مضامین

یونیورسٹی اور اسکول، کالجز کا ماحول اور مخلوط تعلیمی نظام

آج کا مخلوط تعلیمی نظام اپنے ساتھ ساتھ خطرناک نتائج چھوڑ کر جارہا ہے۔ یونیورسٹی اور اور اسکول، کالجز میں بڑھتی ہوئی یورپی فضا کی لہر اس حد تک پھیل گئی ہے جس کو قابو کرنا ناممکن سا ہوگیا ہے۔
میں حیران ہوں ساتویں کلاس کےسٹوڈنٹ وہ بھی گرل فرینڈ اور بوائےفرینڈ کی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق… جس قوم کی آٹھویں جماعت کی طالبہ ناجائز فعل سے حاملہ ہوجائے اس قوم میں ہوس پرستی کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ انسانیت جل کر راکھ ہوجاتی ہے…!
کالجز یونیورسٹی اور اسکول میں گرل فرینڈ ایک عام معولی بات سمجھی جاتی ہے، کسی کی عزت کے ساتھ کھیلنا ان کی تصاویر دوستوں میں شیئر کرنا ڈیٹ پرجانا رومینس وغیرہ ان باتوں کو اب صرف گپ شپ سمجھا جاتا ہے۔
میں حیران ہوں مرد عورت کی عزت تک اتنی آسانی سے کیسے پہنچ جاتا ہے۔
آپ بتائیں ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس میں عورت کی عزت وعصمت عورت کا مقام عورت کا وقار عورت کی شرافت سب کچھ کھو جائے۔
اب بڑھتا ہوا فیشن ،آزادی ہاسٹل میں ہونے والے شرمناک فعل یہ سب اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہم پر عذاب سے کم نہیں…!!
میں ان والدین پر حیران ہوں اللہ جانے ان کو کیا ہوگیا ہے جان بوجھ کر اندھے بہرے گونگے بن چکے ہیں اک زمانہ تھا والدین اولاد پر مکمل نگاہ رکھتے تھے اور اولاد بھی والدین کا سہارا بن جاتے تھے خوب خدمت کرتے دعائیں لیتے تھے۔ مگر اب والدین قصوروار ہیں اپنی اولاد کو خود جہنم کے گڑھے میں پھینکنا چاہتے ہیں۔ اب والدین نےاولاد کو آزادی دے دی اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے اولاد بوڑھے والدین کو اولڈ ہاؤس میں چھوڑ آتے ہیں۔ واہ مبارک ایسے والدین پر جن کی تربیت ایسی تھی۔
تعلیم ضرور حاصل کریں مگر شعور حاصل کرنے کے لئے مگر ہم روز بروز شعور اور بےدین ہورہے ہیں…..!!
آزاد خیال لوگ میری پوسٹ سے اختلاف کر سکتے ہیں، ان کا کوئی قصور نہیں ان بیچاروں کو ماحول ہی ایسا فراہم کیا گیا تھا۔ دینی اور دنیاوی تعلیم دونوں حاصل کریں تاکہ ہم اچھے انسان کے ساتھ ساتھ اچھے مسلمان بھی بن سکیں۔
میرا شکوہ والدین سے ہے آپ کی اولاد آپ کے ہاتھوں سے نکل چکی ہےآپ صرف اب اولڈ ہاؤس جانے کی تیاریاں کریں آپ ….!!
ایسی اولاد پیدا کرتے جو موت کے بعد آپ کے لئے قرآن پڑھتے دعا کرتے آپ کو قبر مین راحت دیتے.. مگر آپ نے ان کو یورپ کےحوالے کردیا ہے…!!
نوجوان نسل سے گزارش ہےخدارا.. گرل فرینڈ کے کلچر کو اب چھوڑ دو دنیا مکافات عمل ہے آج آپ کسی کی بہن کو ٹائم پاس بناؤ گے تو کل آپ کی بہن بھی کسی کی ٹائم پاس گرل فرینڈ ہوگی۔
ہم تو بس نام کے مسلمان رہ گئے ہیں……!!
کسی کی بہن کو ٹائم پاس کا ذریعہ مت بناؤ ….؟؟
معذرت كیساتھ ہم تباہی کے آخری اسیٹج پر پہنچ چکے ہیں
میرا قلم بھی رو رہا ہے میں کیا لکھوں.؟
ہماری حقیقت کیا ہے ۔۔۔۔؟؟
ہم کیا تھے اور کیا بن گئے ۔۔؟
جزاک اللہ خیرا کثیرا ۔۔۔۔!!
Tags
مزید دکھائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close