مضامین

ہندی ہے ہم وطن ہے

سکاڑ (یشونت تھورات) ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)

ہم دوستوں کا ایک چھوٹا سا گروپ ہے۔ ہم ایک دوسرے کو کئی برسوں سے جانتے ہیں۔ ہم سب الگ الگ مقامات پر رہتے تو ہیں پھر بھی ہم ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور اس طرح سال میں ایک دو مرتبہ ضرور ملتے رہتے ہیں۔ اب ہم تمام لوگوں کی عمریں ڈھلنے لگی ہیں۔ ہمارے پاس ایک سابقہ فوجی جوان ہے اُس کا نام شیواجی ہے۔ نتن اور ہیرا یہ ہمارے گزیٹیڈ آفیسرز ہیں۔ ہمانشو، ریکھا اور سورب یہ کاروباری لوگ ہیں۔ شانتنو اور گوپال یہ ریٹائرڈ اسکالرس ہیں۔ ششما ایک عالمی بینک کی ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اُما ناول نگار ہیں۔ ان تمام کے ساتھ میں ہوں اور میری بیوی اُوشا۔ ہمارے گروپ میں سے کچھ لوگ اب ریٹائرڈ ہوچکے ہیں۔ گفتگو میں جو لوگ ہیں اُن سب کی نمائندگی ہوا کرتی ہے۔ ہم میں اب کوئی ایک دوسرے سے اپنی بات کو نہیں چھپاتے۔ ہم سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ سب کے چہرے ایک دوسرے کو معلوم ہیں۔ سب جیسے بھی ہیں ایک دوسرے کے لیے قبول کیے ہوئے ہیں۔ اور یہ دنیا بھی ہمیں جیسے بھی ہیں ویسے قبول کی ہے۔
آس پاس ہونے والے سیاسی اور سماجی واقعات جس میں جو اقدار ملوث ہوتے ہیں وہ تکلیف کا باعث ہیں۔ ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو ہمارے خیالات ایک دوسرے سے جدا جدا ہیں۔ جیسیمسکا یا اچار۔ ایسا ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف ہے۔ نتن اور ششما یہ ذرا آزاد خیال ہیں۔ ریکھا اور گوپال کا خاندان تقسیم کے بعد فسادات میں کھو گیا تھا۔ اس لیے وہ دائیں خیالات کے لوگ ہیں۔ ہری اور اوشا اپنی تمام باتوں کا انحصار دستور کے مطابق کرتی ہیں۔ اُوما سماج وادی خیالیات کی ہیں اور ہمانشو بھارتیہ سماج پارٹی کا رجسٹرڈ ممبر ہیں۔ شیواجی تو ایک سخت پابند نظم و ضبط ایڈمنسٹریشن کا حامی ہیں۔ سوربھ اور شانتنو یہ آر ایس ایس کے ایماندار سوئم سیوک ہیں۔ ان تمام سے میں تھوڑا جدا ہوں۔ باغیانہ مزاج، آزادی، سیکولرازم پر ایک طرح کا شکی اور تھوڑا سا مایوسی کا شکارہوں۔ اوشا کا لیکن اس مایوسی کے لفظ پر اعتراض ہے۔ خوابوں میں بھی اُصول پسندی کو چھپانا یہ میری کوشش ہوتی ہے ایسا اُسے محسوس ہوتا ہے۔ اس تمام بحث اور گفتگو میں میں ایک داعی کوآرڈنیٹر ہوں اور ایک اینکر بھی ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے سے مختلف ذہن و فکر رکھنے والے لوگوں کے درمیان میں میں ہمیشہ انصاف روی سے رہتا ہوں۔ ان سب کو تسلیم ہے۔
ہم تمام لوگ سیکولرازم کے موضوع پر ہونے والی ایک سبھا سے واپس لوٹے تھے۔ مہاتما گاندھی نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ”اپنے ملک میں ایک ہی مذہب ہو، مجھے ایسا نہیں لگتا۔ یہاں سب کے سب ہندو یا صرف کرسچن یامسلم رہیں ایسا بھی نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہاں کے سب لوگ صحیفے اور وید کے ماننے والے ہوں ایسا بھی نہیں ہوسکتا۔ تمہیں تمام لوگ جن کے مختلف موضوعات پر بالکل مختلف نظریات سوچ و فکر ہے جن کے بارے میں کوئی نظریہ اخذ کرسکتے ہیں“وہ یہ ہر جملہ کوئی بھی معاملہ کی حیثیت سے کیوں نہیں قبول کرتے؟ دوستو! سقراط جیسے فلسفی نے کہا کہ بے معنی اور تلخ بحث کو ٹالنا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ ہم کس موضوع پر گفتگو کرتے ہیں وہی معلوم نہیں رہتا۔ گفتگو کا موضوع پہلے تعین کریں یہی اُس کا کہنا ہوتا تھا۔ میں نے کہا ”ہم اپنے ملک کی سیکولرازم کے بارے میں بول رہے ہیں یہ واضح ہے۔“
اوشا نے کہا۔ ”سطحی طورپر یہ ٹھیک ہے۔ لیکن سیاسی سطح پر یہاں مختلف مذاہب کے لوگ مساویانہ حقوق کے ساتھ رہ رہے ہیں یہ اصل سوال ہے۔“ ہمانشو نے کہا ”قبول ہے۔“ اُوشا نے کہا ”یہی سب سے اہم سوال ہے اس لیے کہ خود کو سب کے لیے کہلانے والامذہب بستے میں بند کرتے ہوئے کئی لوگوں کو چھوڑ کر انسان انسان کے بیج دیوار کھڑا کرتے ہیں۔ایسا اکثر دیکھا جاتا ہے۔“ شانتنو نے پوچھا ”تھورات سر تمہیں کیالگتا ہے؟“
”مذہب یہ دیوار اس لیے پیدا کرتا ہے اُس کے لیے انسان ہی جواب دار ہے۔ میں اس بارے میں بالکلیہ طور پر نہیں کہہ سکتا۔ آخرکار مذہب ہی سے انسان کی پیداوار ہوتی ہے اور بعض مرتبہ انسانی دلوں میں اگر درون میں اس میں بھری ہوئی سیاہی ہر ایک میں آتی ہے۔“ میں نے کہا ”اگر کوئی ایک آدمی صاف ستھرا نہ ہو تب اُوشا کو صبر نہیں آتا، وہ اس پر بھی ٹوٹ پڑتے ہیں۔ میری جانب دیکھو، میں پُرامید ہوں۔ صرف آسان معاملہ کو بہت پیچیدہ کرنے کی جو انوکھی ادا ہے وہ میرے شوہر کے پاس ہے۔ کسی بھی معاملہ کووہ فلسفہ میں ڈبو دیتے ہیں۔ پھر اس کے اوپر گفتگو کا کوئی خاتمہ ہی نہیں ہوتا اور اس کے لیے کوئی ترکیب ہی نہیں ملتی۔ تو ان تمام باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ہم حالاتِ حاضرہ کے بارے میں گفتگو کریں گے۔“
”ہم سیکولر ہیں اس لیے کہ ہمارا دستور کہتا ہے We the people of India ایسا دستور نے کہا ہے اور ہم نے اس کو قبول کیا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اُس کی تائیدمیں رہے۔ شیواجی نے کہا ”ٹھیک ہے، لیکن ملک کا دستور یہ کوئی مُردہ مسودہ نہیں ہے لوگوں کے بدلتی ہوئی ضرورتوں، امیدوں کے لیے یہ زندہ جاوید علامت ہے۔ دستور غیر متغیر نہیں ہونا چاہیے۔“
صحیح ہے۔ تو سیکولرازم کو بادی النظر میں قبول کرکے ہی گاندھی جی کے قول کو موجودہ حالات میں کہاں تک اُس پر عمل کرسکتے ہیں یہ میرا سوال ہے۔ ہم دراصل سیکولر ہیں کیا؟ اور اپنا ملک کیا صحیح میں سیکولر ہوسکتا؟ میرا یہ سوال ہے۔ درحقیقت جس ملک میں اتنے مذاہب اور مسلک ہیں صحیح معنوں میں سیکولرازم ہونا ممکن نہیں ہے ایسا مجھے محسوس ہوتا ہے۔ اپنا سیکولرازم صرف سطحی طور پر ہی ہے۔ آزادی کے بعد پچھلے 70 برسوں میں اُسکا صرف مکھوٹا ہی ہے۔اس لیے کہ وہ سیاسی طور پر فائدہ مند تھا اور سماجی نقطہ نظر سے تو وہ اعلیٰ طبقہ و صاحب ثروت لوگوں میں ایک فیشن بنا ہوا تھا۔ اب ویسی اس وقت ضرورت نہیں ہونے کی وجہ سے کتے کی دُ م کی طرح اب ہم پہلی ہی طرز پر تیڑھی ہوگئی ہے۔ سوربھ کے اس جملہ کی وجہ سے ایک دم خموشی پیدا ہوگئی۔
اس خموشی میں خلل ڈالتے ہوئے شیواجی نے کہا ”سوربھ تجھے اگر سیاسی ووٹوں کی بانسری بجانا ہے تو میرا اُس میں کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن کچھ معنی و مطلب اور بامقصد کام کرنے کے لیے اس سوچ کی ضرورت ہے کہ کسی بھی نتیجہ پر پہنچنے سے صحیح صورتحال کو ایک مرتبہ تفصیلی طور پر دیکھنا چاہیے۔
اس گفتگو کی ڈور کو اوشا نے صحیح پکڑا۔ اُس نے کہا کہ ”یہ تمام لوگوں کو معلوم ہے کہ جنگ آزادی کے دوران سیکولرازم کا بہت بڑا گہرا اثر تھا۔ لیکن تقسیم کی وجہ سے ملک کے تکڑے ہوگئے۔ ہر طرف ذات پات پر فساد پھیل گیا۔ اور مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد ہمیں ایک تھکے ہوئے ملک کی حیثیت سے سیکولرازم کے اصول کو صرف دستوری درجہ دیا۔ تاریخ کے معاملہ میں وہ کانگریس کا یہ خصوصی نظریہ ہے۔“ شانتنو نے کہا ”موجودہ واقعات کیا اُس کے مطابقت میں تھے؟مذہب کی بنیاد پر ملک کے دو تکڑے کرتے وقت اُس وقت ایک بڑے طبقہ کی کیامخالفت نہیں کی تھی؟ جیسا کہ کہا جارہا ہے اس کے مطابق مہاتما گاندھی کے اصول کو کیا ہم صحیح طور پر اپنائے ہیں؟ جس سیکولرازم کو ہم نے قبول کیا ہے کیا لوگوں کو اس کی ضرورت تھی؟ اس لیے ملک کی مذہبی، تہذیبی اختلافات کے باوجود اُسے قائم کرنے کے لیے یہی صرف ایک رستہ تھا اور اس زمانہ کے چند متاثر کن قائدین نے بار بار کیا نہیں کہا کرتے تھے؟
ٹھہرو، ہیرا نے کہا۔ ”پہلی نسل کے قائدین سچے دیش بھکت تھے۔ اور ان کے ملک کی عقیدت متنازعہ تھی۔ اس لیے وہ لوگوں کی مرضی کے خلاف ملک پر سیکولرازم کو انہوں نے لادا۔ ایساالزام لگانا غلط ہے۔“ اس کا یہ انداز دیکھ کر شانتنو نے اپنی گفتگو واپس لی۔ مجھے تیرا کہنا سمجھ میں آگیا۔ اس وقت کے قائدین نے سیکولرازم کو لوگوں پر نہیں لادا۔ لیکن انہوں نے ان کے اپنے اعمال و اقوال سے لوگوں میں محبت پیدا ہوگئی تھی۔ جس کے ذریعہ انہوں نے یہ نافذ کیا۔
ویسا ہوگا یا نہ ہوگا۔ لیکن آزادی کے بعد بھارت میں سماجی خاکہ جو بن گیا ہے وہ بہت ہی مختلف ہوگیا۔ یہ صحیح ہے کہ سیکولرازم کے اصول میں ایک خصوصی اونچائی کو پالیا۔ لیکن سرکاری مشنری اور نوکرشاہی اُن معنوں میں سیکولر نہیں بن سکی۔ کانگریس کی جو حکومت پہلے سیکولر تھی اُس حکومت میں بھی بہت سے ایسے تھے جو سیکولرازم سے دوٗر تھے۔ جس کی وجہ سے سماج میں مختلف اختلافی صورتحال تھی۔ جیسے آج بھی ہے۔بہت سوں کا مکھوٹا سیکولر ہوتا ہے لیکن وہ اندر سے الگ ہی ہیں۔
70 اور 80 کے دہے میں سیکولرازم کے بارے میں سنجیدگی سے حملے ہوئے۔کیا یہ اُس وجہ سے نہیں ہوئے؟ میں نے پوچھا۔ ٹھیک طور سے نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن منڈل کی تبدیلی کے بعد اوپری اور نچلی ذاتوں کے درمیان سنگھرش شروع ہوا۔ اوشا نے کہا۔ ”اکثریتی طبقہ کے جیون پر اقلیتی طبقہ کا لاڈ تھا۔ ایسا لوگ کھلے طور پر کہنا شروع کیا۔ اقلیتی کو دیے گئے خصوصی اختیارات نکال لینے چاہئیں۔ ایسے مطالبات کی شروعات ہوئی۔“ ریکھانے کہا ”اُوشا برابر کہتی ہے۔“ ”میں ان دنوں کلکٹر تھی اب مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سیکولرازم کے اصولوں کے لیے اکثر تہذیبی اور سب کو ایک ساتھ قومی اُصولوں میں لانے کے لیے یا اُس کی مخالفت کرنے والوں کی دائیں بازو کی جو تنظیمیں تھیں اس زمانہ میں ان کا اضافہ ہوا۔ لیکن بابری مسجد واقعہ کے بعد ایک فرقہ کے لوگوں کو ملک کی تاریخ میں اُس کی تہذیب میں داخل اقلیتوں کے حصہ سے انہوں نے انکار کرنے کا آغاز کیا۔ جس کی وجہ سے ملک بھر میں تشدد پھیل گیا۔ جس میں سے ہندو اور مسلم دونوں سماجی کے درمیان دوٗری ہمارے سامنے آنے لگی۔“ حالات کو سنبھالتے وقت 2002ء میں گجرات میں دنگے شروع ہوگئے۔ ہمانشو نے کہا۔ ”اور پہلی مرتبہ ان ہونے والے واقعات میں حکومت کا ہاتھ تھا ایسا الزام لگایا گیا۔اور اس وقت ہندو راشٹر کا پھر سے نعرہ بلند کرنا شروع ہوا۔ اس کے ایسا کہنے پر سورب شدید غصہ آور ہوا۔ ”معاف کرو ہمانشو، تیرے کہنے کا انداز اور بولنے کا لہجہ برابر نہیں ہے۔“ اس نے کہا ”ہندو راشٹر کا تصور غیر اخلاقی ہے ایسا تجھے کہنا ہے ایسا تیرے بیان سے لگتا ہے اور اس ضمن میں ہندو راشٹر بولنے میں کیا غلطی ہے؟“ حقوق کیا صرف اقلیتوں کے لیے ہیں کیا؟ لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ تمام کو شامل کرنے کے اصول کے خلاف کیا کوئی بول نہیں سکتا؟ تجھے کیا صرف ہندو نظر آتے ہیں؟ بھارت کے سیکولرازم کو کیا صرف ہندوؤں سے دھوکہ ہے؟ کیا تو ایسا مانتا ہے؟ ووٹنگ کی سیاست کی وجہ سے اقلیتوں کا زیادہ لاڈ پیار نہیں ہوا؟ اور سیکولرازم کا نام لینے والی سرکار مذہبی لوگوں کے ناز نخرے نہیں برداشت کی؟ اگر ایسا کوئی کہتا ہے تو تجھے اتنا بے چین ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ ماحول ذرا زیادہ ہی گرم ہوگیا تھا اس لیے مجھے بیچ میں بولنا پڑا۔ ”سوربھ، تیرا کہنا صحیح ہے ہر موضوع پر گفتگو کرنے کا اختیار جمہوریت نے ہمیں دیا ہے۔ اگر 13 کروڑ مسلمان پاکستان جانے کے بجائے بھارت میں رہنے کا طے کیے ہیں اس کا کوئی معنی و مطلب بھی ہے یا نہیں؟ باقی کچھ بھی ہو۔ لیکن اس ایک بات کی وجہ سے وہ ملک کے شہری ہیں کیا یہ ثابت نہیں ہوتا؟ مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب کو مساویانہ حقوق ملنے چاہئیں۔ لیکن اس طرح مساوی مواقع کیا صرف کاغذ پر لکھ کر دینے سے ملتے ہیں؟ جس کے لیے پارلیمنٹ نے منظور کیے ہوئے قوانین کو پوری طریقہ سے سنجیدگی کے ساتھ عمل آوری کرانی چاہیے۔ آج بھی مسلمانوں کی اکثریت معاشی اور سماجی حالت دیگر سماج کے لوگوں سے کہیں زیادہ خراب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے، تُو اس سے انکار نہیں کرسکتا۔“میں نے کہا۔
ششما نے کہا ”تھورات کا کہنا بالکل صحیح ہے۔“ جمہوریت عوام کی آواز پر مشتمل ہوتی ہے۔ تب تو مذہب خدا کے لفظوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ کسی بھی سیاسی اور عدلیائی نظام میں خدا کی مرضی فیصلہ کن تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی آواز کو دوسرا درجہ حاصل ہوگا۔ سیکولرازم کے اقدار اس لیے کہ وہ شعور کی بنیاد پر اُس کاتصور قائم کیا جاتا ہے۔ سماج میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے۔ جس میں سے جدید دُنیا کی تعمیر ہوسکتی ہے۔ اس لیے اُس میں یہ ماننا حقیقت پر مبنی ہے شعور عقل کے تحت چلنا چاہیے۔ اُسے سماج کے فائدے کے لیے استعمال کرنے پر کچھ لوگوں کو اختلاف ہوتا ہے۔ تاریخ ایسا کہتی ہے کہ ایک فریق سماج میں رہنے والے اقلیتوں پر زور و زبردستی ہمیشہ کی جاتی ہے۔ اس لیے اکثر و بیشتر سیکولرازم کی ہی حمایت کی جاتی ہے۔ اس لیے کہ ایسے ماحول میں انہیں ان کے سیاسی حقوق حاصل کرنے کے لیے اور گفت و شنید کرنے کے لیے ایک اجازت اور راستہ کھلا ہوتا ہے۔ تاریخ کا یہ کہنا ہے کہ ان لڑائیوں کے درمیان جو ردّعمل کے طور پر ہونے والی طاقتیں ہیں وہ مخالف میں ہی رہتی ہیں۔ اس وجہ سے کہ توقعات جن شخصیتوں سے ہوتی ہیں ان کے وجود سے دھوکہ پیدا ہوسکتا ہے۔ گاندھی جی کی مثال دے کر دھوکہ کو سہا گیا ہے۔ میں تمہیں پھر سے اُن کے الفاظ کی یاددہانی کراؤں گا انہوں نے کہا تھا کہ ”میرا مذہب مجھے پسند ہے جس کے لیے میں مار دھڑک کو بھی قبول کروں گا۔ لیکن وہ میرا شخصی معاملہ ہے۔ سرکار کا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سرکار کو عام سماجی، فلاحی کام صحت، راستے، خارجی اُمور اور دیگر کئی چیزوں کو سیکولرازم کے نظریہ سے دیکھنا چاہیے۔ لیکن مذہب کی طرف دیکھنے کی سرکار کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔“مذہب ہر شخص کا خانگی معاملہ ہے۔ میرے لحاظ سے سیاست میں سیکولرازم کی اس لیے حمایت کرنا یا اُسے قائم رہنے کے سوال کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس لیے کہ ایک سیکولرریاست کھڑا کرنا اہم ہے۔ یہ ایک بات ذہن میں رکھیں عام طورپر سیکولرازم حکومت کے لیے ہندو اُصول پسند زیادہ موافقت میں ہیں۔ اس لیے کہ اُن کی مخالفت کرنے کی یا برداشت کرنے کی اُن کی پرانی روایت ہے۔ اپنی کمزوری سمجھ کر نہیں بلکہ اپنی طاقت سمجھ کر اس حقیقت کو دنیا کے سامنے لانا چاہیے۔ جس کی وجہ سے ہم کثرت میں وحدت کے اقدار کو پالنے کی سمجھ و سیکھنا چاہیے۔جس میں جمہوریت روح ہے۔ اس لیے ایک ملک کی حیثیت سے طویل عرصہ تک قائم رکھنے کی اُس میں ضمانت بھی ہے۔
شیواجی نے کہا ”تھورات کا کہنا بالکل دُرست ہے۔ ہم ظلم و زیادتی سے آئے ہوئے ایک سے بڑھ کر ایک شہریوں کے حقوق اور قانون سے ریاست میں پیدا کیے ہوئے جمہوریت کے لیے جھگڑنا چاہیے۔ ہماری تاریخ اور ہماری تہذیب دیگر لوگوں کو شامل کرلینے میں ہے۔ اس لیے ”ہندی ہے ہم وطن ہے اور اس کے ساتھ ہی ہندوستان ہمارا۔“
ہم اس گفتگو میں اتنے محو ہوگئے کہ میں وہ لڑکے کب آئے یہ ہمیں محسوس بھی نہیں ہوا۔ وہ آکر خموشی سے ہمارے پاس ورانڈے میں بیٹھ گئے۔ کتنی دیر پہلے یہ آئے ہیں اور ہماری گفتگو سن رہے تھے یہ ہمیں پتہ ہی نہ تھا۔ اب وہ اندر آئے۔ پراچی اُن سب کی طرف سے کہنے لگی ”میں جنم سے ہندو ہوں۔ لیکن مجھے مسلم، کرسچن، یہودی، بدھ، سکھ لوگوں پر فخر ہے، ان تمام لوگوں کی روایتوں میں کتنے برسوں سے ان کی رگوں میں جو خون بہہ رہا ہے اُنہی لوگوں نے ہمیں پال پوس کر بڑا کیا ہے۔ انہوں نے مجھے سمجھ عطا کی۔ انہوں نے مجھے اپنا عقیدہ عطا کیا۔ سوچ و فکر اور سارے اعمال کی جوابداری انہوں نے لی ہے۔ غالب مجھے جتنا بھاتا ہے اُتنا ہی مہادیوی ورما۔ صوفی سنگیت مجھے جتنا چھوٗتا ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے اُتنا ہی مجھے تکارام کے ابھنگ اچھے لگتے ہیں اور لاطینی زبان کے کیتھولک مقولے یعنی میرا مطلب ہے کہ ہم سب مل کر بھارت ہے۔ لیکن سلیم پیٹر یا راہول ان لوگوں میں کوئی فرق کروں ایسا میرا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے اور ان کے بارے میں میرے دل میں کبھی کوئی بات پروئی نہیں ہے۔ آپ جن موضوعات پر گفتگو کررہے تھے ہم میں سے کسی نے بھی کوئی اہمیت نہیں دی ہے، یہ صحیح ہے۔ ہمیں اقلیت یا اکثریت، کس کے کیا اختیارات ہیں؟ تمہیں یہ معلوم ہے کیا کہ جنہوں نے ملک کو ایک اٹوٹ اور غیر منقسم رکھنے کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے وہ ہندوستانی تھے وہ ہندو یا مسلما ن نہیں تھے۔ عبدالحمید نے کھیم کرن میں جب وہ شہید ہوا تب اس نے کیا پاکستان کا کبھی خیال کیا؟ اُس کا اسلام پر عقیدہ تھا۔ اس لیے اس نے پاکستانی فوجیوں پر گولیاں نہیں داغ ڈالیں۔ کیا ایسا ہوا؟ کرنل تاراپور، ان کو عزت و افتخار دیا گیا جو پرم ویر چکر پارسی کو دیا گیا۔ یا بھارتی شخصیت کو۔ کھلورے بندو نے ہندوستان کے میدان جنگ میں دُشمنوں کے طیارو ں کو نیست و نابود کرکے تو اس وقت وہ کن کا تحفظ کررہے تھے؟ کرسچن کے؟ تم تمام معمر حضرات آپ کے دلوں میں جو بھارت ہے اُس ضمن میں بول رہے ہیں۔ ہمارا تم پر کیا یقین نہیں ہے؟ کیا تمہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے درمیان اگر کوئی تفریق پیدا کرنا چاہتا ہے تو کیا ہم بس دیکھتے رہیں گے؟ ہم چھوٹے ہیں لیکن ہمارے پاس ہمارے خود کے دل و من ہیں۔ ہمیں کمتر نہ سمجھئے۔ اطراف و اکناف میں کیا ہورہا ہے، ہمیں اس کا علم ہے۔ ہم خاموش ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم وقت آنے کا انتظار نہیں کررہے ہیں۔ موضوع اور غیر موضوع کے درمیان تمیز کرنا ہمیں آتا ہے۔ اچھی بات کے لیے ہم پر بھروسہ رکھئے اور دیکھئے، ہم وہ کرکے دکھائیں گے۔ آپ نے اس ملک کو شکل و صورت دی، وہ بھارت آپ اکیلے کا نام ہے اور وہ بھارت ہمارا بھی ہے اور کوئی بھی ہمیں اس سے چھین نہیں سکتا۔
اتنا وہ کہہ کر ایک دم رونے لگی۔ چشمہ صاف کرنے کے بہانے میرے آنکھ کے آنسو پوچھ لیا۔ میں جب دیکھ رہا تھا تو سب لوگ وہی کررہے تھے۔ پچھلے چند دنوں کے واقعات ہم تمام بے چین ہوگئے تھے۔ آنے والے زمانے میں جو واقعات ہوسکتے ہیں وہ زبردستی ہوں گے کیا ایسا مجھے ڈر لگتا ہے۔ فیض احمد فیض ؔ نے اپنی صبح آزادی والی نظم میں یہی تو کہا ہے ایک پیڑی کی مصیبت بیان کرتے وقت کہا تھا ؎
یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
پراچی میرے خوف کی وجہ سے اچھی طریقہ سے چل نہیں پارہی تھی۔ لیکن اطراف و اکناف میں ہونے والے واقعات کی جانب اُس کا دیکھنے کا نظریہ مجھے اُس نے دیا۔ نظریاتی اختلافات کے باوجود اُسے اپنے دل کو نہ لگالیں۔ اس لیے کہ یہ جمہوریت میں گفتگو کرنا اور اس میں مخالفت کا اظہار کرنا ہر فرد و بشر کو چاہیے۔ اور مستقبل میں کتنی ہی مصیبتیں آئیں تو اپنا ملک صحیح راستہ پر رہے اس کی ہمیں فکر کرنی چاہیے۔ ایسا اس نے پُرخلوص طریقہ سے کہی۔ آخر نوجوان بھارتیوں کے دل کی ذہانت اور عقلمندی ہے اور اُن کی یہ دیش بھکتی ہے جس کی کامیابی ہوگی۔ ایسا اطمینان اُس نے مجھے دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: