مضامین

یتیم، ابن یتیم کو یتیم کرگئے

یکے از سوگوار: محمد یاسین جہازی

ویسے تورات کی تاریکی کے بعد صبح کا اجالا ضرور ہوتا ہے۔ اسی طرح شام روزانہ ڈھلتی ہے، لیکن کچھ شام ایسی بھی ڈھلتی ہیں، جن کی چھائی ہوئی تاریکیوں کو کوئی سورج اجیارے میں نہیں بدل سکتا۔ میری زندگی میں کچھ ایسی ہی ایک شام آئی، جس نے ایک یتیم کو ہمیشہ کے لیے مجھ سے جدا کردیا اور اُس یتیم نے، اِس ابن یتیم کو یتیم و بے سہارا کردیا۔17/ دسمبر 2021بروزجمعہ بعد نماز جمعہ تقریبا ساڑھے تین بجے شام، میرے والد محترم ابن یتیم جناب محمد مظفر حسین صاحب نور اللہ مرقدہ اپنی حیات مستعار کی آخری سانس لے کر مالک حقیقی کے حضور حاضر ہوگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

والد محترم کا تعلق جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع ایک معروف بستی جہاز قطعہ سے تھا۔ تاریخ پیدائش کا تحقیقی علم نہیں ہے، تاہم ان کے آدھار کارڈ پر 1951درج ہے۔ اس حساب سے تقریبا ستر سال کی عمر پائی۔ آپ نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی، جو علاقے کے اعتبار سے متوسط طبقے میں آتا ہے۔ ان کے والد میرے دادا محترم جناب نصیر الدین مرحوم جماعتی آدمی تھے۔ علاقے میں جہالت کی حکمرانی کے باوجود والد محترم کو تعلیم دلانے کا عہد لیا۔ سب سے پہلے گاوں کے مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں عربی درجات کی تعلیم کے لیے مدرسہ کاشف العلوم چھٹمل پور آئے اور درجہ دوم تک تعلیم حاصل کی۔ اسی دوران دادا محترم کو سانپ نے کاٹ لیا، جس سے وہ جاں بر نہ ہوسکے اور ان کا انتقال ہوگیا۔ دادا کے انتقال کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکے اور گھر واپس آگئے۔ دادا نے اپنی وراثت میں مال و دولت کے بجائے، بینک کا بھاری قرض، ایک چھوٹا بھائی اور اس سے بڑی بہن چھوڑا تھا۔ والد صاحب کی روایت کے مطابق وہ تقریبا چودہ پندرہ سال کی عمر میں یتیم ہوگئے تھے، اس لیے گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے فکر معاش میں مصروف ہوگئے۔ پہلے دہلی کا رخ کیا۔ یہاں ٹھیلے پر کپڑے فروخت کیے، لیکن کوئی خاص کامیابی نہ ملنے کی وجہ سے وطن لوٹ گئے۔اور ایک مدرسہ میں تدریسی خدمات انجام دینے لگے۔ چوں کہ گھر کی مجبوریاں مدرسہ کے حق المحنت سے کئی گنا زیادہ تھیں، اس لیے مجبورا درزی کا کام شروع کیا۔ اس کام نے بھی ساتھ نہیں دیا، تو پھر راج مستری بن گئے اور بچوں کے خود کفیل ہونے تک اس کام کا سلسلہ جاری رکھا۔

*سماجی زندگی*

والد محترم، گرچہ گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے ہمیشہ تنگ دست رہے؛ لیکن سماجی زندگی میں وہ اپنی منفرد اور ممتاز شان رکھتے تھے۔ گاوں کی سطح پر تشکیل پانے والی کمیٹیوں اور تحریکوں میں سب سے نمایاں اور پیش پیش رہتے تھے۔ یہاں چند کارناموں کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔

*مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ کی امانت داری*

مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری جہازی1989اور 1993کے درمیان مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کے سکریٹری رہے ہیں۔ بعد از مرگ والد محترم کے ایصال ثواب اور اظہار تعزیت کے لیے انھوں نے اپنی خانقاہ عرفانیہ جہازقطعہ میں مورخہ 21 دسمبر2021 کو بعد نماز فجرایک مجلس منعقد کی، جس میں علمائے کرام اور حفاظ و قرا شریک ہوئے، پہلے ختم قرآن کا اہتمام کیا گیا۔ بعد ازاں تعزیتی نشست ہوئی، نشست کا آغاز رضی اختر سلمہ کی تلاوت سے ہوا، بارگاہ رسالت میں حافظ محمد اسجد سلمہ نے نذرانہ عقیدت پیش کیا۔پھر علمائے کرام نے اپنے تاثرات پیش کیے۔ مفتی محمد سفیان ظفر صاحب قاسمی نے اس نشست کی مکمل رپورٹنگ کی جو جہازی میڈیا میں اشاعت پذیر ہوئی تھی، ان کی رپورٹ کا اہم حصہ یہاں درج کیا جارہا ہے۔

”پیر طریقت عارف باللہ حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری دامت برکاتہم سابق ناظم اعلی جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ نے فرمایا کہ مولوی محمد مظفر حسین صاحب مرحوم قوم و ملت کی ترقی کے لیے بڑے فکر مند رہتے اور اپنی حد تک وہ کوشش کرتے تھے، مسجد مدرسہ، قبرستان کی گھیرا بندی اور دیگر سماجی کاموں میں بڑی دلچسپی لیتے اور اس کے لئے بڑی قربانیاں دیتے تھے، مولانا اسعد مدنی علیہ الرحمہ کے ایما پر جس طرح دیوبند میں مسلم فنڈ کا قیام عمل میں آیا،ٹھیک اسی نہج پر جہازقطعہ میں مسلم فنڈ کو قائم کرنے میں ان کا اہم رول رہا، کچھ عرصہ تک یہ مسلم فنڈ سرگرم عمل بھی رہا، اسی طرح قوم و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک زمانے میں تنظیم ملت کے نام سے ایک تنظیم مولانا اسلام صاحب کی تحریک پر بنی،اس کو بھی پروان چڑھا نے میں انھوں نے کافی جد و جہد کی۔ حضرت پیر طریقت نے کہا کہ مولوی مظفر حسین صاحب کا یہ بھی بڑا کارنامہ ہے کہ انھوں نے اپنی اولاد کی ایسی تربیت کی کہ آج ان کا ایک فرزند ہندستان کی مایہ ناز تنظیم جمعیت علما ہند کے مرکزی دفتر میں جھارکھنڈ کی نمائندگی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں اور ان کے دیگر فرزند بھی لائق و فائق ہیں۔واضح رہے کہ جناب محمد مظفر حسین صاحب کافی عرصہ پہلے اصلاح و تزکیہ کے مقصد سے حضرت مولانا عرفان صاحب مظاہری سے بیعت بھی ہوئے تھے۔

قاری شفیق صاحب امام عیدگاہ جہازقطعہ و صدر مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہازقطعہ نے فرمایا کہ جناب مظفر حسین صاحب نے عیدگاہ کے لیے اور مسجد قطب کی تعمیر کے لئے جو قربانی دی ہے، یہ ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے جس کا اجر ان کو ہمیشہ ملتا رہے گا، قاری شفیق صاحب نے کہا کہ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ آج ہم ان کو مٹی دینے سے بھی محروم ہو گئے اور مولانا شفیق صاحب امام مسجد قطب نے کہا کہ نورانی مسجد کی تعمیر کے لئے ان کی جد و جہد آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔

مفتی سفیان ظفر قاسمی سکریٹری جمعیت علمائے ضلع گڈا نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جناب مظفر حسین صاحب کی خدمات متنوع ہیں، ان کی زندگی سماجی خدمات کے لحاظ سے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے، وہ بڑے اچھے اخلاق کے مالک تھے،وہ ہم جیسے چھوٹوں پر بڑی شفقت سے پیش آتے تھے، بلاشبہ ان کی زندگی میں ہم لوگوں کے سیکھنے کے لیے بہت کچھ سامان موجود ہیں۔اخیر میں حضرت پیر طریقت کی دعا پر مجلس ختم ہوئی، جس میں بطور خاص مظفر صاحب مرحوم کو ایصال ثواب کیا گیا اور پوری امت مسلمہ کے لیے دعا کی گئی۔ اس مجلس کے شرکا میں مولانا اختر حسین صاحب، قاری ابو الفضل صاحب، مولانا عتیق الرحمن صاحب، مولانا نور الدین صاحب، قاری محمد قاسم صاحب، مولانا انصار صاحب قاسمی، حافظ نور الزماں صاحب وغیرہ وغیرہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

حضرت مولانا عرفان مظاہری دامت برکاتہم نے ان کے تعلق سے مزید دو واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مولوی مظفر صاحب مرحوم کے اندر بہت سے اوصاف کے ساتھ ایک خاص وصف امانت داری کی تھی اور امانت میں کیا برکت ہوتی ہے، اس کا مشاہدہ بھی میں نے کیا، حضرت نے بتلایا کہ جس وقت میں مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہازقطعہ میں مہتمم تھا اس وقت مولوی مظفر حسین صاحب خزانچی تھے، میں نے ایک مرتبہ مدرسہ کا چاول جو تین کنٹل ہوتا تھا، حساب کر کے ان کے گھر سے منگوایا، کچھ عرصہ کے بعد وہ کہنے لگے چاول منگوا نہیں رہے ہیں، ضرورت نہیں ہے کیا، میں نے کہا کہ مدرسہ کا مزید چاول بچا ہے کیا، انھوں نے کہا کہ جس کوٹھی میں مدرسہ کا چاول رکھتا ہوں، اس میں ابھی اور ہے، دوبارہ اس نے پھر تین کنٹل بھجوایا، میں نے بعد میں پوچھا کہ ابھی اور ہے کیا، تو انھوں نے کہا کہ اب جھاڑو دیکر مکمل بھیجوا دیا ہے، میں نے کہا کہ جا، یہ تو آپ نے برکت کا سلسلہ ہی بند کر دیا، اگر جھاڑو نہ لگاتے تو شاید اور برکت ہوتی رہتی۔ اس واقعہ کو میں نے اب تک کسی اور سے بیان نہیں کیا ہے، یہ صرف میں اور مولوی مظفر صاحب ہی جانتے تھے۔کسی چیز کا دو گنا ہو جانا میں سمجھتا ہوں کہ یہ امانت داری کی برکت سے ہی ممکن ہو سکا۔

دوسرا واقعہ یہ ہے کہ مولانا اسلام صاحب مجلہ ”بیسویں صدی”منگواتے تھے، ایک مرتبہ مولوی مظفر نے اس میگزین کے لیے ایک افسانہ لکھا جس کا عنوان تھا ”سمجھوتہ“۔ افسانہ کا خلاصہ یہ تھا کہ لوگوں کو آپس میں لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے؛بلکہ آپسی سمجھوتے سے چلنا چاہیے۔ یہ افسانہ مذکورہ میگزین میں شائع بھی ہوا۔ اس کے شائع ہونے کے کچھ دن بعد ہی ہندستان اور پاکستان کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا اور اس کے تحت ایک ٹرین”سمجھوتہ ایکسپریس”کے نام سے چلی۔ مولوی مظفر نے مجھ سے کہا کہ مولانا صاحب میرے افسانہ کی تاثیر دیکھیے، سمجھوتہ کے نام سے افسانہ لکھا؛لیکن یہ افسانہ اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ لوگوں کی مشکلات کو دور کرنے کا ذریعہ بن گیا۔یہ واقعہ میں نے اس لیے بیان کیا، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ مرحوم کو قلمی صلاحیت بھی تھی۔“ (جہازی میڈیا۔ تاریخ اشاعت:21دسمبر 2021)

والد محترم کے انتقال کے بعد جب ان کی اپنی کمیٹی، بجلی کمیٹی اور عیدگاہ کمیٹی کے حسابات اور امانت بوکس چیک کیا گیا، توقابل ذکر بات یہ تھی کہ ہر معاملات تحریری شکل میں ملے اور ہر فنڈ میں اتنے ہی روپے نکلے، جتنے جمع کیے گئے تھے۔ شاید ان کا یہ امتیازی وصف تھا، جس کی وجہ سے پورا گاوں اپنے انفرادی اور قومی حسابات سے مطمئن تھا اورتقریبا ہر امور میں والد محترم امین خازن مقرر کیے جاتے تھے۔

*سوشل اویکننگ کمیٹی*

یہ کمیٹی 2003میں گاوں جہاز قطعہ میں سماجی کام کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، جس کے جنرل سکریٹری متفقہ طور پر والد محترم جناب محمد مظفر حسین صاحب کو ہی بنایا گیا۔ اس کمیٹی نے گاوں کے لوگوں میں سماجی امور میں بیداری اور دل چسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اور بالخصوص باہمی اخوت و محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا جذبہ پیدا کرنے میں کافی اہم رول ادا کیا۔

*جنازہ نماز گاہ کی گھیرابندی*

جہاز قطعہ گاوں میں قبرستان سے متصل جنازہ کی نماز کے لیے ایک جگہ مخصوص تھی، جس پر اس کے قرب و جوار میں بسے غیر مسلم حضرات رفتہ رفتہ قبضہ کرتے جارہے تھے، سب سے پہلے والد محترم نے اس کی طرف اہل بستی کو متوجہ کیا اور پھر اس معاملے کی قیادت کرتے ہوئے پوری جگہ کی گھیرابندی کرادی۔ گرچہ غیر مسلموں نے مقدمہ کرنے کی بھی دھمکی دی، لیکن والد محترم نے جیل کی پرواہ کیے بغیر کام مکمل کراکر ہی دم لیا اور آج یہ پوری جگہ جنازہ نماز کے لیے محفوظ ہوچکی ہے۔

*عیدگاہ کی تاسیس*

والد محترم کی روایت کے مطابق2008 میں انھوں نے ایک دن نورانی مسجد میں یہ بات رکھی کہ گاوں کے بڑے بوڑھوں کو بسنت رائے عیدگاہ (جو تقریبا ساڑھے کلو میٹر دور واقع ہے) میں جانے میں دشواری ہوتی ہے، اس لیے گاوں میں ہی عیدگاہ ہونی چاہیے۔ شروع میں لوگوں نے اس خیال کا مذاق اڑایا، لیکن عزم و حوصلے کی جیت ہوئی اور سمرا پوکھر کے دکھن سمت پرتی زمین کو عیدگاہ بنانے کا فیصلہ لیا۔ اس سے متصل جناب نجم الدین (ہروا) کی زمین ہے، انھوں نے دو کھٹے عیدگاہ کے لیے وقف کردیے اور2008 میں پہلی بقرعید کی نماز اس نومولد عیدگا ہ میں ادا کی گئی، جس کی امامت جناب حافظ شفیق صاحب نے کی۔ اس سے اگلی عید میں زبردست بارش ہو رہی تھی، اس لیے عید کی نماز جامع مسجد میں اد اکی گئی۔ اس کے کچھ دنوں بعد میٹنگ ہوئی، جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ گدرا پتار میں عیدگاہ بنائی جائے، چنانچہ اس کی پہل کرتے ہوئے جناب نصر الدین مکھیا نے جناب سلیم (سلو) کو اپنی گدراپتار زمین کے عوض تین کھٹے زمین راجا ڈی میں دی اور ان تینوں کھٹوں کو عیدگاہ کے لیے وقف کردیا، اسی طرح جناب سلیم نے بھی گدراپتار کی بقیہ تین کھٹوں کو عیدگاہ کے نام وقف کردیا۔ کچھ دنوں بعد جناب کلیم (کلو) نے دو کھٹے اس کی متصل زمین کو وقف کیا، اس طرح کل ملاکر آٹھ کھٹے کی عیدگاہ ہوگئی۔ اور2009 میں پہلی بقرعید موجودہ عیدگاہ میں ادا گئی، جس کا سلسلہ تا ہنوز جاری ہے۔ شروع میں گاوں کے کچھ لوگوں نے عیدگاہ کی شدید مخالفت کی اور کسی بھی عید میں شرکت کرنے سے گریز کیا، لیکن الحمد اللہ اس وقت گاوں کے ساتھ آس پاس کی آبادی بھی شریک ہورہی ہے۔ اس عیدگاہ کے محرک و بانی اور متولی والد محترم جناب مظفر حسین صاحب مرحوم رہے۔

*مسجد قطب کی تعمیر*

یہ مسجد حضرت قاری قطب الدین صاحب نور اللہ مرقدہ کی یاد میں انھیں کی زمین پر تعمیر کی گئی ہے۔ ایک دن جنازہ قبرستان لاتے لاتے عصر کا وقت ہوگیا۔ نماز جنازہ اور تدفین میں مصروفیت کی وجہ سے عصر وقت مکروہ میں داخل ہوگئی، اس پر قاری صاحب نے کہا کہ اگر یہاں قریب میں ایک مسجد بن جائے، تو ایسے حالات میں نماز قضا ہونے سے بچ جائے گی، چنانچہ گاوں والوں نے انھیں کی وقف کردہ زمین پر مسجد کی تعمیر شروع کردی۔ پاکوڑ کے ایک ایم ایل اے مولانا شکیل صاحب نے دو لاکھ بتیس ہزار روپیے دیے اور مختلف مقامات پر چندہ کیا گیا۔ اور الحمد للہ یہ مسجد تعمیر کے اعتبار سے مکمل ہوچکی ہے۔اس مسجد کی تعمیر میں والد محترم نے جان، مال اور وقت کی مکمل قربانی پیش کی۔ اس کے متولی مولانا مسعود صاحب جہازی کا اعتراف ہے کہ جناب مظفر حسین صاحب ہی اس مسجد کے معمار اعظم ہیں۔ راقم کو یقین ہے کہ والد محترم کا یہ کارنامہ ان کے لیے جنت میں گھر بننے کا موجب ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

*والدین کی دہلی آمد*

والدہ محترمہ تقریبا دو سال سے پیٹ کے درد میں مبتلا ہیں۔ ابتدائی دنوں میں تقریبا چھ سات مہینے بھاگلپور سے علاج کرایا۔ جب فائدہ نظر نہیں آیا، تو ممبئی لے جایا گیا۔ وہاں بھی تقریبا سات آٹھ مہینے علاج چلا، لیکن افاقہ ندارد تھا، اس لیے آپسی مشورہ کے بعد طے پایا کہ دہلی لے جایا جائے۔ چنانچہ والدین محترمین اسی مقصد سے ۵/ ستمبر2021کو دہلی تشریف لائے اور امی جان کا علاج شروع کرایا گیا۔ والد مرحوم بالکل تندرست تھے۔ حادثہ وفات کا وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ البتہ آوائل دسمبر میں یہ کہا کہ یہاں رہتے رہتے اکتاہٹ محسوس ہورہی ہے، اس لیے میں گھر سے ہوکر آتا ہوں۔ چنانچہ بارہ دسمبر کا ٹکٹ بنادیا گیا تھا۔ لیکن پھر خود ہی کہا کہ تم اکیلے یہاں پریشان ہوجاو گے، اس لیے میں جاوں گا تو امی کو ساتھ ہی لے کر جاوں گا، اس لیے ابھی ٹکٹ کینسل کردو۔ چنانچہ بارہ دسمبر کا ٹکٹ کینسل کردیا۔ پھر خود ہی کہنے لگے کہ دہلی میں سردی زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ہم دونوں کا ٹکٹ بنادو۔ سردی کم ہونے کے بعد پھر آجائیں گے۔ چنانچہ پھر 20دسمبر کا دونوں کا ٹکٹ بنادیا گیا۔ لیکن مرضی مولیٰ یہی تھا کہ 20تاریخ کو وطن مالوف پہنچنے سے پہلے وطن سرمدی کا سفر کرے، اس لیے ان کی زندگی میں 20دسمبر پھر کبھی آیا ہی نہیں۔

*آخری دو دن*

بروز بدھ، 15/ دسمبر2021کی سر شام، جمعیت علمائے ہند کا قدیم دفتر واقع الجمعیۃ بلڈنگ گلی قاسم جان بلی ماران دہلی (جہاں والدین کے ساتھ ناچیز کی بھی رہائش تھی)پہنچا، تو حسب معمول سب سے پہلے محترم والدین کے کمرے میں گیا۔ دیکھا کہ کھانسی کی شدت ہے اور اس میں لہو کے اثرات ہیں۔ علیٰ الفور ڈاکٹر کے پاس لے گیا اور دوائی لے کر واپس بلڈنگ آگیا۔ رات بیتے ساتھ ساتھ کھانسی کی شدت میں کمی تو آئی، لیکن سانس اکھڑی اکھڑی محسوس ہورہی تھی۔ جب طبیعت کو اطمینان نہیں ہوا، تو تقریبا ساڑھے تین بجے رات کو لوک نایک ہسپتال دہلی کے ایمرجنسی وارڈ میں آیا؛ لیکن وہاں موجود ایک لیڈی ڈاکٹر نے مریض کو دیکھنے کے بجائے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم نہیں ہے کہ یہاں ڈاکٹروں کی ہڑتال چل رہی ہے، پھر بھی آپ آگئے۔ مریض کی بگڑتی حالت بتانے اور بے حد اصرار کرنے کے باوجود دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ اصرار کا صرف اتنا سا فائدہ ہوا کہ کھانسی کا سیرپ لکھ کر واپس بھج دیا۔ جمعرات کی صبح ہوتے ہوتے طبیعت میں کافی ٹھہراؤ آچکا تھا، اس لیے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے روز مرہ کے معمولات میں مصروف ہوگیا۔ 16/دسمبر2021 کی سر شام جب آفس واقع دفتر جمعیت علمائے ہند آئی ٹی او نئی دہلی سے رہائش گاہ پہنچا، تو معلوم ہوا کہ طبیعت میں کافی اضمحلال ہے اور کمزوریوں نے جکڑ لیا ہے۔ فورا ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے انجیکشن دے کر اطمینان کا اظہار کیا۔ لیکن جوں جوں رات ہوتی گئی، طبیعت میں بے چینی اور لوز موشن کی تکلیف بڑھتی گئی؛ اس لیے 17/ دسمبر2021کو علیٰ الصباح ہاسپیٹل لے جایا گیا. وہاں علاج شروع ہوا، ڈاکٹر صاحب نے بحال ہوتی صحت کو دیکھ کر گیارہ بجے ڈس چارج کرتے ہوئے کہا کہ اب شام کو واپس آئیے گا۔ چنانچہ والد محترم کو لے کر دفتر جمعیت آئی ٹی او واپس آگیا اور شام ہونے کا انتظار کرنے لگے۔

طبیعت قدرے بہتر تھی، اس لیے سبھی تیمار دار مطمئن تھے۔ جمعہ کا دن تھا، اس لیے نماز جمعہ میں مصروف ہوگیا۔ بعد نماز جمعہ ڈاکٹر مولانا خالد قاسمی گیاوی صاحب نے کہا کہ آکسی میٹر خرید لائیے۔ راقم اسے خریدنے چلا گیا۔ تقریبا آدھے گھنٹے میں لوٹا، تو دیکھا کہ آکسیجن لیول اچانک نیچے آگیا ہے۔ ڈاکٹر محمد یوسف قاسمی صاحب نے کہا کہ آنا فانا ہاسپیٹل لے جانا ہوگا۔ چنانچہ ایمبولینس منگوایا گیا۔ لیکن اسی دوران والد محترم نے آخری سانس لے لی اور ہم لوگوں کو یتیم چھوڑ گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

*بعد وفات*

راقم کو احساس ہوگیا تھا کہ ہاسپیٹل کے لیے نکلتے وقت دفتر جمعیت علمائے ہند ہی میں والد محترم نے دم توڑ دیا تھا؛ لیکن پھر بھی یقینی کیفیت جاننے کے لیے لوک نایک ہاسپیٹل لے جایا گیا، اور رپورٹ نے احساس کی تصدیق کردی۔ وفات کی اطلاع سب سے پہلے قائد جمعیت حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب، صدر جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند، مولانا ضیاء اللہ صاحب قاسمی منیجر الجمعیۃ بک ڈپو، مولانا عظیم اللہ صاحب صدیقی میڈیا انچارج جمعیت علمائے ہند اور دیگر احباب کو دی گئی۔ اسی 17دسمبر2021کو دفتر جمعیت علمائے ہند میں ”امیر الہند رابع نمبر“ کی رسم اجرا کی تقریب تھی، جس میں بڑے بڑے اکابرین موجود تھے۔ وفات کی خبر پاکر کئی اکابر نے تعزیت کا اظہار کیا۔ مولانا رحمت اللہ میرکشمیری صاحب نے ملاقات کرکے تعزیت پیش کی اور دعائے مغفرت پڑھی۔ مولانا مفتی سلمان منصور پوری صاحب دامت برکاتہم نائب امیر الہند تشریف لائے اور یہ حدیث پڑھی کہ

موت غربۃ شھادۃ (ابن ماجۃ، ماجاء فی الجنائز، باب ماجاء فیمن مات غریبا)

غیر وطن میں اچانک موت شہادت کی موت ہوتی ہے۔ اس شہادت پر افسوس کے بجائے فخر کرنا چاہیے۔ اور پھر حوصلہ افزا کلمات پیش کیے۔ تجہیز و تکفین کے بارے میں پوچھا تو ناچیز نے کہا کہ جو آپ حضرات فیصلہ فرمائیں گے۔ اس پر حضرت نے فر مایا کہ لاش کو دور منتقل کرنے پر بے حرمتی ہوتی ہے۔ اس پر مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ تدفین یہی ہوگی۔ اور آج ہی بعد نماز عشا ہوگی۔ چنانچہ بعد نماز مغرب تجہیز کی گئی اور بعد نماز عشا،نائب امیر الہند حضرت مولانا و مفتی سلمان منصورپوری صاحب دامت برکاتہم نے جنازہ کی نماز پڑھائی۔ نماز جنازہ میں علما اور ائمہ کرام کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ دفتر جمعیت علمائے ہند کے تقریبا سبھی احباب شریک رہے اور معا بعد قبرستان اہل اسلام واقع آئی ٹی او میں تدفین عمل میں آئی۔ ان امور کی انجام دہی میں سبھی دفتری احباب نے مکمل تعاون کیا، جس کے لیے راقم دل سے ان کا مشکور ہے۔

*تعزیتی پیغامات*

وفات کی خبر پھیلتے ہی اساتذہ کرام، مشفق احباب اور علما و ائمہ کرام کے فون آنے لگے۔ اور تعزیت کا اظہار کیا۔ کچھ حضرات نے تحریری تعزیت پیش کی۔سب سے پہلے مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے تسلی دی۔ بعد ازاں حضرت مولانا رحمت اللہ میر صاحب کشمیری رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی اور اپنے مدرسہ بانڈی پورہ میں دعائے مغفرت کا اہتمام کرانے کی بات کہی۔ پھر کچھ دیر بعد حضرت مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری صاحب دامت برکاتہم نائب امیر الہند نے تعزیت فرمائی اور حوصلہ آمیز کلمات کہے۔ اور بھی کئی علمائے کرام تشریف لائے اور سب نے ہمدردی کا اظہار فرمایا۔

19/ دسمبر 2021بروز اتوار بعد نماز ظہر قائد جمعیت حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم جمعیت علمائے ہند کے قدیم دفتر واقع الجمعیۃ بلڈنگ بلی ماران تشریف لائے، تو راقم سے تعزیت کا اظہار کیا۔

مختلف اداروں، مدارس اور شخصیات کی طرف سے تحریر ی تعزیت نامے موصول ہوئے، جمعیت علمائے بہار کی طرف سے باقاعدہ لیٹر پیڈ پر تعزیت نامہ بھیجا گیا، طوالت کے خوف سے یہاں صرف اسی ایک کے ذکر پر اکتفا کیا جاتا ہے:

”محترم المقام جناب مولانا محمد یاسین صاحب جہازی زید مجدکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

امید ہے کہ مزاج گرامی بخیرو عافیت ہوں گے۔ والد محترم کی وفات کی خبر سن کر انہتائی رنج اور افسوس ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے والد مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور والدہ محترمہ کو شفائے کلی نصیب فرمائے۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر محترم حضرت مولانا مفتی جاوید اقبال صاحب نے سلام عرض کیا ہے اور تعزیت مسنونہ پیش کرنے کے ساتھ دعائے مغفرت فرمائی ہے۔ ان شاء اللہ جامعہ قاسم العلوم تریپولیہ عالم گنج پٹنہ میں آئندہ کل دعائے مغفرت کا اہتمام کیا جائے گا۔

والسلام

محمد ناظم جنرل سکریٹری جمعیت علمائے بہار و بانی و مہتمم جامعہ قاسم العلوم تریپولیہ عالم گنج پٹنہ“

مولانا قاری عبد الجبار صاحب قاسمی صدر شعبہ خطاطی دارالعلوم دیوبند، مولانا منیر الدین صاحب عثمانی استاذ دارالعلوم دیوبند، ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین صاحب قاسمی لندن، مفتی محمد عفان منصور پوری صاحب استاذ جامع مسجد امروہہ، مولانا عبد المومن صاحب صدر جمعیت علمائے تری پورہ، مولانا شاہنواز صاحب مہتمم جامعہ تعمیر امت کیتھیا، مفتی قمر عالم صاحب استاذ مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی، مولانا محمد صاحب و مولانا اسجد صاحب استاذ مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی، پروفیسر نثار احمد صاحب احمد آباد گجرات، مفتی بنیامین صاحب مہتمم مدرسہ قاسم العلوم تیوڑہ مظفر نگر، مولانا فضل الرحمان صاحب جمعیت علمائے ہند، قاری عبد الغفار صاحب مہتمم مدرسہ بیت العلوم جعفرآباد، مولانا داود صاحب امینی مہتمم مدرسہ باب العلوم جعفرآباد، مولانا جاوید قاسمی صدیقی صاحب نائب صدر دینی تعلیمی بورڈ صوبہ دہلی، قاری عبد السمیع صاحب قاسمی جنرل سکریٹری دینی تعلیمی بورڈ صوبہ دہلی، اور بھی دیگر حضرات نے بذریعہ فون اور ملاقات تعزیت پیش کی۔ ان کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ریاستی، ضلعی اور مقامی جمعیت علماکے صدور و نظما، عہدیدران اور سماجی و سیاسی شخصیات نے بھی تعزیت کے اظہار کیے، اور حوصلہ بندھایا، دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کا اہتمام کیا۔ راقم ان تمام حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے۔

راقم نے اب تک سیکڑوں افراد کی خبر وفات لکھی ہوگی، لیکن محرومی کا اصل احساس اور شدت غم کی انتہا کیا ہوتی ہے، اس کا اندازہ اس حادثہ سے دوچار ہونے کے بعد ہی ہوا۔ میں اپنوں کے درمیان بڑے بڑے حادثات کو مسکرا کر جھیلنے اور چہر ے پر شکن تک نہ آنے دینے کے لیے ایک شناخت رکھتا ہوں، لیکن اس موقع پر میری یہ شناخت شکست کا شکار ہوگئی۔آنکھوں نے میرے ضبط سے بغاوت کرلی۔ حوصلوں نے پژمردگی کا لبادہ اوڑھ لیا۔ دل نے آنسوں کے بندھ توڑ ڈالے۔ جگر پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوگیا۔ذہن و فکرنے غموں کے دامن میں پناہ ڈھونڈھنے میں عافیت محسوس کی اور مکمل وجود ایک لاشہ بے جان بن گیا۔
یہ کون چل بسا یہاں

نسیم مشکبار بھی کیوں آج سوگوار ہے
یہ کون چل بسا یہاں ہر آنکھ اشکبار ہے

نسیم صبح کہ گئ دلوں پہ برق پڑ گئ
چراغ تھا جو بجھ گیا وہ انجمن اجڑ گئ
وہ مہوشوں کی ٹولیاں وہ بزم جاں بچھڑگئ
فسردہ نظم ہی نہیں غزل بھی بے قرار ہے

یہ کون چل بسا یہاں ہر آنکھ اشکبار ہے

یہاں چمن میں بلبلیں تڑپ رہی ہیں دیکھ لو
ہیں تتلیاں بھی دم بخود بجھی کلی ہیں دیکھ لو
غموں سے چورچور قطرے شبنمی بھی دیکھ لو
کلیجہ غم سے پھٹ گیا یہ دل بھی اب فگار ہے

یہ کون چل بسا یہاں ہر آنکھ اشکبار ہے

وہ شفقتیں عنایتیں ہمیں رلا رہی ہیں اب
وہ انکی نیک صحبتیں ہمیں رلا رہی ہیں اب
وہ خصلتیں وہ عادتیں ہمیں رلا رہی ہیں اب
وہ فخر ِ گل نہیں رہا نہ رونق بہار۔۔۔۔۔۔ ہے

یہ کون چل بسا یہاں ہر آنکھ اشکبار ہے
(ثمر یاب ثمر)
قبر محمد مظفر حسین
آج بھی جب یہ حادثہ یاد آتا ہے،تو غموں کے بادل چھاجاتے ہیں اور قبر پر حاضری کے بعد ہی کچھ سکون میسر آتا ہے۔ بس اس تجربے کے بعد یہی عرض کرسکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سبھی کے والدین کو باعافیت سلامت رکھے اور جن کے والدین وفات پاچکے ہیں، انھیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور خود کے لیے آپ سے اسی دعا کا خواستگار ہوں۔ جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزا۔

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: