مضامین

ہمدردملت حضرات مولانا لیاقت حسینؒؒ صاحب ڈیوکنڈا

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

ہمدردملت حضرات مولانا لیاقت حسینؒؒ صاحب ڈیوکنڈا
پیدائش1908ء تقریباً وفات 28فروری 1978ء فاضل امینیہ دہلی
زمانہ دارالعلوم دیوبند میں میرے یارغارمحمدواصل صاحب چانچے مولانا کی بلندووسیع خدمات کاتذکرہ فرمایا کرتے تھے جس سے راقم کادل عقیدت ومحبت سے بھرآتاتھا،حضرمیری فراغت تک حیا ت رہے لیکن کبھی زیادت کااتفاق نہ ہوسکا،اسکی بڑی وجہ تھی فرصت کی قلت اورمیری طبیعت کی یکسوئی یاوطن سے بعد ودوری اگست ۶۸۹۱ء میں اعلی کمیٹی کی تحقیق کے لئے ڈیوکنڈا حاضرہوا،میرے ذہن میں تھا کہ علاقے کے دیگرواقع فراموش کی طرح یہا ں بھی کوئی نوشتہ یادستاویزدستیاب نہیں ہوگا،زیادہ سے زیادہ زبانی طورپرکچھ معلومات حاصل ہوجائے گی پھرشیخ سعدی رحمۃکے قول۔
ہر بیشہ کماں مبرکہ خالی است
شاید کہ پلنگ خفتہ باشد
سے قلب حزیں کوتسکیں دیتے ہو ئے حضورکے دروازے پرپہلی بارحاضری دی،آپکے صاحبزادے مولوی ریاض الدین صاحب نے کرم خوردہ صندوق کھولا توحیرت کی انتہا نہ رہی کہ اعلی کمیٹی کے تمام دستاویز،فارم،کاغذات اورتحریریں مرتب کردہ محفوظ ومان تھے،مطالعہ سے معلوم ہواکہ آپ کمیٹی کے لئے دھٹرکتے دل کی حیثیت رکھتے تھے۔جہاں سے ہر عضومیں گرم خون کی رسائی ہوتی تھی جس سے ہر عضو متحرک وسر گرم عمل تھا رسمی طور پر اگر چہ آپ علاقہ کمیٹی کے نا ظم تھے لیکن اعلی کمیٹی کے تمام امور آپ ہی انجام دیتے تھے۔اور حضرت مولانہ خلیل الر حمن صاحب شری چک سیکر ٹری اعلی کمیٹی نے آپ ہی کو تمام احکا مات کو نا فز کر نے کا حکم اپنی تحر یروں میں دیا ہے۔ آ پ نے پوری لگن کے ساتھ ہر گاؤں کا دورہ کیا۔ اعلی کمیٹی کے لئے اسیکے قاضی،امیر اور ناظم ہر گاؤں میں منتخب کروائے اور اسکی فہرست مرتب کی،کام اتنی تیزی وسبک رفتاری سے انجا دیا کہ ایک سوانح نگار تمام فائلوں کو دیکھ کر انگشت بد نداں ہے’ایسا محسوس ہوتاہے کہ آپکا کل خدمت کے لئے ابلتا بلکہ چھلکتا رہتا تھا’مرتبہ شانی ودور اندیشی’تحمل وبرداشت ’اوردلسوزی وہمدردی کا ایسا جوہر آپ کو ملاتھاکہ حاسد ونقاد بھی آپکا ’ہمنوااور پروانہ شمع بننے پر مجبور ہوجاتے ’سخت سے سخت حالات اور طعنہ ومخالفت کے طوفان میں بھی آپ نے اپنی شمع جلائی اور ہر ایک کو یکساں روشنی عنایت فرمائی ’اعلی کمیٹی کی آفاقیت ’پر ساہائی اسکول کی مقبولیت ’مسجد سہنولہ کی عمرت اور عید گاہ بیساکی سجاوٹ سے اسکا بخوبی اندازہ ہوتا ہے جو آپ ہی کی شب وروز کے تگ ودوسے منصہ شہود میں آئے ہیں۔
ڈیو کنڈایک متوسط آنادی کی بستی ہے ’جس میں علوم عصریہ وعلو م عربیہ کی روشنی بڑی تیز ہے اکثر علی گڑھ سند یافتہ ہیں تقریبانصف درجن انجینئر اور اگزکٹو انجینئر ہیں کچھ علماء اور صلحا بھی ہیں ’اتنی بڑی تعداد میں اعلی تعلیم یافتہ حضرات بہت کم بستیوں میں اس زمانے میں ہوتے تھے ’اس بستی میں شہر آفاق وولی کامل انجینئر محمد عرفان غنی بھی ہیں جو بہارکے حلقہ تبلیغ میں قابل رشک شمار کئے جاتے ہیں یہ حضرات حضرت مولانا ہی سے تربیت یافتہ اور انہیں کی خرمن سے خوشہ چیں ہیں۔گاؤں میں فوقانیہ تک کا مدرسہ جاری ہے جس میں اساتزہ پوری حاضر باشی اور محنت ولگن کے ساتھ خدمت انجام دیتے ہیں ’لوگوں سے معلوم ہوا کہ یہ مولانا لیا قت صاحب ہی کی لیا قت وحزاقت کی مرہون منت۔لوگوں سے معلوم ہواکہ مولانا نے مسجد سنہو لہ کی بنیاد اور اسکی تعمیر کروانے میں کلیدی کردار اداکیا ہے ’اسکی مالی فراہمی کے لئے گاؤں گاؤں میں کاسۂ گدائی درازکیا۔
اسکوفلک بوس بنانے اورگلکاری کرنے میں استطاعت سے زیادہ ہمت صرف کی ہے مرحوم کواسکی معتمدی اورنظامت کی فضیلت بھی حاصل تھی۔ڈیوکنڈاسے واپسی پرلب گیرواندی خوشنماوخوبصورت،مضبوط وپائدارعیدگاہ یکسادیکھنے کابھی شرف حاصل ہوا، جو مولاناکی سرپرستی میں مرحلہ تکمیل تک پہنچی تھی،اس دیہات میں اتنی وسیع اورپختہ عیدگاہ بہت کم دیکھنے میں آئی ہے،اسکے ہرہرنقش سے بانی کے لئے سداآتی ہے۔
ع کرم کردی الٰہی زندہ باشی
1951ء میں آپنے مسلم ہائی اسکول پرساکے عہدہ نظامت کوزینت بخشی اسکول اسوقت منظوری اوروہ بھی اقلیتی منظوری کی کشمکش میں مبتلاتھا،آپکی مسلسل جدوجہد اورشب وروزکی دلسوزی سے صرف منظوری ہی نہیں ایک مثالی اورشہرہ آفاق اسکول کی حیثیت سے نمایا ں ہوااورعلم ودانش،تہذیب وثقافت کاایسا سکہ جماکہ دیوانگان علم مقنا طیسی کیفیت سے کھینچے ہوئے آنے لگے،انکے حسن انتظام اور تحمل ہی کاکرشمہ تھا کہ بیس سال کے طویل عرصے میں اختلاف وتلخی کوبہت کم راہ ملی اوراسکول ہرآن ترقی کی طرف جادہ پیمارہا،ما سٹرمجیب الحق سیوانی اپنے عنا مت نا مے میں ررقمطرازہیں کہ مولوی لیاقت حسین صاحب ہی کی الفت ویگا نگت اورایثارواحترام کی بناء پرمیں پرساآسکااور اٹھارہ سال کی طویل مدت تک قیام کرسکا اور جب انہوں نے اسکول کوالوداع کہا تومجھے پرساکی زمیں تنگ محسوس ہونے لگی اورپھربہت جلدہی پرساسے رخت سفر۔
باندھ لیا۔اسکا انکار نہیں کہ اوروں نے سہارا دیا ہو گا، لیکن آپ کا مقام موج حوادث میں ناخدا کی طرح ہے، جس پر پورے سفینے کے پار اتر نے کی ذمہ داری ہے۔ 1968ء میں تہذیب و تمدن کا گہوارہ پر سا ہائی اسکول کے صحن میں اختلاف و انتشار شورو ہنگامہ کا ننگا ناچ رچایا گیا اور اس مخلص خادم کو اسکول کی نظامت سے علیحدہ کر دیا گیا، اس سے مو صوف آشفتہ دل اور شکستہ خاطر ہو گئے اور باقی ایام گو شہئ خمول میں گذاری۔
آخر وہ ساعت موعود آپہنچی جس کے زادِراہ کے لئے خدمت وطن کو اپنا اسوہ اور نصب العین بنا یا تھا اور 28/ فروری1978ء کو مولانا اس جہان فانی سے اس عالم جاودانی کی طرف رخصت ہوئے، جہاں اخلاص و درد کی متاع بڑی قدر و قیمت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے اور جہاں کریم نکتہ نواز اور رب غفور سے واسطہ ہے نہ کہ زودرنج و زود فراموش ملت اور ظاہر بیں کو تاہ نظر مورخ سے۔
مولانا کے ساتھ ایک دور کا خاتمہ ہو گیا اور تاریخ کے ایک باب کی تکمیل ہو گئے، جس کے بغیر علا قائی مسلمانوں کی اس صدی کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی، حقیقت یہ ہے کہ مجھ جیسے نظر نار سا کے سامنے اس جیسا پیکر اخلاص خادم علاقے میں کوئی دوسرا نہیں گذرا۔
مت ہیچ انہیں جا نو پھر تا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پر دے سے انسان نکلتا ہے
یہ پیر کہن خادم1908ء کے ارد گرد اس دتیاء رنگ و بو میں تشریف لائے تھے،نسبی شیر خور گی کے بعد شمسیہ گذر گاواں سے رضاعت علم کی تکمیل کی اور اسی کے شیر شیر یں سے پل کر عالم شباب تک رسائی حاصل کی، اس کے بعد سند فراغت مدرسہ امینیہ دہلی سے حاصل کی،مولانا موصوف مولانا قمرالدین صاحب ڈیو کنڈا سابق صدر مدرس مدرسہ شمسیہ گور گاواں کے بھتیجا تھے، اسلئے اوائل عمری ہی سے تر بیت وا خلاق کی زیور سے مرصع و مزین ہونے کی توفیق ہوئی اورآخری سانس تک اسی کی ضیا پاشی کرتے تھے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: