اسلامیات

خلیفہ اول،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

*خلیفہ اول،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ*

*عبدالعلیم بن عبدالعظیم الاعظمی*

افضل البشر بعد الانبیاء ،محرم اسرار نبوت ، یار غار ، سب سے پہلے نبیوں کی تصدیق کرنے والے ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ کی پیدائش ھجرت نبوی کے پچاس سال قبل ، عام الفیل کے دو برس چھ ماہ بعد 573 عیسوی کو مکہ منورہ میں ہوی ، آپ کا نام عبداللہ ، کنیت ابوبکر ، لقب صدیق و عتیق ہے ، آپ کے والد محترم کا نام ابو قحافہ عثمان اور والدہ محترمہ کا ام الخیر سلمہ تھا ،آپ قریش کے خاندان بنو تمیم سے تھے ، سلسلہ نسب چھٹی پشت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے ۔
قبل از اسلام :-
اسلام سے قبل حضرت ابوبکر کا شمار مکہ کے مشہور تاجروں میں ہوتا تھا ، آپ کی امانت داری و دیانت داری زبان زد تھی ، اھل مکہ آپ کو علم ، تجربہ اور حسن خلق کے باعث نہایت معزز لوگوں میں شمار کرتے تھے ، ایام جاھلیت میں خون بہا کا مال آپ کے یہاں ہی جمع ہوتا تھا ، ھجرت حبشہ کے موقع پر ابن الدغنہ نے فرمایا :
"تم سا آدمی جلا وطن نہیں کیا جاسکتا ہے ، تم مفلس و بے نوا کی دست گیری کرتے ہو ، قرابت داروں کا خیال رکھتے ہو ، مہمان نوازی کرتے ہو، مصیبت زدوں کی اعانت کرتے ہو ”
قبل از اسلام ہی حضرت ابو بکر کو شراب سے نفرت تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کے رفقاء میں سے تھے ، آپ سے خاص لگاو تھا ، اکثر تجارتی سفر میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت حاصل ہوی، مورخین کے مطابق آپ ایمان لانے والوں میں سے پہلے شخص تھے ،بعض مورخین نے پہلے اسلام لانے والے شخص کے سلسلے میں وارد ہونے والی مختلف روایتوں کو اس طرح جمع کیا ہے کہ آزاد بالغ مردوں میں حضرت ابو بکر ، عورتوں میں حضرت خدیجہ ، بچوں میں حضرت علی ، اور غلاموں میں حضرت زید بن ثابت سب سے پہلے ایمان لائے تھے ۔
مکی زندگی :-
اسلام کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں کفار مکہ کے ظلم وستم کو برداشت کرتے ہوئے اشاعت اسلام کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ، صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مکی زندگی میں جان ، مال ، رائے مشورہ ، ہر حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست وبازو اور غم وراحت میں شریک رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزآنہ صبح وشام آپ کے گھر تشریف لے جاتے تھے ،جہاں مجلس لگتی تھی ،عام مجموں میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ علم الانساب میں مہارت کی وجہ سے لوگوں سے آپ کا تعارف کراتے تھے ،آپ کی دعوت اسلام پر حضرت عثمان بن عفان ، حضرت زبیر ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ،حضرت سعد بن وقاص اور حضرت طلحہ وغیر ایمان لائیں، مکی زندگی میں نو مسلمین میں سے سب سے زیادہ غلاموں پر ظلم و ستم کیا گیا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے بہت سے غلاموں کو ان کے مالکوں سے خرید کر ظلم و ستم سے آذاد کردیا ،جن میں حضرت بلال ، عامر بن فہیرہ ، نذیرہ، نہدیہ ، جاریہ ، بنی موئل اور بنت ہندیہ وغیرہ آپ ہی کے ذریعے کفار کے ظلم وستم سے نجات پائے۔
کفار مکہ کے ظلم و ستم سےآپ بھی محفوظ نہیں تھے، کفار کے ظلم و ستم پر خاندان والے بھی آپ کی حمایت نہیں کرتے تھے، آپ نے کفار کی اذیتوں کی وجہ سے حبشہ کی جانب ہجرت کی، لیکن ابھی مقام برک الغمام پہنچے تھے کہ ابن الدغنہ نے امان دے دیا ،اور قریش نے اس کے امان کو قبول بھی کرلیا ، جس کی وجہ سے سے آپ نے ہجرت حبشہ کو ملتوی کردیا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی اجازت ملی تو آپ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ میں شریک تھے ، مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم کیا ، آپ مکہ کے مشہور شخص حارث بن زہیر کے بھائی قرار دیئے گئے ۔
مدنی زندگی اور غزوات :-
ھجرت مدینہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد تعمیر کرنے کا خیال پیدا ہوا، اس کے لئے جو زمین تجویز کی گئی وہ دو یتیم بچوں کی تھی اگرچہ وہ دونوں بغیر عوض دینے کے لئے تیار تھے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دلوا دی ، ہجرت مدینہ کے بعد فتح مکۃ تک خوں ریز جنگوں کا سلسلہ جاری رہا ان تمام غزوات میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ شریک رہے ہیں، غزوہ بدر میں آپ نے شجاعت و یامردی کا مظاہرہ کیا تھا ، شکست کے بعد 70 قیدیوں کے متعلق آپ صلی علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے مشورہ لیا تھا ،آپ کی رائے رحمت و تطلف کی تھی ، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند کیا تھا ، غزوہ احد میں ابتدائی فتح کے بعد جب کفار غالب ہوگئے تھے تو بہت سے مسلمان کے پائے ثبات متزلزل ہوگئے تھے لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ آخر وقت تک ثابت قدم رہے ہیں، غزوہ بنو مصطلق ، خیبر، حنین ،طائف اور حدیبیہ وغیرہ تمام غزوات میں شریک رہے ہیں ، سن 9ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو امارت حج کے منصب پر مامور فرمایا 10 ہجری میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے لئے تشریف لے گئے تو آپ بھی ہمرکاب تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں آپ کے حکم سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو سترہ نمازیں پڑھانے کا شرف حاصل ہے۔
خلافت اور فتوحات:-
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی پیش قدمی پر سقیفہ بنی ساعدہ میں صحابہ کرام نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر بیعت کی ، دوسرے دن مسجد نبوی میں عام بیعت ہوئ ، ربیع الاول 12 ھجری میں حضرت ابوبکر صدیق رضلی اللہ عنہ مسند خلافت پر متمکن ہوئے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد قبائل عرب میں بغاوت کا آغاز ہوگیا تھا، مختلف علاقوں میں مدعیان نبوت کھڑے ہوگئے تھے، بعض قبائل نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا، صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے سب سے پہلے ان تمام آپسی خانہ جنگیوں کے باوجود حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے لشکر کو رومیوں کے مقابلے میں روانہ کیا ، چالیس دن بعد یہ لشکر اپنا کام پورا کرکے فاتحانہ مدینہ لوٹا۔
مدعیان نبوت کے خاتمہ کے لئے خالد بن ولید ، اور شرجیل بن حسنہ کو الگ الگ لشکر دیکر روانہ کیا ،چند معرکوں کے بعد مدعیان نبوت کا قلع قمع ہو گیا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد خلافت میں عراق فتح ہوا، سن 13 ھجری میں شام پر لشکر کشی کی گی ، اور اس کے ہر ہر علاقے پر علاحدہ علاحدہ فوجیں روانہ کی گیئں ، دمشق کی فوج پر یزید ابن ابی سفیان کو حمص کی فوج پر ابو عبیدہ بن جراح کو، اردون کی فوج پر شرجیل بن حسنہ کو اور فلسطین کی فوج پر عمرو ابن العاص کو افسر مقرر کیاگیا، ان تمام لشکر پر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار اعظم مقرر کیا، شام کی فتوحات میں سے بصری اجنادین وغیرہ عہد صدیقی میں فتح ہوئے تھے ، جبکہ فلسطین پر مورچہ بندی ، اور دمشق پر محاصرہ کے دوران آپ رضی اللہ ہو تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو گیا تھا کارنامے:-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ نے اپنے قلیل مدت خلافت کے باوجود لازوال کارنامے انجام دئے ہیں ما قبل میں جنگی کارناموں کی تفصیل گزر چکی ہے، آپ نے نظام خلافت کے سلسلے میں مختلف شعبے قائم کئیں ، ملکی نظم و نسق کا انتظام کیا، حکام کی برابر نگرانی کرتے رہے ہیں ، ملک عرب کو مختلف ضلعوں اور صوبوں میں تقسیم کیا، جن پر مختلف عمال وغیرہ منتخب کئے ، آپ نے اپنے آخری دور خلافت میں ما لی انتظام کے لئے بیت المال قائم کیا ، فوجی نظام کو استوار کیا، الگ الگ دستوں پر الگ الگ افسر مقرر کئیں، اور ان پر کسی ایک کو سپہ سالار اعظم مقرر کیا ،نظام فوج کے لئے فوجی چھاؤنیاں قائم کیں ، فوج کے لئے رسد و اسلحہ کا انتظام کیا، محکمہ افتاء قائم کیا ،نیز اشاعت اسلام ، بدعات کے سد باب وغیرہ میں بھی آپ کی لازوال خدمات ہیں ، اسی کے ساتھ ساتھ آپ نے قرآن پاک کے مختلف اجزاء کو ایک مصحف کی شکل میں جمع کیا تھا۔ اخلاق :-
آپ کے اعلی اخلاق اور عمدہ کردار کے قائل زمانہ جاہلیت میں کفار بھی تھے ، آپ کے تقوی ، زہد ، انکساری ، انفاق فی سبیل اللہ ، خدمت خلق ، مہمان نوازی ، یتیموں اور بیواوں کی خدمت گزاری ،اور رعایا کی خبر گیری وغیرہ کیں خاص شہرت تھی،
وفات، وصیت اور ازواج و اولاد:-
مرض الوفات میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنا جانشین بنایا ،حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو امور خلافت کے متعلق مختلف نصیحتیں کیں، دو شنبہ کا دن گزارکر ، منگل کی رات ،جمادی الاخر، سن 13 ھجری میں ترسٹھ برس کی عمر میں آپ کا وصال ہوا ، وصیت کے مطابق رات ہی کے وقت تجہیز و تکفین کا انتظام کیا گیا ، حضرت اسماء بنت عمیس نے آپ کو غسل دیا ،عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر حضرت طلحہ اور حضرت عمر نے قبر میں اتارا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں مدفون ہوئے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے مختلف اوقات میں متعدد نکاح کئیں، جن سے مختلف اولادیں ہوئیں ، حضرت اسماء اور حضرت عبداللہ ،حضرت قتیلہ کی اولاد ہیں ، حضرت عائشہ اور حضرت عبدالرحمن ،حضرت ام رومان کی اولاد ہیں، محمد بن ابو بکر حضرت اسماء بنت عمیس کے بطن سے ہیں ، اور حضرت ام کلثوم حضرت حبیبہ بنت خارجہ کی اولاد ہیں ۔
ماخوذ :-خلفاء راشدین از حاجی معین الدین ندوی ، صدیق اکبر مولانا سعید صاحب اکبرآبادی ، تاریخ اسلام از شاہ معین الدین احمد ندوی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: