مضامین

یہ زمانہ ہے ویڈیو کتاب لکھنے کا

محمد یاسین جہازی 9891737350

زبان کی ارتقائی تاریخ میں آپ نے یہ ضرور پڑھا ہوگا کہ جو زبان آج ہم اور آپ بول رہے ہیں، اس میں اور وجودی عہد کی زبان میں بے شمار فرق ہے۔ پہلے ہم شکستہ زبان استعمال کیا کرتے تھے، لیکن جوں جوں زبان کا ذوق اور مذاق جمالیات بڑھتا گیا، توں توں زبان کی شیرینی، تسلسل اور سائستگی میں خوبصورتی پید اہوتی گئی۔ اور یہ سفر آج بھی جاری ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ زبان کے پیدائشی دور میں اشارات و کنایات ہی زبان ہوا کرتے تھے۔ پھر ترقی کرکے ان میں الفاظ کا اضافہ ہوا۔ الفاظ کو خارجی وجود دینے کے لیے تحریر وجود میں آئی؛ اور اس تثلیث سے زبان کی تکمیل ہوئی۔ الفاظ اورتحریر میں ایک خامی یہ ہے کہ الگ الگ زبانوں اور تحریروں کی ہیئتیں، مصوتے، مصمتے اور رسم الخط الگ الگ ہیں، جو ان سے غیر متعلق افراد کے لیے ناقابل استعمال اور ناقابل فہم ہوتے ہیں۔ اردو والوں کو انگریزی اور انگریزی جاننے والوں کے لیے اردو پڑھنا، بولنا اور سمجھنا فطری تربیت میں مشکل ہوتا ہے۔ دوسری زبان، بولنے، پڑھنے اور سمجھنے کے لیے سیکھنے کے مراحل سے گذرنا پڑتا ہے۔ اور یہ ناممکن ہے کہ دنیا کا ہر انسان دنیا کی سبھی زبانیں سیکھ لے۔
علاوہ ازیں ایک زبان والوں کے لیے بولنے، پڑھنے اور لکھنے کے اعتبار سے بھی درجے ہوتے ہیں۔ بولنے والا یا سمجھنے والا ضروری نہیں ہے کہ لکھنا بھی جانتا ہو۔ بہت سارے لوگ اردو یا ہندی بولتے یا سمجھتے ہیں، لیکن تحریر سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اس کا ایک تاریک پہلو یہ ہے کہ خود اپنی زبان والا اپنی زبان میں لکھی ہوئی تحریر سے استفادہ نہیں کرپاتا۔ چنانچہ انسان کے متجسس دماغ نے اس تاریکی پرقابو پانے کے لیے کئی طریقے ایجاد کیے ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر ہم بے زبانوں تک بھی اپنی بات پہنچا سکتے ہیں۔
کمپیوٹر ایک ایسی مشین ہے، جو دنیا کی ہر زبان کے رسم الخط کو لکھ بھی سکتا ہے اور پڑھ بھی سکتا ہے؛ کیوں کہ کمپیوٹر کی ساخت کسی ایک زبان پر رکھنے کے بجائے بائنری زبان پر رکھی گئی ہے۔ بائنری زبان کے صرف دو حروف تہجی ہیں ایک زیرو (0)اور دوسرا ایک (1)۔ زیرو کو آف اور ایک کو آن کہا جاتا ہے۔ اور انھیں دونوں حروف سے دنیا کی ہر زبان کی سوفٹویر کے ذریعہ کوڈنگ کی جاتی ہے اور اس کا رسم الخط اسکرین پر نظر آتا ہے۔ لیکن یہ کوڈنگ انتہائی مشکل اشاریہ ہوتا ہے، جو صرف انجنیر اور سافٹویر ہی سمجھ پاتا ہے۔ سافٹویرکے کمانڈ کو آسان بنانے کے لیے انجنیر اشاراتی زبان استعمال کرتا ہے، جسے سیمبل لنگویج کہا جاتا ہے۔ یہ سیمبل لنگویج ایک ایسی ایجاد ہے، جس نے رسم الخط سے ناواقف افراد کے لیے تحریر فہمی کو آسان بنا دیا ہے۔ چنانچہ آپ اپنے موبائل میں اس کی لاتعداد مثالیں دیکھ سکتے ہیں۔ ایک بچہ یا ان پڑھ آدمی واٹس ایپ یا فیس بک لکھنا یا پڑھنا نہیں جانتا، لیکن اس کے آئیکن سے یہ سمجھ اور پڑھ لیتا ہے کہ واٹس ایپ اور فیس بک کا ایپ یہی ہے۔
تحریری زبان سے ناواقف افراد کے لیے ایک جدید طریقہ ویڈیو تحریر بھی ہے۔ جس میں مضمون کو سمجھانے کے لیے کسی مخصوص رسم الخط کو استعمال کرنے کے بجائے، اس کی کوریو گرافی اور فریمنگ کی جاتی ہے اور ان دونوں کو سمجھانے کے لیے آواز کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اور چوں کہ ویڈیو میں آواز سنائی دینے کے ساتھ ساتھ سیمبل لنگویج یعنی تصاویر، گرافکس وغیرہ بھی نظر آتے ہیں، توہر شخص کے لیے مضمون کو سمجھنا بالکل آسان ہوجاتا ہے۔ بسااوقات ویڈیو کی زبان نہ سمجھنے والا بھی اس میں بیان کردہ مضمون کو سمجھ لیتا ہے؛ اس لیے اس جدید ایجاد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں تحریری کتاب لکھنے کے ساتھ ساتھ ویڈیو کتاب لکھنے کو بھی رواج دینا چاہیے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: