مضامین

ہند چین سرحد پر کشیدگی: اسباب و علاج

تحریر محمد ہاشم اعظمی مصباحی نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی 9839171719

(چینی برآمدات کابائیکاٹ خطرناک ہوگا)

آج دنیا کے کثیر آبادی والے دو پڑوسی ممالک ہندوستان اور چین کے درمیان کشیدگی کی جو خبریں موصول ہو رہی ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ہے آج بھارت اور چین کے تعلقات جہاں پر ہیں وہاں ایک بار پہلے بھی اس سے زیادہ کشیدہ ہو چکے ہیں یاد کیجئے جب ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے چین کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا یہ اس وقت کی بات ہے جب "ہندی چینی بھائی بھائی” کا زمانہ عروج پر تھا لیکن چین نے اپنی فطرت کے مطابق دوستی کے نام پر وشواس گھات کرتے ہوئے ہندی چینی سیاسی اخوت کو پارہ پارہ کردیا تھا جس سے ہندوستان کی خوش فہمیوں کے چراغ گُل ہوگئے تھے اور امیدوں کا شیش محل چکنا چور ہوگیا تھا نتیجتاً 1962ء میں دونوں ممالک کے درمیان شدید جنگ ہوئی ہندوستان کی فوجی عسکریت چین کے سامنے بہت کمزور تھی اس لئے ہندوستانی فوج جنگ کے لیے بالکل تیار نہ تھی پھر وہی ہوا جو عموماً ایسی صورت حال میں ہوتا ہے ہندوستان کو چین کے ہاتھوں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اس جنگ میں شکست و ہزیمت نہرو جی کی لیگیسی یا چمکتے ہوئے سیاسی کردار پر وہ بدنما داغ ہے جو ان کی باقی کامیابیوں کو پھیکا کر دیتا ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو اپنی تمام تر کامیابیوں کے باوجود اپنی باقی ماندہ زندگی میں کبھی اس شکست کے صدمے سے ابھر نہیں سکے نہرو جی کے لیے شاید سبق یہ تھا کہ بین الاقوامی رشتوں میں نعروں اور ’پرسنل کرسما‘ یا پرکشش شخصیت کی اہمیت تو ضرور ہوتی ہے لیکن اتنی نہیں کہ ملک اپنے نیشنل انٹریسٹ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرلے صحیح ہو یا غلط حکومتیں وہی کرتی ہیں جو انہیں خود اپنے اور اپنے ملک کے مفاد میں نظر آتا ہے اس لیے کہ حکومت کرنے کے لیے حکومت میں بنے رہنے کے لئے یہی ضروری ہوتاہے. جمہوری نظام حکومت ہو یا چین جیسا سسٹم، داخلی سیاست کے تقاضے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں. اب موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی یہ سبق سیکھ رہے ہیں.اگر یہ تقاضے نہ ہوتے اور قومی مفاد کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے الزام کا خوف نہ ہوتا تو شاید نہرو نے 1960ء میں چین کے ساتھ سرحدی تنازعے پر سمجھوتہ کر لیا ہوتا اس وقت چین بظاہر اکسائی چن اور اروناچل پردیش جسے چین تبت کا حصہ مانتا ہے کو ’بارڈر‘ بنا کر سرحدی تنازع ختم کرنے کے لیے تیار تھا، پیکج ڈیل بنیادی طور یہ بتائی جاتی ہے کہ انڈیا اکسائی چن پر چین کا دعوی تسلیم کر لیتا اور چین اروناچل پردیش پر انڈیا کا دعوی قبول کرلیتا مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوا اے کاش یہ سمجھوتہ ہوگیا تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ساٹھ سال کے بعد آج ہندوستان پھر اسی مشکل بلکہ اس سے بھی زیادہ مشکل ترین موڑ پر کھڑا ہے مودی جی نے اپنے دور اقتدار کے چھ برسوں میں چین سے اپنے روابط پر خاص توجہ دی چین کے صدر سے ان کے ون ٹو ون خصوصی اجلاس کی تصاویر سوشل میڈیا پر ان کے پیغامات کے ساتھ خوب گردش کر رہی ہیں. حال ہی میں معروف صحافی رویش کمار نے دل کو چھو لینے والی بات کہی تھی کہ "ذاتی کیمسٹری اور ”پرسنل اکوئیشن” اپنی جگہ ہے لیکن اگر صرف پرسنل کیمسٹری سے بین الاقوامی تنازعات حل ہوا کرتے تو کشمیر کا مسئلہ بھی اسی دن حل ہو گیا ہوتا جب مسٹر مودی بغیر کسی اطلاع و اعلان کے مسٹر نواز شریف کے وہاں شادی کی تقریب میں شرکت کرنے لاہور پہنچ گئے تھے” حالیہ دنوں ہند و چین جھڑپ میں ہمارے دیس کے بیس جوان شہید ہو چکے ہیں اس لیے وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے راستے محدود ہوگئے ہیں اس وقت سمجھوتہ کرتے ہیں تو چین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے الزام کا سامنا کرنا پڑیگا اور اگر سمجھوتہ نہیں کرتے ہیں تو بات بگڑ سکتی ہے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں. لداخ میں دونوں ملک بڑے پیمانے پر فوج تعینات کر رہے ہیں ان حالات کے تناظر میں زیادہ تر فوجی اور سفارتی مبصرین کا ماننا ہے کہ چین اب آسانی سے پیچھے نہیں ہٹے گا یہ تنازعہ بہت طویل ہونے والا ہے اور اکثر جذباتی لوگ جنگ کی وکالت بھی کر رہے ہیں انہیں لگتا ہے کہ چین کو سبق سکھانے کا صحیح وقت آ گیا ہے۔یہ سچ ہے کہ اب دونوں ملکوں کی افواج میں اتنا فرق نہیں رہا جتنا 1962ء کی جنگ کے دوران تھا لیکن جو بات سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہی ہے یقیناً وہ ان کی دور اندیشی اور سیاسی مہارت پر غماز ہے اپنے مخصوص کالم میں لکھتے ہیں کہ "حکمت عملی طے کرنے سے پہلے حالات کی نزاکت، اپنی طاقت، دشمن کی طاقت اور اپنے اتحادیوں کی طاقت کا اچھی طرح جائزہ لے لینا چاہیے” زیادہ تر سابق فوجی افسران بھی یہ باور کرا نے کی کوشش رہے ہیں کہ یہ جذبات میں بہنے کا وقت نہیں ہے ہمیں نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور بھارت کی پالیسیوں سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بھارت کا آپشن قطعی نہیں ہے.اس لیے یہاں پر میں پاکستان اور چین کو سبق سکھانے کی وکالت کرنے والوں سے معذرت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ اے جذبات کی رو میں بہنے والو! تھوڑی بہت تاریخ یاد رکھنے کے ساتھ اقتصادی و معاشی حالات پر بھی نظر رکھا کرو اس لئے کہ اسی ہندوستان کے ایک بہت بڑے مفکر نے کہا تھا کہ "جنگ میں نقصان صرف دشمن کا نہیں ہوتا ہے” دوسرا راستہ اب بھارت کے پاس یہ ہے کہ چین کو مالی نقصان پہنچاۓ اور یہ مطالبہ مقبول بھی ہو رہا ہے کہ ہندوستان چین سے درآمدات پر پابندی عائد کردے۔چین سے درآمدات روک دی جائیں گی تو اس کا دماغ ٹھکانے آئے گا لیکن کوئی بھی تجزیہ نگار آپ کو بتائے گا کہ ہندوستان میں الیکٹرانکس سے لے کر آٹو موبائل اور فارما انڈسٹری تک، مینیوفیکچرنگ میں چین کی سپلائی چینز کتنا کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ چین سے صرف تیار شدہ سامان ہی نہیں آتے ہیں بلکہ بھارت کی سر زمین پر بننے والے سامانوں میں بھی چین سے امپورٹ کیے جانے والے کل پرزے اور خام مواد اتنی بڑی مقدار میں استعمال ہوتے ہیں کہ ان سپلائی چینز کا متبادل تلاش کرنا ایک مشکل ترین امر ہے تو مختصراً بس یہ سمجھ لیجئیے کہ چینی سامان کا بائیکاٹ کرنے سے انڈیا کو ہی نقصان ہو گا اور ہاں سرحد کا تنازع ویسے کا ویسا ہی باقی رہ جائے گا مزید برآں چین کے موقف میں اور زیادہ سختی پیدا ہو جائے گی۔تو پھر بائیکاٹ کا فائدہ کیا ہوگا؟ اس لیے بہتر یہی ہو گا کہ چین پر آہستہ آہستہ انحصار کم کیا جائے چین میں تیار کردہ سامان سستا بھی ہوتا ہے اور معیاری بھی اس کا متبادل ملک میں تیار کرنا ہو یا دوسرے ممالک سے سپلائی چینز قائم کرنا ہو یہ ایک لانگ ٹرم پراجیکٹ یعنی طویل مدتی کام ہے یہ ایک دو برس میں ہونے والا کام نہیں ہے۔آج پنڈت جواہر لال نہرو کی طرح مودی جی کے سامنے بھی ان کے دور اقتدار کا یہ سب سے بڑا مشکل چیلنج ہے۔ ظاہر ہے مودی جی نہیں چاہتے ہیں کہ جنگ ہو اور یہ بھی نہیں چاہتے کہ لوگ انہیں ایک کمزور راہنما کے طور پر یاد رکھیں ان کی پوری امیج ”مسکیولر نیشنلزم” پر ہی ٹکی ہوئی ہے یا یہ کہ قومی مفاد کا سوال ہو تو ہم جھکنے اور رکنے والے نہیں ہیں اس لیے اگر دباؤ میں آ کر انہوں نے چین سے سمجھوتہ کر لیا تو ان کی امیج کو اتنا ہی نقصان ہو گا جتنا جنگ ہارنے پر ہوتا ہے حل کا راستہ صرف بات چیت کی میز سے ہو کر گزرتا ہے۔ چاہے بین الاقوامی ثالثی سے ہو یا پھر آپسی بات چیت سے پہلے چین کو مائل کیا جائے کہ وہ اپنی فوج کو ان علاقوں سے ہٹا لے جن پرہندوستان کی دعویداری ہے اور پھر سرحد کے تعین کا ایک منصوبہ پیش کیا جائے جس کا بنیادی فارمولہ وہی ہو جو ہندوستانی تاریخ کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا تھا تاکہ مسائل کا سدباب ہوسکے ورنہ بقول مظفر رزمی:
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نےخطا کی تھی صدیوں نےسزاپائی
Hashimazmi78692@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: