اہم خبریں

یہ ماضی پر فخر کرنے کا وقت نہیں

زین العابدین ندو ی
دارالعلوم امام ربانی ؒ، نیرل ۔ مہاراشٹر

ماضی کے واقعات اور کارنامے حال میں برتنے کے لئے ہوا کرتے ہیں ، تاکہ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے حال کو ایسا تابناک بنایا جائے کہ ہمارے بعد آنے والی نسلیں اس کے سایہ میں اپنا قدم بڑھا سکیں ، لیکن صرف اس پر فخر کرتے ہوئے زندگی گزارنا آنے والی نسلوں کو لا وارث بنانے جیسا عمل ہے ، جو ناقابل معاف ہے ، آج کل یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے ، جس کے نتیجہ میں ہمارا مستقبل تاریک ہوتا دکھ رہا ہے ، اور ہماری اسی کوتاہی کا فائدہ اٹھا تے ہوئے ہمیں مزید کمزور کیا جا رہا ہے ، حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر انسان نہ چاہے تو دنیاکی کوئی طاقت اسے کمزور نہیں کر سکتی ہے ، بلکہ انسان خود اپنی کوتاہ بینی اور کوتاہ عملی کے سبب کمزور ہوتا جاتا ہے ، اور اپنا وقار مجروح کرتا ہے ، دنیا کی کوئی بھی قوم ایسی نہیں جس نے اپنے ماضی پر فخر کرتے ہوئے زیادہ دن تک اپنا وجود باقی رکھا ہو ، بلکہ اس کے برعکس ہر ترقی یافتہ قوم نے ماضی کو اپنا آئینہ بناتے ہوئے حال میں محنت ومشقت کے ذریعہ اپنا مستقبل تابناک کیا ہے ، جس قوم نے فخر ماضی کے مرض میں مبتلا ہوتے ہوئے حالیہ محنت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تاریخ نے اسے ذلیل کئے بغیر نہیں چھوڑا ، جس کا آنکھوں دیکھا حال ہمارے سامنے ہے ۔
میں یہ نہیں کہتا کہ انسان کو اپنا تابناک ماضی بھول جانا چاہئے ، نہیں کبھی نہیں مگر اسی پرانحصار کرتے ہوئے حال کے لئےکوئی لائحہ عمل طے کئے بغیر زندگی جینا یہ گناہ ہے ، ماضی کے واقعات تو ہوتے ہی اس لئے ہیں کہ اس کی روشنی میں حالیہ ایام گزارے جائیں ، اور ان سے عبرت حاصل کی جائے اور قوت وطاقت کا سامان فراہم کیا جائے ، قرآن پاک میں واقعات کی ایک لڑی ہے جس کا مقصد صرف بیان کرنا نہیں بلکہ ان سے موعظت حاصل کرنا ہے ، قرآن ہمیں یہی اسلوب حیات سکھانا چاہتا ہے کہ ہم اپنے ماضی کو بھی حال کی اصلاح کے لئے کا رگر بنائیں ، مگر نہ جانے کیوں ہم صرف اپنے ماضی پر فخر کرتے دکھائی دیتے ہیں ، حال یہ کہ ہم ان کارناموں سے کوسوں دور ہیں ، آج اگر ہم پر تنقید کی جاتی ہے اور نشانہ بنایا جاتا ہے تو ہم اپنی صورتحال کو دیکھے بغیر اپنی ماضی کی روداد سنانے لگتے ہیں ، اور انہیں واقعات کی بدولت اپنی حیثیت ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں ، یہ صحیح ہے کہ ہمارے اسلاف نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں اس میں کوئی شک نہیں مگر ہم اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لئے کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ اس موقع پر ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آخر ہم تاریخ میں کس نام سے یاد کئے جائیں گے ؟ ماضی پر فخر ہمارے حالات کا حل نہیں ہے ، ہمیں اس کا مناسب حل تلاشنا ہوگا اور اس پر قدم بڑھانا ہوگا ، سی اے بی کی منظوری کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء نے احتجاج کیا اور اس کے بابت اپنی ناراضگی کا اظہار کیا جو قابل ستائش ہے ، اے کاش کہ ہم طلبائے مدارس بھی اس طرح کی کارکردگیوں میں حصہ لیتے اور پھر اپنے آباء واجداد پر فخر کرتے ، تو ایک معانی میں اسلاف سے ہماری وابستگی اور لگاو کا پتہ چلتا ، اور ہم بھی اسی راستہ پر چلنے والے سمجھے جاتے ، مگر افسوس کہ ہمیں اس کی فرصت بھی نہیں اور نہ ہی کوئی فکر ہے ، اس موقع پر مجھے علامہ قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک جملہ یاد پڑتا ہے جو انہوں نے دیوبند کی سنگ بنیاد رکھتے وقت کہا تھا ، ” کہ یہ مدارس دین کی حفاظت کے قلعہ ہیں جن پر ہم نے تعلیم کی چادر ڈال دی ہے ” گویا ان کا مقصد یہ تھا کہ یہاں سے تقاضہ حال پورے کئے جائیں گے ، رہا مسئلہ تعلیم تو ایک ذیلی چیز ہوگی جس پر عوام کی نظر ہوگی ، مگر افسوس کہ معیار ہی بدل گیا ، اور یہ کام انجام دینے والے جے این ایو، اے ایم یو میں نظر آئے اور جن کا مقصد ہی یہ تھا وہ درس وتدریس میں ہی مشغول رہے ، اور ایسا اس لئے ہورہا ہے کہ ہم ماضی پر فخر کرنے کے سوا کچھ جانتے ہی نہیں، ہم ان کے کارناموں کو زبان سے آگے بڑھ کر عمل میں نہیں لاتے ۔
یہ وہ وقت ہے جب پھر سے ایک بار ان اسلاف کی یادوں کو عملی شکل دی جا سکتی ہے ، اور ان کے کارناموں کو دہرایا جا سکتا ہے ، اور اپنے بعد آنے والی نسلوں کو مایوسی سے بچایا جا سکتا ہے ، اس لئے اب ضرورت سے زیادہ مصلحت برتنے کا وقت رخصت ہونے کو ہے بلکہ ہو چکا ہے ، اس سے زیادہ سنگین حالات اور کیا ہوں گے ؟ بھارت کی سرزمین ایک بار پھر اپنے انہیں ساتھیوں کے کارناموں کی منتظر ہے ، اور ایسا ہونا یقینی ہے جس سے کوئی مفر نہیں ہے ، کلمہ لا الہ الا اللہ کی صدا تمام گھروں سے یونہی نہیں آئے گی ، بلکہ یہ آسانی قربانی کا تقاضہ کر رہی ہے ، یہ مسئلہ اب صرف تقریروں اور وعظ ونصائح سے حل ہونے والا نہیں ہے ، نبی نے پیشین گوئیاں کمرہ میں بیٹھ کر نہیں بلکہ میدان عمل اور میدان جہاد میں اتر کر دی تھیں ، اس لئے ان پیشین گوئیوں کو حقیقت کا لباس پہنانے کے لئے خود کو قربان کرنا ہوگا ، اس لئے اب کسی انتطار کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی، وقت آچکا ہے اور ہماری تیاریاں ابھی نا مکمل ہیں ، اب اسے مکمل کرنے کے لئے کوئی بہانہ قابل قبول نہیں ہوگا ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close