مضامین

ہندوستان میں اسلامی نظام قضاکانفاذ حضرت ابوالمحاسنؒ کےتفکروتفقہ کامستقل باب

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

ہندستان میں اسلامی نظام قضاکانفاذ
حضرت ابوالمحاسنؒ کےتفکروتفقہ کامستقل باب
علماء ہندوستان میں یہ شرف بھی صرف حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ کوحاصل ہےکہ انہوں نےغیراسلامی ہندوستان میں جب اسلامی نظام قضاکوبیخ وبن سےاکھاڑکر پھینک دیاگیا تھا،اس کاعملی طورپر احیاکیا،آج اس ملک میں نظام قضازندہ یامتعارف ہےتووہ مولانا سجادؒکی کوششوں کی دین ہے،اس مردہ نظام کوجس طرح انہوں نےزندہ کیاوہ ان کی شان تجدیدکا مظہرہے،یہ اللہ پاک کی طرف سے مرد موفق کے علاوہ کوئی دوسراشخص انجام نہیں دے سکتاتھا، قدرت کی طرف سے یہ مولاناؒ کاانتخاب تھا،اور تجربات وواقعات نے ثابت کردیاکہ یہ حسن انتخاب تھا۔
دارالقضاءکااجمالی تذکرہ امارت شرعیہ کے شعبہ جات کےضمن میں آچکاہے،اور اس کی مزیدتفصیل بھی وہیں ذکرکی جاسکتی تھی لیکن مستقل حیثیت سےاس کو لانے کاسبب یہ ہےکہ حضرت مولاناسجادؒکےنظام قضاکی تاریخ امارت شرعیہ سے بھی قدیم ہے،امارت شرعیہ کی تاسیس سےقبل ہی مولاناؒ کاتصورقضاعملی صورت اختیارکرچکا تھا ،اوربہارکے مختلف شہروں میں ان کےکئی دارالقضاء وجودمیں آچکے تھے،اس لئے یہ ناانصافی ہوگی اگرہم اس اہم ترین اوراولین خدمت کوامارت شرعیہ کے محض ایک ذیلی شعبہ کے طور پرپیش کریں،یہ حضرت مولاناسجادؒکےتفکروتفقہ کاایک مستقل باب ہے،یہ ان کی تابناک زندگی کاوہ روشن عنوان ہے جس کی اہمیت وقت کےگذرنے کےساتھ بڑھتی جارہی ہے۔
نظام قضاکی اہمیت
قضااسلامی معاشرہ کالازمی عنصرہے،اس کوفریضۂ محکمہ قراردیاگیاہے،امیر المؤمنین حضرت عمربن الخطاب ؓنےحضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کےنام اپنےایک مکتوب میں تحریرفرمایا:
فإن القضاء فريضة محكمة وسنة متبعة
ترجمہ :قضافریضہ محکمہ (غیرمنسوخ)ہے،اورایسی سنت ہےجس کی ہمیشہ
اتباع کی جائے گی۔
اسی لئے فقہاء نےبالاتفاق قیام قضاکوواجب قراردیاہے:
معین الحکام میں ہے:
لاخلاف بین الامۃ ان القیام بالقضاء واجب
امام سرخسی ؒ لکھتے ہیں:
أعلم بأن القضاء بالحق من أقوى الفرائض بعدالإيمان بالله تعالى
وهو من أشرف العبادات
علامہ کاسانیؒ لکھتےہیں:
(أَمَّا)الْأَوَّلُ فَنَصْبُ الْقَاضِي فَرْضٌ؛لِأَنَّهُ يُنْصَبُ لِإِقَامَةِ أَمْرٍمَفْرُوضٍ،وَهُوَ الْقَضَاءُ قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى{:يَادَاوُدإنَّاجَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ}وَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِنَبِيِّنَا الْمُكَرِّمِ عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وَالسَّلَامِ:{ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَاأَنْزَلَ اللَّهُ}وَالْقَضَاءُهُوَ:الْحُكْمُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ،وَالْحُكْمُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ،فَكَانَ نَصْبُ الْقَاضِي؛لِإِقَامَةِالْفَرْضِ،فَكَانَ فَرْضًاضَرُورَةً
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
نَصْبُ الْقَاضِي فَرْضٌ كَذَا في الْبَدَائِعِ وهو من أَهَمِّ أُمُورِ الْمُسْلِمِينَ
وَأَقْوَى وَأَوْجَبُ عليهم
علامہ موصلیؒ لکھتےہیں:
القضاء بالحق من أقوى الفرائض وأشرف العبادات
مجمع الانہرمیں ہے:
لهذاقال القضاء بالحق من أقوى الفرائض وأفضل العبادات بعد
الإيمان بالله تعالى
امام سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ یہ انبیاء کی بعثت کےمقاصدمیں شامل تھا،انبیاءکرام علیہم
الصلوات والتسلیمات کےبعدخلفاء راشدین اوردیگرخلفاء اسلام کےادوارمیں بھی یہ تسلسل جاری رہا:
ولأجله بعث الأنبياءوالرسل صلوات الله عليهم وبه اشتغل
الخلفاء الراشدون رضوان الله عليهم
قضاکامفہوم اورمعیار-قضاکےلئےقوت تنفیذشرط نہیں
قضاقانون الٰہی کےمطابق لوگوں کےدرمیان حق فیصلہ کرنےکانام ہے:
وَالْقَضَاءُهُوَ:الْحُكْمُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ،وَالْحُكْمُ بِمَاأَنْزَلَ اللَّهُ
عَزَّ وَجَلَّ
اس میں قوت جبراورپولیس کی شرط نہیں ہے،یہ امرزائدہے،اگرہوتوبہترہے ورنہ یہ لوازم قضامیں شامل نہیں ہے،بعض حضرات کوعالمگیری وغیرہ کی اس عبارت سے شبہ ہواجس میں قضاکوقول ملزم قراردیاگیا ہے:
وَالْقَضَاءُلُغَةًبِمَعْنَى الْإِلْزَامِ وَبِمَعْنَى الْإِخْبَارِوَبِمَعْنَى الْفَرَاغِ وَبِمَعْنَى التَّقْدِيرِوفي الشَّرْعِ قَوْلٌ مُلْزِمٌ يَصْدُرُعن وِلَايَةٍ عَامَّةٍكَذَافي خِزَانَةِالْمُفْتِينَ
لیکن فقہاء امت نے صراحت کی ہےکہ مادی طاقت لازمۂ قضانہیں ہے،علامہ ابن
فرحونؒ لکھتےہیں:
قَالَ ابْنُ رَشِيدٍ : حَقِيقَةُ الْقَضَاءِ الْإِخْبَارُ عَنْ حُكْمٍ شَرْعِيٍّ عَلَى سَبِيلِ الْإِلْزَامِ.قَالَ غَيْرُهُ:وَمَعْنَى قَوْلِهِمْ قَضَى الْقَاضِي أَيْ أَلْزَمَ الْحَقَّ أَهْلَهُ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ قَوْله تَعَالَى { فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ } أَيْ أَلْزَمْنَاهُ وَحَتَّمْنَا بِهِ عَلَيْهِ ، وقَوْله تَعَالَى { فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ } أَيْ أَلْزِمْ بِمَا شِئْت وَاصْنَعْ مَا بَدَا لَك .
وَفِي الْمَدْخَلِ لِابْنِ طَلْحَةَ الْأَنْدَلُسِيِّ الْقَضَاءُ مَعْنَاهُ الدُّخُولُ بَيْنَ الْخَالِقِ وَالْخَلْقِ لِيُؤَدِّيَ فِيهِمْ أَوَامِرَهُ وَأَحْكَامَهُ بِوَاسِطَةِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ.
قَالَ الْقَرَافِيُّ حَقِيقَةُ الْحُكْمِ إنْشَاءُ إلْزَامٍ أَوْ إطْلَاقٍ وَالْإِلْزَامُ كَمَا إذَا حَكَمَ بِلُزُومِ الصَّدَاقِ أَوْ النَّفَقَةِ أَوْ الشُّفْعَةِ وَنَحْوِ ذَلِكَ ، فَالْحُكْمُ بِالْإِلْزَامِ هُوَ الْحُكْمُ ، وَأَمَّا الْإِلْزَامُ الْحِسِّيُّ مِنْ التَّرْسِيمِ وَالْحَبْسِ فَلَيْسَ بِحُكْمٍ ؛ لِأَنَّ الْحَاكِمَ قَدْ يَعْجِزُعَنْ ذَلِكَ،وَقَدْيَكُونُ الْحُكْمُ أَيْضًابِعَدَمِ الْإِلْزَامِ
کچھ آگے چل کرلکھتےہیں:
أَمَّا وِلَايَةُ الْقَضَاءِ فَقَالَ الْفَرَّاءُ هَذِهِ الْوِلَايَةُ مُتَنَاوِلَةٌ لِلْحُكْمِ لَا يَنْدَرِجُ فِيهَا غَيْرُهُ.وَقَالَ أَيْضًا فِي مَوْضِعٍ آخَرَ وَلَيْسَ لِلْقَاضِي السِّيَاسَةُ الْعَامَّةُ لَا سِيَّمَا الْحَاكِمُ الَّذِي لَاقُدْرَةَلَهُ عَلَى التَّنْفِيذِ،كَالْحَاكِمِ الضَّعِيفِ الْقُدْرَةِ عَلَى الْمُلُوكِ الْجَبَابِرَةِ فَهُوَ يُنْشِئُ الْإِلْزَامَ عَلَى الْمَلِكِ الْعَظِيمِ وَلَا يَخْطُرُ لَهُ تَنْفِيذُهُ لِتَعَذُّرِ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، بَلْ الْحَاكِمُ مِنْ حَيْثُ هُوَحَاكِمٌ لَيْسَ لَهُ إلَّا الْإِنْشَاءُ،وَأَمَّاقُوَّةُ التَّنْفِيذِ فَأَمْرٌ زَائِدٌ عَلَى كَوْنِهِ حَاكِمًافَقَدْ يُفَوَّضُ إلَيْهِ التَّنْفِيذُوَقَدْ لَا يَنْدَرِجُ فِي وِلَايَتِهِ
علامہ علی بن خلیل طرابلسیؒ تحریرفرماتےہیں:
وَقَالَ الْقَرَافِيُّ : حَقِيقَةُ الْحُكْمِ إنْشَاءُ إلْزَامٍ أَوْ إطْلَاقٍ.فَالْإِلْزَامُ : كَمَا إذَا حَكَمَ بِلُزُومِ الصَّدَاقِ أَوْ النَّفَقَةِ أَوْ الشُّفْعَةِ وَنَحْوِ ذَلِكَ.فَالْحُكْمُ بِالْإِلْزَامِ هُوَ الْحُكْمُ .وَأَمَّا الإلْزَامُ الْحِسِّی مِنْ التَّرْسِيمِ وَالْحَبْسِ فَلَيْسَ بِحُكْمٍ ؛ لِأَنَّ الْحَاكِمَ قَدْ يَعْجِزُ عَنْ ذَلِكَ ، وَقَدْ يَكُونُ الْحُكْمُ أَيْضًا بِعَدَمِ الْإِلْزَامِ ، وَذَلِكَ إذَا كَانَ مَا حُكِمَ بِهِ هُوَ عَدَمُ الْإِلْزَامِ وَأَنَّ الْوَاقِعَةَ يَتَعَيَّنُ فِيهَاالْإِبَاحَةُ وَعَدَمُ الْحَجْرِ ۔
عام مسلمان بوقت ضرورت قاضی کاتقرر کرسکتےہیں
اسی لئےفقہاء اسلام نے صراحت کی ہےکہ اس فریضہ کی ادائیگی کےلئےزمان ومکان کی قیدنہیں ہے،بلکہ ہرجگہ کےمسلمان اس فریضہ کےپابندہیں ،خواہ وہ اکثریت میں ہوں یااقلیت میں،ان کااپنااقتدارہوجہاں مسلم حاکم قاضی کاتقرر کرسکتاہو،یاکسی غیراسلامی طاقت کےمحکوم ہوں،جہاں مسلم حکمراں موجودنہ ہو۔۔۔البتہ جہاں مسلم حکومت ہووہاں حکومت کی ذمہ داری ہےکہ قاضی کاتقررکرےیاحاکم(بشرط اہلیت)خودکارقضاانجام دے،اورجہاں اسلامی حکومت موجودنہ ہواورنہ حکومت کی طرف سےنظم قضاکی امیدہوتو عام مسلمانوں کی ذمہ داری ہےکہ وہ باہمی اتفاق سے خودقاضی مقررکریں،اس پربہت سی فقہی تصریحات موجودہیں مثلاً:
علامہ ابن الہمامؒ لکھتے ہیں:
وإذالم يكن سلطان ولامن يجوزالتقلدمنه كماهوفي بعض بلاد المسلمين غلب عليهم الكفار كقرطبة في بلاد المغرب الآن وبلنسية وبلاد الحبشة وأقروا المسلمين عندهم على مال يؤخذ منهم يجب عليهم أن يتفقوا على واحد منهم يجعلونه واليافيولى قاضياأويكون هوالذي يقضي بينهم وكذاينصبوالهم إماما يصلي بهم الجمعة
البحرالرائق میں ہے:
وفي فَتْحِ الْقَدِيرِ ما يُخَالِفُهُ قال وإذالم يَكُنْ سُلْطَانٌ وَلَامن يَجُوزُالتَّقْلِيدُ منه كماهوفي بَعْضِ بِلَادِالْمُسْلِمِينَ غَلَبَ عليهم الْكُفَّارُ في بِلَادِ الْمَغْرِبِ كَقُرْطُبَةَ الْآنَ وبالنسية ( ( ( وبلنسية ) ) ) وَبِلَادِ الْحَبَشَةِ وَأَقَرُّوا الْمُسْلِمِينَ عِنْدَهُمْ على مَالٍ يُؤْخَذُ منهم يَجِبُ عليهم أَنْ يَتَّفِقُوا على وَاحِدٍ منهم يَجْعَلُونَهُ وَالِيًا فيولي قَاضِيًا وَيَكُونُ هو الذي يَقْضِي بَيْنَهُمْ وَكَذَا ينصبوا( ( ( ينصبون ) ) ) إمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ الْجُمُعَةَ ا هـ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ وَأَمَّا في بِلَادٍ عليها وُلَاةُ الكفرة( ( ( الكفار ) ) ) فَيَجُوزُ لِلْمُسْلِمِينَ إقَامَةُ الْجُمَعِ وَالْأَعْيَادِ وَيَصِيرُ الْقَاضِي قَاضِيًا بِتَرَاضِي الْمُسْلِمِينَ وَيَجِبُ عليهم طَلَبُ وَالٍ مُسْلِمٍ ا هـ
علامہ ابن عابدینؒ رقمطرازہیں:
مطلب في حكم تولية القضاء في بلاد تغلب عليها الكفار وفي الفتح وإذالم يكن سلطان ولامن يجوزالتقلدمنه كماهوفي بعض بلادالمسلمين غلب عليهم الكفار كقرطبة الآن يجب على المسلمين أن يتفقوا على واحد منهم يجعلونه واليا فيولي قاضيا ويكون هو الذي يقضي بينهم وكذا ينصبوا إماما
يصلي بهم الجمعة ا هـ وهذا هو الذي تطمئن النفس إليه فليعتمد نهر
طحطاوی میں ہے:
وفي مفتاح السعادة عن مجمع الفتاوي غلب على المسلمين ولاة الكفاريجوزللمسلمين إقامةالجمع والأعيادويصيرالقاضي قاضيابتراضي المسلمين ويجب عليهم أن يلتمسوا واليا مسلما اه
شاہ عبدالعزیزؒ غیراسلامی ہندوستان میں نظام قضاکےاولین داعی
یہی وہ ذمہ داری تھی جس نےاسلامی ہندکےسقوط کے بعدعلماءاسلام کوبےچین کردیا،جس کےہراول دستہ میں حضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی ؒ کی ذات گرامی تھی، ہندوستانی علماء میں سب سےپہلےشاہ صاحب ؒہی نےبرطانوی ہندوستان کودارالحرب قراردیا اور مسلمانوں کویہاں بطورخودنظام امارت اورنظام قضاقائم کرنےکی تجویزپیش کی(تفصیل پیچھےگذرچکی ہے) ۔
جب کہ ابھی ہندوستان میں نظام قضابالکلیہ معطل نہیں ہواتھا،اورمسلم عہد حکومت کےقاضیوں اور مفتیوں کاسلسلہ برقرار تھا،لیکن آپ نے خطرہ کی گھنٹی محسوس فرمالی تھی کہ یہ سلسلہ کبھی بھی موقوف ہوسکتاہے،چنانچہ ایساہی ہوا،آپ کے فتویٰ کےتقریباً چالیس (۴۰)سال کے بعد۱۸۶۲؁ء (۱۲۷۸؁ھ)میں انگریزوں نے پہلےاسلامی تعزیرات منسوخ کرکے تعزیرات ہند کانفاذ کیا،پھر ۱۸۶۴؁ء (۱۲۸۰؁ھ)میں اسلامی قاضیوں کی تقرری موقوف کردی ،اور۱۸۷۲؁ء (۱۲۸۹؁ھ)میں اسلامی قانون شہادت بھی منسوخ کردی گئی ۔۔۔۔
فقہ اسلامی کےمذکورہ بالاضابطہ اورحضرت شاہ صاحب ؒکےاس فتویٰ کے مطابق غیراسلامی ہندوستان میں سب سےپہلےحجۃ الاسلام حضرت مولانامحمدقاسم نانوتویؒ بانی دارالعلوم دیوبندنےاپنےدورمیں حضرت مولانامحمدیعقوب صاحب نانوتویؒ اول صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبندکوقاضی مقررفرمایا،پھرحضرت مولاناحافظ محمداحمد صاحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبندنےبلالحاظ اختلاف مسلک مختلف مسالک کےپانچ سو(۵۰۰)سےزیادہ علماءکرام سےنظام قضاکےمسئلہ پرتائیدی دستخط حاصل فرمائے۔
یہ تائیدی تحریرات اوردستخط آج بھی محافظ خانہ دارالعلوم دیوبندمیں محفوظ ہیں ۔
حضرت مولاناسجادؒنےاس فکرکوعملی قالب عطاکیا
حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادصاحب ؒنےاسی فکری تسلسل کوآگےبڑھایا،اور غیرمسلم ہندوستان میں امارت شرعیہ کےلئے پہلی بارباقاعدہ جدوجہد کاآغازفرمایا،بقول حضرت حکیم الاسلام قاری محمدطیب صاحبؒ:
"اس مسئلے کومتأخرین علماء میں حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒنےپوری
قوت کےساتھ اٹھایااورشیخ الہند حضرت مولانامحمودالحسن دیوبندی
قدس اللہ سرہ صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبندنےاس کی بھرپور
تائیدکی ” ۔
حضرت مولانامحمدسجادؒاولاً تحریک خلافت میں پیش پیش رہے،پھرانجمن علماء بہارقائم کی،جس کی توسیع بعدمیں جمعیۃ علماء ہند کے طورپرہوئی،لیکن ان تمام کوششوں کےپیچھےان کانصب العین حضرت شاہ عبدالعزیز ؒ کے مذکورہ فتویٰ کی روشنی میں نظام امارت وقضا کاقیام تھا،مولاناسجاد صاحب ؒ نےاپنے متعددفتاویٰ اورمقالات میں اس فتویٰ کاحوالہ دیا ہے،اور اس کو دلیل راہ کےطورپراپنےسامنےرکھاہے (تفصیل پہلے گذرچکی ہے) ۔
اس باب میں حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒ کی حساسیت اور فکرمندی کااندازہ اس سے ہوتاہےکہ جب مسٹر مانٹیگووزیرہندہندوستان آئےتوہندوستان کی مختلف تنظیمیں اورسیاسی شخصیات اپنےاپنےمختلف مقاصدکےتحت ان سے ملنےکےلئےحاضرہوئیں،لیکن مولاناسجادؒ نےان سےہندوستان میں محکمۂ قضاکےقیام کامطالبہ کیا،مولاناکےاولین تذکرہ نگارمولانا عظمت اللہ ملیح آبادی ؒ لکھتےہیں:
"جب مسٹر مانٹیگووزیر ہند (۱۹۱۷؁ء میں)اعلان(حکومت خوداختیار)
کے لئےہندوستان آئے تو ہندوستان کی تمام جماعتوں نے اپنےاپنے
نقطۂ نظر کے مطابق عرضداشتیں پیش کیں مگر مولانا نے ان کے
پاس محکمہ ٔقضا ء کے متعلق ایک عرضداشت بھیجی کہ گورنمنٹ
مسلمانوں کے خالص مذہبی معاملات اور مقدمات کے فیصلے کے
لئےجن میں مسلمان حاکم شرط ہے محکمۂ قضا قائم کیا جائے اور اس
کو ان مقدمات کے متعلق ڈسٹرکٹ جج کے برابر اختیارات دئیے
جائیں ۔مولاناکی اس عرضداشت پر کوئی توجہ نہ کی گئی۔مگر مولانا
اپنے اس مطالبہ سےکسی وقت بھی غافل نہ ہوئے ” ۔
بالآخرمولانانےجمعیۃ علماء ہند کی تاسیس اور امارت شرعیہ کےقیام سےقبل جب وہ مدرسہ انوار العلوم گیا(بہار)میں مہتمم و مدرس تھے،مدرسہ کےسالانہ اجلاس(۳۰/صفر المظفر۱۳۳۶؁ھ مطابق ۱۵/دسمبر ۱۹۱۷؁ء )کےموقعہ پر”انجمن علماء بہار” کی بنیادرکھی،جس کا صدرمقام مدرسہ انوارالعلوم گیاقرارپایا،تاکہ اس کےذریعہ دیگراجتماعی امورکےعلاوہ دارالقضاء کےلئے ماحول کوسازگاربنایا جاسکے ۔
اندازہ یہ ہےکہ جمعیۃعلماء ہندکےلئےمولاناکی کوششیں انجمن علماء بہارکےقیام سےقریب دوسال قبل ہی(یعنی تقریباً ۱۹۱۵؁ءمیں)شروع ہوگئی تھیں،جیساکہ حضرت امیر شریعت ثانی مولاناشاہ محی الدین پھلوارویؒ کےبیان سےمعلوم ہوتاہے:
"جمعیۃ علماء ہندکےقیام کےلئےہندوستان کےاکثرصوبوں میں سفر
کرکےعلماء میں اس کی تبلیغ کی اور لوگوں کو آمادہ کیا لیکن عمل کی
طرف پہلاقدم مولاناؒ کاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس طرح
امارت شرعیہ کےقیام کی تحریک تمام ہندوستان میں پھیلائی،اس
کےلئے علماء وزعماء ہند کےپاس متعدد سفر کئے، جہاں تک مجھ کویاد
ہےسال دوسال تک پیہم مخصوص طور پراس کےلئےجدوجہدکرتے
رہے،بالآخرعلماء صوبہ بہارکےذریعہ زعماء اورعلماء کی ایک بڑی جماعت
کوجمع کرکےاس کی بنیادڈالی”
لیکن جب ان کومحسوس ہواکہ امارت شرعیہ کےقیام میں فی الوقت کافی دشواریاں ہیں،اوراس کےلئےذہنی تشکیل میں تھوڑاوقت لگےگا،اوروہ عجلت میں صرف بہار کی حدتک امارت شرعیہ قائم کرنانہیں چاہتے تھے،ان کی آخرآخرتک یہ کوشش رہی کہ کل ہندسطح پر امارت شرعیہ قائم ہو،جب ہی امارت کی پوری افادیت حاصل ہوسکتی تھی ،۔۔ لیکن مسلم معاشرہ کے کئی مسائل کےحل لئےنظام قضاکی فوری ضرورت تھی ،جس کومستقبل بعید پرٹالا نہیں جاسکتاتھا،اس لئے ضرورت کومحسوس کرتے ہوئےآپ نے امارت شرعیہ سے قبل دارالقضاء کی بنیاد ڈال دینےکاعزم کرلیا،لیکن اس کے لئے بھی مجلس علماء کی ضرورت تھی ،جو دارالقضاءکی تجویزمنظورکرے،قاضی کاتقرر کرے،اور دارالقضاءکےکاموں کی نگرانی کرے ،علاوہ مسلمانوں کے ملی اورسیاسی مسائل پربھی نظررکھے ،انہی وسیع مقاصد کے پیش نظرآپ نےکئی سال کی مسلسل جدوجہدکے بعد”انجمن علماء بہار "کی بنیادڈالی۔
امارت شرعیہ کےقیام سےقبل دارالقضاکاقیام
چنانچہ ایک سال کی جدوجہد کے بعد”انجمن علماء بہار”کے دوسرے سالانہ اجلاس منعقدہ(۲۵/شعبان المعظم۱۳۳۸؁ھ مطابق ۱۴/مئی ۱۹۲۰؁ء)پھلواری شریف پٹنہ میں حضرت مولانا نے دوسری کئی تجویزوں کے ساتھ تجویز نمبرپانچ(۵)خاص دارالقضاء کےلئےمرتب فرمائی،جو حسب ذیل الفاظ میں باتفاق رائے منظور ہوئی :
"یہ جلسہ انجمن علماء بہارتجویزکرتاہے کہ مسلمانوں کے باہمی مالی ومذہبی
نزاعات کے انفصال کے لئے صوبہ بہار کے تمام اضلاع اور قصبات میں
دارالقضاءقائم کیاجائے،جس کےقاضی کاانتخاب منجانب ارکان انجمن
علماء بہارہو اور تمام علماء ومشائخ کو چاہئے کہ اپنے حلقے میں تمام مسلمانوں
اور مریدوں کونہایت شدت کے ساتھ ہدایت کریں کہ وہ اس دارالقضاء
کی طرف توجہ کریں ”
پھر اس اجلاس کی مجلس انتظامی میں یہ تجویز منظور کی گئی :
"ارکان انتظامیہ کی یہ مجلس تجویز کرتی ہےکہ حسب تجویزنمبر۵ اجلاس
دوئم منعقدہ ۲۵/شعبان ۱۳۳۸؁ھ میں ایک دارالقضاء پھلواری شریف
میں قائم کیاجائے ، جس کےقاضی جناب مولانانورالحسن صاحب ہوں
اور ایک دارالقضاپٹنہ میں قائم کیاجائےجس کے قاضی مولاناشاہ حبیب
الحق صاحب ہوں ، اور ایک دارالقضاء بانکی پورمیں قائم کیاجائے،جس
کےقاضی مولانااعتمادحسین صاحب ہوں اور ایک دارالقضاء مونگیرمیں
قائم کیاجائے جس کےقاضی مولانامحمدعمر صاحب ہوں اور ایک دارالقضاء
سہسرام میں قائم کیاجائے، جس کے قاضی مولانافرخندعلی صاحب ہوں ،
اور ایک دارالقضاء آرہ میں قائم کیاجائے جس کے قاضی مولانا عبدالوہاب
صاحب ہوں ”
یہ تمام دارالقضاء انجمن علماء بہارکےزیرنگرانی اپنے اپنے حلقہ میں کام کرتے رہے،یہاں تک کہ ۱۳۳۹؁ھ مطابق ۱۹۲۱؁ء میں صوبہ بہار میں امارت شرعیہ کاقیام عمل میں آگیاتو یہ تمام دارالقضاءامارت شرعیہ کی طرف منتقل ہوگئے،اور امارت شرعیہ کامرکزی دارالقضاء پھلواری شریف کادارالقضاء قرارپایا، اوریہی پورے صوبہ کے مقدمات کی سماعت کرتارہا،باقی تمام دارالقضاء عملی طورپرآہستہ آہستہ معطل ہوگئے ،امیرشریعت ثالث حضرت مولاناشاہ قمرالدین صاحب پھلواروی ؒ کے زمانے تک یہی صورت حال رہی ،امیرشریعت ثالثؒ کے وصال کے بعد شعبان المعظم ۱۳۷۶؁ھ مطابق مارچ ۱۹۵۷؁ء میں جب امیرشریعت رابع حضرت مولاناسیدمنت اللہ رحمانیؒ(جوحضرت مولانا محمد سجادصاحبؒ کےشاگرداورتربیت یافتہ تھے )کاانتخاب عمل میں آیا،توانہوں نے محکمۂ قضاپر خصوصی توجہ مرکوز کی ،اور پہلی فرصت میں صوبۂ بہارواڑیسہ کے بڑے شہروں میں دارالقضاء قائم کرنےکافرمان جاری کیا ۔
اس کے بعد سے آج تک اس میں مسلسل توسیعات ہورہی ہیں ،اور ابھی تک بہار،اڑیسہ ،جھارکھنڈ اوربنگال چارصوبوں میں پینسٹھ (۶۵)دارالقضاء قائم ہوچکے ہیں جس کی نگرانی خودامارت شرعیہ کرتی ہے ، مرکزی دارالقضاء پھلواری شریف پٹنہ میں واقع ہے ،جہاں سے تمام دارالقضاؤں کو ہدایات جاری کی جاتی ہیں ۔
٭آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے تحت بھی پورے ہندوستان میں مرکزی
مقامات پرتقریباً ساٹھ (۶۰) دارالقضاقائم ہیں ،جن میں اکثر قضاۃ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ بہار کے تربیت یافتہ ہیں ۔
دارالقضاءیاجماعۃ المسلمین العدول (شرعی پنچایت)؟
اسی دورمیں جب کہ بہارمیں امارت شرعیہ اوردارالقضاء کانظام کامیابی کےساتھ جاری ہوچکاتھامجبورعورتوں کے مسائل کےحل کےلئےحکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ کی شاہکارکتاب”الحیلۃالناجزۃللحلیلۃالعاجزۃ”شائع ہوئی،جوہندوستان کے علماءحنفیہ اور حجازمقدس کےعلماء مالکیہ سےمراسلت اورتبادلۂ خیالات کےبعدتیارکی گئی تھی، اس کتاب میں امارت اسلامیہ کی عدم موجودگی میں جن مسائل میں قضائے قاضی کی ضرورت ہےان میں”نظام قضا”کےبجائےمسلک مالکی سے”جماعۃالمسلمین العدول”(شرعی پنچایت)کا نظریہ اختیارکیاگیاتھا۔
حضرت مولاناتھانوی ؒ نےاپنی یہ کتاب "الحیلۃ الناجزۃ "علماء ہند کےپاس استصواب رائےکےلئےبھیجی توحضرت مولانامحمدسجادؒنائب امیرشریعت بہار کوبھی اس کاایک نسخہ ارسال فرمایا،یہ تقریباًربیع الثانی ۱۳۵۳؁ھ مطابق اگست ۱۹۳۴؁ء کی بات ہے،(یعنی امارت شرعیہ کےقیام کےتقریباًتیرہ (۱۳)سال کےبعد)حضرت مولانامحمدسجاد ؒنےکتاب کےبنیادی مندرجات سےاتفاق کرتےہوئےشرعی پنچایت والےنظریہ سےاختلاف کیا، اوراس کے لئےاختصارکےساتھ دوباتوں کی طرف اشارہ فرمایا:
"اس وقت جزودوم کامقدمہ سرسری طور پر دیکھا،دارالکفرمیں قضابین
المسلمین کی ضرورت کو پوری کرنے کے لئےفقہاء حنفیہ رحمہم اللہ نے جو
صورت تجویز فرمائی ہیں وہ نہ معلوم کیوں اس رسالہ میں مذکور نہ ہوئیں ،
یعنی:
یصیر القاضی قاضیاً بتراضی المسلمین اور
ان یتفقواعلیٰ واحدیجعلونہ والیاًفیولی قاضیاًالخ ۔
اور جب یہ صورت موجودہےتوپنچایت کی صورت اختیارکرنابلاضرورت
مسئلۂ غیرکا اختیارکرنا ہوگا ۔۔۔۔اس مسئلہ کی ضرورت و اہمیت کے
علاوہ پنچایت کی عملی دقتیں بہت زیادہ ہیں اوران شرائط کی نگہداشت
بھی بہت مشکل ہوگی ”
(۱)حضرت مولاناسجادنےجن نکات کی نشاندہی کی ہےوہ اپنی جگہ بےحداہم ہیں،دارالقضاء کانظریہ مسلک حنفی کےمطابق ہے ،حنفیہ کے نزدیک ایسے مواقع پر اصل نظام قضاہے،جماعۃ المسلمین یاشرعی پنچایت کانظریہ مسلک مالکی سے لیاگیاہے ،اصول کےمطابق جب تک مسلک حنفی پر عمل کرناممکن ہو،حنفی مسلمانوں کےلئےکسی دوسرے مسلک پرعمل یافتویٰ کی گنجائش نہیں ہے،مولاناسجادؒنےانجمن علماء بہاریاامارت شرعیہ کی نگرانی میں نظام قضاکاجوبرسوں کامیاب تجربہ کیاتھا،اس کی روشنی میں یہ کہنابھی درست نہ ہوگاکہ یہ نظریہ قابل عمل نہیں تھا،اس لئے مسلک غیرکواختیارکیاگیا۔۔۔اس کااعتراف حضرت تھانویؒ کےخلیفۂ ارشدحضرت حکیم الاسلام قاری محمدطیب صاحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبندنے ان الفاظ میں فرمایا:
"اس باب میں یہ امربھی قابل لحاظ ہےکہ امارت اوراس کےتحت
محکمۂ دارالقضاء کاملک میں قیام کوئی دشوارامرنہیں ،اورنہ ہی اس
میں کوئی خاص رکاوٹ ہے،اس کاایک صوبائی نظام پچاس(۵۰)
سال سےصوبۂ بہارواڑیسہ میں قائم ہے،صوبہ میں متعدد مقامات
پردارالقضاءقائم ہیں،جہاں امارت کی طرف سےقضاۃ مقرر ہیں،
اورہرسال سینکڑوں کی تعدادمیں مقدمات آکرفیصل ہوتےرہتے
ہیں۔
مسلمان ان دارالقضاؤں میں اپنےہرطرح کے مقدمات لاتے ہیں
،اورآسانی سےانصاف حاصل کرتے ہیں،اورسالہاسال کاتجربہ ہے
کہ ان دارالقضاؤں کےفیصل شدہ مقدمات بےچون وچرامسلمانوں
میں مانےجاتےہیں،اس پورےپچاس سال میں غالباًصرف گیارہ (۱۱)
مقدمات ہیں جن کی اپیل سرکاری عدالت میں کی گئی،مگریہ بات
خوشی کی ہےکہ سرکاری عدالت نےان ہی فیصلہ جات کوبرقرار
رکھا جوقاضیوں نےکئےتھے ”
(۲)دوسری بات یہ ہے شرعی پنچایت میں عملی طورپر دشواریاں زیادہ ہیں،جس کی تائیدحضرت حکیم الاسلام قاری محمدطیب صاحب ؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند وصدر اول آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈنے بھی فرمائی ،حضرت حکیم الاسلامؒ اس کی تشریح کرتے ہوئےرقمطراز ہیں:
"یہاں یہ بات بھی واضح کردیناضروری معلوم ہوتاہے،کہ حضرت تھانویؒ
نے شرعی کمیٹی کے نام سےفقہ مالکی کی روسےجوحل پیش فرمایاہے،وہ اپنے
زمانے کے اعتبارسےاہم اقدام ہے، لیکن اس میں بڑی دشواری یہ ہےکہ
فقہ مالکی کی روسے تمام ارکان کمیٹی کااتفاق فیصلہ میں ضروری ہے ،اگر یہ
اتفاق حاصل نہ ہوسکےتودعویٰ خارج کردیاجائے گا۔۔۔
قلت:فلوأنهمااختلفا فطلق أحدهما ولم يطلق الآخر؟ قال: إذا
لا يكون ذلك هناك فراق؛ لأن إلى كل واحد منهما ما إلى
صاحبه باجتماعها عليه
اس طرح ایک عجیب الجھن پیدا ہوجاتی ہےاوراصل میں اس کی
بڑی وجہ یہ ہےکہ فقہ مالکی کی رو سے تحکیم کی صورت نظام قضاء
کےتحت معاملہ کوسلجھالینےکی ایک راہ ہےاگرتحکیم کسی ضابطہ کے
نقص کی وجہ سےناکام ہوجائے ،تو اس کا موقع رہتاہےکہ قاضی
اس معاملےکو ہاتھ میں لےکرفیصلہ کردے،اب موجودہ صورت
حال میں تحکیم توہولیکن قضاء نہ ہوتوایسی صورت میں ضابطۂ تحکیم
کی ضروری شرائط کےفقدان کی بناپرتحکیم مسئلہ کے حل سےعاجز
رہتی ہے،اورقاضی ہےنہیں جومسئلےکواپنےہاتھ میں لےلے،اس
طرح وہ (مخمصہ)پھرلوٹ آتاہےجس کےحل کے لئےفقہ مالکی
کی طرف عدول کیاگیاتھا
(۳)علاوہ اس کےجیساکہ پہلےعرض کیاگیاکہ ہندوستان میں اس فکر کےاولین داعی حضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی ؒ بھی نظام قضاہی کےقائل تھے ،اپنے اس فتویٰ میں جس میں انہوں نےہندوستان کودارالحرب قراردیاہے،اورمسلمانوں کوخوداپناامیروقاضی منتخب کرنے کی ہدایت دی ہے،اس کے استدلال میں آپ نے جو فقہی عبارتیں نقل کی ہیں اس میں فتاویٰ عالمگیری کی یہ عبارت بھی شامل ہے:
"بلادعلیہاولاۃکفاریجوزللمسلمین اقامۃالجمعۃویصیر
القاضی قاضیا بتراضی المسلمین ویجب علیہم ان
یلتمسوا والیاً مسلماً کذافی معراج الدرایۃ”
ہندوستان میں جوحضرات نظام قضاکے قائل ہیں وہ بھی اپنے استدلال میں اسی طرح کی عبارتیں پیش کرتےہیں،اس کامطلب ہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کے نزدیک بھی اس عبارت کاوہی مفہوم ہے جونظام قضاکےقائلین نےسمجھاہے،اوران کی رائےمیں بھی غیرمسلم ہندوستان میں حنفیہ کانظام قضاہی زیادہ لائق قبول ہے،اسی لئے ان کاذہن مسلک غیر کی طرف نہیں گیا۔
غیراسلامی ہندوستان میں تقررقاضی کامسئلہ
٭رہی یہ بات کہ کیاغیراسلامی ہندوستان میں مسلمان خودبراہ راست نظام قائم کرسکتےہیں؟یااس کےلئے امیرو حاکم کاوجودضروری ہےبایں معنیٰ کہ یہ انتظامی مسئلہ ہے ،اور انتظام کےلئے پہلےمنتظم کاوجود ضروری ہے،توگوکہ بعض علماء کےنزدیک یہ ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے،لیکن خروج عن الخلاف کےلئےاس دشواری کاحل حضرت مولاناسجادؒنے امیرشریعت کے انتخاب کے ذریعہ دریافت کرلیاتھا،اوراس کےبعدسےآج تک قاضیوں کا تقرر بہار یادیگر ریاستوں میں امیرشریعت ہی کے توسط سےہوتاہے،اس صورت میں تونظام قضاکےقابل قبول ہونےمیں کوئی اشکال نہیں ہوناچاہئے ،اورمسلک حنفی سے عدول کی اجازت نہیں ہونی چاہئے ،اس لئےکہ جوحضرات عام مسلمانوں کی طرف سےبراہ راست نظام قضاکے قیام کے قائل نہیں ہیں ،وہ بھی تراضی مسلمین سے امیر کے انتخاب کے قائل ہیں ،ان کے خیال میں مسلمانوں کی پہلی ضرورت نصب امیر کی ہے اور امیر کےفرائض میں نصب قضاشامل ہے ،عہد حاضر میں اس مسئلہ کےمضبوط وکیل مولانامفتی عبدالقدوس رومی صاحب ؒسابق مفتی شہر آگرہ تحریرفرماتے ہیں :
"بلادکفر میں مسلمانوں پرصرف یہی ذمہ داری ہےکہ وہ اتفاق رائے سے
اپناکوئی والی وامیرمقرر کرلیں اس کے بعد مسلمانوں کے لئے قاضی کاتقرر
تویہ ذمہ داری اس والی وامیر کی ہےوالی کے بغیر محض تراضی مسلمین سے
کوئی شخص قاضی شرعی نہیں ہوسکتا”
اسی طرح کی بات اسی فکر کےحامل ایک دوسرےعالم دین مولاناافضال الحق جوہرقاسمی ؒ نے بھی لکھی ہے:
"مسلم عوام والی توبناسکتے ہیں مگرقاضی نہیں منتخب کرسکتے ” ۔
٭حالانکہ محققین علماء کی بڑی تعداداس خیال سےاتفاق نہیں رکھتی کہ مسلمان باہم رضا مندی سے نظام قضاقائم نہیں کرسکتے ،اکثر محققین کی رائے یہ ہے کہ تقررقاضی کے دوطریقے ہیں:
قَالَ الْمَازِرِيُّ فِي شَرْحِ التَّلْقِينِ الْقَضَاءُ يَنْعَقِدُ بِأَحَدِ وَجْهَيْنِ أَحَدُهُمَا عَقْدُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ أَحَدِ أُمَرَائِهِ الَّذِينَ جَعَلَ لَهُمْ الْعَقْدَ فِي مِثْلِ هَذَا ، وَالثَّانِي عَقْدُ ذَوِي الرَّأْيِ وَأَهْلِ الْعِلْمِ وَالْمَعْرِفَةِ وَالْعَدَالَةِ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ كَمُلَتْ فِيهِ شُرُوطُ الْقَضَاءِ وَهَذَا حَيْثُ لَا يُمْكِنُهُمْ مُطَالَعَةُ الْإِمَامِ فِي ذَلِكَ وَلَا أَنْ يَسْتَدْعُوا مِنْهُ وِلَايَتَهُ ، وَيَكُونُ عَقْدُهُمْ لَهُ نِيَابَةً عَنْ عَقْدِ الْإِمَامِ الْأَعْظَمِ أَوْ نِيَابَةً عَمَّنْ جَعَلَ الْإِمَامُ لَهُ ذَلِكَ لِلضَّرُورَةِ الدَّاعِيَةِ إلَى ذَلِكَ.
مسلم حکمراں کی موجودگیمیںعام مسلمان قاضی کاتقررنہیں کرسکتے
۱ –والی اور امیر کے ذریعہ نامزدگی عمل میں آئے ،مسلم والی وامیر کی موجودگی میں (عام حالات میں)عام مسلمانوں کوخود سےقاضی مقررکرنےکی اجازت نہیں ہے،اگر کیا جائےگا توغیر معتبر اور غیرشرعی قرارپائےگااور امیر سے بغاوت متصور ہو گی۔۔۔اور یہی ان عبارتوں کامحمل ہے جن میں کہاگیاہے کہ محض عام مسلمانوں کی تراضی سے قاضی مقرر نہیں کیاجاسکتا،اس لئے کہ اس صورت میں عام مسلمانوں کی طرف سے اس پیش قدمی کی کوئی حاجت نہیں ہے( یہ ذمہ داری امیر کی ہے)
دراصل کچھ لوگوں کوبعض ان عبارتوں سےغلط فہمی ہوئی جن میں کہاگیاہےکہ اہل شہراگراپنی مرضی سےقاضی مقررکرلیں توشرعاًاس کا اعتبارنہیں ہوگا:
وَإِذَااجْتَمَعَ أَهْلُ بَلْدَةٍعَلَى رَجُلٍ وَجَعَلُوهُ قَاضِيًايَقْضِي فِيمَابَيْنَهُمْ لَايَصِيرُ قَاضِيًاوَلَوْاجْتَمَعُواعَلَى رَجُلٍ وَعَقَدُوامَعَهُ عَقْدَالسَّلْطَنَةِ،أَوْعَقْدَالْخِلَافَةِ يَصِيرُخَلِيفَةً وَسُلْطَانًاكَذَافِي الْمُحِيطِ
حالانکہ ان عبارتوں کامحمل وہ صورت ہےجب اسلامی حکمراں موجودہو،اوروہ قاضی کاتقررکرسکتاہو،ظاہرہےکہ پھرمسلمانوں کوخودسےقاضی مقررکرنےکی ضرورت نہیں ہے،ایسےموقعہ پرعام مسلمانوں کوتقررقاضی کی اجازت دینافتنہ اوربغاوت کاباعث ہے۔
۲ –لیکن جہاں مسلم حکمراں موجود نہ ہواورنہ سردست اس کا انتخاب ممکن ہو ،جبکہ نظام قضاء کےفقدان سےمسلمانوں کوبہت سےمسائل میں دشواریوں کاسامناہو،تو ایسی ضرورت کی صورت میں خودمسلمان بھی قاضی کاانتخاب کرسکتےہیں ،جس طرح کہ امیرکےنہ ہونےکی صورت میں امیرکاانتخاب کرنےکی ان کواجازت ہے،اس مضمون کی بہت سی صریح فقہی عبارتیں موجود ہیں ۔
علامہ شامیؒ نےبہت تفصیل سے اس پرروشنی ڈالی ہے:
قوله(ويجوزتقلدالقضاء من السلطان العادل والجائز)أي الظالم وهذا ظاهرفي اختصاص توليةالقضاء بالسلطان ونحوه كالخليفة حتى لو اجتمع أهل بلدة على تولية واحد القضاء لم يصح بخلاف ما لو ولوا سلطانا بعد موت سلطانهم كما في البزازية نهر وتمامه فيه قلت وهذا حيث لا ضرورة وإلا فلهم تولية القاضي أيضا كما يأتي بعده۔۔۔۔۔۔وأما بلاد عليها ولاة كفار فيجوز للمسلمين إقامة الجمع والأعياد ويصير القاضي قاضيا بتراضي المسلمين فيجب عليهم أن يلتمسوا واليا مسلما منهم ا هـ وعزاه مسكين في شرحه إلى الأصل ونحوه في جامع الفصولين مطلب في حكم تولية القضاء في بلاد تغلب عليها الكفار وفي الفتح وإذا لم يكن سلطان ولا من يجوز التقلد منه كما هو في بعض بلاد المسلمين غلب عليهم الكفار كقرطبة الآن يجب على المسلمين أن يتفقوا على واحد منهم يجعلونه واليا فيولي قاضيا ويكون هو الذي يقضي بينهم وكذا ينصبواإمامايصلي بهم الجمعةاهـ وهذاهوالذي تطمئن النفس إليه فليعتمد
اس کاخلاصہ وہی ہےجواوپرعرض کیاگیا،دیگرفقہاء نےبھی ضرورت کے وقت عام مسلمانوں کوتقرر قاضی کی اجازت دی ہے اوراس کوشرعی قاضی قراردیاہے۔
فتاویٰ بزازیہ میں ہے:
اجتمع اھل البلدۃ وقدموارجلاً علی القضاء لایصح لعدم الضرورۃ وان مات سلطانھم واجتمعواعلیٰ سلطنۃ رجل جاز للضرورۃ
فتاویٰ بزازیہ ہی کی کتاب السیرمیں ہے:
واماالبلادالتی علیھاولاۃ کفارفیجوزفیھاایضاًاقامۃ الجمع والاعیادوالقاضی قاض بتراضی المسلمین ویجب علیھم طلب وال مسلم
علامہ ابن ہمام ؒ تحریرفرماتے ہیں :
یجب علیہم ان یتفقواعلیٰ واحدمنہم یجعلونہ والیافیولی قاضیاًاویکون ھوالذی یقضی بینھم
جامع الفصولین میں ہے:
اھل البلدۃ لوتبایعواعلیٰ سلطنۃ احدیصیرسلطاناًبخلاف القاضی لضرورۃ فی الاول لافی الثانی
طحطاویؒ میں ہے:
وفي مفتاح السعادة عن مجمع الفتاوي غلب على المسلمين ولاة الكفاريجوز للمسلمين إقامةالجمع والأعيادويصير القاضي قاضيا بتراضي المسلمين ويجب عليهم أن يلتمسواواليا مسلمااه
علماء متقدمین میں قاضی عبدالرحمن بن احمد الایجی ؒ اپنی شہرۂ آفاق کتاب "المواقف "میں تحریر فرماتے ہیں :
"لانسلم عدم انعقادالقضاء بالبیعۃللخلاف فیہ،وان سلم فذلک عندوجودالامام لامکان الرجوع الیہ فی ھذاالمھم واماعندعدمہ فلابد من القول بانعقادہ بالبیعۃتحصیلاً للمصالح المنوطۃ بہ ودرءاً للمفاسدالمتوقعۃدونہ ۔
اسی طرح کی تصریحات فقہاء حنابلہ اور شافعیہ کے یہاں بھی موجود ہیں ۔
خودحضرت حکیم الامت تھانوی ؒ نےالحیلۃ الناجزۃ کی تصنیف کےزمانہ میں علماء مالکیہ کےسامنےجب یہ سوال رکھاتھاکہ اگرمسلمان غیرمسلم حکومت کےتحت ہوں اوروہاں حکومت کی طرف سے کوئی قاضی مقرر نہ ہو،توکیاعام مسلمانوں کی جانب سے قاضی کاتقرر درست ہوگا؟جب کہ قاضی کوقوت تنفیذ حاصل نہیں ہوگی۔
اس کاجواب حرم نبوی کےمالکی عالم شیخ عبداللہ الموتی نےان الفاظ میں تحریر کیا:
لامانع من ذلک اذااضطرالناس الیٰ ذلک بمادل علیہ ظاھر کلام اھل المذھب
یعنی اگرلوگوں کوواقعی اس کی ضرورت ہوتومذہب میں بظاہراس کی ممانعت نہیں ہے۔
اس سے فقہائے مالکیہ کےرجحان پرروشنی پڑتی ہے۔
قوت واختیارکااصل سرچشمہ
دراصل ان فقہاء کے پیش نظریہ بات ہےکہ قوت واختیارکااصل سرچشمہ کون ہے؟عام مسلمان یاحاکم وقت؟علامہ کاسانی ؒ نےاس پربڑی اصولی بحث کی ہے جس کاخلاصہ یہ ہےکہ قوت واختیارکااصل سرچشمہ عام مسلمان ہیں اورحاکم کوجواختیارات حاصل ہوتے ہیں وہ انہی مسلمانوں کےعطاکردہ ہوتے ہیں ،اس کےاعمال وتصرفات مسلمانوں کےنائب کی حیثیت سےانجام پاتے ہیں،اسی لئےحاکم کی موت یاعلٰحدگی سےاس کےمقررکردہ قضاۃ وحکام معزول نہیں ہوتے،لہٰذا جس جگہ مسلم حاکم موجودنہ ہوعام مسلمانوں کااختیارمسلوب نہیں ہوگااس لئے کہ انہوں نےیہ اختیارکسی کےحوالےنہیں کیاہے،پس انہیں بوقت ضرورت تقررقاضی کااختیاربھی حاصل ہوگاجیسے کہ تقررامیرکااختیارانہیں حاصل ہے:
وَالْقَاضِي لَا يَعْمَلُ بِوِلَايَةِ الْخَلِيفَةِ وَفِي حَقِّهِ بَلْ بِوِلَايَةِ الْمُسْلِمِينَ وَفِي حُقُوقِهِمْ،وَإِنَّمَاالْخَلِيفَةُ بِمَنْزِلَةِ الرَّسُولِ عَنْهُمْ ؛ لِهَذَا لَمْ تَلْحَقْهُ الْعُهْدَةُ ، كَالرَّسُولِ فِي سَائِرِالْعُقُودِ وَالْوَكِيلِ فِي النِّكَاحِ ، وَإِذَا كَانَ رَسُولًا كَانَ فِعْلُهُ بِمَنْزِلَةِ فِعْلِ عَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَوِلَايَتِهِمْ بَعْدَ مَوْتِ الْخَلِيفَةِ بَاقِيَةٌ ، فَيَبْقَى الْقَاضِي عَلَى وِلَايَتِهِ؛وَهَذَا بِخِلَافِ الْعَزْلِ ، فَإِنَّ الْخَلِيفَةَ إذَا عَزَلَ الْقَاضِي أَوْ الْوَالِي يَنْعَزِلُ بِعَزْلِهِ،وَلَا يَنْعَزِلُ بِمَوْتِهِ ؛ لِأَنَّهُ لَا يَنْعَزِلُ بِعَزْلِ الْخَلِيفَةِ أَيْضًا حَقِيقَةً ، بَلْ بِعَزْلِ الْعَامَّةِ؛ لِمَا ذَكَرْنَا أَنَّ تَوْلِيَتَهُ بِتَوْلِيَةِ الْعَامَّةِ ، وَالْعَامَّةُ وَلَّوْهُ الِاسْتِبْدَالَ دَلَالَةً ؛ لِتَعَلُّقِ مَصْلَحَتِهِمْ بِذَلِكَ ، فَكَانَتْ وِلَايَتُهُ مِنْهُمْ مَعْنًى فِي الْعَزْلِ أَيْضًا ، فَهُوَ الْفَرْقُ بَيْنَ الْعَزْلِ وَالْمَوْتِ .
جمعیۃ علماء ہندنےہردورمیں نظام قضاکی حمایت کی
اسی لئےجمعیۃ علماء ہندنےہردورمیں دارالقضاء کی حمایت کی اوراس کےمتعددجلسوں کےاسٹیج سےقیام دارالقضاء کی دعوت پیش کی گئی،”جمعیۃ علماءہندکےاساسی اصول وآئین وضوابط(جودہلی کےاجلاس منعقدہ ۷،۸،۹ /ربیع الاول ۱۳۳۹؁ھ مطابق ۱۹ ،۲۰ ،۲۱/نومبر۱۹۲۰؁ء میں منظورہوکرشائع ہوئے)میں دفعہ ۴شق واؤکےتحت اغراض ومقاصدکےذیل میں شرعی ضرورتوں کےلحاظ سےفصل خصومات کےلئےمحکمۂ دارالقضاء قائم
کرنابھی داخل ہے”
یہ اس موقف کی مضبوطی اورہندوستان جیسے غیرمسلم ملکوں میں مسلک حنفی کےمطابق نظام قضاکےقابل عمل ہونےکی علامت ہے،مثلاً:
٭جمعیۃعلماءہندکےاجلاس چہارم گیا(۱۹۲۲؁ء)میں صدراجلاس حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی (متوفیٰ :رجب ۱۳۴۸؁ھ مطابق ۱۹۳۰؁ء)سابق مہتمم دارالعلوم دیوبندنے اپنےخطبۂ صدارت میں ارشادفرمایا:
"ایسی حالت میں کہ مسلمان ایک غیرمسلم طاقت کےزیرحکومت ہیں،
اوران کواپنےمعاملات میں مذہبی آزادی حاصل نہیں ہےضروری ہے
کہ مسلمان اپنےلئےوالی اورامیرمقررکریں،دارالقضاقائم کرکےقضاۃ
اورمفتین کاتقرر کریں،جمعیۃ علماء میں یہ تجویزمنظورہوچکی ہے”
٭حضرت علامہ محمدانورشاہ کشمیریؒ (متوفیٰ ۱۳۵۲؁ھ مطابق ۱۹۳۳؁ء)نے جمعیۃ علماء ہندکےاجلاس ہشتم (۱۹۲۷؁ء)میں اپنےخطبۂ صدارت میں فرمایا:
"مسلمان جب کہ باہمی اتفاق سے اپنے امیر اورقاضی منتخب کرلیں
گےتوان پران کےاحکام اورفیصلوں کاتسلیم کرنا بھی لازم ہوگااوران
امیروں اورقاضیوں کوفیصلےدینےکاشرعی حق ہوجائےگااوراس طرح
مسلمانوں کےشرعی معاملات قضاء شرعی کےماتحت انجام پذیر ہوتے
رہیں گے،جمعیۃ علمائے ہندنےاپنےگذشتہ اجلاسوں میں بھی اس مسئلہ
پرمتعددمرتبہ زوردیاہےاوراس نےدارالامارۃ اوردارالقضاء کےاصول
وقواعدبنانےکےلئےایک خاص کمیٹی مقرر کرکے مسودےبھی تیار
کرالئے ہیں”
ان تفصیلات سےظاہرہوتاہےکہ ہندوستان جیسے ملکوں میں شرعی پنچایت کے بالمقابل نظام قضاہی زیادہ مطابق احوال اورلائق قبول ہے،واللہ اعلم بالصواب۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: