مضامین

یو اے پی اے اور صفورا زرگر

طیّب ظفر

سر زمین ہندوستان اپنے سینے میں کہی تاریخی اوراق لئے ہوئے ہے، کبھی بادشاہوں کے سر کا تاج بن کر اس ملک نے اپنے آپ کو سونے کی چڑیا کہلوایا تو کبھی غلامی کی زنجیروں نے اس کو جکڑ لیا تب اس کے جانباز جانثاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ازسرےنو فخر آزادی کا تاج اس کے سر پر رکھ دیا۔ اس کی تاریخ کا باب آپ جہاں سے بھی کھولے گے آپ کو بھائی چارگی مساوات و ہمدردی کی بے شمار مثالیں ملےگی۔ اس ملک عزیز کی خاطر جہاں ٹیپو سلطان شہید نے تلوار اٹھائی وہی جھانسی کی رانی نے اپنے معصوم بچے کو لے کر انگریزوں کو لوہے کے چنے چبوا دیے۔ لیکن اب ملک کا منظر نامہ تیزی سے بدل رہا ہے، اس ملک کی صدیوں پرانی مذہبی رواداری پر انتہا پسندوں نے یلغار کر دی ہے۔ جمہوریت کے سینے میں ہر دن شگاف مارے جاتے ہے، جمہوریت کا چوتھا ستون کہلانے والی میڈیا صرف نفرت پروستی ہے، جہاں بولنے کی تو آزادی ہے مگر بولنے والے کے مقدّر میں قید و زنداں ہے۔
اب بازارِ محبّت میں بکنے لگی ہے نفرت
جلتےجلتے دیے اب گھر جلنے لگے ہے بابو
طیّب ظفر
آئے اب اس منظر نامے کی طرف نگاہ کرتے ہے جس نے یہ مضمون قلم بند کرنے پر مجبور کیا۔ دنیا ان دنوں کورونا سے جوج رہی ہے جہاں دنیا بھر کے ممالک میں تالا بندی ہے وہی ہندوستان میں بھی تالا بندی ہے مگر ان سب کے دوران دہلی پولیس نے گرفتاریوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے جس پر ملک کی کچھ نام نہاد تنظیموں کے قائدین نے آوازے بھی اٹھائی مگر ان گرفتاریوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ایک ایسا قانون جسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہ قانون صرف اور صرف مسلمانوں کے لئے ہی ہے۔ بارہاں آپ نے سنا ہونگا
غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ UAPA کے بارے میں یہ ایک۔ایسا قانون ہے جس میں ضمانت ملنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس قانون کو سمجھنے کے لئے اتنا کافی ہے کہ جس پر بھی یہ قانون لگ جاتا ہے پھر وہ سیدھا ہی مجرم ہو جاتا ہے جب کے عام تور پر کسی کو جب کرفتار کیا جاتا ہے تب وہ ملزم ہوتا ہے اور جب تک ثبوتوں کی بنا پر عدالت اسکو مجرم کرار نہیں دیتی وہ ملزم ہی رہتا ہے مگر اس قانون میں سیدھا مجرم ہوجاتا ہے جیسے کسی کو دہشت گردی کے الزام میں یو اے پی اے کے تحت اٹھایا جاتا ہے وہ سیدھا دہشت گرد ہو جاتا ہے۔ اور دہلی پولیس پچھلے کچھ دنوں سے اس ہی قانون کے تحت گرافتاریاں کر رہی ہے۔ رمضان المبارک میں ایک خاتون جو تین مہینے کی حاملہ ہے وہ ان دنوں تہاڑ جیل میں قید ہے نام ہے صفورا زرگر عمر ہے 27 سال شادی شدہ ہے اور ساتھ ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک ریسرچ اسکالر اور جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی (جے سی سی) کی میڈیا کوآرڈینیٹر ہے۔ان پر فروری میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کے اہم سازشی ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ آپ تمام ہی جانتے ہے کے سی اے اے،این آر سی اور این پی آر کے خلاف پورے ملک میں کٔی جگاہوں پر پرامن احتجاجات ہوئے اور یہ احتجاجات کہیں مہینوں تک چلے میڈیا نے اور حکومت نے ان کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوششیں کی مگر ناکام رہی چند نا اہلوں نے ان پر گولیا بھی چلائی لاٹھیاں بھی چلائی مگر یہ ہمّت اور استقلال کے پیکر گاندھی وادی اپنی جگا بنے رہے۔ جب دوشمن نے یہ دیکھ لیا کے یہ تو ہٹ نے کو تیار نہیں ہے۔ تو ایک سازش کے تحت ملک کی راجدھانی دہلی میں فساد کرواے گئے کپل مشرا جیسے لوگوں نے ان فسادات کو کروانے میں اہم کردار ادا کیا جن میں کہیں بے گناہوں کی جانیں چلی گئی سینکڑوں لوگ بے گھر ہوئے مگر اصل مجرم آزاد ہے اور بےقصوروں پر اب یو اے پی اے جیسے کالے قانون لگا کر حراساں کیا جارہا ہے۔
سچ کا دلیلیں دینا بھی تو کام نہیں آتا
میرے شہر میں جھوٹے پر الزام نہیں آتا
طیّب ظفر
بس صفورا زرگر بھی اسی کا شکار ہوئی ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جامعہ کے ہی طلبہ پر یہ الزامات لگا کر کیوں گرفتار کیا جا رہا ہے تو سیدھا اور سرل جواب یہ ہے کے جب ملک اس سی اے اے کو سمجھنے کی کوشش کررہا تھا تب یہ لوگ احتجاجی شکل میں صف بند ہو چکے تھے انہونے ہی اس پورے محاذ کو کھڑا کیا تھا اس لئے سب سے پہلے نشانے پر بھی یہی ہے۔ جی انہی پر دہلی پولیس کے تشدد کے بعد شاہین باغ آباد ہوا تھا اور اس ایک شاہین باغ کے نقش قدم پر ملک بھر میں کہیں شاہین باغ سج چکے تھے اور پورا ملک ایک ہی آواز میں کہہ رہاتھا انقلاب زندباد ملک کی فضاؤں میں فیض احمد فیض کا کلام” ہم دیکھے گے” اور حبیب جالب کی نظم "میں نہیں مانتا” گونچ رہی تھی اور ان انقلابی لہروں کا آغاز جامعیہ سے ہوا تھا بس یہ وہی دشمنی ہے جو اب گرفتاریوں کے ذریعے نظر آرہی ہے۔ یہ وقت ہے ہوشیار اور بیدار ہونے کا یہ وقت ہے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا یہ وقت ہے چوکننا رہنے کا۔ ہم سڑکو پر اتر کر ان دنوں احتجاج تو نہیں کر سکتے لیکن سوشل میڈیا پر ہم ضرور احتجاج کر سکتے ہے مگر اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہوئے جذبات کو قابو میں رکھ کر کیوں کے ان دنوں صفورا زرگر کا اندھ بھکتوں نے بہت مزاق بنایا ہوا ہے کہیں بے بنیاد الزامات لگاۓ گئے ہے ان کے حمل کو لے کر بہت کچھ زبان درازیاں کی گئی ہے مگر یاد رکھنا اے میری بہن صفورا الزامات ہماری ماں عائشہ پر بھی لگے تھے اے میری بہین یہ الزامات اکثر حق پر لگتے رہے ہے مگر حق ہمیشہ غالب آیا ہے اب بھی غالب آئے گا۔ بس ان اندھ بھکتوں کو اتنا تو جاننا ضروری ہے کے ماں دیوکی نے بھگوان کرشنا کو جیل میں ہی جنم دیا تھا ۔ جو نوجوان ان تمام باتوں کو لے کر سوشل میڈیا پر سر گرم ہے ان سے اتنی گزارش ہے کے وہ کسی کی دل آزاری نہ کرے کیوں کے ان تمام احتجاجات کا حصہ کنییا کمار، سورہ بھاسکر، ڈی ایس بندرا اور کہیں ایسے نام جو گر میں لکھنا چاہوں تو مجھے کہی صفحات درکار ہونگے مگر یہ نام ختم نہیں ہونے جو مسلمان نہ ہونے کی بنا پر بھی کندے سے کندا ملاے ہمارے ساتھ کھڑے تھے ۔ ہم ملک ہندوستان کے بسنے والے ہے اتحاد اتفاق بھائی چارگی کا درس ہم کو اپنے اسلاف نے دیا ہے ۔ اور ہمارے آقا نے کہاں کے ہر مذہب کی عزت کرو۔ بس اللہ‎ سے دعا ہے اللہ‎ صفورا زرگر کو جلد از جلد جیل سے رہائی عطا کرے اور صحت دے تندرستی دے ہمّت دے اور حق پر قائم رکھے آمین ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: