مضامین

ہمیں اپنے گریبان میں جھانکناہوگا

جاویدجمال الدین

اپنے بچپن سے ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ مسجدوں کے صدر دروازے پر غیر مسلم خواتین اپنے نوزائیدہ کولیکرکھڑی رہتی ہیں،یہ اکثرنماز مغرب کے بعد ہی نظرآتا ہے،ان کا مقصد ہوتاہے کہ نمازی بچے پر قرآنی آیات پڑھ کر بچے کی شفاء اور صحتیابی کے لیے دم کردیں،اس کے ساتھ ہی مسجد یامزار کے قریب سے گزرتے وقت یہ غیر مسلم ادب واحترام کاخیال بھی رکھتے ہیں،یہ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ جنازے کے گزرنے پر غیر مسلم بھائی بااحترام کھڑے ہوجاتے ہیں اور کچھ سینے پر ہاتھ رکھتے ہیں یا ہاتھ جوڑتے ہیں۔حال میں حضرت معین الدین۔ چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے آستانہ پر جانے کا موقعہ ملا،صحیح معنوں میں ہندوستان کی ایک اجلی تصویر نظر آتی ہے،یہ الگ بات ہے کہ یہاں ولی اللّہ کے دربار میں جولوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے،اُسے کوئی نہیں روک سکتاہے،ملک میں ایک دوسرا مقام آگرہ کا تاج محل ہے،جہاں اس عظیم یادگار کانظارہ کرنے ملک اور بیرون ملک سے ہزاروں لاکھوں سیاح بلاتفریق مذہب وملت ہر کوئی یہاں پہنچتاہے۔
حال میں ملک کی موجودہ صورت حال کے باوجودمساجد کے باہر یہ منظر دیکھنے ملتا ہے جبکہ میں نے یہ منظر اُن شہروں میں بھی دیکھاہے،جہاں فرقہ پرست عناصر اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے نظر آرہے ہیں اور سرکاری پشت پناہی میں ان کے حوصلے بلند نظرآرہے ہیں۔ہمارے محلے اور کوچے میں رہنے والے رہائش پذیر ہندوبھائی ہمارے تہواروں اوردوسرے دنوں پر اپنی نیک خواہشات پیش کرنے میں کبھی جھجھک محسوس نہیں کرتے ہیں۔فرقہ پرستوں اور ووٹ بینک کے لیے سیاست کرنے والوں کو چھوڑ دیں تو ایک عام شہری چاہے وہ ہندو ہویا مسلمان،ہر ایک تنازع سے دور رہنا چاہتا ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی گلی محلے میں دیڑھ اینٹ کی مساجد بنالی گئی ہیں۔
ممبئی کے ایک چھوٹے سے مسلم اکثریتی علاقے میں تقریباً چالیس سال سے مقیم ہوں،2018 کی بات ہے،ماہ رمضان میں ایک مسجد سے علاقے کے ایک معروف بزرگ شخص کے انتقال کا اعلان لاؤڈاسپیکر پر کردیا گیا،پھر کیاتھا،مسلک کے ایسے ایسے ٹھیکیدار ہنگامہ آرائی پر اتر آئے جوکہ اسلام کی تعلیمات کے بارے میں ایک سطر کیا ،ایک لفظ بھی نہیں جانتے ہیں،اتنی مارپٹائی ہوئی کہ معاملہ پولیس تک پہنچ گیا۔اُن کاکہناتھا کہ مرحوم دوسرے مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور یہاں سے اُن کااعلان نہیں کرناتھا۔
دراصل مرحوم شخص نے ضیعف العمری کی وجہ سے گھر کے قریب کی مسجد میں نماز ادائیگی شروع کردی تھی،جوکہ دوسرے مسلک کی تھی،حالانکہ جس مسجد سے اُن کے انتقال کا اعلان کیا گیاتھا،وہ اس مسجد کی تعمیر اور انتظام میں وہ پیش پیش رہے تھے ،بلکہ برسوں تک اذان بھی دی تھی۔اس واقعہ کو ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گذراتھا کہ تبلیغ جماعت کے منقسم گروہ کچھ فاصلے پر واقع مسجد میں لڑپڑے،اور آج تک یہ لوگ دست وگریباں دکھائی دیتے ہیں ،جبکہ ٹرسٹی حضرات بھی پارٹی بن گئے جوخود بھی جماعت کے ایک گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم خود کہاں کھڑے ہیں۔اسے پہلے دیکھنا ہوگا ۔
ایک واقعہ کاذکر کرنے کے بعد میں اپنی بات پیش کروں گا،میرے آباؤاجداد کاتعلق حال میں سرخیوں میں رہے اتر پردیش کے شہر متھرا سے ہے،والدین نے ممبئی میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی،البتہ وطن میں تعلقات برقرار رکھے تھے،اس لیے ہمارا بھی رابطہ برقرار رہا،اکثر شادی بیاہ کے لیے جانا ہوتا ہے،متھرا سے متصل بلکہ اب شہر کے کارپوریشن کا حصہ بن گئے ،چھوٹے سے مندروں کے شہر ورندابن میں متھرا گیٹ پر پولیس چوکی کے مقابل شہر کی واحدمسجد واقع ہے۔میں ایک رشتہ دار کے بچے کی شادی میں شرکت کے لیے ورندابن پہنچا اور نماز کی غرض سے شہر کی واحد مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے گیا تویہ دیکھ کر میرے اوسان خطا ہوگئے کہ صدر دروازے پر ایک تختی لگی تھی اور اُس پر تحریر تھاکہ فلاں مسلک اور جماعت کا داخلہ ممنوع ہے ۔بلکہ ایک نوجوان نے ایک واقعہ مجھے بتایا ہےکیاکہ جب تبلیغی جماعت کا ایک قافلہ یہاں پہنچا تو منتظمین اور چند منچلوں نے "آتنک وادی” کانعرہ لگا کر انہیں دوڑا دیا۔ یہ صرف ایک شہر کی بات نہیں ہے بلکہ گلی محلے میں یہ کھیل کھیلاجارہاہے ۔امام صاحب ہر نماز میں ملت میں اتحادواتفاق کی دعاء برابرکرتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس فرقہ بندی کو ہوا دینے والوں سے دریافت کیا جائے کہ اتر پردیش ،جھاڑکھنڈ،مدھیہ پردیش،کرناٹک ،آسام اور گجرات میں مسلمانوں کو جس طرح سے چن چن کر نشانہ بنایاجارہا ہے،انتظامیہ،پولیس اور یہاں تک کہ عدلیہ کا راستہ بھی تنگ ہوتا نظر آرہا ہے،سرکاری سطح پر بلڈوزر کے ذریعے جو کارروائیاں کی گئی ہیں۔کیا اُن متاثرین سے اُن کا مسلک،فرقہ اور برادری پوچھی گئی تھی؟نہیں ،بلکہ ہم مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کا کھرگون کارروائی کے بعد دیاگیا بیان کا جائزہ لیں اوروہ ویڈیو کلپ دیکھیں جواُن کی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ایک حاکم کی زبان ایسی نہیں ہوسکتی ہے،بلکہ اُن کا انداز ظالمانہ اور ڈکٹیٹر انہ محسوس ہوتاہے، لیکن فی الحال ہم ہماری اپنی بات کررہے ہیں۔
ملک میں چند برسوں میں امتیازی سلوک کا ماحول بنتا جارہاہے ،اس کانظارہ حال میں نظرآیا ہے،جب مسلمانوں کے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران سخت رویہ اختیارکیا گیا اور چنددنوں بعد ‘اگنی پتھ’ کے خلاف ہوئے پُر تشدد مظاہروں کے دوران الگ رویہ اپنایا گیا ،بلکہ وارانسی اترپردیش میں ایک اعلیٰ آئی پی ایس افسر نے کھل کر اظہار کرتے ہوئے کہاکہ "اگنی پتھ کے مظاہرین ہمارے اپنے بچے ہیں اور انہیں سمجھایا جائے گا۔”اس کامطلب ہے کہ اقلیتی فرقے کے مظاہرین کو اعلیٰ افسر "غیر”سمجھتے ہیں۔انہیں چھوڑیں ، مسلمانوں کے رہنماء یہاں تک کے جامع مسجد دہلی کے امام صاحب بھی بغلیں جھانکتے نظر آرہے ہیں۔جمعیتہ علماء کے مولانا اور اپوزیشن کارویہ سمجھنے کاہے،نہ سمجھانے کا ۔
میں نے ابتداء میں ممبئی میں اپنے علاقے کی جن دومساجد میں ہنگامہ آرائی کا ذکر کیا ہے،اُس پولیس اسٹیشن کے دوافسران نے کچھ دنوں بعد مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے دیکھا ہے کہ مسجد کے سامنے سے کسی دوسرے مذہب کے جلوس وغیرہ کے گزرنے پر مسلم کمیونٹی سخت ناراضگی ظاہر کرتی ہے،لیکن یہ عجیب وغریب بات ہے کہ خود مسجد کے احترام کو بالائے طاق رکھ کر اندرون مسجد ہی ہنگامہ آرائی کرنے سے باز نہیں آتے ہیں،اُنہیں مسجد کی حرمت کاتب کوئی خیال نہیں آتا ہے۔”یہ باتیں ضرور تلخ ہیں،لیکن ہاں ہم سب کو ضرور غور وفکر کی ضرورت ہے۔یعنی”ہمیں اپنے گریبان میں جھانکناہوگا.”

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: