مضامین

ہندستان میں تحریک خلافت کاپس منظراورآغاز

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

ہندوستان میں تحریک خلافت بھی انہی نیک جذبات وتوقعات کی پیداوارتھی ، جوخلافت عثمانیہ کےٹمٹماتے ہوئےچراغ یاترکی کےمردبیمارکوبچانےکےلئے ۱۹۱۸؁ء(۱۳۳۶؁ھ ) میں اٹھی اور ۱۹۲۴؁ء میں خلافت کےخاتمہ کےساتھ سرد ہوگئی۔
خلافت عثمانیہ دنیاکی عظیم ترین سلطنت
خلافت عثمانیہ–خلافت راشدہ،خلافت امویہ اورخلافت عباسیہ کےبعد-اسلامی تاریخ کی چوتھی سب سےبڑی خلافت تھی جودنیاکےنقشہ پرتین(۳) براعظموں (ایشیا،یورپ اورافریقہ)سےبحرسفیدتک پھیلی ہوئی تھی،مختلف براعظموں میں اس کی درج ذیل ریاستیں تھیں(اب یہ خودمختارممالک ہیں ):
ایشیا :-حجاز،یمن ،بصرہ،بغداد،موصل،صاب،سوریہ (شام )،حدارندگار، قونیہ، انقرہ(انگورہ)،ایدین،اطمفہ،قسطومنی،دیاربکر،تبلیسل،ارض روم،معمورۃالعزیز، آران، طرابزون۔
یورپ :-ادرنہ،سلالیسک،تعوضوہ،پانیہ،اشقودرہ،مناستر۔
افریقہ : -مصر ،طرابلس۔
بحرسفید :- جزائربحرسفید۔
اس کازمانۂ حکمرانی ۱۲۸۲؁ء تا۱۹۲۴؁ء(۶۸۱؁ھ تا۱۳۴۲؁ھ) چھ سوبیالیس(۶۴۲)سال ہے،اس دوران سینتیس(۳۷)حکمراں مسندآرائےخلافت ہوئے،جن میں پہلےآٹھ(۸) حکمراں سلطان تھے،خلیفۃ المسلمین نہ تھے،انہیں اسلامی سلطنت کی سربراہی کااعزازتوحاصل تھا،خلافت کاروحانی منصب حاصل نہ تھا،نویں (۹)حکمراں سلطان سلیم اول سےلےکر چھتیسویں (۳۶)حکمراں سلطان وحیدالدین محمدسادس تک اٹھائیس (۲۸)حکمراں سلطان بھی تھےاورخلیفہ بھی،کیونکہ خلافت عباسیہ کےآخری حکمران”محمدعباسی”نےجومصرمیں تھے ۹۲۴؁ھ مطابق ۱۵۱۸؁ء میں سلطان سلیم کومنصب واعزازخلافت کی سپردگی کےساتھ وہ تبرکات نبویہ (رسول اللہ ﷺ کی تلوار،علم اورجبۂ مبارک) بطورسندویادگاردے دئیے تھے،جوکہ خلفائے بنوعباس کےپاس نسل درنسل محفوظ چلےآرہےتھے،اورسلطان سلیم ان کو قسطنطنیہ لےکرچلےآئے تھے،بلکہ خودآخری عباسی خلیفہ محمدعباسی نے بھی قسطنطنیہ ہی میں اقامت اختیارکرلی تھی،اس دن سے سلطنت عثمانی کاتاجدار خلیفۃ المسلمین ،سلطان الاسلام ،
اورخادم الحرمین الشریفین کےخطابات سے یادکیاجانےلگا، ۔۔۔۔
جب کہ آخری حکمراں عبدالمجیدآفندی صرف خلیفہ تھے سلطان نہیں تھے،کیونکہ یکم نومبر۱۹۲۲؁ء(۱۱/ربیع الاول ۱۳۴۱؁ھ)کومصطفےٰ کمال پاشانےمغربی طاقتوں اور” برادری ” کےایماء پرترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کےذریعہ سلطنت عثمانیہ کےخاتمے کی قرارداد منظور کرکےسلطان محمد وحیدالدین سادس کی اٹلی کی طرف ملک بدری کےاحکامات جاری کردئیے تھے،اس لئےاس نامبارک دن سلطنت ختم ہوگئی ،البتہ خلافت اب بھی باقی تھی ،سلطان وحیدالدین کی جلاوطنی کےبعدان کےپہلےقریبی رشتہ دار”عبدالمجیدآفندی”کوآخری عثمانی خلیفہ بنایاگیا،مگر۳/مارچ ۱۹۲۴؁ء کوترکی کی قومی اسمبلی نےاتاترک مصطفےٰ کمال کی قیادت میں اسلامی خلافت کےخاتمےکاقانون بھی منظورکرلیا،اس طرح آخری خلیفہ جوسلطان نہ تھے ،خلیفہ عبدالمجیددوم کی اپنےمحل سےرخصتی اورپہلےسوئزرلینڈپھرفرانس جلاوطنی کےساتھ سلطنت عثمانیہ کےبعدخلافت عثمانیہ کی آخری دیواربھی منہدم ہوگئی ،اناللہ واناالیہ راجعون۔
محقق مؤرخین کےمطابق ان ۳۷ حکمرانوں میں سےآخری تین محض برائےنام حکمراں تھے،اصل طاقت ان خفیہ قوتوں کےہاتھ میں تھی جوسلطنت اورخلافت کےخاتمے کےدرپےتھے،جنہوں نےجمہوریت کےسحرمیں دنیاکوگرفتارکیاہواتھا،وہ اچھےوقت کے انتظارمیں ان کوبرائے نام سامنےرکھ کرباگیں اپنےہاتھ میں تھامے ہوئےتھے،تاکہ ان پرکسی قسم کاالزام نہ آئے،اورزوال کی تمام وجوہات خودعثمانی حکمرانوں کی طرف منسوب ہوں ۔
دشمن کی آنکھ کاکانٹا
ترکی کی عظیم الشان اسلامی سلطنت ایک عرصہ سے یورپ وامریکاکی عیسائی
سلطنتوں کی آنکھ میں کانٹابن کرچبھ رہی تھی ،کتنی صلیبی جنگیں مسلمانوں کی عظمت کو توڑنےکے لئےپہلےبھی لڑی جاچکی تھیں،انہوں نےآپس میں خفیہ معاہدےکئےکہ ترکی سلطنت کےٹکڑے ٹکڑےکرکےآپس میں تقسیم کرلیں ،اورصفحۂ یورپ سے ترک سلطنت کا نام مٹادیا جائے،ترکی کےبھی حصے کردئیے جائیں،ایک حصہ سمرناکایونان کودےدیاجائے،اور دوسراحصہ قسطنطنیہ کااٹلی کو،کیونکہ ترکوں سےپہلےعیسائی نظام کےدوحصے تھے،ایک حصہ مغربی روم کےماتحت تھااوردوسراحصہ مشرقی قسطنطنیہ کےماتحت،ترکوں نےقسطنطنیہ پرقبضہ کرکےمشرقی نظام کاخاتمہ کردیاتھا،اس لئےزارروس ،برطانیہ ،فرانس ،اٹلی،امریکاجن کو اتحادی کہاجاتاتھا،کی خواہش تھی کہ یہ نظام مشرقی پھرقائم ہو ۔
ترکی کےخلاف سازشوں کاآغاز
چنانچہ اس کےلئےانہوں نےمختلف محاذوں پرسازشیں شروع کردیں۔
٭خلافت عثمانیہ کی مخالفت میں فتنہ پردازی کاآغاز۱۸۹۶؁ء(۱۳۱۳؁ھ) کی جنگ یونان وروم سےہوااس وقت برطانیہ کی ہمدردی واعانت یونان کےساتھ تھی ۔
٭۱۹۰۸؁ء(۱۳۲۶؁ھ) میں خلافت عثمانیہ میں انقلاب پیش آیا،نوجوان ترکوں کی انجمن اتحادوترقی کی خفیہ تدبیریں کامیاب ہوئیں،اورانورپاشاوغیرہ نےقسطنطنیہ پرقبضہ کرکے دستوری حکومت کااعلان کردیا،نوجوان ترکوں کےاعلان کےچندہی روزبعداٹلی نےدولت عثمانیہ کےآخری افریقی مقبوضہ طرابلس الغرب (ٹریپولی)پرحملہ کردیا،اس حملہ نےساری دنیائے اسلام میں آگ لگادی،خصوصیت کےساتھ ہندوستانی مسلمانوں نےبڑے جوش
وخروش کامظاہرہ کیا،جس کااندازہ علامہ اقبالؔ کےاس قطعہ سے ہوتاہے:
گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہوا
زمیں کوچھوڑکےسوئےفلک روانہ ہوا
فرشتے بزم رسالت میں لےگئے مجھ کو
حضور آیۂ رحمت میں لےگئے مجھ کو
کہاحضورنےاےعندلیب باغ حجاز
کلی کلی ہے تری گرمیٔ نواسےگداز
نکل کےباغ جہاں سےبرنگ بوآیا
ہمارے واسطےکیاتحفہ لےکےتوآیا
حضور دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہےوہ زندگی نہیں ملتی
ہزاروں لالۂ وگل ہیں ریاض ہستی میں
وفا کی جس میں ہو بو وہ کلی نہیں ملتی
مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں
جوچیز اس میں ہےجنت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تری امت کی آبرواس میں
طرابلس کےشہیدوں کاہےلہواس میں
اورعلامہ شبلی نےکہا:
مراکش جا چکا فارس گیا اب دیکھنا یہ ہے
کہ جیتاہےیہ ترکی کامریض نیم جاں کب تک
کوئی پوچھے کہ اے تہذیب انسانی کےاستادو
یہ ظلم آرائیاں تاکے،یہ حشرانگیزیاں کب تک
کہاں تک لوگے ہم سے انتقام فتح ایوبی
دکھاؤگےہمیں جنگ صلیبی کاسماں کب تک
علامہ اقبال ؔکایہ شعربھی بہت مشہورہوا:
اگر عثمانیوں پہ کوہ غم ٹوٹا تو کیاغم ہے
کہ خون صد ہزارانجم سے ہوتی ہےسحرپیدا
عالم اسلام پتے کی طرح بکھرگیا
٭ابھی یہ صدمہ وہ بھولنےبھی نہیں پائے تھےکہ ۱۹۱۰؁ء (۱۳۲۸؁ھ)میں بلقان کی ریاستوں نےیورپ کی شہ پردولت عثمانیہ کےپوربی حصوں میں بغاوت کردی،اورجنگ بلقان کا آغاز ہوا،یہ جنگ کےشعلےاگرچہ یورپ میں اٹھ رہےتھے،مگرہندوستان کےمسلمانوں کاجوش وخروش دیکھ کرایسامعلوم ہوتاتھاکہ یہ جنگ ہندوستان ہی میں لڑی جارہی ہے،چندسال کےبعدیہ جنگ اس طرح ختم ہوئی کہ ترکوں کےہاتھ سے یورپ کابڑاحصہ نکل گیا۔
جنگ عظیم کےنتائج
اس کےچارسال کےبعد۱۹۱۴؁ء(۱۳۳۲؁ھ)میں خودیورپی ممالک میں باہم جنگ شروع ہوگئی،روس ،جرمنی اورآسٹریاایک طرف،اورانگلینڈ،فرانس اوراٹلی دوسری طرف، اس جنگ کےچندماہ بعدترکی نےنومبر۱۹۱۴؁ء(۱۳۳۲؁ھ) میں جرمنی کےساتھ مل کراتحادیوں کےخلاف اعلان جنگ کردیا،اب مسلمان جویورپ کی اس پہلی جنگ عظیم میں غیرجانبدار تماشائی کی حیثیت رکھتے تھے،دفعتاًجرمنوں کےساتھ ہمدردی ظاہرکرنےلگے،اس وقت انگریزی حکومت نےایک طرف اپنی مسلمان رعایاکی تسکین کی خاطریہ اعلان کیاکہ اسلام کےمقدس مقامات حملہ سے محفوظ رہیں گے،دوسری طرف انہوں نےاس جنگ کوجیتنےکے لئےعجیب وغریب سازش کی،انہوں نےترکوں سےعربوں کوالگ کرنےکےلئےشریف حسین امیرمکہ کواپنےساتھ ملاکراورایک عرب شہنشاہی کاخواب دکھاکرجوبحراحمرسے لےکر بحرروم تک محیط ہوگی،ترکی حکومت سےبغاوت کااعلان کرادیا،اوراس لالچ میں عرب ترک سےٹکراگئے،نتیجہ یہ ہواکہ عراق وشام اورفلسطین اورحجازدولت عثمانیہ سےالگ ہوکر
اتحادیوں کےقبضے میں چلےگئے۔
ٹھیک اسی وقت انگریزیورپ میں جرمن کےیہودیوں کوفلسطین کی نذرپیش کرکےسارےیورپ کےیہودیوں کواپنےساتھ ملارہے تھے،اورآخریہودیوں نےجرمن کےخلاف سازش کرکےاس کوتباہ کرڈالا،اوراس کےبدلےمیں فلسطین کےیہودی قومی وطن بنائےجانےکااعلان انگریزی حکومت سےکرایا،یہی وہ تخم ہےجس سےفلسطین میں اسرائیل کی خودمختارحکومت کانخل تناور ہوا۔
انگریزوں نےشریف حسین سےجس عرب شہنشاہی کاوعدہ کیاتھااس کاایفااس طرح کیاکہ حجازکی بادشاہی ان کودی گئی،مگر یہ بادشاہی بہت زیادہ دیراس کےپاس نہ رہ سکی ، اورامیرعبدالعزیزنےحملہ کرکےوہاں سعودی حکومت کی بنیاد ڈال دی۔
شریف کےبڑے صاحبزادےامیرفیصل کوجوکرنل لارنس کےساتھ ساتھ ترکوں سےجنگ میں سب سے پیش پیش تھے،اورجولارڈالنبائی کےہم رکاب بیت المقدس کوہلال کے قبضے سےنکال کرصلیب کےحوالےکررہےتھے،شام کاتخت پیش کیاگیا،مگریہ تخت بھی چندماہ سےزیادہ بچھانہ رہ سکا،اورفرانس نےلڑکران کوشام سےباہرکردیا،اس طرح پوراملک عرب ٹکڑےٹکڑےہوکرچندچھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ کرانگریزوں اورفرانسیسیوں کےزیر اقتدارچلاگیا۔
ترکی کی عظیم الشان سلطنت کاجوحصہ افریقہ میں تھااٹلی غصب کرچکاتھا،یورپ میں اس کےصوبےآسٹریا،بلغاریہ،سرویا،مانٹی نیگرو،اوریونان میں بٹ چکےتھے،البانیہ کی چھوٹی سی ریاست جس میں اسلامی اکثریت تھی،گوخودمختاربن چکی تھی مگراس وقت وہ اٹلی کی زد میں تھی۔
اتحادی فوجیں اس وقت قسطنطنیہ پرقابض تھیں،ترکی کاسلطان قسطنطنیہ میں اتحادیوں کےبس میں تھا،اور بڑاامریہ زیرغورتھاکہ ترکی کابقیہ یورپینی مقبوضہ تھریس کس کو دیاجائے،قسطنطنیہ کس کےپاس رہے؟اناطولیہ میں سمرناگویایونانیوں کومل ہی چکاتھا،اوربقیہ اناطولیہ کی سپردگی کامسئلہ درپیش تھا،یونان کاوزیراعظم وینی زیلاس برطانیہ کواس بات پرآمادہ کررہاتھا،کہ ترکی کابڑاحصہ یونان کےحوالےکردیاجائے،اُدھرترکی کےصوبہ آرمینیامیں اتحادی بغاوت کرارہے تھے،اورآرمینی سارے اتحادی ملکوں میں ترکوں کےمظالم اوراپنی مظلومی کی داستانیں گھڑگھڑکررائے عامہ کواپنےساتھ ملارہے تھے،یہودی توراۃ وانجیل کےحوالوں سےعیسائیوں کویہ باورکرارہےتھےکہ اخیرزمانہ میں بنی اسرائیل کےفلسطین میں دوبارہ اکھٹے ہونےکی جوپیشین گوئی کی گئی ہےاس کےپوراہونےکاوقت یہی ہے۔
چاک کردی ترک ناداں نےخلافت کی قبا
ان مشکلات کےنرغے میں مصطفےٰ کمال پاشاترکی کاہیروبن کرمٹھی بھرنوجوان
ترکوں کےساتھ اناطولیہ میں ترکی کی بچی کھچی سلطنت کےلئےسرگرم پیکارتھا اوروہ بھی بالآخراتحادیوں کی سازش کاشکارہوا،اوراسی کےذریعہ خلافت عثمانیہ کےتابوت میں آخری کیل ٹھوکی گئی ۔اناللہ واناالیہ راجعون ،علامہ اقبالؔ نےاسی کےبارے میں کہاتھا۔
؎ چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی اپنوں کی دیکھ دشمن کی عیاری بھی دیکھ
حضرت شیخ الہندمولانامحمودحسن دیوبندیؒ کی عالمی تحریک
(حریت،احیاء خلافت اورمقامات مقدسہ کاتحفظ)
ظاہر ہےکہ یہ صورت حال ساری دنیاکےمسلمانوں کےلئےسخت اضطراب کا باعث تھی ،ہندوستان کےمسلمان بھی بہت زیادہ بےچین تھے،حضرت شیخ الہندمولانامحمود حسن ؒ کی عالمی تحریک انہی حالات کی پیداوار ہے،حضرت نےدارالعلوم کی چٹائیوں پربیٹھ کرمسلمانوں میں بیداری کی لہرپیداکی،پورے ملک سے چندہ کراکرترکی کوامدادبھیجوائی، دارالعلوم دیوبندکےبہت سےطلبہ نےاپنی تعلیم روک کراس کام میں حصہ لیا،اس زمانہ میں حضرت شیخ الہندؒاکثراحادیث جہادپرتقریرفرمایاکرتےتھے،آپ کادفاعی نیٹ ورک ساری دنیامیں پھیلاہواتھا،آپ نےراجستھان میں اسلحہ سازی کاکارخانہ بھی قائم فرمایاتھا،آپ کےسفراء اورنمائندےدنیاکےمختلف ملکوں میں اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیوں میں مصروف تھے،افغانستان میں آپ کےزیرہدایت ہندوستان کی ایک متبادل عارضی حکومت بھی قائم کردی گئی تھی جس کے صدرراجہ مہندرپرتاپ،وزیراعظم برکت اللہ بھوپالی،اوروزیرداخلہ مولاناعبیداللہ سندھی اوردیگرحسب معمول اراکین تھے،آپ کی تحریک ریشمی رومال اسی کا حصہ تھی ۔
ہندوستان کےدیگرعلماء وقائدین بھی اپنےاپنےطورپرسرگرم تھے،آئےدن احتجاجی جلسے جلوس ہونےلگے،انقلاب پسندجماعتیں وجودمیں آئیں،مولاناابوالکلام آزادؒؔنے الہلال اورالبلاغ کےذریعہ اورمولانامحمدعلی جوہرؔنےاپنےانگریزی اخبار”کامریڈ” کےذریعہ مسلمانوں کاخون گرمایا،لکھنؤمیں مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ،گیامیں مولاناابوالمحاسن محمد سجادؒ،اورپٹنہ میں مولانامظہرالحق ؒوغیرہ اس انقلاب کےبڑےعلمبردارتھے ۔
مجلس خلافت کاقیام
یہی حالات تھےجب ہندوستان میں تحفظ خلافت کی تحریک اٹھی اورمجلس خلافت کاقیام عمل میں آیا۔معلوم ذرائع کےمطابق اس میں سب سےپیش پیش حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ اورحضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ تھے،مولاناعبدالباری صاحبؒ نے دسمبر۱۹۱۳؁ء(محرم الحرام ۱۳۳۲؁ھ) ہی میں انجمن خدام کعبہ قائم کی تھی ،حضرت مولانا سجادصاحب ؒنےغالباًاسی مناسبت سےتحفظ خلافت کی تحریک کےلئے مولانا عبدالباری فرنگی محلی ؒسےتبادلۂ خیال فرمایا۔
اسی اثناء جناب مشیرحسین صاحب قدوائی جواس وقت لندن میں مقیم تھےنےبھی اسی مضمون کاخط ہندوستان کی کئی ممتازشخصیات کولکھا،جن میں حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ اورحضرت مولاناابوالمحاسن سجادؒبھی شامل تھے،بہرحال یہ ایک وقت کی آوازتھی،جس کی معقولیت کوہرایک نےتسلیم کیااورپھرمولاناعبدالباریؒ اورمولاناسجادؒ کےاشتراک باہم سے خلافت کمیٹی کی پہلی بنیاد لکھنؤمیں ڈال دی گئی،شاہ محمدعثمانی صاحب لکھتےہیں کہ:
"مولاناابوالکلام آزادکےدستخط سےکلکتہ کےایک جلسہ کی خبر”مسلم
آؤٹ لک لندن”میں شائع ہوئی ہےاس میں مولانانے خلافت کمیٹی
کے جلسوں کی خبروں کا ذکرجس ترتیب سے کیا ہے ، اس سےیہی
معلوم ہوتاہےکہ خلافت کمیٹی کا پہلاجلسہ لکھنؤمیں ہوا تھا ، اس کے
بعددہلی،امرتسراورپھربمبئی میں،بہرحال بمبئی میں یہ جماعت مضبوط
بنیادوں پرکھڑی ہوگئی،اورسیٹھ چھوٹانی اس کےصدرہوئےاورمولانا
محمدعلی جوہرؔ نے اس کی قیادت اپنےہاتھوں میں لی،اوراس تحریک کو
چارچاند لگادیا،مشیرحسین قدوائی کاخط اوراس بنیادپرخلافت کمیٹی کے
قائم ہونےکاقصہ خودمولاناابوالمحاسن محمدسجادؒنےگیامدرسہ انوارالعلوم
میں کچھ لوگوں کےسامنےبیان کیاتھا،اس مجلس میں راقم الحروف بھی
موجود تھا” ۔
مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ کےچھوٹےبھائی مولاناعنایت اللہ فرنگی محلیؒ کابیان یہ
ہےکہ مولاناعبدالباری صاحب ؒاس مقصد کےلئے”دفاع ملی "کےنام سے ایک مجلس قائم کرنےکاخیال رکھتےتھے ،کہ اسی دوران ان کوخبرملی کہ بمبئی کےچنداہل خیرسیٹھوں نے”مجلس خلافت”کےنام سے ایک انجمن قائم کی ہے،مولاناؒنےکوشش کی کہ کسی طرح یہ آل انڈیاتحریک بن جائے،گوصدرمقام بمبئی ہی رہے،چنانچہ مولاناؒنےلکھنؤکےاہل رائے حضرات کےمشورہ کےبعدایک آل انڈیامسلم کانفرنس لکھنؤمیں کرنےکاپروگرام بنایا،جس میں پورے ملک سے نمائندہ شخصیتوں کودعوت دی گئی ،کانفرنس کےمصارف کی ذمہ داری مولاناؒنےاپنےسر لی،مجلس استقبالیہ تشکیل دی گئی ،اورجلسہ نہایت شان وشوکت سےمنعقد ہوا ،اوراسی میں آل انڈیاخلافت کمیٹی کےقیام کی منظوری ہوئی اورصدرمقام بمبئی قرارپایا ۔
مجلس خلافت کی تاسیس میں حضرت مولاناسجادؒکاکردار
خلافت کمیٹی کی تاسیس میں حضرت مولانامحمدسجادؒکابھی بنیادی اوراولین حصہ تھا،یہ
بات آپ کےحلقہ میں بہت معروف تھی،امیرشریعت ثانی حضرت مولاناشاہ محی الدین پھلوارویؒ رقمطرازہیں:
"جہاں تک مجھے یادآتاہے،خلافت کمیٹی جوتمام ہندوستان پرچھاگئی،اور
جس نےسلطنت کی بنیادکوہلادیاتھا،اس کی ابتداکرنےوالوں میں مولانا
عبدالباری صاحبؒ کے ساتھ وہ بھی شریک تھے،خلافت کمیٹی بمبئی
میں قائم ہوئی تھی،پھر مولانا لکھنؤ آئے،وہاں قائم ہوئی ،پھرصوبہ بہار
میں سب سےپہلےگیامیں آکر قائم کیا ،اور اس کادوسرااجلاس پھلواری
میں کیااس کےبعد ہندوستان کےمختلف حصوں میں قائم ہوئی” ۔
مولاناعبدالصمدرحمانی صاحبؒ تحریرفرماتےہیں:
"خلافت کمیٹی کی بنیاد کی پہلی اینٹ جوبمبئی میں رکھی گئی اس میں حضرت
ابوالمحاسن محمدسجادؒ اورحضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ لکھنؤکاہاتھ تھا،
اس کےبعد جب مولانا بمبئی سے واپس ہوئے توہندوستان میں اس کی
سب سےپہلی شاخ گیامیں قائم ہوئی”
حضرت مولاناسجادؒکےاولین تذکرہ نگارمولاناعظمت اللہ ملیح آبادیؒ رقمطرازہیں:
"۱۹۱۸؁ءمیں ٹرکی کی شکست اوراس کی سلطنت کی تقسیم نےمسلمانوں
کو اتحادیوں کی طرف سےبددل کردیا،ہندوستان میں اس کے خلاف
احتجاجی جلسےشروع ہوگئے،مولانانے اس نازک موقعہ پرجب کہ ملک
میں ہنگامی قوانین جاری تھے،بلا خوف وخطر اعلان حق کیا، ممالک
اسلامیہ کی حفاظت،جزیرۃ العرب اورخلافت اسلامیہ کی اہمیت سے
لوگوں کوواقف کرایا،ان کےتحفظ وبقاکےلئےلوگوں کوایک جگہ جمع
کرنےکی کوشش کی،ملک میں پوری قوت کےساتھ خلافت کی تحریک
پھیلی،جس سےمسلمانوں میں آزادی اورخودمختاری کےحصول کاایک
بےپناہ جذبہ پیداہوگیا ”
قاضی سیداحمدحسین صاحب ؒبیان کرتے ہیں :
"پہلی خلافت کانفرنس کےسلسلہ میں مجھ کومولاناکےساتھ خلافت
کانفرنس میں شرکت کاموقعہ ملااوروہاں میں نےپہلی دفعہ گاندھی
جی کودیکھا”
قاضی عدیل عباسی تحریک خلافت کےآغازکاپس منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"جس وقت تحریک خلافت کاآغازہوامسلمانوں میں بہترین دل ودماغ رکھنے
والےدانشورموجودتھےمثلاًمولاناابوالکلام آزاد،شیخ الہندمولانامحمودحسن
،مفتی کفایت اللہ ، مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا حسین احمد مدنی،
مولانامحمدسجادبہاری، مولانا عبد الباری فرنگی محلی، مولانا سید سلیمان ندویؒ،
مولانا عنایت اللہ فرنگی محلی ، مولانا سلامت اللہ فرنگی محلی ،مولاناعبد الماجد
بدایونی،مولاناسیدمحمد فاخرالٰہ آبادی،مولانااحمدسعید، مولانا سید داؤدغزنوی
،مولانا آزادسبحانی، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی،مولاناابوالقاسم سیف
بنارسی،مشیرحسین قدوائی،ظفرالملک علوی،حکیم اجمل خان، ڈاکٹرمختاراحمد
انصاری،مولاناحسرت موہانی،مولانامحمدعلی،مولاناشوکت علی،مسٹرمظہرالحق
، ڈاکٹرسیدمحمودآغاصفدر،اورظفرعلی خان وغیرہ” ۔
انجمن مؤیدالاسلام کےاجلاس میں تجویزخلافت
البتہ اس میں حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ اورحضرت مولاناسجاد کاکردار
بنیادی تھا،جیساکہ اوائل فروری ۱۹۱۹؁ء میں انجمن مؤیدالاسلام فرنگی محل کی رپورٹ سے اندازہ ہوتاہے،اس اجلاس میں خلافت کےتعلق سے ایک جامع تجویز منظورکی گئی تھی،پہلے اس اجلاس کی رپورٹ قاضی عدیل عباسی کی زبانی ملاحظہ فرمائیے:
"فروری ۱۹۱۹؁ء کےاوائل میں انجمن مؤیدالاسلام فرنگی محل میں منعقد ہواجس میں طےکیا گیاکہ:
٭ احکام اسلامیہ کی روسے بجز موجودہ سلطان ترکی کےکوئی دوسراخلیفہ نہیں،اورشریعت اسلامیہ کی روسے خلافت کےباب میں امت محمدیہ کےسواغیرمسلم کی رائے بے اثر ہے،مسلمانوں نےجہاں کہیں اس بارے میں آوازبلندکی ہےوہ شریعت اسلامیہ کے بالکل مطابق ہے،اوریہ جلسہ اس کی تائیدکرتاہے۔
٭یہ بھی طے ہواکہ یہ جلسہ اس تجویزسے اتفاق کرتاہےکہ ایک فتویٰ احکام خلافت سے متعلق حدودعرب وممالک اسلامیہ کےعلماء کرام سے دستخط کراکےاورمشیر قانون سے مشورہ کرکےگورنرجنرل اوروزیرہندکی خدمت میں روانہ کیاجائے،اس سے ظاہرہوجائے گاکہ جوخیالات اسلامی انجمنوں نےظاہرکئے ہیں وہ احکام شریعت کےبالکل مطابق ہیں ،اگرکوئی شخص اس کےخلاف ظاہرکرے تووہ شریعت اسلامیہ کاحکم نہ سمجھاجائے ،اورحکومت کوغلط فہمی نہ ہونےپائے،اس جلسہ کی تجویزنمبر۶لفظ بہ لفظ ذیل میں درج کی جاتی ہے:
"یہ جلسہ اس امرکوتسلیم کرتےہوئےکہ مذہبی رواداری ہماری بنائے
طاعت ہے ،حضور ملک معظم کی گورنمنٹ سےاظہاروفاداری کرتے
ہوئے یہ جتاناہے کہ ممالک اسلامیہ کاعموماًاوربلاد مقدسہ کاجس میں
قسطنطنیہ بھی داخل ہے خصوصاً تخت خلافت سے وابستہ رہنا مذہب
اسلامی کی روسے ایک نہ بدلنے والا حکم ہے،لہٰذااس اسلامی حکم کی
رو سے مجلس ہٰذا گورنمنٹ برطانیہ سےپورےزورکےساتھ مستدعی
ہےکہ وہ اپنارسوخ واثرصلح کانفرنس میں بایں غرض استعمال کرے
کہ جو ممالک اس جنگ میں سلطان المعظم سے علٰحدہ ہو گئے ہیں وہ
بجنسہ سابقہ حقوق کےساتھ سلطان المعظم کو واپس کردئیےجائیں،
ورنہ بغیراس کےصلح مسلمانوں کومطمئن نہیں کرسکتی ہے”
رپورٹ اورتجاویزکااسلوب بتاتاہےکہ خلافت کےتعلق سے اس اجلاس سے قبل آوازیں اٹھنےلگی تھیں اورشایداسی موقعہ پرخلافت کمیٹی کاقیام بھی عمل میں آگیاتھا۔
واضح رہےکہ یہ وہی اجلاس ہے جس کےداعیان میں مولانافرنگی محلیؒ نے مولانامحمد سجادؒ کانام بھی شامل فرمایاتھا،اور اسی مجلس میں جمعیۃ علماء ہندکاپہلا خاکہ پیش کیاگیاتھا،لیکن اتفاق رائے نہ ہونےکےباعث جمعیۃ علماء ہند کی تشکیل نہ ہوسکی تھی اوراس کواگلی خلافت کانفرنس (دہلی )پرمحول کردیاگیاتھا،جس کی تفصیل جمعیۃ کےباب میں آئےگی ان شاء اللہ،اس سےتحریک خلافت میں حضرت مولاناسجادصاحبؒ کے بالکل ابتدائی داعیانہ اوربنیادی کردار کاپتہ چلتاہے۔
تحریک خلافت کامرکزاولین-فرنگی محل
اسی لئےشروع میں تحریک خلافت کی سرگرمیوں کاعملی وقانونی مرکزفرنگی محل ہی رہا،اورمولانا عبدالباری صاحبؒ اس کےروح رواں رہے،مولاناشوکت علی اورمولانامحمدعلی جوہرؔجن کی اصل شناخت بعدمیں تحریک خلافت کےذریعہ ہوئی یہ دونوں بھائی حضرت مولانا عبدالباری صاحب کےمریدتھے،اورآپ ہی کے دربارسےان دونوں کو”مولانا”کاخطاب بھی
ملاتھا اور تحریک خلافت کی ذمہ داریاں بھی ،قاضی عدیل عباسیؒ لکھتےہیں :
"خلافت ترکی کےمعاملہ میں فرنگی محل قانون کےاندرجدوجہدکامرکز
تھا،مولاناؒکی فراست نےبادلوں کےمحیط ہونےسے پہلےبارش کااندازہ کر
لیاتھا،اورخدام کعبہ کی بنیادرکھی تھی ،جس میں خودمولاناخادم الخدام تھے
خدام کعبہ نےملت اسلامیہ ہندیہ کےہرفردمیں ایک ولولۂ تازہ اورخلافت
اسلامیہ اوراماکن مقدسہ سےایک عظیم محبت وعقیدت کاجذبہ پیدا کردیا
،گویاکہ یہ حرکت وعمل کےلئےنقش اول تھا۔
بعدہ تحریک خلافت کے زمانہ میں فرنگی محل مرکزرہامولانامحمدعلی مولانا
عبدالباری کے مرید تھے ،اوروہیں سے ان کواورشوکت علی کو”مولانا”کا
اعزازی خطاب عطا ہوا تھا ، چنانچہ وہ واقعی مولانا ہوگئے،ہروقت اور
ہرپبلک جگہ اورجلسےمیں عبا پہنے رہتے تھے ، نہایت گھنی ڈاڑھی تھی اور
چہرہ پرنور،۔۔۔جب تک مولانامحمدعلی نے اپنے بے مثال درددل کے
ماتحت اپنی صحت کونظراندازکرکےتحریک خلافت کابوجھ اپنےکاندھوں
پرنہیں لےلیا ، مولانا عبدالباری ہی کی ذات تھی جن کا نام نامی ہرجگہ
آتاتھا۔۔۔۔۔تحریک خلافت میں راست اقدام کاجوزبردست عمل پیش
ہوا اس کی زمین مولاناعبدالباری کی تیارکی ہوئی تھی” ۔
بمبئی میں دفترآل انڈیاخلافت کاقیام
کچھ دنوں بعد۱۶/جمادی الثانیہ ۱۳۳۷؁ھ مطابق ۲۰/مارچ ۱۹۱۹؁ءکو اہل بمبئی کی خواہش پرخلافت کےمسئلہ پررائے عامہ ہموارکرنےکےلئےآل انڈیا خلافت کمیٹی کادفتربمبئی میں قائم کردیاگیا،جس کےصدرسیٹھ چھوٹانی اورسیکریٹری حاجی صدیق کھتری منتخب ہوئے۔بمبئی کےلوگوں نےاس کےاخراجات کی ذمہ داری قبول کی،ظاہرہےکہ اس موقعہ پر حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒبھی ضرورموجودتھے ۔
خلافت کمیٹی کی پہلی شاخ گیامیں
حضرت مولانامحمدسجادؒ کےتمام تذکرہ نگاراس پرمتفق ہیں کہ بمبئی میں خلافت کمیٹی کادفترقائم ہونےکےبعدواپسی پرحضرت مولاناسجادؒنےخلافت کمیٹی کی پہلی شاخ بہار کے مشہورشہرگیامیں قائم فرمائی،اس کےبعد پھلواری شریف پٹنہ میں دوسری شاخ قائم کی،لیکن تاریخ اورسن کی صراحت کسی نےنہیں کی ہے،البتہ بعض متأخرحضرات کےمضمون میں اپریل ۱۹۱۹؁ء(رجب ۱۳۳۷؁ھ)کاذکرکیاگیاہے،اوریہ بھی کہ اس موقعہ پرگیامیں ایک بڑا اجلاس بھی منعقد کیاگیاتھا،جس میں خلافت کمیٹی کےمرکزی رہنما مولاناشوکت علی بھی شریک ہوئے تھے ۔
اگراس تاریخ کودرست مان لیاجائےتواس کامطلب یہ ہوگاکہ حضرت مولاناسجادؒ نےلکھنؤ کی آل انڈیامسلم کانفرنس (۱۸/ستمبر۱۹۱۹؁ء مطابق ۲۱/ذی الحجہ۱۳۳۷؁ھ)سےبھی قبل گیااورپھلواری شریف میں خلافت کمیٹی کی شاخیں قائم کردی تھیں،اس سے مولاناؒکی فکرمندی اوراس میدان میں آپ کی سابقیت کابھی اشارہ ملتاہے۔
بمبئی میں خلافت کمیٹی کادفترقائم ہونےکےبعدملک میں خلافت کےچھوٹے بڑے جلسوں کاسلسلہ شروع ہوگیا.اوراس پلیٹ فارم سےمقامات مقدسہ اورخلافت اسلامیہ کے تحفظ کےمطالبات ہونےلگے۔۔۔۔
آل انڈیامسلم کانفرنس لکھنؤ
"اسی سلسلہ کاایک عظیم الشان جلسہ "آل انڈیامسلم کانفرنس "کےنام سے۲۱/ذی الحجہ ۱۳۳۷؁ھ مطابق ۱۸/ستمبر۱۹۱۹؁ء کولکھنؤمیں طلب کیاگیا،جس میں ہندوستان کےگوشہ گوشہ سےہرطبقۂ خیال کےعلماء وزعماء شریک ہوئے،مجمع بہت زیادہ تھا،کانفرنس کی مجلس داعیان میں بھی ملک کےہرحصہ کونمائندگی دی گئی تھی،قاضی عدیل عباسی نےسینتیس (۳۷)افرادکےنام ذکرکئےہیں،کانفرنس کےلئےجو اشتہارشائع کیاگیاتھا،اس کاعنوان بہت حساس تھا”مسلمانوں کی موت وحیات کامسئلہ "۔۔۔
اس کانفرنس کےمنتخب صدرجناب ابرہیم ہارون جعفر تھے ،لیکن ان کے
پہونچنےمیں تاخیرہوئی،اس لئےحضرت مولاناعبدالباری صاحب ؒ کانام صدارت کےلئے پیش کیاگیاجو اتفاق رائے سے منظورہوا۔
بعدنمازظہرمسٹرابراہیم ہارون جعفرنےصدارت فرمائی ،اوراپنےخطبۂ صدارت کاایک حصہ پڑھا،اورمطبوعہ خطبہ مجلس میں تقسیم کردیاگیا۔
کانفرنس میں منظورشدہ تجاویز
کانفرنس کاپہلاریزولیشن خلافت عظمیٰ کےاقتدارکوبرقراررکھنےکی بابت مولاناسید محمدفاخرالٰہ آبادی نے پیش کیا،اور مولاناسیدحسن آرزوصاحب نےاس کی تائید کی۔
دوسراریزولیشن-جس میں ترکی کےبڑے علاقوں عراق،عرب،فلسطین، شام،
آرمینیاوغیرہ کوترک سلطنت سےعلٰحدہ کرکےغیرمسلم حکمراں طاقتوں کےماتحت رکھنےپراظہارناپسندیدگی کیاگیاتھااورجزیرۃ العرب کوغیراسلامی اثرات سے پاک رکھنے پر زور دیاگیاتھا-مولاناثناء اللہ امرتسری ایڈیٹر "اہل حدیث”نے پیش کیا،اورشیخ عبداللہ وکیل علی گڑھ نے اس کی تائید کی۔۔۔
کل سات (۷)تجاویزمنظور کی گئیں،جن میں سےہرایک کاتعلق خلافت ترکی سے تھا۔۔ چھٹی تجویز۱۷/اکتوبرکادن ترکی کےلئےیوم دعامنانےسے متعلق تھی ،اورساتویں تجویز میں بمبئی کی خلافت کمیٹی کےکام پراظہاراطمینان کیاگیاتھااوراس کی شاخیں صوبوں اورمختلف مقامات پرقائم کرنےکی ضرورت جتائی گئی تھی،آخرمیں مولانا عبدالباری صاحب نےجناب صدراوربیرونی مہمانوں کاشکریہ اداکیا،اورجناب صدر نے چنداختتامی الفاظ میں اہل لکھنؤ کا
شکریہ اداکرتےہوئےجلسہ کی کامیابی پراظہارمسرت کیا،اور حصول مقصد کی دعا مانگی ۔
حضرت مولاناسجادؒکانفرنس کےاہم قائد
اس کانفرنس کےاہم قائدین میں حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒبھی تھے، مولانا سیدشاہ حسن آرزوصاحب(پٹنہ) جواس کانفرنس کےاہم شرکاء میں تھے،اورجنہوں نے خلافت عظمیٰ سے متعلق پہلی تجویزکی تائیدمیں تقریرکی تھی،مولاناسجادصاحب سےان کی پہلی ملاقات اسی کانفرنس میں ہوئی تھی اوروہ مولاناؒکی شخصیت اورافکارعالیہ سےبےحدمتأثر ہوئے ،اس کےبعد ان کومولاناؒکےساتھ رہنےاورکام کرنے کےبھی کافی مواقع ملے،یہ تعلقات ان کےبقول تقریباً پچیس(۲۵)سال کےعرصہ پرمحیط تھے،آرزوصاحب لکھتےہیں:
"خوش قسمتی سے مجھےلکھنؤکےاس سفرمیں مولاناسجادمرحوم کی معیت کا
شرف حاصل ہوا،میں نےپہلی ہی ملاقات میں اس دبلے پتلےنحیف وکمزور
عالم دین سےمل کریہ محسوس کیاکہ اس کےسینےکےاندرگوشت کالوتھڑا
نہیں ،دہکتی آگ کاشعلہ ہے،اس کی نظرکی گہرائی ،اس کےدماغ کی بلندی
اورفہم وفراست ،ارتقائے ملک کےلئےصاف اورسیدھانظام عمل اپنے
اندر مخفی رکھےہوئےہے ، لکھنؤکی وہ صحبت یقینی ایک تاریخی صحبت تھی،
مخصوص مسلمانوں کاایک بڑامجمع تھااورکم ازکم میری زندگی کاایک تاریخی
دن تھا،مجلس مضامین کی مخصوص صحبت میں پتہ چلاکہ مولاناسجادؒکی ذہنی
کاوشیں کیاہیں،اورسیاسی معلومات میں وہ کس درجہ ماہرہیں
خلافت کمیٹی کاپہلااجلاس دہلی میں
۲۸/صفرالمظفر ۱۳۳۸؁ھ مطابق ۲۳/نومبر۱۹۱۹؁ءکوخلافت کمیٹی کاپہلامرکزی اجلاس دہلی میں ہوا،جس کی صدارت مسٹر فضل الحق (بنگال )نےکی،مہاتماگاندھی بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے،”اس میں خلائق کااتناہجوم تھاکہ چاندنی چوک اور جامع مسجد کی راہ دوگھنٹے میں طےہوئی،اس اجلاس میں صرف خلافت کمیٹی کےقائم مقام شریک کئےگئے جوتمام صوبوں سے آئے تھے،کچھ ہندومعززین نےبھی شرکت کی،جن کومسلمانوں نےاپنانمائندہ بناکربھیجاتھا،سندھ ،رنگون،بنگال ،بہار،صوبۂ متحدہ وغیرہ سے جوہندوآئے تھے ان کومسلمانوں نےخلافت کمیٹیوں کی طرف سے بھیجاتھا،شیعہ حضرات بھی اس میں شریک تھے ”
تجویزمقاطعہ
اجلاس میں باتفاق رائے یہ تجویزمنظورکی گئی کہ مسلمان انگریز کے جشن فتح میں شریک نہیں ہوں گے اور اگر ان کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو وہ حکومت سے عدم تعاون کریں گے، اس اجلاس میں ہندوؤں سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی۔
اس میں حضرت مولاناسجادبھی قائدانہ طورپرشریک تھے،اسی موقعہ پرجمعیۃ علماء ہندکی بھی باقاعدہ تشکیل ہوئی جس کاپہلے سے ہی عزم کرکےمولاناعبدالباری فرنگی محلی اور مولاناابوالمحاسن سجاد تشریف لائے تھے،تفصیل جمعیۃ علماء کی بحث میں ملاحظہ کریں۔
خلافت کمیٹی کادوسرااجلاس امرتسرمیں
خلافت کمیٹی کادوسرااجلاس امرتسر میں آل انڈیانیشنل کانگریس کےاجلاس کےساتھ ۵/ربیع الثانی ۱۳۳۸؁ھ مطابق ۲۸/دسمبر ۱۹۱۹؁ء کو منعقدہوا ،جس کی صدارت مولانا شوکت علی ؒ نےکی ،اجلاس میں حضرت مولاناعبدالباریؒ اورحضرت مولانامحمدسجادؒ نےبھی قائدانہ شرکت کی،مولانامحمدعلی جوہراجلاس سے کچھ دنوں پہلےہی رہاہوئےتھے،وہ بھی شریک ہوئےاوراجلاس میں ایک طویل،جذباتی اوراثرانگیزتقریرفرمائی۔بقول مولانا عبدالماجد دریابادیؒ :”مولانامحمدعلی جوہرؔ کی شرکت گویاتمام مسلمانان ہندکی شرکت تھی،کیونکہ وہ اپنےعلم وفضیلت ،اسلام نوازی ،جرأت وحق گوئی وبےباکی،عظیم ایثاروقربانی کی وجہ سےہندوستان کےمسلمہ لیڈربن چکےتھے،بیتول جیل سے رہائی کےبعدوہ جن جن اسٹیشنوں سےگذرےوہاں ان کاعظیم الشان استقبال کیاگیا ۔
دہلی میں خلافت کانفرنس اوروفدخلافت کی تجویز
۲۷/ربیع الثانی ۱۳۳۸؁ھ مطابق۲۰/جنوری ۱۹۲۰؁ء کودہلی میں ایک بڑی خلافت کانفرنس ہوئی ،جس میں مولاناابوالکلام آزاد(مولاناآزادیکم جنوری ۱۹۲۰؁ء کوجیل سے رہاہوئے تھے)،لوکمانیہ تلک اوردیگرکانگریسی لیڈران بھی شریک ہوئے،اورخلافت کےمسئلہ پرسب نےاپنےاتفاق کااظہارکیا،وائسرائےاورصلح کانفرنس لندن میں وفدبھیجنے کی تجویزمنظور ہوئی،مولانامحمدعلی نےوفدکامیموریل تیارکیاجس پرسربرآوردہ لوگوں نےدستخط کئے،مولانا آزادنے انڈیاونس فریڈم میں لکھاہے:
"وفدوائسرائے سے ملا،میں نے عرضداشت پر دستخط تو کردئیے تھے
مگروفد کےساتھ گیانہیں،کیونکہ میراخیال تھاکہ معاملات عرضداشتوں
اوروفدوں کی حد سے آگے بڑھ چکےتھے”
مولاناآزادؔہی کےبیان کےمطابق وائسرائےنےمیموریل کےجواب میں صرف اتناکہاکہ”اگرمسلمانوں کاکوئی وفدحکومت برطانیہ کےسامنےہندوستانی مسلمانوں کانقطۂ نگاہ پیش کرنےکےلئےجاناچاہے،توحکومت وفدکولندن جانےکی ضروری سہولتیں فراہم کردے گی،لیکن خود اس نےکچھ کرنےسے معذوری ظاہرکی”
بہرحال مولانامحمدعلی کی قیادت میں وفد لندن کےلئےروانہ ہوا،جس میں مولانا سیدسلیمان ندوی،سیدحسین،ابوالقاسم،اورحسن محمدحیات شامل تھے،وفدنے لندن میں مسٹر فشرکےتوسط سے مسٹرلائیڈجارج سےملاقات کی ،مگرلاحاصل ،مولانامحمدعلی نےکچھ عوامی جلسے
وہاں کئے ،پھریہ حضرات اکتوبر۱۹۲۰؁ء کےآغازمیں ہندوستان واپس لوٹ آئے ۔
کلکتہ میں خلافت کانفرنس
٭فروری ۱۹۲۰؁ء میں کلکتہ ٹاؤن ہال میں ایک خلافت کانفرنس ہوئی جس کی صدارت مولاناابوالکلام آزادؒنےکی،مولاناآزادؒنےاس میں خلافت کےموضوع پرایک مبسوط خطبہ دیا،جوکتابی شکل میں اسی وقت شائع ہوچکاتھا ۔
کراچی میں عظیم الشان خلافت کانفرنس
۱۵/محرم الحرام ۱۳۴۰؁ھ مطابق ۱۹/ستمبر۱۹۲۱؁ء کوکراچی میں خلافت کانفرنس مولانامحمدعلی جوہرکی صدارت میں ہوا،جس میں حسب معمول کافی جوش وخروش نظرآیا، اکابر
علماء وزعماء اسلام کےعلاوہ ہندولیڈر اورعوام بھی کانفرنس میں شریک ہوئے ،اسی اجلاس میں
انگریزی فوج کی ملازمت کوازروئےاسلام حرام قراردیاگیا،اور پھرحضرت مولاناحسین احمد مدنی،مولانامحمدعلی،مولاناشوکت علی،مولانانثاراحمدکانپوری،پیرغلام مجدداورڈاکٹرسیف الدین کچلووغیرہ پرمشہورزمانہ مقدمۂ بغاوت چلا،مولانامحمدعلی نےدوران مقدمہ جج سےزوردارلفظی مباحثہ کیا،حضرت مدنیؒ بھی اپنےبیان پرقائم رہے،کراچی کےمقدمہ میں تمام ہی ملزموں نےاقبال جرم کرلیاتھا،سب کوسزاہوئی ،لیکن مولانامحمدعلی اورمولاناشوکت علی ہندوستان کے ہیروہوگئے،اسی زمانے میں یہ شعرکافی مشہورہوا:
بولیں اماں محمد علی کی جان بیٹاخلافت پہ دےدو
ساتھ تیرےہیں شوکت علی بھی جان بیٹاخلافت پہ دےدو

خلافت کمیٹی (جمعیۃ المرکزیۃ الہندیۃ للخلافۃ )کی جانب سےشائع شدہ ایک اشتہارجس میں تحفظ خلافت کےلئےیکم اگست ۱۹۲۰؁ء مطابق ۱۶/ذی الحجہ ۱۳۳۸؁ھ کوملک گیرپرامن عام ہڑتال اورعدم تعاون کی اپیل کی گئی ہے،اس پرگاندھی جی،مولاناابوالکلام آزاد،مولاناشوکت علی ،حاجی صدیق کھتری،سیف الدین کچلو،فضل الحسن ،مولاناحسرت موہانی قائدین تحریک خلافت کےنام درج ہیں ،(مولانانورالحسن راشد کاندھلوی کی عنایت سےیہ اشتہارمجھےحاصل ہوا)
خواتین بھی تحریک میں شامل ہوگئی تھیں،مولانامحمدعلی ؒکی والدہ اس میں پیش پیش تھیں ،ان کوساراملک بی اماں کےنام سے یادکرتاتھا ۔
گیامیں عظیم الشان خلافت کانفرنس
حضرت مولاناسجادصاحبؒ نےقاضی احمدحسین صاحب کی معاونت سے خلافت کمیٹی کی ایک شاخ گیاشہرمیں قائم کی تھی ،جوبہارکی پہلی خلافت کمیٹی تھی ،مولاناعبدالحکیم اوگانوی ؒ کےالفاظ میں:
"انوارالعلوم کےبعدسب سےاہم اورنمایاں کام گیامیں خلافت کمیٹی
کی تاسیس تھی ، جو صوبۂ بہارکی پہلی خلافت کمیٹی تھی،اورہزاروں
ہزاروپیہ ٹرکی کو بھجوایااورخوب چندہ ہوامجھےیادہےکہ غالباًیوم انقرہ
کے سلسلہ میں ایک چھوٹے سے محلہ سے ڈیڑھ سوروپیہ وصول کرکے
دفترمیں داخل کیاتھا”
اس شاخ کی طرف سےحضرت مولاناسجادؒنےگیامیں ربیع الثانی ۱۳۴۱؁ھ /دسمبر ۱۹۲۲؁ء کوجمعیۃ علماء ہنداورکانگریس کےجلسوں کےساتھ عظیم الشان خلافت کانفرنس کاانعقاد فرمایا،جس کی صدارت حضرت مولاناحبیب الرحمن عثمانی(۱۴/رجب ۱۳۴۸؁ھ مطابق ۱۶/ دسمبر۱۹۲۹؁ء)مہتمم دارالعلوم دیوبند(زمانۂ اہتمام:۱۳۳۵؁ھ تا۱۳۴۸؁ھ/۱۹۱۷؁ءتا ۱۹۲۹؁ء ) نے
فرمائی،مولاناابوالبرکات عبدالرؤف داناپوریؒ مجلس استقبالیہ کےصدر تھے ،گیاکانگریس کےاجلاس کےصدرمسٹرسی آرداس تھے،یہ جلسےحضرت مولاناسجادؒکی خوش ذوقی ،فنکارانہ مہارت ،اورانتظامی صلاحیت کی آئینہ دارتھی،علامہ مناظراحسن گیلانی ؒ رقمطراز ہیں :
"اسی کااعتراف نہیں ،بلکہ اس کابھی کہ سارے ہندوستان کاسب سے
نمایاں اجلاس جمعیۃ علماء گیاکااجلاس تھا،اورجمعیۃ علماء گیاکااجلاس صرف
ایک واحدشخصیت (حضرت مولاناسجادؒ)کی عملی قوتوں کامظہر تھا”
گیاکانفرنس کامنظرجمیل
ان پروگراموں کی چشم دیدکیفیت حضرت مولانامحمدسجادکےسیاسی ناقدعلامہ راغب احسن صاحب ایم اے جنرل سیکریٹری کلکتہ مسلم لیگ کی زبانی ملاحظہ فرمائیے:
"حضرت مولانامحمدسجادکوپہلی دفعہ اوریہ آخری دفعہ بھی تھا، میں نےگیا
کانگریس ۱۹۲۲؁ء کے موقعہ پرجمعیۃ علماء ہندکےعظیم الشان پنڈال میں
دیکھاتھا،گیاکانگریس کااجلاس زیرصدارت مسٹرسی آرداس ہورہاتھا،
سوراج پارٹی کی بنیاد پنڈت موتی لال نہروداس اورحکیم اجمل خان مل کر
ڈال رہے تھے، گیامیں اس موقعہ پرآل انڈیاخلافت کانفرنس اورجمعیۃ
علماء ہندکی سالانہ کانفرنسیں بھی ہورہی تھیں،دسمبرکامہینہ تھا،کڑاکے
کاجاڑا پڑرہاتھا ،کانگریس ، خلافت اورجمعیۃ کےپنڈال دریائےپھلگوکے
کنارے شہرسے باہرریت کےٹیلوں اورخوبصورت پہاڑیوں کےدامن
میں قائم تھے،کانگریس اس وقت بھی سرمایہ دارہنودکی مجلس تھی،اس
کاپنڈال ہندو طرزتعمیرکانمونہ تھا،صدر گیٹ ، دروازے،اوراس کے
ستون بدھسٹ طرزتعمیرکےمطابق بنائے گئے تھے،اس کاظاہروباطن
کاملاً ہندوانہ تھا،اس کی تعمیرپرہزاروں ہزارروپیہ خرچ کیاگیاتھا۔
اس کےبالکل برعکس جمعیۃ علماء ہندکاپنڈال اسلامی سادگی،نفاست،اور
جدت، اورانڈوساراسینک(Indo Sara Cenic)عربی ہندی طرز
تعمیرکی رعنائیوں کاآئینہ دارتھا،اس کےعالیشان صدرپھاٹک اورداخل
وخارج ہونےکےدروازوں پرعربی حروف میں معنیٰ خیزآیات قرآنی
درج تھے ، مسلمانوں کےعلاوہ ہزاروں لاکھوں ہندوروزانہ جمعیۃ علماء
کےپنڈال کوآکردیکھتےاورتعریف کرتے تھے،جوکلمہ سب کی زبانوں
پرعام تھاوہ یہ تھا کہ باوجود سادہ اورکم خرچ ہونےکےجمعیۃ کاپنڈال
کانگریس کےپنڈال سے ہزاردرجہ زیادہ آرام دہ ،زیادہ روشن وفراخ ،
زیادہ حسین وجمیل ،اورزیادہ عالیشان،زیادہ پرشکوہ تھا،اوریہ سب کچھ
مولاناسجادکی اعلیٰ تعمیری صلاحیت کانتیجہ تھا،مجھے معلوم تھاکہ مولانانے
یہ ساراانتظام انتہائی بےسروسامانی ،بےمائیگی، اورپریشانی کےعالم میں
اورقلیل ترین وقت یعنی صرف چند دنوں کےاندرکیاتھا،گیاکی جمعیۃ
علماء کانفرنس اورخلافت کانفرنس کی اصل روح رواں ،دماغ ،مدبر،اور
مرکزی شخصیت مولاناسجادکی ذات تھی،مولاناسجادنےمحض چندگنے
ہوئےدنوں کےاندرجمعیۃ علماء اور خلافت کانگریس کے متعلق جملہ
انتظامات باوجود غربت وافلاس اوربےسروسامانی کےاتنےاعلیٰ پیمانہ اور
بہترین بلکہ نادرترین اندازپرکیاتھا،کہ ہندومسلم اکابرکی نگاہیں بےاختیار
مولاناپرمرکوزہورہی تھیں اورسب کی زبانیں اس حقیقت کےاعتراف
میں ہم آوازتھیں کہ:
مولاناسجادؒنئےہندوستان کی تعمیرکی صلاحیت رکھتےہیں
"گیاکانگریس نےملک کی ایک نادراورحیرت انگیزتنظیمی طاقت کاانکشاف
کیاہے،مولاناحکیم ابوالبرکات عبدالرؤف صاحب قادری داناپوری جمعیۃ
علماء ہندکی مجلس استقبالیہ کے صدر تھے ،آپ نےمولاناسجادؒکی انتظامی
صلاحیت کااعتراف کرتے ہوئےکھلے اجلاس میں فرمایاتھاکہ:
"مولاناسجادنےمسلمانوں کی عظیم الشان تنظیمی اورسیاسی کاروائی کاجوثبوت
دیاہے ، وہ اس درجہ بلندہےکہ سوراج ملنےکےبعدمولانا کو ہندوستان کا
گورنراور گورنرجنرل بنانا موزوں ہوگا،کیونکہ وہ ایک نئے ہندوستان کے
نئے خیالات واصول کےمطابق تعمیرکی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ”
حضرت مولاناحبیب الرحمن عثمانی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبندصدراجلاس
نےجو خودبھی بڑےمنتظم بزرگ تھےاس خراج تحسین کی تائید فرمائی تھی ۔
اسی اجلاس گیاکے موقعہ پرمجھے مولانامرحوم کی تقریرسننے کاپہلاموقعہ ملاتھا
،اوریہ محسوس ہواتھاکہ وہ صاحب بیان نہیں بلکہ صاحب عمل بزرگ ہیں۔
مولاناسجادؒنہ صرف ایک بڑی تنظیمی صلاحیت رکھنےوالےبزرگ تھے،بلکہ
جدید (Qriginal) خیالات وافکار رکھنےوالےایک معمار اورخلاق بھی
تھے،وہ صرف منتظم اورمدبرنہیں تھے،بلکہ مفکر،مجتہداورآرٹسٹ بھی تھے
،اورکوئی اول درجہ کامعماراورآرٹسٹ نہیں ہوسکتاہےجب تک کہ وہ اعلیٰ
درجہ کی قوت تخییل اوراعلیٰ درجےکی قوت تخلیق نہ رکھتاہو،اورگیاکےملی
مجالس اوراس کےمتعلقہ انتظامات ان کی اعلیٰ قوت تخییل اوراعلیٰ تخلیق کے
مخلوقات فکروعمل تھے،مولاناکی شخصیت میں بیک وقت اعلیٰ درجہ کی انتظامی
صلاحیت اورعملی طاقت کےساتھ نئےنئےخیالات وتعمیرات کےعدم سے
وجودمیں لانے کی تخلیقی قوت بھی جمع تھی،وہ نہ صرف حسب موقع نئے
خیالات کوقبول کرسکتے تھے،بلکہ نئےخیالات کی آفرینش کی بھی قوت رکھتے
تھے،اوراس سےبھی زیادہ یہ کہ وہ اپنےنئے خیالات کےمطابق ایک نئی دنیا
کی تعمیربھی کرسکتے تھے۔اجلاس گیاکےموقعہ پرہرچیزاورہرانتظام پرمولانا
سجادکی تخلیقی شخصیت اوراجتہادی آرٹ کاچھاپ صاف نمایاں تھا”
احیاء خلافت کی آخری کوششیں
حضرت مولاناسجادؒکےان پروگراموں نےپورےملک بالخصوص بہارمیں انقلاب کی لہردوڑادی،مسلمانوں نےخلافت اسلامیہ کےتحفظ وبقاکےلئےتن من دھن کی بازی لگادی ، اورقربانی وسرفروشی کی ایک نئی تاریخ رقم کی ،لیکن ہواوہی جواللہ پاک کومنظورتھا،ترک ناداں نےخودہی پسپاہوکردشمنوں سےمصالحت کرلی،اورصدیوں کی بنائی ہوئی تاریخی سلطنت اور روحانی منصب کوبیک جنبش قلم منسوخ کردیا،۲۵/رجب المرجب ۱۳۴۲؁ھ مطابق ۳/مارچ ۱۹۲۴؁ء کوتنسیخ خلافت کےعظیم سانحہ کےبعد بھی ہمارےعلماء اورقائدین نےخلافت اسلامیہ کےامکانات کےلئے کئی عملی کوششیں کیں ،پہلےتویہ کوشش کی گئی کہ خودمصطفےٰ کمال اس منصب خلافت کے لئےآمادہ ہوجائے،اورخلافت کی جاری روایات واصول کودوبارہ قائم کرے ،لیکن جب اس سے مایوسی ہوگئی تو۱۹۲۴؁ء میں شاہ عبدالعزیزنےحجازمقدس میں شریف حسین کےخلاف اپنی مہم کاآغازکیاتھا،اوران سے مسلمانوں کوبڑی امیدیں قائم تھیں کہ وہ حجاز مقدس میں منصب خلافت کےقیام میں امت مسلمہ کی مدد کریں گے ،اس لئے کہ مہم کےآغازمیں انہوں نےاعلان کیاتھاکہ ان کوحکومت کی خواہش نہیں ہے،شریف حسین کے نکل جانےکےبعدمسلمان جس کوچاہیں امیرمنتخب کرلیں،۲۴/اکتوبر۱۹۲۴؁ء (۲۵/ربیع الاول ۱۳۴۳؁ھ)کوخلافت کمیٹی کی تجویزکاجواب ملک عبدالعزیزنےیہ دیاتھاکہ آخری فیصلہ دنیائے اسلام کےہاتھ میں ہوگا،جمعیۃو خلافت نےعلامہ سیدسلیمان ندوی ؒ کی قیادت میں باقاعدہ ایک وفد بھی حجازمقدس روانہ کیاجس کےاراکین میں مولاناعبدالماجدبدایونی اورمولاناعبدالقادر قصوری بھی تھے،لیکن یہاں بھی مایوسی کےعلاوہ کچھ ہاتھ نہ آیا،۱۹۲۵؁ء میں جیسے ہی مکمل حجازفتح ہوا،۱۰/جنوری ۱۹۲۶؁ء(۲۵/جمادی الثانیۃ ۱۳۴۴؁ھ)کوجناب عبدالعزیزنےاپنےملک النجدوالحجازہونےکااعلان کردیا،اورخلافت اسلامیہ کی آخری امید بھی جاتی رہی ،اناللہ واناالیہ راجعون ۔
الغائے خلافت کےجھوٹے اعذار
حضرت مولاناسجادصاحبؒ خلافت کےخاتمہ پربےحدرنجیدہ تھے،ایک پل کے لئےبھی امت کابغیرخلیفہ رہناان کوگوارانہ تھا،بعض لوگ مصطفیٰ کمال اوران کےہم خیال ترکوں کی طرف سے عذرپیش کرتے تھے اورتاویلات کرتے تھے،مولاناسجادصاحبؒ کے نزدیک یہ سب تاویلات باردہ تھیں،اوران کی بناپرمسلمانان ترک یامسلمانان عالم اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہوسکتے تھے،قیام خلافت مسلمانوں کی عالمی اجتماعی ذمہ داری ہے ،اس ذمہ داری سے گریزکی کوئی تاویل حضرت مولانامحمدسجادؒکےنزدیک قابل قبول نہیں تھی ،انہوں نےاپنےخطبۂ صدارت مرادآبادمیں سب سے پہلےاسی مسئلہ پرگفتگوکی ہے،اور جس تفصیل سے اس پرروشنی ڈالی ہےاس سے مولاناکی غیرت ایمانی،فکری بلندی،وسعت مطالعہ،قوت مشاہدہ ،حالات سے باخبری اورگہری حساسیت کاپتہ چلتاہے،انہوں نے انسانی سوچ کی کمزوریوں ،بےعملی کےحیلےبہانوں اورمغربی تہذیب کی فکری غلامی میں تراشے گئےنظریات پرجس طرح نشتر چلائے ہیں کہ احساس کاحامل شخص تڑپ تڑپ اٹھے گا، تقریباًبیس (۲۰) صفحات میں یہ بحث پھیلی ہوئی ہے،اوراپنےموضوع پرسنگ میل کادرجہ
رکھتی ہے ۔ فرحمہ اللہ۔۔۔۔
درست کہاکہنےوالےنے:
چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی اپنوں کی دیکھ دشمن کی عیاری بھی دیکھ
لیکن وہ ناامیدنہ تھے،اسی ناکامی کےلہوسےبہارمیں امارت شرعیہ کاایک چراغ انہوں نےجلایاتھا،اورآخراسی حسرت وجستجواورامید وآرزومیں اس مردمجاہدنےاپنی زندگی کی شام کردی:
اگرعثمانیوں پہ کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صدہزارانجم سےہوتی ہےسحرپیدا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: