زبان و ادبمضامین

ہمیں ہے غم کہ ہے ہندوستان خطرے میں

نتیجہء فکر : محمد سفیان ظفر قاسمی مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی گڈا جھارکھنڈ

……………………………………..

نہیں ہے غم کہ ہماری ہے جان خطرے میں
ہمیں ہے غم کہ ہے ہندوستان خطرے میں

نکل پڑو تم اے بچو جوانو اور بوڑھو
تمھارے دیش کا ہے سمودھان خطرے میں

بنا رہے ہیں وہ کھائی بغل میں نفرت کی
تمھارا گھر ہے تمھارا مکان خطرے میں

جو میڈیا ہے یہاں قید میں ہے ظالم کی
سمجھ لو اب ہے تمھاری زبان خطرے میں

وہ کر رہے ہیں سیاست جو خوف و دہشت کی
ہے اس سے ملک کا امن و امان خطرے میں

ارادہ کر لو کہ عزت کی موت مرنا ہے
ظفر تمھارا بھی ہے خاندان خطرے میں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: