مضامین

ہمیں 22/ جنوری2020کے بعد کیا کرنا چاہیے

محمد یاسین جہازی 9891737350

بی جے پی سرکار نے 10 جنوری 2020 کو The Gazette of Indiaمیں نوٹیفکشن جاری کرکے CAA2019 of 47 کو نافذ العمل کردیا۔ حالاں کہ 12/دسمبر2019 کو صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے دستخط سے قانون بننے کے اگلے ہی دن یعنی 13/ دسمبر2019سے جمعیت علمائے ہند اور دیگر ملت و مذاہب کے کروڑوں لوگوں نے لاکھوں احتجاج اور ریلیاں کیں؛ لیکن سرکار نے رائے عامہ کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے نوٹیفکشن بھی جاری کردیا۔ اب تمام لوگوں کو ملکی عدالت عالیہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار ہے، جو 22/ جنوری2020کو آنے والا ہے۔ سپریم کورٹ کے ماضی کے کرداروں کی روشنی میں دو طرح کی امیدیں ہیں:
(۱) سپریم کورٹ نے ثبوت و شواہد کو اولیت دیتے ہوئے حق و انصاف کے عملی مظاہر پیش کیے ہیں۔ اس کیس میں بھی یہی امید ہے کہ سپریم کورٹ جب فیصلہ لکھے گا، تو اس کے سامنے کروڑوں دیش واسیوں کے جذبات ہوں گے اور دستور سے متصادم اس سیاہ قانونCAAکو کالعدم قراردے دے گا۔
(۲) بصورت دیگر، اگر ایسا فیصلہ نہیں آتا ہے، تو یہاں دو صورتیں ممکن ہیں:
(الف) یا تو سپریم کورٹ دیگر مقدمات کی طرح اس کو بھی تاریخ پر تاریخ دیتا رہے گا، تاکہ اسے نہ حکومت کے عتاب کا شکار ہونا پڑے اور نہ ہی عوامی غم و غصہ کا سامنا کرنا پڑے۔
(ب) یا پھر عوامی جذبات کو آہستہ آہستہ ٹھنڈا کرنے کے لیے بشکل ہمنوائی سرکار کو تھوڑی بہت جھٹکے دے دے گا اور لمبی تاریخ دے گا، تاکہ اس دوران سرکار اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہناتی رہے۔اس سے عام جنتا اگلی تاریخ تک مطمئن ہوکر اپنی جدوجہد میں سست ہوتی جائے گی اور سرکار رفتہ رفتہ اپنے ارادے میں کامیاب ہوسکتی ہے، جیسا کہ بابری مسجد کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
تو پھر عام جنتا کیا کرے
اب سوال پید اہوتا ہے کہ اگر ہماری پہلی امید پر پانی پھر جائے اور دوسری دونوں شکلیں ہمارے لیے چیلنج بن جائیں، تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ تو خود بھارتی تاریخی کردار سے روشنی لیتے ہوئے ہمارے سامنے مشکل کشا راستہ یہ کھلتا ہے کہ ہم non cooperation movement یعنی تحریک عدم تعاون شروع کردیں۔ اور سرکار کا کوئی کارندہ ہمارے سامنے NRPکرنے آئے، تو ہم صاف منع کردیں، کہ ہم اس عمل میں اس وقت تک حصہ نہیں لیں گے، جب تک کہ CAAاور NRCکے خاتمہ کا سرکار اعلان نہ کردے۔ اسی طرح جس طرح کے مظاہرے اور ریلیاں ابھی کر رہے ہیں، یہ چیزیں 22/ جنوری کے بعد بھی پوری شدت و قوت کے ساتھ جاری رہنی چاہیے۔
22/ جنوری کو نربھیہ زانیوں کی پھانسی کی بھی تاریخ رکھی گئی ہے، جو کسی نہ کسی اعتبار سے CAAکے فیصلہ سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک سازش بھی ہوسکتی ہے، اس لیے ہمیں مکمل چوکنا رہنے کی بھی ضرورت ہے۔
ہمیں قوی امید ہے کہ طویل گزیدہ شب کے بعد صبح کا اجالا ضرور پھیلے گا اور مذہبی تفریق پر مبنی انسان اور انسانیت کی تقسیم کا یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا کہ کیوں کہ ہم بھارتی ہیں اور بھارتی آپسی رواداری اور محبت و آہنگی کا دوسرا عنوان ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: