مضامین

یہ معذرت نہیں سراسر منافقت ہے

محمد ہاشم اعظمی مصباحی نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی

________________________________________اس وقت ہماراوطن عزیز ہندوستان جس نازک دور سے گزر رہاہے وہ اس دیش کی تاریخ میں بہت شدید اورتشویشناک مرحلہ ہے اور مزید بھیانک ہوتا جارہا ہے ایک طرف وبائی مرض "کورونا وائرس” کا قہر جاری ہے تو دوسری طرف ہند و چین سرحد پر خطرات کے گھنیرے بادل منڈلا رہے ہیں ایسے پرآشوب ماحول میں ہندوستان کا دجّالی میڈیا برسر عام اپنی دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کی اندوہناک فضا ہموارکررہا ہے جس سے ہندوستانی مسلمان اس وقت جتنی بے چینی اور پریشان کن مرحلے سے گزررہے ہیں شاید کبھی نہیں گزرے ہونگے.
*غریب نواز کی توہین*: نیوز 18 کے بد نام زمانہ نام نہاد اینکرامیش دیوگن نے سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کے خلاف اپنی گندی ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیشنل چینل پر بیٹھ کر "اکرانتااورلٹیرا” جیسے گھناؤنے الفاظ کا استعمال کرکے مسلمانوں کے قلبی جذبات کو شدید ٹھیس پہونچائی ہے جس کی وجہ سے ہندوستان اور بیرون ممالک میں شدید غم وغصے کے اظہار کے ساتھ گرفتاری اور سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے
*معذرت نامہ*: اس کی گرفتاری کو لے کرکل جیسے ہی سوشل میڈیا میں ٹرینڈز چلنے لگے تو اس ناہنجار کی آنکھ کھلی اور کچھ ہی دیر میں ایک ٹویٹ کر کے معذرت کی اور بعد میں اپنے ہی چینل سے معذرت کے طور پر ویڈیو کلپ جاری کر تے ہوئے کہا کہ میں نے غلطی سے خلجی کو چشتی کہہ دیا تھا اس کا مجھے "کِھید” ہے اس”معذرت نامہ” کے سامنے آتے ہی بہترے فیس بکیوں نے مارے خوشی کے اس ٹویٹ اور ویڈیو کو واٹس ایپ اور فیس بک پر شیئر کرنا شروع کر دیا یہ سوشل میڈیائی مجاہدین پھولے نہیں سما رہے تھے کہ ہم نے معافی مانگنے پر مجبور کر دیا ایسا لگ رہا ہے جیسے انہوں نے جنگ میں اترتے ہی میدان مار لیا ہو
*معذرت کی حقیقت*: راقم نے بار بار اس ویڈیو کو دیکھا کہیں بھی معافی کا لفظ نہیں ہے صرف کھید یعنی افسوس جتایا گیا ہے اور آپ خوب جانتے ہیں کہ افسوس جتانا معافی مانگنا نہیں ہوتایہ صرف الفاظ کی بازیگری ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ اس نے معافی مانگی ہی نہیں بلکہ معذرت کے نام پر بھی منافقت کارڈ کھیل دیا اس لیے ہمیں سوشل میڈیا پر زیادہ جذباتی ہونے کی بجائے شعور سے کام لینا چاہیے. مگر:
"اے بسا آرزو کہ خاک شدہ”
*اینکر کی بازیگری*:سلطان علاؤ الدین خلجی "لٹیرے” تھے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے. زیرِ بحث مسئلے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ جس ڈبیٹ میں غریب نواز کی شان میں اینکر کے ذریعہ گستاخی کی گئی اس میں خلجی پر سرے سے بات چلی ہی نہیں تھی. بلکہ دور دور تک کوئی اشارہ بھی نہیں تھا تو پھر کیسے امیش نے خلجی کو چشتی کہہ دیا؟ مباحثے میں شریک ایک شخص نے جیسے ہی حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃاللہ علیہ کا نام لیا اس فرضی جرنسلٹ کا پارہ چڑھ گیا اور پھر "لٹیرا” اور "اکرانتا” (حملہ آور) جیسے توہین آمیز الفاظ کا استعمال بڑی ڈھٹائی سے کر ڈالا میری نظر میں یہ ‘معذرتی’ ٹویٹ اور ویڈیو ایک ایسی پناہ گاہ ہے جو تارِ عنکبوت سے بھی کمزور ہے اس لیے جب تک یہ گرفتار نہیں ہو جاتا اس کی کسی صفائی پر توجہ دینے کی ہمیں بالکل ضرورت نہیں ہے. اس لئے کہ یہ کراۓ کے غنڈے ہیں آج مسلمان ان کے خاص نشانے پرہیں مسلمانوں کو دیکھتے ہی نفرت کابازار گرم کرنے لگتے ہیں حالانکہ ان کی ہرزہ سرائی اور بہتان تراشی پر صداقت وحقانیت کے زناٹے دار طمانچے بھی انھیں تحفتاً ملتے رہتے ہیں لیکن یہ نفرت انگیزی اور بے حیائی کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ انہیں اصولی طمانچوں کا احساس تک نہیں ہوتاہے اس لیے اب ان کی جڑیں کاٹنا ناگزیر ہو گیا ہے اس کے لئے ہمیں منظم ومتحدہوکرکام کرنے کی ضرورت ہے
*طریقۂ کار* سب سے پہلے تو ہمیں اس ناہنجار کے خلاف زیادہ سے زیادہ ایف آئی آرکرانا ہے تاکہ بیل لیتے لیتے اس کی عمر گزر جائے۔ہندوستان کے ہر صوبے کے مسلمان اپنی سطح کے تھانے یا کورٹ میں جاکر ایف آئی آر درج کروائیں، ایک آدمی اپنے ساتھ دوچارلوگوں کو لے کر جائے اورسب اپنی جانب سے جدا جدا ایف آئی آر کرائیں اور مسلم تنظیموں کو چاہیے کہ اپنی اپنی پہنچ کے اعتبار سے ایف آئی آر درج کروائیں۔ جو تنظیم *سب ڈویژن* سطح پر کام کررہی ہے وہ اپنے *سب ڈویژن* کے تھانے کے ساتھ ساتھ SDO Court میں بھی ایف آئی آر درج کروائیں ، جو تنظیم ضلعی سطح پر کام کرتی ہے وہ DM Court میں بھی مقدمہ درج کروائے، جو صوبائی سطح کی تنظیمیں ہیں وہ High Court میں جاکر کیس کریں اورجو تنظیمیں ملکی سطح کام کر رہی ہیں وہ supreme court کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔اگر اس طور پر ایف آئی آر اور مقدمات درج کروائے گئے تو یقین مانیں کہ اس اینکر کی زندگی اور کیریئر دونوں تباہ و برباد ہوجائیں گے اور یہ دریدہ دہنوں کو سبق سکھانے کا اچھا طریقہ ہے. محب مکرم خلیفۂِ عزیز ملت حضرت علامہ سلمان رضا فریدی مصباحی نے خواجہ غریب نواز کی شان میں گستاخی کرنے والے مردود اینکر”امیش دیوگَن ” کی مذمت اور اپنے غم وغصے کا اظہار” *توہین برداشت نہیں* ” کے عنوان سے اپنے منظم انداز میں کچھ اس طرح سے کیا ہے جسے پڑھ کر آپ کی خوابیدہ رگِ حمیت یقیناً بیدار ہوجائے گی.
توہین کرنے والے ترے منہ میں خاک و آگ
اِس کی سزا دلا کے رہیں گے ہم اب تجھ
قانونی چارہ جوئ تو اپنی جگہ مگر
رسوا کرے گی خواجہ کی چشم غَضَب تجھے
یہ سارا ہند پلتا ہے ان کی پناہ میں
معلوم کیا نہیں وہ سخا اور لقب تجھے
سب حق پسند لوگوں کی ہے آواز ہے یہی
قَہرِ خدا کی مار پڑے ،، بے ادب تجھے
ہرگز نہیں گوارا یہ گستاخی اے لعین
مل کر سبق سکھائیں گے ہم لوگ سب تجھے
فَرطِ غَضَب سے چشمِ فریدی بھی سُرخ ہے
برباد اور تباہ کرے ،، میرا رب تجھے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: