مضامین

یوپی میں یوگی کے خلاف نئی سیاسی بساط بچھنے کے آثار

جاوید جمال الدین
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال میں جارحانہ انداز میں انتخابی مہم چلائی تھی ،لیکن اس کے باوجود اسے شکست کامنہ دیکھنا پڑا ،یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرلی ہے اور یہ ان کی مجبوری کہی جاسکتی ہے ،جیسا کہ اس کالم میں اظہار کیا جاچکا ہے، اسمبلی الیکشن2022 میں ہونے والے ہیں ،لیلن دہلی اور لکھنؤ میں بی جے پی لیڈرشپ کی میٹنگ اور سرگرمیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ ملک کی سب سے بڑی ریاست میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیے جا نے کا امکان ہے۔اس کے دوران یوگی کی کرسی بھی ہل جائے۔اور ایک قابل قبول چہرہ سامنے لایاجائے۔
دراصل اترپردیش میں کوروناوباء کی دوسری لہر کے بعد حالات بدسے بدتر ہوگئے تھے۔دیہی علاقے بے حال تھے اور گنگا وجمنا کے کنارے لاشوں نے ہوش اڑادئیے تھے۔جس سے مرکزی حکومت اور بی جے پی کے دامن تک آنچ پہنچ گئی تب بی جے پی لیڈرشپ کے ہوش ٹھکانے آئے۔اور کچھ کرنے کا۔من بنایا گیا،ویسے الیکشن کے لیے ابھی چھ -سات مہینے سے زیادہ کاوقت درکار ہے، لیکن بی جے پی کوئی جوکھم لینا نہیں چاہتی ہے اور اس کے لیے پارٹی نےکمرکس لی ہے۔جس کے تحت کئی امور پر خصوصی طور پر توجہ دی جارہی ہے۔بی جے پی اس بات سے انکار نہیں کرسکتی ہے کہ یوپی کے وزیراعلی یوگی کے خلاف وباء پر قابو نہ پانے کی وجہ سے پارٹی میں ہی ماحول بن گیا ہے،جوکہ ایک منصوبہ بند سازش کا نتیجہ ہے۔
یوگی کو بنگال اور اس سے قبل بہار میں ایک فائر برانڈ مقرر کے طور پر پیش کیا گیا تھا،لیکن دونوں جگہ ناکامی ہاتھ لگی ہے۔اس لیے اندرونی حریفوں نے کمال ہوشیاری سے یوگی کے ارد گرد شکنجہ کس دیا ہے اور ان کی ساری ہوشیاری نکل گئی،نا کی حالت بہتر کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے۔اسمبلی الیکشن کے مد نظر اترپردیش بیچ کے آئی اے ایس افسر انوپ چندر پانڈے کو الیکشن کمیشن میں کمشنر مقرر کردیا گیا جوکہ یوگی کے دورمیں چیف سکریٹری رہ چکے ہیں اور ان کے تقریباً چھ سو کروڑ کے” گائے ویلفیئر پروجیکٹ "کو عملی جامہ پہنانے میں پیش پیش رہے ہیں۔یہ بی جے پی کے لیے راحت کی بات ہوسکتی ہے۔بنگال کی ہار کے بعد مودی بھی یوپی کے لیے ایک نئی حکمت عملی کے خواہاں رہے ہیں،لیکن سنگھ پریوار یوگی کے قریب تر نظرآنے لگا تو پھر مودی گروپ بھی سرگرم ہوگیا ہے۔اور بی جے پی میں انتشار پھیلنے لگا ہے،جو کہ الگ الگ سرگرمیوں سے پتہ چل رہا ہے۔یوپی ملک پر راج کرنے کے لیے اہم ریاست رہی ہے۔اسے جیتنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔
اس لیے اترپردیش اسمبلی انتخابات کافی اہمیت کاحامل ہے بلکہ ناک کا سوال بن چکا ہے ،اگر یہاں سیاسی بھی بھول چوک ہوتی ہے، تو 2024 میں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
ریاست کا جائزہ لینے کے بعد اور سیاسی سرگرمیوں کے درمیان یوگی دبے پاؤں وزیراعظم نریندر مودی، وزیرداخلہ امت شاہ اور پارٹی صدر جے پی نڈا سے ملاقاتیں کرکے لکھنئو واپس لوٹ آئے ہیں ،یہاں تینوں کی "باڈی لینگویج” پہلے کے مقابلہ مختلف نظرآئی ہے اور اس طرح کی خبریں گرم ہیں کہ ان کا نعم البدل تلاش کیا جارہا ہے ۔آثار یہ ہیں کہ بی جے پی دوسری کووڈ لہر کے کم ہونے کے بعددوبارہ اپنے پرانے حربہ یعنی رام مندر، ہندوتوا اور پھر قوم پرستی جیسے جذباتی معاملات پرمہم چلائے گی۔بی جے پی کا سخت گیر گروپ ابھی سے اجودھیا تو صرف جھانکی ہے، کاشی متھرا باقی ہے کا نعرہ لگانے لگا ہے۔کئی موقعوں پربی جے پی نے اس بات کا کھل کر اظہار کیاہے کہ مستقبل میں اس کا ہندوتوا کوچھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف کسی بھی کارروائی سے احتراز کیا جاتا رہا تھا،مگر مغربی بنگال اور بہار کے ساتھ ساتھ آسام۔چھوڑ کر دیگرریاستوں میں پارٹی کچھ خاک بہتر نہیں کرپائی ہے اس لیے اس نعرے سے ہٹ کر سوچا جارہا ہے، یوگی حکومت کے دوران ہندوتوا کو مزید جلا بخشنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مذہب کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبوں کو نافذ کیاگیااور،میڈیا نے بھی یوگی کو ہندوتوا کے علمبردار کی شکل میں پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھی ہے۔لیکن مسلمانوں کو قریب لانے کے لیے کچھ کرنے کے لیے سوچا بھی نہیں گیاہے۔بتایا جاتا ہے کہ اب اقلیتی گروہ کے بارے میں سوچا جارہا ہے۔انہیں قریب لانے کی کوشش بھی ہورہی ہے اور مختار عباس نقوی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔دیکھنا ہوگا کہ وہ کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔
یہ ایک ایسا موقعہ ہے کہ سماج وادی پارٹی ،کانگریس اور دوسری سیکولر پارٹیوں کو ایک نئی حکمت عملی اور اتحاد کی بنیاد پر انتخابی دنگل میں کود پڑنا چاہئیے کیونکہ سنگھ پریوار یوپی،مودی اور یوگی کے چکر میں کچھ سوچ نہیں پارہا ہے۔اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔
اترپردیش میں اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے اور یوگی کے جانشین کو تلاش کرنے میں بی جے پی کچھ کرگزر نے کی کوشش میں لگی نظرآتی ہے۔بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے ایک متنازع بیان دے دیا ہے کہ سماج وادی پارٹی کو ہرانے کے لیے بی جے پی سے بھی ہاتھ ملانے کی بات کہی ہے۔لیکن فی الحال ایسا نظر نہیں آرہا ہے کہ بی جے پی ان سے قریب ہو۔کیونکہ بی جے پی سے اعلیٰ ذات سب سے زیادہ ناراض ہے،یہی سبب ہے کہ انہوں نے کانگریس سے جتن پرساد جیسے برہمن لیڈر کو پناہ دی ہے۔اور کئی کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔بی جے پی کو بھی ممتا بنرجی نے مکل رائے کو دوبارہ پارٹی میں لیکر زبردست جھٹکا دیاہے،یوپی میں بھی یہ۔کھیل۔کھیلق جائے گا، بی جے پی لیڈرشپ سے ایک طبقہ بہت ناراض ہے،اس لیے پنچایت الیکشن میں اسے منہ کی کھانی پڑی تھی۔
اترپردیش میں سبھی سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی کوشش میں لگی ہیں ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کو زیادہ ہاتھ پیر مارنے پڑرہے ہیں۔یوگی کاکیا ہوگااور ایس پی -بی ایس پی اور کانگریس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھنے والا ہے۔اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا،مگر یہ طے ہے کہ اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل ایک نئی سیاسی بساط بچھنے والی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: