مضامین

ہم بھی دیکھیں گے!

اگر حکمران ایجنسیز قانون کے مطابق کام کاج نہ کریں تو شہری اس کی تکمیل کرے گی۔ انہیں کنارے یا حاشیہ پر نہ ڈھکیلیں اداریہ ٹائمز آف انڈیا (3/جنوری 2020ء)

ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)
اُترپردیش کی حکومت نے 450 سے زائد احتجاج کرنے والوں کے خلاف نوٹسیں اجراء کی ہیں۔ جنہوں نے عوامی ملکیت کو نقصان پہنچایا ہے کہ وہ اندرون ہفتہ اس کی پابجائی کریں۔ ان نوٹسیس کی وجہ سے مختلف سوالات اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ گو کہ ریاست فساد زدگان کی جانب سے نقصانات کی پابجائی کے لیے عام حالات میں وصولی کرنا ایک طریقہ سے قانون کی حکمرانی ہے۔ کیونکہ اُن لوگوں کے خلاف ڈر اور خوف پیدا کرنا ضروری ہے جو تشدد پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اس میں یہ مسئلہ ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داریوں سے رد گردانینہیں کرسکتی اور اس قانون کا ادراک یہ ہونا چاہیے کہ اس کا استعمال چند منتخبہ لوگوں پر ہی کیا جائے۔ مثال کے طور پر انکاؤنٹر میں مارے جانے والے جسے فوری انصاف رسانی کا نام دیا جاتا ہے کیا وہ قانون قاعدے اور اُصولوں کے مطابق ہورہے ہیں؟ اور اس اقدام سے متاثر ہونے والے جو لوگ ہیں جو بہت ہی غریب،متاثر، حاشیہ پر لائے ہوئے لوگ ہیں۔
حکومت کی یہ خواہش کہ وہ فساد زدگان کے خلاف اُس قانون کا استعمال کریں جس کے کوئی دانت ہی نہیں ہیں۔ جیسے کہ Prevention of Damage to Public Property Act 1984 جس میں صرف فساد کرنے والوں کے خلاف جیل کی سزا یا جرمانہ ہی عائد کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں پر اس بات کا الزام ہے کہ وہ عارضی طورپر اس ضمن میں قانون بنارہی ہیں۔ جیسے یو پی حکومت کا الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر انحصار کرنا جس میں کہا گیا تھا کہ اس ضمن میں ایک مخصوص اور مجاز اتھاریٹی کی تشکیل کی جائے جو نقصان رسائی کے کلیم کی تحقیق بعد سماعت کے مناسب و موزوں احکامات اندرون 30 یوم جاری کرے۔لیکن الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو 2009ء میں تبدیل کرتے ہوئے اس میں سپریم کورٹ نے نئی گائیڈلائنس اجراء کی ہے۔ جیسے کہ مجاز اتھاریٹی کی تشکیل کے لیے اس کا کسی ہائی کورٹ جج یا ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کو ہی بحیثیت کمشنر نقصان رسانی کے لیے مقرر کیا جانا چاہیے۔
غیر جانبدارانہ تحقیقات اور انصاف رسانی کا ہمیں مختلف بیانوں اور ویڈیو سے کارروائیاں آشکارا ہورہی ہیں۔ جس میں توڑ پھوڑ کی کارروائیوں میں ایک طرح سے خود یو پی پولیس بھی ملوث ہے اور CAA کی مخالفت میں احتجاج کرنے والوں کے رشتہ داروں میں بھی اس کی وجہ سے پریشانیاں، ڈر و خوف پیدا ہورہا ہے اور مختلف شکایتیں داخل ہورہی ہیں۔ اور ان درخواستوں اور شکایتوں پر پولیس حرکت میں نہیں آرہی ہے۔ جو اس بات کی طرف صاف اشارہ ہے کہ پولیس کی ایجنسی غیر جانبدار نہیں رہی ہے۔ کیا اس بات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے کہ آئی آئی ٹی کانپور نے روایت شکن شاعر فیض احمد فیضؔ کی نظم ”ہم دیکھیں گے“ کے خلاف تحقیقاتی پینل مقرر کیا گیا ہے۔
شاعر کے بارے میں لاعلمی اور اس کی نظموں کے بارے میں عدم واقفیت جس سے اس بات کا اندازہ لگتا ہے کہ انسانوں کی جو بنیادی آزادی ہے تقریر و تحریر کی، اُسے حکمرانیت سے دبا دیا جارہاہے۔ اور بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری مشترکہ تہذیب اور یہاں کی علمیت کو سمجھ بوجھ کی بھی کمی پائی جاتی ہے۔ بہرحال پرامن طور پر گائے جانے والے گیتوں، طلبہ کے احتجاج پر فرقہ پرستی کے الزامات لگانا یہ ڈر و خوف پیدا کرنے والی حکمت عملی ہے۔ جبکہ عدلیہ کی اس سلسلہ میں توضیح و وضاحت کا آغاز ہونا چاہیے۔ جس طریقہ سے کہ دہلی کے سلیم پور علاقہ میں دو مسلمانوں کو تشدد کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور عدالت نے انہیں اس بات کی وجہ سے ضمانت دی کہ ان کے خلاف کوئی ویڈیو فوٹیج یا عینی شہادت نہیں ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کا”بدلے“کا یہ طریقہ انصاف رسانی میں ناکامی کا ضامن ہوگا اور اس کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس، جانوں کا نقصان ہوگا۔ حالانکہ یو پی حکومت کا مقصد یہ ہونا چاہیے صدق دل سے گفت و شنید کے ذریعے سے امن کی بحالی کرے اور قانونی حکمرانی کرے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: