بتائے کہ میری گلشن میں محبت کے نغموں کے بدلہ علوم دینیہ کے نام پر فقہی جھگڑے کیوں پڑھائے جاتے ہیں۔ یہاں انگریزی، فرنچ، جاپانی اور جرمن زبانیں کیوں نہیں پڑھائی جاتیں تاکہ یہاں کے فضلاء ان زبانوں میں علوم دینیہ کو منتقل کرکے وقت کی ضرورت کو پوری کرسکیں۔ یہاں رد مودودیت کے بجائے قرآنی علوم کا ریسرچ سنٹر کیوں نہیں کھولا گیا تاکہ مفتی محمد شفیع کی تفسیر کے بعد کوئی ایسی تفسیر لکھی جاتی جو زمانہ کے لحاظ سے جدید تعلیم یافتہ طبقے کے علم کی پیاس بجھاتا۔ یہاں مناظرہ کے بجائے جرنلزم کے شعبے کیوں نہیں کھولے جاتے تاکہ ہمارے فضلاء انگریزی ہندی اور دیگر زبانوں میں اسلام اور حق کی مدافعت کرنے کے قابل ہوتے۔ یہاں سول سروسز کی تیاری کیوں نہیں کرائی

جاتی تاکہ ہمارے فارغین حکومت کے اعلی عہدوں پر فائز ہوکر اپنے ملک کی خدمت کرتے۔ یہاں فقہ اور فتوی فیکٹریوں کے بجائے لاء اور قانون کی تعلیم کا شعبہ کیوں نہیں کھولا جاتا تاکہ بابری مسجد، تین طلاق اور دہشت گردی میں پھنسے جوانوں کا کیس ہمارے علماء لڑنے کے قابل ہوتے۔ کیا دور امویہ، عباسیہ اور خود مغلیہ حکومت کے دور میں وکیل اور جج ہندو ہوا کرتے تھے، جب اس زمانے میں ہمارے مدارس کے فضلاء ایڈمینسٹریٹر، وکیل، جج اور اہلکار بن کر قوم وملک کی خدمت کرسکتے تھے تو آج کیوں نہیں۔ کیا وہ اس کے اہل نہیں یا ہم نے دینی علوم کے نام پر ان کو نااہل بنادیا ہے۔ آج میرے فرزند چھوٹے چھوٹے مکاتب اور شہروں اور گلیوں کی مساجد میں امامت کرنے کے سوا کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ آخر کیوں۔ اگر میرے قیام کا مقصد صرف مسجد وں کا امام پیدا کرنا ہوتا تو محمود حسن میرا پہلا طالب علم کسی مسجد کا امام ہوتا نہ کہ ہندوستان کی جنگ آزادی کا ایک عظیم مجاہد۔

ہاں میں وہی دارالعلوم دیوبند ہوں، اینٹ اور پتھر کا بنامیرا دل ان احساسات سے پگھلتا ہے مگر ان انسانوں کے دل نہیں پگھلتے جنھوں نے مجھے اپنی انانیت، خود غرضی اور بے علمی کی زنجیروں میں مجھے سوسالوں سے قید کررکھا ہے۔ مجھے آزادی چاہیے، ہاں مجھے آزادی چاہیے۔ مجھے محمود حسن، سندھی، سیوہاروی اور عثمانی جیسے دلیر، بے لوث اور بہادر فرزند چاہیے جو مجھے انا پرستوں اور خود پرستوں کے شکنجوں سے آزاد کراسکے۔ہے کوئی میرا ایسا فرزند!!

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close