مضامین

یونانی کےساتھ سوتیلا سلوک !

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

یونانی کےساتھ سوتیلا سلوک !
مودی حکومت کی مسلم دشمنی کا ایک اور ثبوت، کیا طبِ یونانی کو چالاکی سے ختم کیا جارہاہے؟
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3701032993454244&id=100006427384294
معاملہ کیا ہے؟
آیوروید اور یونانی ہندوستان کا قدیم اور آزمودہ طریقہ علاج ہے، اب تک آیوروید اور یونانی دونوں انڈین میڈیکل کونسل ایکٹ 1970 (IMCA1970) کے تحت بنائے گئے سینٹرل کونسل آف انڈین میڈیسن یعنی(CCIM) کے تحت آتے تھے – جس میں دونوں پیتھی کو مساوی حقوق حاصل تھے – لیکن مودی سرکار نے گیارہ جون 2021 کو جاری کئے گئے اپنے ایک گیزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے CCIM کے خاتمے کا اعلان کردیا ہے اور اس کی جگہ نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن NCISM بنا کر اس کی صدارت پر ناگپور کے وید جینت دیو پجاری کا انتخاب کر دیا ہے جن کا تعلق آیوروید سے ہے –
نیشنل NCISM کے سیکشن 18 کے سب سیکشن 1 کے تحت آیوروید اور ھومیوپیتھ کے لئے دو الگ الگ AUTONOMOUS BOARD ترتیب دئیے گئے ہیں جن کی صدارت متعلقہ پیتھی سے تعلق رکھنے والے افراد کو دی گئی ہے لیکن یونانی کے ساتھ سدھا اور ریگپا نامی دو علاقائی پیتھیز Regional pathy کو ملا کر بنائے گئے بورڈ کی صدارت سدھا کے جگن ناتھن کو سونپ دی گئی ہے، جوکہ برہمن وادی سَنگھی ہے-
اول تو یونانی جیسی عالمی پیتھی کے لئے آیوروید اور ھومیوپیتھ کی طرز پر علیحدہ بورڈ بنانا چاہیے تھا یا کم از کم جو بورڈ بنایا گیا ہے اس کی صدارت کا عہدہ یونانی کے کسی فرد کو سونپنا چاہیے تھا کیونکہ آج پورے ملک میں یونانی کے 70 کے قریب کالجز ہیں جبکہ سدھا کے صرف 12 اور ریگپا کے 3 کالجز ہیں تو اصولاً بھی اس عہدہ صدارت کا حق یونانی کا بنتا تھا لیکن نریندرمودی کی قیادت میں آر۔ایس۔ایس نے یہاں بھی بڑی بےشرمی سے برہمنی بالادستی والے بھارت کا ایجنڈا نافذکرنے کا آغاز کردیا، ہر لحاظ سے یونانی کی نمائندگی اور خدمات ایسی ہیں کہ وہ یا تو بورڈ کا صدر رہے یا اس کا مستقل بورڈ بنے، لیکن حکومت نے آیوروید کی ناقص نمائندگی کےباوجود انہیں بالادست کرنے کی کوشش کی ہے، کیونکہ یونانی کا ٹچ فارسی اردو سے بھی ہے جوکہ اس کے مسلمانی کلچر سے وابستگی کو ظاہر کرتاہے، اس معاملے میں یونانی کے ساتھ جو ناانصافی کی ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے بلکہ اس کےخلاف آواز اٹھانا لازمی ہے، یعنی اب ہمارے یونانی ڈاکٹرز کو براہ راست آر ایس ایس کا ماتحت بنانے کی کوشش ہے، یہ کتنی گھٹیا حرکت ہے ہندوتوا وادی طاقتوں کی ۔
البتہ خوشی کی بات یہ ہے کہ یونانی ڈاکٹرز نے اس فیصلے کے خلاف اپنی آواز پر زور طریقے سے بلند کی ہے جس کی شروعات ایک ٹیوٹر ٹرینڈ
#Save_Unani_NCISM
کے ذریعے کی گئی جس نے ملکی سطح پر اول مقام بنایا اس ٹرینڈ میں یونانی ڈاکٹرز کے ساتھ راقم نے بھی حصہ لیا
ٹیوٹر ٹرینڈ کی کامیابی کے بعد آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے بلڈانہ ضلعی صدر اور ہمارے دوست ڈاکٹر شاکر خان نے بلڈانہ کے ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر ایک میمورنڈم کے ذریعے اپنی بات حکومت تک پہنچانے کی کوشش کی جس کے بعد بھیونڈی، آکولہ، آگرہ، امراوتی، الٰہ باد سمیت دیگر علاقوں میں بھی احتجاجی میمورنڈم کے ذریعے یونانی ڈاکٹرز نے اپنی بات حکومت تک پہنچانے کی کوشش کی ہے – جس طرح کرونا کے وقت یونانی ڈاکٹرز نے ملک و قوم کی جو لازوال خدمات انجام دی ہیں وہ یقیناً قابلِ تعریف ہے کیونکہ مسلم ڈاکٹرز میں 95 فیصد کے قریب یونانی ڈاکٹرز ہی ہیں، اور یہی وجہ ہےکہ یہ انڈسٹری ہمیشہ سے آر۔ایس۔ایس کو ناپسند تھی، اور ملک بھر میں ہر وہ انڈسٹری جوکہ مسلم اثرات سے بھرپور ہوگی وہاں پر مودی سرکار یہی کھیل کھیلتی ہے، اور اس دفعہ تو پوری ایک انڈسٹری کو ہی الٹ پلٹ کے رکھ دینے کا برہمنی فرمان جاری ہواہے-
اسی لئے ضروری ہے کہ اس وقت مسلم سیاسی قائدین اس مسئلے پر غور کریں اور یونانی کو انصاف دلانے کی جو جدوجہد یونانی ڈاکٹرز کر رہے ہیں ان کا بھرپور ساتھ دیں –
سماجوادی پارٹی بھیونڈی کے ایم۔ایل۔اے رئیس شیخ صاحب کو بھی مبارکباد پیش کروں گا جنہوں نے مہاراشٹر اسمبلی میں یونانی ڈاکٹرز کے مسائل کو بڑی خوش اسلوبی سے رکھا اور ساتھ ہی یونانی کو انصاف دلانے کی ہر جدوجہد میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا –
یاد رکھیے کہ اگر آر ایس ایس یونانی کو سبوتاژ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ ایک علم پر ظلم ہوگا، ایک عوامی استفادے کی تکنیک کا نقصان ہوگا، وہیں مسلمانوں کی ایک بڑی انڈسٹری کا خاتمہ ہوگا اور بھارت میں ایک ایسی اسٹریم جس میں مسلمان غالب تھے ایسی مؤثر اسٹریم ہاتھوں سے نکل جائےگی
یہ بہت ہی اہم اور ضروری ہے کہ، مسلم قیادت ہرطرف سے سامنے آئے اپنے حجروں گوشوں اور ڈرائنگ روم سے باہر آئے، بہت سارے معاملات اور خطرات سامنے آرہے ہیں ان سب پر کام کریں، سَنگھ چالاکی اور ہوشیاری سے ملک میں مسلمانوں کی حیثیت جہاں کہیں بھی ہو اس پر ضرب لگا رہاہے، خوابِ خرگوش سے جاگیں، یونانی کا پورا مستقبل خطرے میں ہے اور اگر یونانی کو آر ایس ایس کے ہاتھوں میں دے دیا گیا تو یونانی کے ہزاروں ڈاکٹرز کا کیریئر غیریقینی ہوگا_
ھوشیار !
اچھا ہے، آخری یونانی والے سرکاری سازش کے شکار ہو ہی گئے۔ ہونا بھی چاہیے تھا۔ آج کون ہے "حکیم” ؟ اب تو بی یو ایم ایس ڈگری والے بھی ڈاکٹر کہلانے لگے اور اسی میں ہو فخر محسوس کرتے ہیں ۔ بی یو ایم ایس ڈگری والے تو کلی طور پر ایلوپیتھی ادویہ سے مریضوں کا علاج کیا کرتے ہیں۔ یونانی میڈیسن کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم۔
ایسے میں اگر حکومت نے اس پیتھی کو درکنار کیا ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟ یونانی پیتھی کو برباد کرنے کا سارا الزام اس پیتھی کے کرتا دھرتا پر ہی عائد ہوتی ہیں۔
آپ جب اپنے ہی فن سے بیزار ہو رہے ہیں تو پھر بربادی لازمی ہے۔ ایک بی یو ایم ایس ڈگری والا اپنے نام کے ساتھ "حکیم” لکھنے میں عار محسوس کرتا ہے۔ حکیم اور یونانی کی پہچان تو "حکمت” سے ہی ہے۔
اب یہ کیا بات ہوئی کہ خود اپنے فن کے ساتھ سوتیلے پن کا رویہ اختیار کریں تو کوئی بات نہیں اور حکومت کرے تو غلط۔
یونانی والے خود کو ثابت کریں کہ اپنے فن سے پیار ہے پھر حکومت پر الزام عائد کریں۔
لعنت ہے آج کل کے بی یو ایم ایس ڈگری دھارک نام نہاد "ڈاکٹر” پر ، جنہیں ایک حکیم کی حیثیت سے عوام کو صحت مند زندگی عطا کرنے کی ذمہ داری دی گئی ۔

آپ کا خیر اندیش
حکیم محمد ابو رضوان
بی یو ایم ایس، آنرز (بی یو)
اسپیشلسٹ ان لائف سٹائل ڈیزیزز
یونانی میڈیسنس ریسرچ سینٹر
جمشیدپور جھارکھنڈ
موبائل 9334518872 8651274288

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: