اہم خبریں

یوگی اور انگریز کی پالیسی …… سیم ٹو سیم ہے

محمد یاسین جہازی 9891737350

بیسویں صدی کی تیسری دہائی اور اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے حالات و حوادث کا تجزیہ اسی نتیجہ پر پہنچاتا ہے کہ موجودہ بی جے پی سرکار کی پالیسیوں، متشددانہ رویے اور الزام تراشیوں نے انگریزوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ اس وقت کے جن مجاہدین آزادی نے سول نافرمانی کی تحریک میں حصہ لیاتھا،انگریزی سرکار نے The Unlawful Association Ordinance, 1930 کے 9 نمبر جاری کرکے زمین و دیگر منقولہ و غیر منقولہ جائدادیں ضبط کرلی تھی۔ اور جنھیں حکومت سے واپس لینے کے لیے Gandhi-Irwin Pact کی دفعات 14 تا 17شامل کی گئی تھیں۔ اسی موقع پر جمعیت علمائے ہند نے بھی اپنے اجلاس مجلس عا ملہ منعقدہ 25/26/ شعبان المعظم ھ 1349مطابق 15/16/ جنوری 1931ء میں درج ذیل تجویز پاس کی تھی:
ضبط شدہ جائدادوں کے نہ خریدنے کے لیے اپیل
”تجویز نمبر 4: چوں کہ تحریک آزادی کو فنا اور جذ بات حریت کو پامال کرنے کے لیے موجودہ حکومت جابرہ محبان وطن و خادمان حریت کی جائدادیں اور دیگر اشیا کو ضبط کرکے ظالمانہ و مستبدانہ طریق پر نیلام کر دیتی ہے، جس کو بعض بے حمیت ہندستانی خرید کر حکومت جابرہ کی ہمت افزائی کرتے ہیں، اس لیے جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس تمام اہل ملک؛بالخصوص مسلمانوں سے پر زور اپیل کرتا ہے کہ محبان وطن اور فدائیان حریت کی ضبط شدہ جائدادیں اور دیگر اشیا کو ہر گز ہر گز نہ خریدیں؛ کیوں کہ ایسی خریداری میں سراسر ظلم و عد وان کی اعانت، اپنے ملک سے کھلی دشمنی، سیاسی مصالح،مذہبی مفاد کا خون ہے اور محظو رات شرعیہ کا ار تکاب ہے۔(جمعیت العلما کیا ہے، جلد دوم، ص/172)“
18دسمبر 2019کو سنبھل اور لکھنو میں CAAکے خلاف پر امن مظاہرے کے دوران تشدد بھڑک اٹھا،جائے حادثہ سے وائرل ہوئے ویڈیو میں پولیس اور اس کے اشارے پر کام کرنے والے دیگر سماج دشمن عناصر توڑ پھوڑ کرتے نظر آرہے ہیں، اس کے باوجود یوپی وزیر اعلیٰ یوگی نے شام ساڑھے چھے بجے ایک ویڈیو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے توڑ پھوڑ کی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ہے، ہم ان کے املاک کو ضبط کرکے وصولی کریں گے۔ چنانچہ اس کے بعد جب توڑ پھوڑ کرنے اور ہرجانہ بھرنے کا نوٹس بھیجا گیا، تو اس میں صرف مسلمانوں کے نام تھے۔ ان میں سے بعض ایسے افراد کے نام بھی شامل ہوگئے تھے، جن کا پہلے ہی انتقال ہوگیا ہے۔ مقام حادثہ وائرل ویڈیو سے صورت حال واضح ہوجانے کے باوجود یوگی نے صرف مسلمانوں کو ٹارگیٹ کرکے وصولی، کی جو انگریزی سرکار کے رویے سے بھی زیادہ قابل مذمت و نفریں ہے۔ انگریزوں نے تو کم از کم سول نافرمانی میں شامل ہونے والے افراد کی جائدادیں ضبط کی تھیں، انھوں نے تو بے قصوروں کو مسلمان ہونے کا قصور ٹھہراکر وصولی کی۔
جمعیت علمائے ہند نے، اپنی سابقہ روایت کو دوہراتے ہوئے 2/ جنوری 2020 جمعرات کو منعقد اپنی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اس حوالے سے ایک تجویز پاس کی،اس کا متن بھی ملاحظہ کریں:
”احتجاج میں تشدد اور پولس کے رویے کی مذمت: ”مجلس عاملہ جمعیت علما ئے ہند شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کی قدر کرتے ہوئے اس میں ہر قسم کی تشدد کی مذمت کرتی ہے خواہ مظاہرین کی طرف سے ہو یاپولس کی طرف سے۔جمہوری حکومت میں احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، اس لیے جمعیت علمائے ہند کا مطالبہ ہے کہ حکومت کسی بھی پر امن احتجاج کو روکنے کی ہرگز کوشش نہ کرے۔اس سے اشتعال پیدا ہوتا ہے جس سے بہرحال بچنے کی ضرورت ہے۔حالیہ دنوں میں بالخصوص یوپی حکومت کی طرف سے احتجاجیوں کے ساتھ منفی رویہ کی جمعیت علمائے ہند پرزور مذمت کرتی ہے، اس بارے میں اترپردیش کے وزیر اعلی نے جس طرح کے سخت بیانات دے کر اپنی ظالم و جابر پولس کا حوصلہ بڑھانے کی بات کی ہے، اس نے انگریزوں کے زمانے کی یاد تازہ کردی ہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔اس موقع پر جمعیت علمائے ہند بھی احتجاج کرنے والے افراد اور اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ پر امن طور پر اپنا مشن جاری رکھیں، منظم انداز میں احتجاج کریں اور شر پسند عناصر سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی حال میں مشتعل نہ ہوں؛ بلکہ صبر وتحمل سے کام لیں اور قا نون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں ورنہ اس تحریک کو نقصان ہو گا۔“
یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یوگی اور انگریز سرکار کی پالیسیوں میں یکسانیت کیوں پائی جارہی ہے، شاید اس کی وجہ یہی ہے کہ آر ایس ایس کی زیر رہنمائی چلنے والی بی جے پی سرکار اٹلی اور جرمنی کے فاشزم پر یقین رکھتی ہے، اور اس کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اکثریت کو متحد کرنے کے لیے اقلیت کو دشمن کے طور پر پیش کرنا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے کوئی بھی واقعہ رونما ہوتا ہے، تو اسے جواز فراہم کرنے کے لیے بھارت کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کو دشمن اور مخالف کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یہ جذبہ انتقام اسی نظریہ کا ایک حصہ ہوتا ہے۔
انگریز کی ایسی حرکتیں خواہی نہ خواہی تسلی کی باعث ہوتی تھیں کہ وہ غیر ملکی اور بدیسی ہیں؛ لیکن اپنے ہی گھر کے کچھ لوگوں کے ساتھ یوگی اور اس کے ہمنوا کی یہ حرکتیں بالیقین باعث شرم بھی ہیں اور قابل نفریں بھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close