مضامین

یوم تاسیس جمعیت علمائے ہند : بھارت کی آزادی، جمہوریت اور ملت مسلمہ کے لیے سنہری انقلابی دن

محمد یاسین جہازی معتمد مرکز دعوت اسلام جمعیت علمائے ہند

یوم تاسیس جمعیت علمائے ہند : بھارت کی آزادی، جمہوریت اور ملت مسلمہ کے لیے سنہری انقلابی دن
محمد یاسین جہازی معتمد مرکز دعوت اسلام جمعیت علمائے ہند
9891737350

آج 23 نومبر 2022 کو جمعیت علمائےہند کی عمر 103 سال مکمل ہوگئی ہے۔ جمعیت نے اس طویل سفر میں، بھارت کی آزادی، آزاد بھارت میں جمہوریت کیا قیام و استحکام ،ملت اسلامیہ کے مسائل کے حل اور اسلامی شعائر کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اس کا یہ سفر جاری ہے۔یوم تاسیس کی مناسبت سے ذیل کی تحریر میں تاسیس کا مستند واقعہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پس منظر
چوں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت پورا عرب ترکوں کے زیر حکومت تھا، اس لیے عالم اسلام کی نگاہوں میں ترکی حکومت کو”حکومت اسلامیہ“ اور اس کے خلیفہ کو”خلیفۃ المسلمین“کہاجاتاتھا۔ پہلی جنگ عظیم (28/ جولائی 1914ء، 11/ نومبر 1918ء) میں ترکی نے برطانیہ کے خلاف جرمنی کا ساتھ دیا تھا۔ جنگ میں ترکی کے شامل ہونے کی وجہ سے بھارتی مسلمانوں کو تشویش ہوئی کہ اگر برطانیہ کامیاب ہو گیا، تو ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے بھارتی مسلمانوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم لائیڈ جارج (David Lioyd George) سے وعدہ لیا کہ جنگ کے دوران مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی بے حرمتی نہیں کی جائے گی اور جنگ کے بعد مسلمانوں کی خلافت محفوظ رہے گی؛ لیکن برطانیہ نے فتح ملنے کے بعد وعدہ خلافی کرتے ہوئے، ترکی حکومت کے کئی حصے کردیے۔چنانچہ 10/ اگست 1919ء کو ترکی اور دول متحدہ کے درمیان معاہدہ سیورے ہوا، جس کی رو سے:
”اس عہد نامے کی رو سے ترکی پر بھاری تاوان جنگ ڈالا گیا تھا اور اس کی وصولی کے لیے ترکی کے ذرائع آمدنی کو اپنے قبضے میں لینا طے کرلیا گیا تھا۔ اور ترکی کے علاقوں پر اس طرح قبضہ طے کیا گیا کہ عراق، فلسطین اور شرق اردن برطانیہ کی عمل داری میں چلے گئے۔ شام و لبنان پر فرانس کا قبضہ مان لیا گیا۔ شریف مکہ حسین کو -جس نے ترکوں کے خلاف بغاوت کرکے اتحادیوں کی مدد کی تھی- یہ انعام دیا گیا کہ اسے حجاز کا بادشاہ تسلیم کرلیا گیا۔ اس کے بیٹے امیر فیصل کو عراق کا کٹھ پتلی حکمران بنادیا گیا۔“ (تاریخ اقوام عالم: مرتضی احمد خان لاہور، 1963۔ بحوالہ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم، ص/78)
انگریزوں کی اس بد عہدی نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو غم و غصہ سے بھر دیا،جس کے نتیجے میں ”تحریک خلافت“ میں شدت آگئی۔
”آل انڈیا مسلم کانفرنس لکھنو (18/ ستمبر1919ء) کے بعد وزیر اعظم برطانیہ لائڈ جارج نے لارڈ میر کی دعوت میں ایک دل خراش تقریر کی، جس سے یہ اندازہ ہوا کہ وزیر اعظم سلطنت برطانیہ اب اپنے اور حکومت برطانیہ کے وعدوں سے انحراف کرنے والے ہیں۔ اس تقریر نے مسلمانوں میں بہت جوش بھر دیا اور فورا 23/ نومبر 1919ء کو خلافت کانفرنس کا ایک جلسہ دلی میں بڑی دھوم دھام سے مسٹر فضل الحق (بنگال) کی صدارت میں منعقد ہوا۔“ (تحریک خلافت: قاضی محمد عدیل عباسی، ص/102)
تحریک خلافت کا یہ اجلاس”آل انڈیا خلافت کانفرنس“ کے نام سے بروز اتوار، 23/ نومبر1919ء کرشنا تھیٹر، پتھر والا کنواں دہلی میں ہوا، جس میں بھارت کے کونے کونے سے مختلف مسلک و مشرب کے علمائے کرام نے شرکت کی۔
حلفیہ خفیہ میٹنگ:23/ نومبر1919ء
مطابق:30/ صفر المظفر1338ھ۔ بروز اتوار، بعد نماز فجر۔
بمقام: درگاہ حسن رسول نما، پچ کوئیاں روڈ نئی دہلی۔
علمائے کرام کے باہمی مسلکی اختلافات،عالمی منظر نامے اور خود غلام بھارت کے پر آشوب حالات نے انھیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اگر ہم یوں ہی عقیدے اور فرقے کے نام پر بٹے رہے اورایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہوئے، تومستقبل کے ہندستان میں نہ تو اسلام محفوظ رہ پائے گا اور نہ ہی مسلمان زندہ رہ پائیں گے۔ چنانچہ اس فکراتحاد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حضرت مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے مولانا احمد سعید صاحب کو اورمولانا عبد الباری فرنگی محلیؒ نے مولانا آزاد سبحانی صاحبؒ کو حکم دیا کہ خلافت کانفرنس میں تشریف لائے علمائے کرام کی قیام گاہوں پر جاکر فردا فردا ملاقات کریں اوربڑی راز داری کے ساتھ انھیں ایک تنظیم کی نیو رکھنے کی دعوت دیں۔
”چنانچہ آپ (مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ) نے خلافت کانفرنس کے دوران میں علما کے ساتھ اس قسم کے مذاکرات شروع کردیے۔ …… طے پایا کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد صرف علما کو بلایا جائے۔ چنانچہ مفتی اعظم ؒ کی ہدایت کے مطابق مولانا احمد سعید اور مولانا آزاد سبحانی نے تمام علما کی قیام گاہوں پر جاکر چپکے چپکے سب کو بلاوا دے دیا۔ خطرہ یہ تھا کہ حکومت برطانیہ علما کو کسی ایک مرکز پر جمع نہ ہونے دے گی، اس لیے اس سلسلہ میں ہر قسم کی قربانی پیش کرنے اور مصیبت کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہوجانا اور ملی رہنمائی کے لیے اختلاف عقائد کو نظر انداز کرکے ایک مرکز پر جمع ہونا بڑی مشکل بات تھی۔
میٹنگ جس روز ہونے والی تھی، اس روز صبح کو بعد نما زفجر بہت سے علما درگاہ سید حسن رسول نما رحمۃ اللہ علیہ میں حاضر ہوئے اور دہلی کے اس مقدس بزرگ کے مزار کے قریب حاضر ہوکر یہ قول و قرار کیا کہ……۔“(مختصر تاریخ مدرسہ امینیہ اسلامیہ شہر دلی، ص/43-44۔ جمعیت علما پر ایک تاریخی تبصرہ، ص/50-53)
حکومت برطانیہ چوں کہ علما پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے تھی، اس لیے خطرہ تھا کہ اگر کہیں انگریزوں کو بھنک بھی پڑ گئی، تو علما پر حکومت کے قہر و جبر کی قیامت ٹوٹ پڑے گی، اس لیے 23/ نومبر1919 بروز اتوار بعد نماز فجرپچ کوئیاں روڈ دہلی میں واقع سید حسن رسول نما کے مزار پرحاضر ہوکر سب نے رازداری کا حلف لیتے ہوئے یہ عہد لیا کہ
”ہم سب دہلی کے مشہور ومقدس بزرگ کے مزار کے سامنے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر یہ عہد کرتے ہیں کہ مشترک قومی و ملی مسائل میں ہم سب آپس میں متحد ومتفق رہیں گے اور فروعی و اختلافی مسائل کی وجہ سے اپنے درمیان کوئی اختلاف پیدا نہیں کریں گے، نیز قومی و ملکی جدوجہد کے سلسلے میں گورنمنٹ کی طرف سے جو سختی اور تشدد ہوگا، اس کو صبرو رضا کے ساتھ برداشت کریں گے اور ثابت قدم رہیں گے۔ جماعت کے معاملہ میں پوری پوری رازداری اورامانت سے کام لیں گے۔
(تحریک خلافت، ص/40: قاضی محمد عدیل عباسی)
مولانا حفیظ الرحمان صاحب اس خفیہ میٹنگ کی تفصیل بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
”کانفرنس کے اختتام پر چند مخصوص علما کا خفیہ اجتماع بوقت صبح دہلی کے مشہور بزرگ سید حسن رسول نماؒ کی درگاہ پر مولانا عبد الباری فرنگی محلیؒ کے زیر قیادت منعقد ہوا۔ تمام حاضرین نے جن کی تعداد دس بارہ (12) سے زائد نہ تھی، جمعیت کے قیام سے اتفاق کیا۔ جلسہ کا آغاز مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسریؒ کی تحریک اور مولانا منیر الزماں اسلام آبادی وغیرہ کی تائید سے ہوا۔“ (جمعیت علمائے ہند پر ایک تاریخی تبصرہ، ص/44)
تاریخ تاسیس:23/ نومبر1919ء
مطابق:30/ صفر 1338ھ، بروز اتوار، بعد نماز عشا(یکم ربیع الاول1338)
بمقام: کرشنا تھیٹر ہال،پتھر والا کنواں نئی دہلی۔
صدارت: مولانا عبدالباری فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ۔
”اسی روز (23/ نومبر1919ء) بعد نماز عشا میٹنگ ہوئی اور جمعیت علمائے ہند کا انعقاد عمل میں آیا۔“ (مختصر تاریخ مدرسہ امینیہ اسلامیہ ص/45)
”جمعیت علمائے ہند کے متعلق اہم معلومات: کیا آپ جانتے ہیں:(۱) کہ جمعیت علمائے ہند کا قیام، 23/ نومبر 1919ء کو عمل میں آیا تھا۔“ (روزنامہ الجمعیۃ دہلی، مورخہ 27/ نومبر 1948)
”جمعیت علما کا قیام اور مقاصد: اس جماعت کی بنیاد اس وقت قائم ہوئی، جب کہ 23/ نومبر1919کو خلافت کانفرنس کا پہلا اجلاس دہلی میں منعقد ہورہا تھا۔ اس میں جشن صلح میں شرکت کے خلاف ایک فتویٰ مرتب کیا گیا، جس پر علمائے کرام کے دستخط ہوئے۔ اسی وقت ایک جلسہ شوریٰ منعقد کیا گیا، جس میں طے ہوا کہ صرف مشترکہ مذہبی و سیاسی امور میں علمائے کرام، عامہ اہل اسلام کی راہ نمائی کا فرض ادا کریں اور حاضرین کی اتفاق رائے سے قرار پایا کہ ”جمعیت علمائے ہند“ قائم کی جائے۔“ (مسلمانوں کا روشن مستقبل، سید طفیل احمد منگلوری علیگ، سن اشاعت 1937ء)
جو علمائے کرام فروعی اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے سے اس قدر دور ہوگئے تھے کہ ایک دوسرے کی تکفیر کرتے نہیں تھکتے تھے؛ حلف راز داری کے بعد اسی روز، یعنی23/ نومبر1919ء مطابق 30/ صفر المظفر1338 بروز اتوار بعد نماز عشا کرشنا تھیٹر ہال میں ایک ساتھ ایک دل اور ایک جان ہوکر بیٹھے اور پوری قوت کے ساتھ میدان عمل میں آنے کا فیصلہ کیا۔ اس میٹنگ کی مکمل روداد”مختصر حالات انعقاد جمعیت علمائے ہند“ کے نام سے چھپی ہوئی ہے، جو درج ذیل ہے:
انعقاد جمعیت علمائے ہند بمقام دہلی
”نومبر1919ء کی آخری تاریخوں میں خلافت کانفرنس کے جلسہ کی تقریب سے تمام اقطار ہند کے علما کی ایک معتد بہ جماعت دہلی میں جمع ہوگئی تھی۔ خلافت کانفرنس کے اجلاسوں سے فارغ ہونے کے بعد تمام علمائے موجودین نے ایک جلسہ منعقد کیا، جس میں صرف حضرات علماہی شریک ہوئے۔ مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ صاحب کی تحریک اور مولانا منیر الزماں صاحب و دیگر حاضرین کی تائید سے جناب فاضل علامہ حضرت مولانا مولوی محمد عبد الباری صاحب اس جلسہ کے صدر قرار پائے اور مولانا کی اجازت سے حسب ذیل کار روائی شروع ہوئی:
جشن صلح جمعیت علمائے ہند کے متعلق مذہبی نقطہئ نظر سے بحث مباحثہ کے بعد متفقہ طور پر وہ فتویٰ مرتب کیا گیا، جو انجمن اشاعت اختلافِ جشن صلح دہلی کی طرف سے طبع ہوکر شائع ہوچکا ہے۔ تمام علمائے حاضرین جلسہ نے بلااختلاف اس پر اپنے اپنے دستخط فرما دیے اور اس اجتماعی حکم کا جو اثر اہل ملک پر ہونا چاہیے تھا، وہ خدا کے فضل وکرم سے بخوبی ظاہر و روشن ہوگیا۔
اِسی جلسہ میں یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ ہندستان کے مختلف گروہوں اور مختلف اقوام کی متحدہ انجمنیں قائم ہوچکی ہیں اور ہوتی جاتی ہیں، جو متفقہ کوشش اور قوتِ اتحادی سے بہت کچھ ملک و قوم کی خدمت کرتی ہیں۔ اور اتفاق و اتحاد کی برکات سے خود بھی متمتع ہوتی ہیں اور قوم کو بھی فائدہ پہنچاتی ہیں۔ لیکن آج تک علمائے ہند کی کوئی متفقہ جماعت،یا انجمن قائم نہیں ہوئی اور بعض انجمنوں نے اس کی کوشش بھی کی، تو وہ کچھ زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔ کیوں کہ خیالات کا اختلاف اول تو انسان کی طبعی بات ہے۔ دوسرے مذہبی طبقہ میں اختلاف چوں کہ مذہبی رنگ پکڑ جاتا ہے، اس لیے اس کا دفعیہ اور زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔ مثلاً کسی غیر مذہبی گروہ کے افراد میں اگر اختلاف ہو، تو فریق مغلوب اگرچہ اپنے خیال کو صحیح بھی سمجھتا رہے؛ لیکن بوجہ اس کے کہ اس کے خلاف کثرت رائے سے فیصلہ ہوگیا ہے، وہ بغیر کسی پس و پیش کے اس فیصلہ پر عمل کرسکتا ہے۔ لیکن مذہبی گروہ میں اگر ایسا اختلاف ہو، تو فریق مغلوب سوائے ایسی صورت کے کہ اس کو اپنے خیال اور رائے کی غلطی کا یقین ہوجائے، کسی صورت میں اپنے اعتقاد ویقین کے خلاف عمل کو جائز نہیں سمجھتا۔ اگرچہ اس کے اعتقاد کے خلاف کتنی ہی زیادہ تعداد کے لوگ رائے دیتے ہوں۔ یہ ایک ایسا مرحلہ تھا کہ اس کا حل کوئی آسان کام نہیں تھا۔
تاہم بحث و مباحثہ کے بعد تمام علمائے حاضرین نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ علما کی جماعت بھی ایسے امور میں -جو تقریباً تمام مذہبی فرقوں میں متفق علیہ ہیں – متفقہ طور پر شریک ہوکر کام کرسکتی ہے اور باقتضائے زمانہ اسی صورت سے مذہبی وقار اور علمی شوکت قائم رہ سکتی ہے کہ علما اپنی ایک مضبوط اور مقتدر جمعیت قائم کریں اور صرف مشترکہ مذہبی و سیاسی امور میں علامہ اہل اسلام کی رہنمائی کا فرض ادا کریں۔ اُن کی آواز اسی وقت باوقعت آواز ہوگی، جب کہ وہ ایک باقاعدہ و منتظم جماعت کی طرف سے بلند ہو۔ اور اُن کی تعلیم و رہنمائی کی تکمیل اسی صورت سے ہوسکتی ہے کہ یہ اُسے اتفاق و اتحاد کی قوت سے مؤثر بنائیں۔
نام
یہ ایسے امور تھے کہ ان کی معقولیت میں کسی کو کلام کرنے کی گنجائش نہ تھی؛ اس لیے تمام حاضرین جلسہ نے بہ اتفاق طے کرلیا کہ ایک جمعیت قائم کی جائے اور اس کا نام ”جمعیت علمائے ہند“ رکھا جائے۔ اس کے حلقہ کو تمام ہندستان کے لیے وسیع کرلیا جائے اور ہر گوشہئ ملک سے اس کے ارکان و اعضا بہم پہنچائے جائیں اور عامہئ اہل اسلام کی فلاح و بہبود کے ذرائع و وسائل پر غور کر کے سچی مذہبی خیر خواہی اور ہمدردی کے ساتھ ان کی رہنمائی کی جائے۔
چنانچہ اسی وقت تمام حاضرین نے جمعیت کی رکنیت منظور فرمائی اور جمعیت علمائے ہند قائم ہوگئی۔ اور قرار پایا کہ آئندہ دسمبر کی آخری تاریخوں میں مسلم لیگ کے اجلاس امرتسر میں ہونے والے ہیں اور مسئلہئ خلافت و مسائل ٹرکی پر بحث کرنے کے خیال سے علمائے اسلام کی ایک معقول تعداد وہاں جمع ہوگی۔ اس لیے مناسب ہے کہ اس موقع پر جمعیت علمائے ہند کا جلسہ بھی کیا جائے اور ابتدائی مراحل طے کرلیے جائیں۔ مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری و مولوی سید محمد داؤد صاحب نے جمعیت علمائے ہند کے موجودہ اراکین کو امرتسر میں تشریف لانے کے لیے اسی وقت دعوت دے دی اور بالاتفاق طے ہوگیا کہ جمعیت کا جلسہ آئندہ دسمبر میں بمقام امرتسر منعقد ہوگا۔
عارضی صدر وناظم کا انتخاب
مولانا ابو الوفاء ثنا اللہ صاحب نے تحریک کی کہ جمعیت علمائے ہند کے لیے بالفعل کوئی عارضی صدر اور عارضی ناظم مقرر کرلیا جائے تاکہ امور ضروریہ کے انصرام کی ایک آسان سبیل میسر ہوجائے اور صدارت کے لیے میں مولانا مولوی محمد کفایت اللہ صاحب کا نام اور نظامت کے لیے مولانا حافظ احمد سعید صاحب کا نام پیش کرتا ہوں۔ اگرچہ مولانا مولوی محمد کفایت اللہ صاحب نے قبول صدارت سے بہت کچھ عذر کیا؛ لیکن حضرات حاضرین نے اس تحریک کو- جس کی تائید مولانا سلامت اللہ صاحب و مولانا مظہر الدین صاحب و مولانا محمد اکرم خاں صاحب و دیگر علما کرچکے تھے -منظور کردیا اور بالآخر مولانا کو بھی منظور کرنا پڑا۔ اور مولانا حافظ احمد سعید صاحب نے بھی نظامت قبول فرمائی۔ اس کے بعد باتفاق حاضرین مولانا محمد اکرم خاں صاحب ایڈیٹر اخبار محمدی و مولانا محمد کفایت اللہ صاحب اس کام کے لیے منتخب کیے گئے کہ جمعیت کے مقاصد و ضوابط کا مسودہ تیار کریں اور جمعیت کے آئندہ دسمبر میں منعقد ہونے والے جلسہ میں بمقام امرتسر پیش کریں۔ اس کے بعد دعائے خیر و برکت پر جلسہ برخاست ہوا۔
بانیان جمعیت
دہلی کے اس جلسہ میں علمائے ذیل موجود تھے:
1۔ مولانا عبد الباری صاحب۔
2۔مولانا سلامت اللہ صاحب۔
3 ۔مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ صاحب۔
4 ۔حضرت پیر محمد امام صاحب سندھی۔
5 ۔مولانا اسد اللہ صاحب سندھی۔
6 ۔مولانا سید محمد فاخر صاحب۔
7 ۔مولانا مولوی محمد انیس صاحب۔
8 ۔مولانا خواجہ غلام نظام الدین صاحب۔
9 ۔مولانا محمد کفایت اللہ صاحب۔
10۔مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی۔
11۔مولانا حافظ احمد سعید صاحب دہلوی۔
12۔مولانا سید کمال الدین صاحب۔
13۔مولانا قدیر بخش صاحب۔
14۔مولانا تاج محمد صاحب۔
15۔مولانا محمد ابراہیم صاحب دربھنگہ۔
16۔مولانا خدا بخش صاحب مظفر پوری۔
17۔مولانا مولا بخش صاحب امرتسری۔
18۔مولانا عبد الحکیم صاحب گیاوی۔
19۔مولانا محمد اکرم صاحب۔
20۔مولانا منیر الزماں صاحب۔
21۔مولانا محمد صادق صاحب۔
22۔مولانا سید محمد داؤد صاحب۔
23۔مولاناسید محمد اسمٰعیل صاحب۔
24۔مولانا محمد عبد اللہ صاحب۔
25۔مولانا آزاد سبحانی صاحب۔
(مختصر حالات انعقاد جمعیت علمائے ہند، ص2-5)
26۔ مولانا مظہر الدین صاحب۔
گرچہ مختصر حالات انعقاد جمعیت علمائے ہند کی اس فہرست میں مولانا مظہر الدین صاحب کا نام شامل نہیں ہے، لیکن اوپر(عارضی صدر وناظم کا انتخاب) کارروائی میں مولانا کا نام درج ہے، جو اس بات کی یقینی شہادت ہے کہ مولانا تاسیسی میٹنگ میں موجود تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: