مضامین

یوم جمہوریہ کو مخصوص احتجاجی تقریبات منعقد کیے جائیں

مفتی فداءالمصطفی قادری مصباحی

سی اےاے سے متعلق احتجاج کے طول پکڑنے سے حکومت پوری طرح بوکھلاہٹ کا شکارہوگئی ہے جس کے نتیجے میں ہرطرف ریلیاں کرائی جارہی ہیں، پرچے بانٹے جارہے ہیں مگر یہ آگ ہے کہ سرد ہونے کا نام ہی نہیں لےرہی ہے بلکہ آئے دن کچھ نت نئے انداز میں اس کے جلوے نظر آرہے ہیں، نئی نئی احتجاج گاہیں بن رہی ہیں، شہر شہر نئے نئے شاہین باغوں کی خوشبو محسوس کی جارہی ہے۔

*آفاق میں پھیلے گی کب تک نہ مہک تیری*
*گھر گھر لیے پھرتی ہے پیغام صبا تیرا*

آج 25 جنوری ہے اور کل 26 جنوری یعنی یوم جمہوریہ اور ہندوستانی دستور کا یوم تاسیس ہے ۔ یہ دن ہمارے ملک میں ایک تاریخی دن شمار ہوتاہے اب ہمیں بھی چاہیے کہ اس تاریخی دن میں تاریخی احتجاج درج کرائیں، اس دن کا احتجاج کچھ ایسے انداز کا ہو *جو اس دن کی سب سے بڑی سرخی اور ہمیشہ کے لیے یادگار بن جائے ،* مگر شرط یہ ہے کہ پرامن ہو۔

*قانون کی حفاظت*
26 جنوری کو چونکہ ہمارے ملک کا دستور تیار ہوا تھا اسی لیے اس دن کے احتجاج میں دستوری رنگ غالب ہوناچاہیے اور اس سے یہ پیغام جانا چاہیے کہ ہم *آج کے دن دستور ہند کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں، چاہے وہ بیرونی دہشت گردی سے ہو یا پھر اندرون شر پسند عناصر سے* اور خاص کر سی اےاے،این آرسی، این پی آر جیسی دستور مخالف سازشوں سے۔
اس دن اسکول اور کالج کے طلبہ مخصوص انداز میں اپنا اپنا احتجاج درج کروائیں اس کے لیے ایک تو یہ طریقہ ہو کہ طلبہ اپنے سروں پر پٹی باندھیں جس پر لکھا ہو
CAA is Against Indian constitution……. Save Constitution Save India
اس طرح کی تختیاں اور بورڈ بھی بنائے جائیں جو طلبہ کے ہاتھ میں ہوں، مذکورہ عبات پر مشتمل بینر، کیپ اور ٹی شرٹ وغیرہ بھی پرینٹ کرائے جائیں۔

*ایک بورڈ ایسا بھی ہو*
اِحتجاج گاہوں کالجز اور یونیورسٹیوں میں بطور احتجاج ایسے بورڈ اور فلیکس بنائے جائیں جن کے بیچ وبیچ *ایک بڑی سی کتاب کی تصویر ہو اور اس پر دستور ہند ، بھارت کا سوِّدھان یا Indian Constitution لکھا ہوا ہو اور اس کی چارو اُور لوگوں کا ایک مجمع ہو جن کے ہاتھوں میں تلوار بھالے وغیرہ ہوں اور وہ ان سے اس کتاب پر حملہ آور ہورہے ہوں مگر کتاب سے متصل لوگوں کا ایک حلقہ اور ہو جو کتاب پر ہونے والے حملے کو اپنی پیٹھ، پیٹ، گردن وغیرہ پر لے رہا ہو* ۔ حملہ آور جماعت پر BJP اور RSS، ہتھیاروں پر CAA, NRC, NPR اور حملہ روکنے والوں پر Indian People لکھا جائے۔ یہ ایک خاموش اور نہایت ہی پر اثر احتجاج ثابت ہوگا اگر اس طرح کا عکس و نقش وائرل ہوا تو حکومت کی بوکھلاہٹ میں دوگنا اضافہ ہوجائےگا اور ساتھ ہی *بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام جائے گا کہ ہندوستانی عوام کی لڑائی دستور ہند کی حفاظت کے لیے ہے جبکہ بی جے پی اور آر ایس ایس اس دستور کو مٹانا چاہتے ہیں۔*

*طلبہ پر حملے*
کچھ بورڈ ایسے بھی بنائے جائیں جن سے *جامعہ ملیہ، علی گڑھ اور جے این یو کے طلبہ پر مودی پولیس اور نقاب پوش غنڈوں کے ذریعے کیے گیے حملوں کی عکاسی ہورہی ہو،* خاص کر لائبریری میں پولیس کی بربریت ضرور دیکھائی جائے۔ ان سب کے ساتھ ہی یوپی پولیس کی غنڈہ کردی اور مسلمانوں پر ہوئے مظالم کا بھی عکس بنایا جانا چاہیے۔

*شہیدوں کے نام*
اس احتجاجی تحریک میں اب تک جتنے لوگ بھی شہید ہوئے ہیں ان کے نام کی فہرست پر مشتمل بینر بنائے جائیں جن کے اوپر لکھا ہو۔
*یہ وہ لوگ ہیں جو ہندوستانی دستور کی حفاظت کے لیے شہید ہوئے۔*

These are the people who were martyred while protecting Indian Constitution

*کچھ ڈرامے بھی ہوں*
جامعہ ملیہ کے حملے کے بعد جس طرح وہاں کے طلبہ نے اسے ایک ڈرامے کی شکل میں دیکھایا تھا اسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جے این یو، جامعہ ملیہ اور یوپی میں پولیس کی دہشت گردی پر مشتمل کچھ ڈرامے کرائے جائیں اور ان کی خوب تشہیر ہو، یوٹیوب اور فیس بک پر لائیبھ چلائے جائیں بلکہ کچھ میڈیا والوں کو بلاکر اسے لائیبھ دیکھانے کی درخواست کی جائے ورنہ کم از کم میڈیا میں ان کی ایک اچھی سے رپورٹنگ ضرور ہو۔

یہ وہ حربے ہیں جنہیں اگر صحیح طور پر استعمال کیا گیا تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے۔ لھذا تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ ان طریقوں کو ضرور اپنائیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: