اہم خبریں

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی تو چھوڑی ہے

تنزیل الرحمن ندوی

یوں تو دنیا میں ہر آئے دن کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے زندگی کی اس دوڑ دھوپ میں کچھ چیزیں حاصل ہوتی ہیں اور ان گنت چیزیں چھوٹ جاتی ہیں اور چیزوں کا ملنا چھوٹنا یہ دنیاوی دستور ہے ایک چیز چھوٹتی ہے تو دوسری چیز ہاتھ بھی لگتی ہے ایک ہاتھ میں ایک وقت میں ایک ہی چیز رہنی چاہئے تا کہ اس کو مضبوطی سے پکڑا جا سکے اور جب ایک ہاتھ سے بیک وقت کئی چیزوں کو پکڑنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اکثر وقت ہاتھ خالی ہی رہ جاتا ہے، روز مرہ کی زندگی میں چیزوں کا ملنا اور چھوٹنا لگا رہتا ہے اس کا نتیجہ کہیں مثبت ہوتا ہے تو بسا اوقات یہ منفیات کا خزانہ بھی لے کر آتا ہے مگر انسانی فطرت ہمیشہ مثبت نتائج کی متلاشی رہتی ہے اور منفیات سے وہ اس قدر بھاگنے کی کوشش کرتی رہتی ہے جیسے دہشت گرد پولیس سے۔ اور پولیس دہلی کے ہندوتوا دہشت گردوں سے۔

پچھلے دنوں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے بھی سوشل میڈیا کے چھوڑنے کی غیر متوقعہ اطلاع کو خبروں کی دنیا نے ایسا پکڑا کہ ہر خاص و عام نے جیسے دنیا کی ساری چیزوں کو چھوڑ کر وزیر اعظم کو ہی پکڑ لیا۔ ایک طرح سے وہ وزیر اعظم کی اس سر زنش کرنے پر آمادہ ہو گئے، ان کو کوسنے لگے ان کے اس چھوڑنے کے مقدس عمل سے ہونے والے نقصانات کی کتابیں لکھنے لگے، معاشیات پر پڑنے پر اس کے پر خطر اثرات کی ڈائری تیار کرنے لگے، اسٹاک ایکسچینج کے عرش سے فرش پر گرنے کے ویڈیوز منظر عام پر لانے لگے اور سب سے اہم اور ضروری بات یہ کہ وزیر اعظم کے سوشل میڈیا کے ذریعے ہندوستان کی بنائی گئی GDP (جی ڈی پی) کی حالت زار کی دہائی دینے لگے روز صبح وشام اپنے منفرد انداز سے ہندوستانی عوام کی زندگی کو روح افزا اپڈیٹس، اسٹیٹس، اور ٹویٹس کی عدم موجودگی سے ہونے والی ہلاکتوں کا اندازہ لگانے لگے۔
ملک کا ماحول ایسا ہو گیا کہ اب اس ملک کو کورونا(CORONA) وائرس سے کوئی نہیں بچا سکتا اگر مودی جی ٹویٹر ہینڈل اور فیس بک اکاؤنٹ جاری رکھتے تو کورونا وائرس ہمارے ملک عزیز میں دستک بھی نہیں دے سکتا وہ خود اس ڈر سے کسی دوسرے وائرس کا شکار ہو کر موت کے گھات اتر جاتا کیوں کہ اگر مودی جی کی موجودگی میں وہ ملک میں داخل ہوجا تا تو وہ اس کو شوشل میڈیا کے بوریا میں لپیٹ کر اس زور سے پھینکتے کہ وہ پاکستان کو تباہ کرتے ہوئے واپس چین میں ہی گھر جمائی داماد کی طرح سسرال میں ہی جم جاتا۔ حالانکہ کورونا وائرس کا سب سے بہتر علاج ہمارے ہی ملک نے ایجاد کیا ہوا ہے اور اس کی لاگت بھی تقریبا مفت ہی ہے سخت گوبر کی گولی (Tablet) بناکر کھانے، نرم گوبر کی کریم بناکر جسم میں لگانے، اور گوبر میں حسب استطاعت و ضرورت پانی ملا کر گٹ گٹ پینے اور نہانے سے کورونا وائرس سے بآسانی بچا جا سکتا ہے۔ یعنی جس طرح سے مودی جی دنیا کے شور شرابہ اور ہنگاموں سے بچنے کے خاطر شوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا ارادہ کیا ہے من و عن ویسے ہی آپ بھی اوپر بتائے گئے نسخہ کا استعمال کر کے اس مہلک وائرس سے کپل مشرا کی طرح +Y سیکوریٹی کے پناہ میں آ سکتے ہیں

آپ اندازہ لگائیے کہ اگر مودی جی نے شوشل میڈیا چھوڑ دیا تو ملک اور ملک کے باشندوں کا کیا حال ہوگا؟ کیا وہ اپنی خود کی زندگی خود ہی جی سکیں گے؟ دنیا میں پیش آنے والے عجیب و غریب واقعات سے واقف ہو پائیں گے؟ کیا وہ حالات حاضرہ کے تقاضوں کو پورا کر بھی پائیں گے؟ اس درد ناک اور پر آشوب دور میں وزیر اعظم کے اشاروں پر ہونے والے امن پسندی بھائی چارگی آپسی اخوت و مساوات کے پے درپے منعقد کی جانے والی تقریبات سے واقف ہو پائیں گے؟ آپ دہلی کی ہی مثال لے لیجئے عوام ٹی وی چینلوں اشتہارات و اخبارات پر آخر کتنا بھروسہ کرے کوئی چینل رات کو دن بتاتا ہے تو کوئی دن کو رات کسی اخبار کا قبلہ شمال ہے تو کسی کا جنوب، ایسی صورت حال میں کیا ہندوستانی عوام کو صحیح خبر تک رسائی دشوار نہیں ہو جائے گی؟ ان تمام جھمیلوں سے دور ہٹ کر مودی جی کے تقریبا چھ سو کروڑ معتقدین سچی خبر تک پہنچنے کیلئے مودی جی کے سوشل اکاؤنٹس پر جاکر کچھ وقت گزارتے ہیں اور ان کو وہاں سے حسب منشا خبر مل جاتی ہے ایسے۔ حالات میں اگر مودی جی سوشل میڈیا کو چھوڑ دینگے تو کیا ان کے معتقدین کا عظیم خسارہ نہیں ہو جائے گا اور اس پر طرہ امتیاز یہ کہ کیا ہندوستانی عوام کو ان سائنسی ایجادات و اختراعات کے علم سے محرومی نہیں ہو گی جس کے بارے آج تک کسی سائنس دان نے کچھ نہیں بتایا بلکہ بات ہی ایسی عجیب الخلقت ہوتی ہے کہ کوئی سائنس دان بتا بھی نہیں سکتا جیسا کہ مودی جی نے نالہ میں گیس پائپ ڈال کر چائے بنانے کا ہنر سکھایا تھا جس کے بعد ہی ملک کی ایک بڑی تعداد نے مودی جی کی اپیل (Give up LPG) (ایل پی جی چھوڑیئے) پر عمل کرتے ہوئے سبسڈی یافتہ ایل پی جی چھوڑ دی تھی اور وہ اب تک نالہ سے ہی اپنی ایندھن کی ضروریات پوری کررہے ہیں اور ایک تیر دو شکار کے محاورے سے بھر پور استفادہ کر رہے ہیں بچت کی بچت اور دیسی کھاد کا مزہ الگ سے مل جاتاہے ان جیسی بہت سی ذی منافع تفصیلات خود وزیر اعظم گاہے بہ گاہے بتاتے رہتے ہیں اور عوام اس سے مستفیض ہوتی رہتی ہے اور سب سے اہم بات کہ وہ اپنے یار امریکی صدر دولانڈ ٹرمپ سے ہونے والے دلفریب مکالمہ سے ہندوستانی عوام کو کیسے رو برو کروا سکیں گے ان جیسے بہت سارے خساروں کا اگر حساب لگایا جائے تو مودی جی کا سوشل میڈیا سے خلع کروانا غیر مناسب لگ رہا ہے
مودی جی کے شوشل میڈیا چھوڑنے کی جب وجہ معلوم کی گئی تو معلوم ہوا کہ مودی جی دہلی میں پیش آئے ہندو مسلم فساد واقعہ سے بہت دکھی ہیں اور اسی وجہ سے وہ شوشل میڈیا چھوڑنا چاہتے ہیں جبکہ بات بالکل بر عکس ہے ان کو 2002 گجرات فساد کا بھی اچھا خاصہ تجربہ ہے جہاں انسانیت نے دم توڑتے ہوئے اپنے جانوں کے نذرانے پیش کیا تھا

اس معاملہ میں ہر خاص و عام نے اور خاص کر کے فیسبک، واٹس اپ، انسٹاگرام، اور ٹویٹر مفکرین نے مودی جی کو اپنے مفید مشوروں سے نوازا ہے اور کسی بھی حال سوشل میڈیا کو نہ چھوڑنے کی گذارش کی ہے
ایک فیسبکی مفکر نے اس انداز میں مودی جی سے فیس بک نہ چھوڑنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ مودی جی مانا کہ آپ کو بات بات پر چھوڑنے کی عادت ہے مگر یہ کیا کہ آپ فیسبک ہی چھوڑ دیں جبکہ کسی واٹسپی پروفیسر نے کہا کہ مودی جی جب تک آپ کی سانس چلتی ہے آپ واٹس اپ پر سرگرم رہیں بھلے ہی اس کے چکر میں اگر آپ سانس لینا چھوڑ دیں تو وہ منظور ہے مگر آپ واٹس اپ نہ چھوڑیں کسی صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مودی جی اگر آپ کو چھوڑنا ہی ہے تو دنیا ہی چھوڑ دیں مگر شوشل میڈیا نہ چھوڑیں

جیسے ہی تمام سوشل میڈیا پر مودی جی کے سوشل پلیٹ فارم سے غائب ہونے کی بات عام ہو گئی تو عوام اضطرابی کیفیات کا شکار ہوگئی بعض معتقدین کو تو بات بات پر غشی طاری ہونے لگی، دنیا نظروں کے سامنے نہ صرف اوجھل ہونے لگی بلکہ وہ تاریک سمندر میں غوطہ زن ہوتے دکھائی دینے لگی، جیسے ان کی آنکھوں کو موتیابیند ہو گیا ہو، مستقبل کے ہر راستے بند ہوتے دکھائی دینے لگے انہیں ایسا محسوس ہونے لگا جیسے اب دنیا میں زندہ رہنے کا کوئ مقصد ہی نہیں بچا ہو، من میں بہت سی ایسی بے ہودہ خیالات گردش کرنے لگے لیکن ریڈیو تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ من کی بات من میں ہی کرنے لگے، ان کی غمگینی اور المناکی کا یہ عالم تھا کہ وہ اجتماعی خود کشی کا عزم مصمم کرنے لگے پھر جب یہ بات ان کو سمجھ میں آئی کہ اس طرح ہلکان ہونے سے موت سے قبل ہی آدمی بے موت مر سکتا ہے تو دل کو سچی جھوٹی تسلی دینے لگے زندگی کو از سر نو شروع کرنے کی سوچنے لگے ابھی انہیں کشمکش والے حالات سے تھپیڑے کھا رہے تھے کہ اچانک مودی جی دوبارہ پرکٹ (حاضر) ہوئے اور انہوں نے سمجھایا کہ وہ سوشل میڈیا ہمیشہ کیلئے نہیں چھوڑنے جارہے ہیں بلکہ ہندوستان کی ان خواتین کو ایک دن کےلئے اپنا اکاؤنٹ سونپنے والے ہیں جنہوں نے اپنی محنت لگن اور طریقہ کار سے دنیا کو متاثر کیا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی سی بات کو مودی جی نے آخر کس طرح پیش کیا کہ لوگوں نے سوچا کہ مودی جی حقیقت میں اپنے سوشل اکاونٹس کو معطل کرنے جا رہے ہیں در اصل مودی جی بولنے کا طریقہ ہو بہو ویسا ہی تھا جیسا کہ انہوں نے 2014 میں عوام کو وکاس اور کالا دھن کے بارے میں سمجھایا تھا اس وقت بھی بس ایسا ہی ہوا تھا کہ کچھ عقل مند لوگ وکاس کو وکاس اور کالا دھن کو کالا دھن ہی سمجھ لیا تھا جبکہ بعد میں پتہ چلا کہ وکاس ایک الگ ہی چڑیا کا نام ہے جو امیروں کے ارد گرد ہی گھومتی ہے اس کا غریبوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور کالا دھن کالا دھن نہیں دراصل گورا دھن ہوتا۔ خیر خدا خیر کرے ملک اور ملک کے باشندوں کا

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: