مضامین

اردوودیگرزبانیں،اورفضلاءمدارس

مفتی محمداشرف قاسمی

مفتی عبدالرشیدصاحب کے ساتھ گفتگو
مورخہ27ستمبر2020ء کو شہرمہدپورکے رفقاء کی معیت میں حضرت مفتی عبدالرشید صاحب قاسمی متعنا اللہ بطول حیاتھم
(خلیفہ:محی السنۃ حضرت مولاناابرارالحق ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ)مدرسہ ضیاء العلوم، سیو،ودیشہ (ایم پی)
کی خدمت میں حاضر ہوکرحضرت سے کئی ایک موضوعات پر قیمتی باتیں سننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ساتھ ہی حضرت کی فرمائش پرمجھے بھی اپنا پرانا سبق دہرانے کا موقع ملا۔ ان میں دوباتیں قابل ذکر ہیں۔
پہلی بات :موجودہ نکبت وپستی سے مسلمانوں کے نکلنےکاراستہ.
دوسری بات: اردو ودیگر زبانیں،اورفضلاء مدارس. سطورِ ذیل میں دوسرے موضوع پر سنایاگیااپنا سبق ضبط کررہا ہوں۔
حضرت نے سوال فرمایا کہ:
"بغیر کسی تواضع کے میں اردو مضمون نویسی کے سلسلے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔چوں کہ میں نے باقاعدہ اردو کی تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔ابتدائی اردو پڑھنے کے بعد فارسی اورعربی کتابوں کی تعلیم وتدریس کاسلسلہ شروع ہوگیا ۔اب اگر میں اردو میں کوئی مضمون لکھتاہوں تو دشواری ہوتی ہے۔ عربی و فارسی کے الفاظ تحریرمیں آتے ہیں۔ اس سلسلے میں میں کیا کروں؟”
جواب. ( اس طرح حضرت کے سوال سے مجھے بہت شرمندگی ہوئی، لیکن امتحان میں کامیاب ہونے کےلیے شرمندگی کے ساتھ میں نےجواب دینے کی کوشش کی۔)
انسان کو جس زبان پر عبورہو اسی زبان میں اس کو لکھناچاہئے، آپ کی تحریروں میں عربی وفارسی کے الفاظ زیادہ اتے ہیں یہ اچھی بات ہے۔ آپ اسی انداز میں لکھیں۔ ہوتا یہ ہے کہ اگر ہمیں دوسری زبان نہیں آتی ہے، اور نامعلوم زبان کو ہم اپنی تحریر میں استعمال کریں تو کبھی ایسا بھی ہوجاتا کہ وہ نامعلوم الفاظ مضمون کی قوت کو ختم کر دیتے ہیں۔
جہاں تک عربی وفارسی الفاظ کے بجائے آپ کی تحریر میں عوامی زبان کے استعمال کی بات ہے۔تو عوامی زبان کے استعمال پر حضرت تھانوی جیسے محقق اورمصنف بھی قادر نہیں تھے۔ اس پردو مثالیں پیش کرتاہوں۔
ایک یہ کہ غالبا "حیات المسلمین” لکھتے وقت حضرت کو بہت دشواری پیش آئی۔ کہیں کہتے ہیں کہ : عوامی زبان میں لکھنے کے لیے بہت پریشانی ہوتی ہے۔ ”
دوسری کتاب "بہشتی زیور” ہے۔ اس کو عوامی زبان میں لکھنے کی کوشش کی، تو بعض ایسےعلاقائی الفاظ اس میں آگئے ہیں جن کے معانی دنیا کی کسی ڈکشنری اور لغت میں بھی شاید نہیں ملتے ہیں۔ جب کہ وہ کتاب بعض دُور الافتاء میں بطور نصاب کے پڑھائی جاتی ہے۔ حضرت کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ بہشتی زیور اتنی مقبول ہوگی کہ وہ دنیا کے تمام بر اعظموں میں پڑھی جائے گی اور افتاء کے نصاب میں شامل کر لی جائے گی۔
آج جب ہم علمی زبان استعمال کریں گے تو کپوٹرائزڈ اور جدید ذرائع سے دنیاکی تقریباتمام زبانوں میں ان علمی تحریروں کے صحیح ومناسب تراجم ہوسکتے ہیں۔
لیکن اگر عوامی اور علاقائی زبان کو استعمال کریں گے تو تحریر کی قوت کمزور ہوگی، ساتھ ہی اس کی افادیت محدود ہوجا ئے گی۔ اور جدید طریقہ سے صحیح ترجمانی مشکل ہوگی۔
آپ کی کمزوری یہ نہیں ہے کہ آپ نے اردو کتابوں کی تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔ بلکہ جدید اردو پر دسترس میں کمزوری کی وجہ یہ ہے کہ آپ حضرت تھانوی علیہ الرحمہ کی کتابوں کامطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ اورحضرت تھانویؒ کی تحریروں میں عربی وفارسی الفاظ اس طریقے پر استعمال ہوئے ہیں کہ ان کی تحریریں اپنے قاری کو جدید اردو سے دور اور قرآنی عربی سے قریب کردیتی ہیں۔
حضرت تھانوی کی کوئی کتاب اس وقت جدید اردو کے مطابق نہیں ہے۔
صرف "بیان القرآن”کے ترجمہ وخلاصہ میں اردو کی چاشنی اورسلاست ہے۔ اوریہ سلاست و چاشنی حضرت کی کوشش اور اردو دانی کی وجہ سے نہیں ہے۔ بلکہ من جانب اللہ بطور کرامت حضرت سے ایسی اردو لکھوائی گئی۔ بیان القرآن کی اردو تو جدید اردو کے مطابق ہے، لیکن اس میں جلالین وبیضاوی جیسی جامعیت ہے، اسی لیے عام اردوداں طبقہ اردو سے واقف ہونے کے باوجود بغیر کسی عالم کی رہنمائی کے بیان القرآن کو علی وجہ البصیرت نہیں سمجھ سکتاہے۔
بچپن میں مجھے اشکال ہوتا تھا کہ حضرت تھانوی علیہ الرحمہ نے ایک تو قرآن مجید کا اردوترجمہ لکھا۔ پھر بار باراپنی دوسری تحریروں اور ملفوظات میں ایسا کیوں کہتے ہیں کہ عوام ترجمۂ قرآن کسی عالم سے پڑھیں۔ جب عالم سے پڑھنالازم ہے تو اردو ترجمہ کیوں لکھا؟
لیکن بعد میں اس کی جامعیت کو دیکھنے کے بعد احساس ہوا کہ جس طرح عربی سے واقفیت کے باوجود کسی عالم سے ہم جلالین اور بیضاوی پڑھتے ہیں،اسی طرح اردو سے واقفیت کے باوجود عام مسلمانوں کو بیان القرآن کسی عالم سے پڑھنی چاہیے۔
بیان القرآن اردو میں ہونے کے باوجود اردو داں طبقہ کے قابو سے باہر ہے۔ کسی عالم نے اس کی تسہیل کرتے ہوئے "آسان بیان القرآن” کتاب لکھی ہے۔ لیکن انھوں نے پورے "بیان القرآن” کو کی روح نکال دی ہے۔
اور دوسری بات آپ یا کسی عالم کو اردو کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ کیوں کہ دنیامیں عربی کے علاوہ تمام زبانیں ناقص ہیں اور برابر ارتقائی مراحل سے گذر رہی ہیں۔ اور کبھی بھی کوئی زبان کامل نہیں ہوسکتی ہے۔یہ صرف عربی کی خصوصیت ہے کہ وہ کامل و مکمل زبان ہے۔ اس سے ملتی جلتی دوسری زبانیں پیدا ہوتی رہیں گی اور پھرعربی میں ضم ہوجائیں گی۔ لیکن سو سال پہلے لکھا گیا اردو کا سرمایہ آج کے اردو داں طبقہ کے فہم سے باہر ہے اور آج جو سرمایہ اردو میں جمع کیا جارہا ہے، وہ سو پچاس سال کے بعد پیدا ہونے والے اردوداں طبقہ کی گرفت سے باہر ہوگا۔ اس لیے ہمیں اپنا سرمایہ اردو کے بجائے بروقت رائج زبان ہندی، گجراتی،مراٹھی،کنڑ، ملیالم، بنگالی، تیلگو، انگریزی یا عربی میں جمع کرنا چاہئے۔
ہمارے مدارس میں اردو پڑھائی جاتی ہے۔لیکن قدیم اردو کے قیمتی سرمایہ سے نئے اردوں داں طبقے کا رشتہ بالکل منقطع ہوچکا ہے۔
اس کی ایک مثال یہ ہےکہ اسکول کالج کافارغ اردودان طبقہ حضرت تھانوی علیہ الرحمہ اور ہمارے دیگر بزرگوں کی کتابوں کو نہیں سمجھ پاتا ہے۔
دوسری مثال میں آپ کے سامنے بیٹھے ان جوان طلباءکو پیش کرتا ہوں۔
تپائی پر رکھی حضرت تھانوی علیہ الرحمہ کے ملفوظات پر مشتمل ایک کتاب”ملفوظات حکیم الامت،مسمی بہ، الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ ".”مکتبہ دانش،دیوبند،سن طباعت 1999ء” میں نے اٹھا یا اور کہا یہ طلباءرات دن اردو پڑھتے ہیں۔ لیکن آپ کے سامنے میں یہ دکھاوں گاکہ یہ طلباء اس کتاب کی ایک سطر بھی نہیں سمجھ سکتے ہیں۔
چنانچہ حضرت والا نے بخوشی اجازت دی کہ یہ کتاب بچوں کو پیش کرو۔
میں نے عالمیت درجہ اول کے ایک جواں عمر ، صاحب ریش، طالب علم کے سامنے وہ کتاب کھول کر رکھ دی اورکہا کہ کتاب سےایک سطر پڑھ کرمطلب بتاؤ۔
طالب علم ایک صفحہ پر پہلی سطر کا نصف حصہ پڑھا جس میں تھا "اشد طریقہ اہل شبہات”
اس میں "شبہات” کو صحیح نہیں پڑھ سکا۔ میں نے اس کو سب کے سامنے قرأت کی غلطی پر ٹوکا۔
پھر "اشد۔ طریقہ، اہل، شبہات، ”
کا مطلب پوچھا تو جواں عمر ، صاحب ریش،عالمیت درجہ اول کاطالب علم (جس نے اردو اور ایک سال فارسی پڑھی تھی۔)اس اردو عبارت کا مطلب نہیں بتا سکا۔
ہم نے کہا کہ یہ کتاب باقاعدہ کوئی تصنیف نہیں ہے۔ بلکہ بولی ہوئی عام فہم گفتگو ہے۔ تصنیفات کی زبان مزید علمی ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے بزرگوں کے قدیم اردو ملفوظات کو بھی آج کایہ اردو داں طبقہ نہیں سمجھ پارہاہے۔ تو عام مسلمانوں سے کیسے امید کی جائے کہ وہ اردو سیکھ کرپرانے بزرگوں کی کتابوں کو سمجھیں گے یا ہماری اردو کو سو پچاس سال کے بعد پیدا ہونے والے مسلمان سمجھیں گے؟
اگر ہمارے بزرگوں کی کتابیں عربی میں ہوں تو وہ ہمیشہ پڑھی اور سمجھی جائیں گی۔
ضرورت یہ ہے کہ ہم علاقائی وعلمی زبانوں، ہندی ، گجراتی، مراٹھی، انگریزی اوراردو کے بجائےاسلام کی زبان عربی کی تعلیم پر زور دیں۔ اس کے کئی فائدے ہوں گے۔
پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ مدارس کے فضلاء چوں کہ سب سے زیادہ دین و ملت کے لیے مخلص اور ایکٹوِسٹ ہوتے ہیں۔ اگر وہ ہندی، انگریزی زبانی سیکھ جائیں، تو دعوت وتبلیغ کی لہر چل پڑگی۔ اخلاص وللہیت کی وجہ سے یہ فضلاء ہر مقام بس، ٹرین، ہسپتال،کورٹ، ہوٹل،پکنک پوائنٹ،سوشل میڈیاوغیرہ پر اسلام کی دعوت، نقابت و ترجمانی کریں گے۔ لیکن زبان نہ جاننے کی وجہ سے یہ خاموش رہتے ہیں۔
اسی کے ساتھ عربی زبان بھی زندہ ہوگی۔ اردو زبان عربی کے لیے بطور زینہ مسلمانوں نے اختیار کی ہے لیکن اب حال یہ ہے کہ اردو عربی کو دبا رہی ہے۔اردو نے مسلمانوں کو عربی سے دور کردیا ہے۔ اردو زبان نہ دعوت میں مفید ہے۔ نہ اس میں عصری علوم کا سرمایہ ہے۔ اور ہر سو پچاس سال کے بعد بزرگوں کے قدیم سرمایہ سے ہماری نسلوں کا رشتہ منقطع ہوتا رہتا ہے۔ پھر اس مردہ نعش کودین کے نام پرہم کندھے پر رکھ کر کیوں گھوم رہے ہیں؟
ابھی حکومت کی طرف سے اردو کے تعلق سے مایوس کن تعلیمی ڈرافٹ آیا ہے، اسی کے ساتھ مشرکانہ اورکفریہ نظریات ،رسوم واعمال پر مشتمل ہدایات بھی آئی ہیں۔ (نیزدوسری طرف ہماری املاک خصوصا اوقاف کوہڑپنے کی کوشش کی جارہی ہے)
اس موقع پر دین وایمان، عزت وآبرو اور املاک کے بجائے اردوکو بچانے کی آوازیں بہت زور و شور سے اٹھائی جا رہی ہیں۔ اور ان میں فضلاء مدارس بڑی درد مندی کے ساتھ شامل ہورہے ہیں۔ جب کہ اردو کے نام پر ملنے والی مراعات اور امداد سے فضلاء مدارس کے بجائے مختلف سرکاری اکیڈمیز میں آزاد خیال،دین بیزار افراد زیادہ مستفید ہوتے ہیں۔
مسجد وں کو صنم خانوں میں تبدیل کرنے کے لیے ملک کی پسماندہ اقوام ہراول دستے کے طور پر کوششںیں اور قربانیاں پیش کرتی ہیں۔ لیکن جن صنم خانوں کے لیے وہ لڑائی لڑتی ہیں ان کی تعمیر کے بعد بھی ان میں جاروب کشی کے علاوہ ان تعمیرات سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے،بلکہ وہ جتنی قربانی اور بلی پیش کرتی ہیں ان کی غلامی میں اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے۔ اردو کے سلسلے میں فضلاء مدارس کی کو ششیں پسماندہ اقوام کی ان نامراد کوششوں سے مختلف نہیں ہیں۔ کیوں کہ فضلاء مدارس کی صدائے احجاج سے جاری ہونے والی مراعات کاکوئی فائدہ فضلاء مدارس کو نہیں ملنے والا ہے۔”
بعد میں دسترخوان پرحضرت نے فرمایا کہ : "اردو کے سلسلے میں تھوڑا اپناموقف درست کرلیں۔کیوں کہ دین کے افہام وتفہیم میں اردو کی افادیت بہر حال مسلّم ہے۔”
جواب: افادیت کا انکار نہیں ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ
1.اردو اسلام کی زبان عربی کو دبا رہی ہے، بلکہ عربی کے برابر میں آگئی۔
2.اس زبان میں ہمارا جو سرمایہ جمع ہورہا ہے،وہ سو پچاس سال کے بعد ناقابل استفادہ ہوجائے گا۔
3۔ اس زبان کی وجہ سے دعوتی زبانیں ہمارےمدارس میں بالکل نہیں سیکھی اور سکھائی جارہی ہیں۔ امداد الفتاوی میں حضرت تھانوی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ علماء پر سنسکرت زبان سیکھنا فرض کفایہ ہے۔ پورے ہندوستان میں ایک بھی مدرسہ میرے علم میں نہیں ہے جہاں علماء کو سنسکرت زبان سکھائی جاتی ہو؟!

ایک بڑے عالم نے مجھے بتایا کہ پورے گجرات میں شاید کوئی ذی استعداد عالم ایسا ہو کہ وہ اچھی گجراتی زبان میں تقریر کرنےاور مضامین لکھنے پر قدرت رکھتا ہو۔
نیپال کی رپورٹ ہے کہ وہاں علماء حق جو کہ ہندوستان کے مدارس سے اردو میں تعلیم حاصل کر کے جاتے ہیں، وہ وہاں نیپالی زبان میں لکھنے پڑھنے اور بولنے پر قادر نہیں ہوتے ہیں، جب کہ آرایس ایس خیال کے لوگوں نے پورے ملک میں نیپالی زبان میں اسکول شروع کردیا ہے۔
کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑے گا۔”
دعوت وتبلیغ اورعربی زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے اگر اردو چھوڑدیں۔ تو کوئی نقصان کی بات نہیں ہے۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے فرمایا ہے کہ "مسلمانوں نے فارسی اس لیے سیکھی تھی کہ اس میں عصری علوم تھے۔ پھر فارسی میں کافی اسلام کا سرمایہ جمع ہوگیا۔ لیکن بعد میں مسلمانوں نے فارسی زبان کو چھوڑ کر اردو لے لی۔ اسی طرح آج ضرورت ہے کہ دعوت اور عصری علوم کی تحصیل کے لیےمسلمان انگریزی سیکھیں۔ ”
بعد میں حضرت مفتی صاحب نے انگریزی اور ہندی کے لیے درسی کتب کے بارے میں مشورہ طلب فرمایا۔ تو راقم الحروف نے عرض کیا کہ:
اس وقت اپنی مولوی برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ ہندی انگریزی کی جو درسی کتب لکھتے ہیں ان میں عموماً تدریج اور طلباء کی نفسیات کا لحاظ نہیں ہوتا ہے۔ جب کہ سرکاری کتب میں تدریج اور بچوں کی نفسیات کی پوری رعایت کی جاتی ہے۔ مدارس کے لیے انگریزی کی پرائمری بُکس، حکومت مہاراشٹراکے محکمہ تعلیم کی زیادہ بہتر رہیں گی۔ کیوں کہ ان کی شروحات ، گائد وغیرہ اردو میں دستیاب ہوتی ہیں۔ اور زبان بھی معیاری ہوتی ہے۔
اگر وہاں سے کتب کی دستیابی دشوار ہو تو ایم پی گورنمنٹ کی طرف سے تیار کی گئی انگریزی کتب کی تعلیم بھی دی جاسکتی ہے۔ یہاں کی جنرل انگلش بکس میں بہت زیادہ آسان زبان کا استعمال ہواہے۔ اور ان کی گائڈ اردو کے بجائے ہندی میں دستیاب ہیں۔
ہندی کے لیے”ہماری پوتھی”
کتاب بہت اچھی ہے، اس کے آخرمیں الفاظ کے اردو معانی دیوناگری رسم الخط میں لکھے گیے ہیں۔ نیز بچوں کی نفیسات ، تدریج کی رعایت کے ساتھ ہی دینی فکر کی آمیزش ایسی کی گئی ہےکہ اس سلسلۂ کتب کو پڑھ کر ذہن دین کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ فقط
کتبہ:
محمد اشرف قاسمی،
خادم الافتاء شہر مہدپور، ضلع: اجین ایم پی۔

27ستمبر2020ء
بوقت واپسی7بجے شام۔شاجاپور سے26کلومیٹر قبل،ضلع شاپور۔ایم پی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close