مضامین

دھرم۔ ویر کی جوڑی

(ڈاکٹر دھرم سنگھ کی تیسری برسی 27/جولائی 2020 ؁ء کے موقع پر) راج شیکھرپاٹل اشٹور۔ موبائل:۔9448128346

شری دھرم سنگھ اور شری ملیکارجن کھرگے جیسے سیا ست دانوں کی معروف جوڑی جو حیدرآباد کرناٹک (اب کلیان کرناٹک) علاقہ سے تعلق رکھتی ہے، اس جوڑی کاسیاسی سفر 1972سے شائستہ انداز میں شروع ہوا۔ اور 45سال کے طویل عرصہ پر محیط رہا کیونکہ 27جولائی 2017کو سابق چیف منسٹر دھرم سنگھ اس جہاں سے آنجہانی ہوگئے تھے۔
مجھے یقین ہے کہ یہ نہ صرف کرناٹک میں بلکہ پورے ملک میں ایک مثال ہے کہ جہاں ایک ہی پارٹی میں ایک ضلع کے دو بڑے سیاست دان شامل تھے۔ اتنے لمبے عرصہ تک ان کی انتخابی فتوحات نے ان کے قدکو برقرار رکھنے میں مددکی۔ جب کہ اِن دونوں کاکوئی سیاسی پس منظرنہیں تھا۔ کیااب کبھی آئندہ ایسا ہوسکتاہے؟ایسی جوڑی وجود میں آسکتی ہے؟
خراج تحسین:۔سابق وزیر اعلیٰ این دھرم سنگھ کا انتقال آج ہی کے دن تین سال قبل ہوا۔ پیشہ کے اعتبار سے وکیل کہلانے والے قانون داں نے گلبرگہ میں اپنی پریکٹس شروع کی۔ سیاست میں باضابطہ حصہ لینے سے پہلے وہ شاہ بازار وارڈ گلبرگہ کے کونسلر بن چکے تھے۔ 1972؁ء میں پہلی دفعہ انھوں نے جیورگی سے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا۔اور زیادہ ووٹوں کے فرق کے ساتھ مہادیوپا رامپورے بانی صدر ایچ کے ای سوسائٹی اور سابق ایم پی آف گلبرگہ کو شکست دی۔ دھرم سنگھ نے جیورگی حلقہ سے ریکارڈ 8مرتبہ اسمبلی میں نمائندگی کی۔2008میں انہیں ناقابل یقین شکست کاسامناکرناپڑا۔ 100ووٹوں سے بھی کم فرق کے ساتھ بی جے پی کے ہاتھوں انھوں نے شکست کھائی۔اس طرح ریاستی اسمبلی میں ان کا36سالہ طویل مگر نمایاں سفر اپنے اختتام کوپہنچا۔ جس کے دوران انھوں نے سال 2004-06تک وزیراعلیٰ کی حیثیت سے 20ماہ ریاست کے سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے جنتادل (یس) کے اشتراک سے پہلی متحدہ حکومت کی سربراہی کی۔ جنتادل ایس ان کی جونیئر پارٹنر تھے۔اتنا ہی نہیں وہ 1980کو گلبرگہ لوک سبھا کے رکن کی حیثیت سے منتخب ہوئے لیکن کانگریس پارٹی نے حلف اٹھانے سے پہلے ہی انھیں استعفیٰ دینے کوکہہ دیا۔ کانگریسی قائد سی ایم اسٹیفن جنرل سکریڑی اے آئی سی سی جو وزیراعظم اندراگاندھی کے قریبی مانے جاتے تھے وہ 1980کا انتخاب نئی دہلی سے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے Slender Margin سے ہارگئے تھے۔ ان کاتعلق کیرلہ سے تھا۔ دھرم سنگھ کے استعفیٰ کے بعداسٹیفن نے گلبرگہ سے ضمنی الیکشن لڑا اور انتخاب جیت لیا۔ بعدازاں انھیں وزیر برائے یونین مواصلات بنایاگیا۔ جس کے سبب ڈیجیٹل الیکٹرانک ٹیلی فون ایکسچینج گلبرگہ میں قائم ہوا۔ ایسا پہلی دفعہ گلبرگہ میں ہوااس سے پہلے بنگلور شہر میں یہ ایکسچینج قائم تھا۔
اسمبلی میں گذارا طویل عرصہ:۔1972سے 2008تک کا عرصہ دھرم سنگھ نے اسمبلی میں گذارا۔ دوسری مرتبہ 1978میں جیتنے کے بعد اور 1980میں دیوراج ارس حکومت کے خاتمہ کے بعد وہ آرگنڈوراؤ کی حکومت میں پہلی دفعہ وزیر بنائے گئے۔ تب سے 2004تک وہ ریاست کی ہر کانگریس حکومت میں وزیر رہے۔ سوائے ویریندر پاٹل حکومت کے 10ماہ جو سال 1989-90کے درمیان گذرے۔دھرم سنگھ تقریباً تمام اہم قلمدانوں پر فائزرہے۔ مثلاً شہری ترقیات، سماجی فلاح وبہبود، ایکسائز، وزیر داخلہ، محکمہ تعمیرات عامہ وغیرہ۔ ایس ایم کرشنا حکومت میں وہ ساڑھے چار سال سے زائد عرصہ تک پی ڈبلیو ڈی وزیر رہے۔ اس وقت انھوں نے بیدر۔ سری رنگاپٹن ریاستی شاہراہ کو ترقی دیتے ہوئے اسے ریاست کے دارالخلافہ بنگلور سے جوڑا۔ دوسرااہم کام وکاس سودھا کی تعمیر رہا جو بنگلور ودھان سودھا کے کمپلکس میں تعمیر کیاگیا۔ وہ سال 2006-08کے درمیان جنتادل یس۔ بی جے پی حکومت میں ریاستی اسمبلی کے حزب اختلاف کے رہنمارہے۔1996-98کے درمیان جس وقت دیوے گوڈا وزیر اعظم تھے وہ ریاستی کانگریس پارٹی کے صدرتھے۔
ناقابل ذکر کامیابی:۔1996میں وزیراعظم منتخب ہونے پر رام نگر اسمبلی سیٹ سے دیوے گوڈا نے استعفیٰ دے دیاتھا جس کی بناپر وہاں ضمنی انتخابات ضروری ہوگئے۔ فلم اداکار سے سیاست دان بننے والے آنجہانی امبریش نے اس رام نگر سیٹ سے جنتادل امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑالیکن کانگریس کے امیدوار لنگپا سے شکست کھائی۔ اس وقت جنتادل ریاست اور مرکز دونوں جگہ اقتدار میں تھی۔ دھرم سنگھ کے پی سی سی کے صدر تھے۔وزیراعظم کی زیرقیادت لڑی گئی نشست کے خلاف دھرم سنگھ کی قیادت میں کامیابی حاصل کی گئی جو ایک قابل ذکر کامیابی تھی۔لیکن اس کوان کی کامیابی میں بوجوہ شامل نہیں کیاجاسکا۔
ریاست کا سب سے اعلیٰ عہدہ وزیر اعلی ٰ کرناٹک:۔ریاست کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے انھوں نے اپنی تمام ترتوانائیاں متحدہ حکومت کو متوازن رکھنے میں 20ماہ تک لگادیں۔ یہ 20مہینہ کاعرصہ خود ایک قابل ذکر کامیابی ہے۔ انہیں اس دوران میں انتہائی ہوشیار اور سخت ترین سودے بازی کرنے والے لوگوں سے نمٹناپڑاتھا۔جن پر یہ شعر صادق آتاہے۔
کس کی بنائی ہوئی تصویر ہے یہ لیکن
سرپہ تو تاج ہے پیروں میں زنجیر ہے
بیدر کے لئے تحفہ:۔۱۔ میڈیکل کالج۔ انھوں نے بیدر میں نئے میڈیکل کالج کو منظور کرانے میں MCIکی ٹیم کوراضی کیا۔ اور اس ٹیم سے کہاکہ جہاں کہیں ضرورت ہوگی میں خود اس معاملے کو دیکھنے کے لئے حاضر رہوں گا۔ ۲۔13سال کا طویل وقفہ اور 5انتخابات کے بعدبی جے پی کو شکست دے کر بیدر پارلیمانی سیٹ پر کانگریس کی کامیابی کاحصول۔۳۔ اس کالم میں جگہ کی قلت ہے ورنہ افراد اور اداروں کی ایک طویل فہرست ہے جس کو دھرم سنگھ نے بنایا اورانھیں ترقی دی، اس کا یہاں ذکر نہیں کیاسکے گا۔
بیدر کے رکن پارلیمنٹ 2009-14:۔جس وقت وہ ریاست کے وزیراعلیٰ تھے، تب پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں کی نئی حدبندی De-limitation کا عمل ملک بھر میں شروع ہوچکاتھا۔ وہ ایک بیدار مغز سیاست دان تھے۔ اور اس بات سے واقف ہوچکے تھے کہ گلبرگہ پارلیمانی سیٹ کو محفوظ زمرے میں لیاجائے گااور بیدر کی پارلیمانی نشست جنرل کردی جائے گی۔ ا ن کی نگاہیں بیدر پارلیمانی نشست پر تھیں۔اتفاق کی بات یہ ہوئی کہ وہ 2008کااسمبلی انتخاب جیورگی سے ہار گئے۔ ایک سال کے اندر انہیں بیدر پارلیمانی حلقہ سے انتخاب لڑنے کاموقع ملا۔ پورے بیدرضلع میں ان کے بہتر تعلقات تھے اوردوستوں کا وسیع حلقہ تھا۔ اور وہ ایک اونچے قد کے امیدوار تھے۔ سابق وزیراعلیٰ کرناٹک ہونابھی ان کی جیت میں مددگار ثابت ہوا۔ ایک ویژن کے ساتھ کام کرنیکاجوش ان میں تھا لیکن صحت نے ان کاساتھ نہیں دیا۔ان کاخواب تھاکہ وہ مرکزی وزیر بنیں۔ دو سابق چیف منسٹر ویرپا موئیلی اور ایس ایم کرشنا اور اسی وقت ایک دبنگ قائد ملیکارجن کھرگے مرکز کی من موہن سنگھ حکومت یوپی اے۔IIمیں مرکزی وزیر تھے اسلئے انہیں موقع نہیں تھا لیکن وہ بیدر تاحیدرآباد انٹرسٹی ٹرین اوربیدر تا یشونت پور(بنگلور) ایکسپریس ٹرین حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ آرٹیکل 371(J)کی منظوری کے لئے بھی ان تھک محنت کی، سب کو پتہ تھاکہ ملیکارجن کھرگے کی قیادت میں وہ اس کاز سے جڑے ہیں۔ یہ وہ کام تھاجس کو NDAحکومت نے مستر دکردیاتھا۔ خصوصاً علاقہ حیدرآبادکرناٹک کو ملنے والی ان مراعات کو دراصل اس وقت کے وزیرداخلہ ایل کے اڈوانی نے مسترد کیاتھا۔
منفرد شخصیت:۔دھرم سنگھ عوام سے جڑی منفرد شخصیت تھے۔ پارٹی کے زمینی کارکنان، اور عوام ان کے دفتر میں جمع ہوتے۔ ان کی رہائش گاہ اور ان کے دوروں کے موقع پر گلبرگہ اور بیدر میں بھی ان سے لوگ ملتے۔ وہ روزانہ کئی ایشوز پر عوام سے ملتے۔ تعلقہ سطح کے افسران سے وزراء تک کو وہ فون کرتے اور متعلقہ لوگوں کے مسائل حل کرتے۔ کئی ایک موجودہ سیاست دان دھرم سنگھ جیسی کامیابی کے خواب دیکھتے ہیں لیکن یہ ایک مشکل کام ہے۔دھرم سنگھ صاحب اردو شعروشاعری کے بڑے شوقین تھے، یہ شعر ان کے حوالے سے خواب دیکھنے والے سیاست دانوں کی نذر ہے۔
خوشبو کو پھیلنے کابہت شوق ہے مگر
ممکن نہیں ہواؤں سے رشتہ کئے بغیر
موروثی تسلسل:۔دھرم سنگھ کے دونوں فرزندان سیاست میں ہیں۔ ڈاکٹر اجے سنگھ جیورگی سے دومرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اور ان کے بڑے فرزندوجے سنگھ مقامی ادارہ جات سے ایم ایل سی کے لئے منتخب ہوکر رکن قانون ساز کونسل کے درجہ پر فائزہیں۔ ان کی مدت کار ڈسمبر2021کو اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔ مقامی ادارہ جات کاانتخابی کالج مطلب منتخبہ اراکین گرام، تعلقہ، اور ضلع پنچایت اور میونسپلٹی کو اپریل۔ مئی 2021تک تشکیل پاناہے۔ اسی طرح کئی ایک میونسپلٹی انتخابات حدبندی کے کام وغیرہ عدالت کے حکم کے سبب التوامیں پڑے ہیں۔سابق میں شری بھیمناکھنڈرے اورآنجہانی بسواراج پاٹل ہمناآباد نے یہ سیٹ 1988اور 1998میں جیت لی تھی۔ جبکہ کانگریس پارٹی ریاست میں اپوزیش میں تھی۔ اور اتفاق سے برسراقتدار جنتاپریوار میں پھوٹ تھی۔ دونوں وقت ایسا ہی ہوا۔ جنتااور سماج وادی جنتاپارٹی میں 1988-89اور جنتادل (یو) اور (یس) میں 1998-99کوٹوٹ کر دوالگ الگ پارٹیاں بن گئیں۔ اتفا ق سے شری بھیمناکھنڈرے اور آنجہانی بسواراج پاٹل ہمناآباد 4دفعہ بالترتیب بھالکی اور ہمناآبا د کے ایم ایل اے تھے۔ بعدازاں وہ کونسل کیلئے منتخب ہوئے۔ وجے سنگھ 2019کے پارلیمانی انتخابات میں ٹکٹ کے خواہشمندتھے لیکن پارٹی نے ایشور کھنڈرے کو Consenses امیدوار کی حیثیت سے کھڑاکیا۔
مجھے یقین ہے کہ پارٹی ہائی کمان نے وجے سنگھ کے لئے بھی ایسا سوچا ہوگاکہ وجے سنگھ کی 2.5سالہ معیاد کونسل میں باقی ہے۔ پارٹی ایک اور ضمنی کونسل انتخاب لوکل باڈیزکے ذریعہ کروانے کے حق میں نہیں تھی کیونکہ الیکشن انتہائی مہنگے اوراتنے ہی مشکل ہوچکے ہیں جتنے پارلیمانی انتخابات ہیں۔سابق میں مقامی ادارہ جات کے ذریعہ کونسل کے انتخابات کا وقت پر منعقد ہونا ایک یادیگر وجوہات کے سبب ممکن نہیں ہوسکاتھا۔ اسی لئے تو 1994ہونے والے انتخابات چار سال بعد 1998میں ہوئے تھے۔
بہرحال وقت ہی تمام سوالوں کے تنہا جواب دے گا۔ منتظر رہیں اور دیکھیں کہ دھرم سنگھ فیملی کس طرح بیدر ضلع کی ترقی اور اس کی بہبود میں اپنارول اداکرتی ہے۔ اور مستقبل میں بھی تعلقات کو بدستور باقی رکھاجائے گا۔ ہم اچھائی ہی کی توقع رکھیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: