مضامین

مقامی لیڈر شپ کی اہمیت ضرورت اور طریق کار

مفتی محمد نظام الدین قاسمی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ

اس دنیا میں ہم سب کے لیے سب سے بڑی نعمت آقا کی ذات اقدس ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ نے آقا کی ذات کو سب کے لیے رول ماڈل قرار دیا ہے۔ آقا نے دور مکی اور مدنی میں اپنی تعلیمات اور افعال وکردار سے ایک ایسا پاکیزہ معاشرہ تشکیل فرمایاتھا کہ جس میں ایک طرف جہاں امانت، صداقت، دیانت، جذبہ، محبت کا جلوہ نظر آتا ہے تو دوسری طرف قومی ملی رفاہی اور سیاسی رہنمائی کے لیے ایسے وصول ہیں کہ کسی بھی معاشرہ میں اس کی نظیر نہیں ملتی ہے، انھیں میں سے ایک مقامی لیڈر شپ بھی ہے۔ ہم لوگ آج جس سوسائٹی، معاشرہ اور ماحول میں رہتے ہیں یہ انسانوں کے اوپر موقوف ہے کہ وہ اس ماحول، معاشرہ سماج اور سوسائٹی کو کیسا بناتا ہے۔ چوں کہ معاشرہ افرادکے ایسے گروہ کو کہاجاتا ہے جس کی بنیادی ضروریات زندگی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مشترک اور ملے ہوئے ہوں۔آج کی یہ تحریر چند بنیادی عناصر مقامی لیڈر شپ کی اہمیت،مقامی لیڈر کی ضرورت لیڈر کے اوصاف عوام کی ذمہ داریاں اوراس کے طریق کار پر مشتمل ہے۔
مقامی لیڈرشپ کی اہمیت
مقامی لیڈر شپ کی اہمیت کا اندازہ صحابہ کے اس طرز عمل سے ہوتا ہے کہ جب آخری نبی دوجہاں کے سردار جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا میں آخری سانس لی اور آپ کا جسم اطہر حضرت عائشہ کے حجرہ میں تھا، صحابہ کے لیے یہ گھڑی بہت تکلف دہ تھی، صبر کرنا اور یقین کرنا مشکل تھا کہ آقا نہ رہے۔ کفن دفن کا مسئلہ بھی بہت اہم تھا. لیکن صحابہ نے کفن دفن کے مسئلہ کو اہمیت نہ دی؛ بلکہ وہ لوگ اس گھڑی میں بھی سقیفہ بنی ساعدہ کی عمارت میں داخل ہوئے اور اس بات پر میٹنگ کررہے تھے کہ آقا کے بعد ہمارا قائد رہبر امیر اور لیڈر کون ہوگا؟ کافی بحث و مباحثہ اور گفت وشنید کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ آقا کے بعد ہمارے لیڈر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں گے۔ تاریخ اسلام کے اس واقعہ سے اندازہ لگتا ہے کہ مقامی لیڈر کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو اس کے بنا زندگی کے مسائل کا حل ہونا بڑا شکل کام ہے اور ہماری زندگی جانوروں کے ریوڑ کی طرح گزرے گی، اس لیے مقامی لیڈر شپ کا ہونا موجودہ وقت میں ہم سب انسانوں کے لیے بہت ضروری ہے
مقامی لیڈر شپ کی ضرورت
زمانہ کی ترقی جس برق رفتاری کے ساتھ تیز ہوتی جا رہی ہے،اسی حساب سے ہر شعبہ حیات میں ہم لوگوں کی عموما اور نوجوانوں کی خصوصا اہمیت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔زندہ قوموں کا یہ شعار رہا ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں پر خصوصی توجہ دیتی ہیں؛کیوں کہ کسی بھی نظر یہ حیات کو رائج کرنے،تحریک چلانے اور کام یابی سے ہم کنار کرنے میں ان کا اہم رول ہوتا ہے۔ان کے عزائم اگر چاند پر کمند ڈالنے کی ہیں، تو ان کے لہو میں ایسی حرارت بھی ہوتی ہے جو انھیں جہد مسلسل اور جفاکشی پر برانگیختہ کرتی رہتی ہے۔ہر حال میں مسائل و مصائب سے نمٹنے کا اگر کسی میں دم خم ہوتا ہے،تو وہ نوجوان ہے؛اس کی امید آپ نہ تو بچے سے لگا سکتے ہیں اور نہ ہی بوڑھے سے۔علامہ اقبال نے انھیں کے متعلق کہاتھا کہ
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بصیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
لیڈر کے حوالے سے دو باتیں ذہن میں رکھیں: ایک تو یہ کہ ہمیں دو طرح کے لیڈر کا انتخاب کرنا ہے: ایک دینی اور دوسرا سیاسی و سماجی۔ دینی لیڈر کے حوالے سے ہمیں یہ ذہن بنانے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے تمام دینی مسائل کو اسی وقت ایک لیڈر سے پوچھنے کی کوشش کریں۔ اور جو ہمارا دینی لیڈر ہوگا، اس کی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ اگر اسے مسئلہ کی صحیح علم ہے تو بتائیں اور اگر نہیں ہے، تو اپنے متعلقین میں سے کسی معتبر عالم دین اور مفتیان عظام سے پوچھ کر کے بتائیں۔ ساتھ میں اس کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے گاوں اور قرب وجوار کے علمائے کرام اور مفتیان عظام کو اعتماد میں لے کرکے کام کرنے کی کوشش کریں۔ اور اس کے لیے حکمت عملی بھی اپنائیں۔
دوسری بات سیاسی اور سماجی لیڈر کی ہے۔ سیاست فی نفسہ کوئی بری چیز نہیں ہے،بلکہ محمود شی ہے کہ وہ خدمت خلق کا بہت وسیع میدان ہے۔یہاں آدمی صرف اپنی اور اپنے گھر والوں کی نہیں سوچتا،بلکہ سماج ومعاشرے اور قوم و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے مثبت سوچ رکھتا ہے اور عمل بھی کرتا ہے، اس کی اہمیت اور زیادہ اس معنی کر بڑھ جاتی ہے کہ ہم ایک جمہوری ملک میں جی رہے ہیں،جہاں ہر پانچ سال پر ایک حکومت کا انتخاب ہوتا ہے،خواہ ہم اس میں دل چسپی لیں یا نہ لیں۔اگر ہم نے نے خاطر خواہ اس عمل میں حصہ لیا اور اپنے حق کا صحیح استعمال کیا توامید ہے کہ دیش بہتر راہ پر چل سکے گا؛ورنہ حالات جس طرح بنتے جا رہے ہیں،انھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں صرف اقلیتیں ہی نہیں؛ بلکہ پورا ہندستان ظلمت کے عمیق غار میں گرتا چلا جائے گا۔
لیڈر کے اوصاف
قیادت کا بنیادی مقصد انسانوں کی درست رہنمائی اور ان کے مسائل کا آسان حل فراہم کرنا ہوتا ہے۔باشعور،باصلاحیت اور دیانت دار قیادت نہ صرف انسانی مسائل کے حل میں ہمیشہ مستعدد و سرگرم رہتی ہے؛بلکہ معاشرے کی خوشحالی اورامن وترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔لیڈر کوئی بھی انسان بن سکتا ہے۔ ماں کی پیٹ سے لیڈر بن کر کوئی پیدا نہیں ہوتا ہے اس دنیا میں جتنے بھی لیڈر آج تک پیدا ہوئے ہیں اگر ان کے سوانحی خاکہ کو پڑھیں گے تو معلوم ہوگا کہ تمام لیڈران اور قائدین نے یہ مقام صرف اور صرف اپنی محنت اور جفاکشی سے حاصل کیا تھا۔
تاریخ میں ایک نام نیلسن منڈیلا کا ملتا ہے جو جنوبی افریقہ کو آزادی دلانے کی خاطر اپنی آدھی سے زائد زندگی جیل کی نذرکرچکا تھا جب وہ جیل میں تھا تواپنی جدو جہد کا آغاذ کر رہا تھااس وقت اسے کوئی نہیں جانتا تھا؛ لیکن اس کے مقصد نے اسے نیلسن منڈیلا کے نام سے عالمی لیڈر بنا دیا، اسی طرح سے ایک نام ابرہم لنکن کا بھی ملتا ہے جو حبشیوں کی آزادی کا اعلان کرکے عالمی لیڈر بن جاتا ہے جو کہ بعد میں چل کر امریکہ کا صدر بھی بنا۔ معاشرہ میں تفریقی نظام اور بھید بھاؤ کے خلاف آواز بلند کرنے والا مارٹن لوتھر کنگ ذاتی محنت سے لیڈر بنا۔اپنے لوگوں کے حق کے لیے پورے یورپ سے لڑ جانے والا مارٹن لوتھر کنگ کہلایا۔اس کے علاوہ بھی عالمی لیڈروں میں چی گویرا فیدل کاسترو کا ہے۔فیدل کاسترو نے کیوبا پر نصف صدی تک حکومت کی اور پوری دنیا میں اپنا نام زندہ رکھا؛ ان کے علاوہ ملکی پیمانے پر مہاتما گاندھی، مولانا ابو الکلام آزاد ؒ اور مولانا حسین احمد مدنیؒ وغیرہ بھی ہیں۔یہ وہ لوگ تھے جو پیدائشی لیڈر نہیں تھے، ماں کے پیٹ سے لیڈر بن کے اس دنیا میں نہیں آئے تھے؛ بلکہ ذاتی محنت اور کوشش سے لیڈر بنے تھے؛ لہذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ لیڈر اور قائد بنیں تو ضروری ہے کہ ہم ان کے حالات زندگی کو بھی پڑھیں، بنیادی طور پر ایک اچھے لیڈر میں ان باتوں کا ہونا ضروری ہے کہ کام میں اخلاص نیت ہو علم و حکمت سے لبریز ہو، احترام انسانیت کا جذبہ ہو، صبرو استقامت کا حامل ہو، کام میں بے غرضی ہو اور ہرکام میں مدنظر قوم کی منفعت ہو، چوں کہ قیادت نام ہے دلوں کو فتح کر نے کا۔ لیڈر اور قائد وہ ہوتا ہے جو زمانہ شناس ہو، لیڈر اور قائد وہ ہوتا ہے جو علم اورمعلومات کا خوگر ہو، لیڈر اور قائد وہ ہوتا ہے جو حق اور باطل کے بیچ درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، لیڈر اور قائد وہ ہوتا ہے جو ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو فوقیت دیتا ہو، لیڈر اور قائد وہ ہوتا ہے جو لالچ سے کوسوں دور رہتا ہو، لیڈر وہ ہوتا ہے جو سخاوت کی صفت سے معمور ہو، لیڈر وہ ہوتا ہے جو قوم کے مستقبل کے لیے فکر مند ہو، لیڈر وہ ہوتا ہے کہ جن کی سوچ میں وسعت ہو، لیڈر وہ ہوتا ہے جو تنگ نظری سے پاک ہو،لیڈر وہ ہوتا ہے کہ جو حق پسندی سے کام لیتا ہو، لیڈر وہ ہوتا ہے کہ جس کے قول اور فعل میں تضاد نہ ہو، سورش کاشمیری نے کہا ہے کہ انسان قائد بنتا ہے نفس کی قربانی سے، دولت کے ایثار سے، جان کے زیاں سے، خدمت کی راہ سے، علم کے کمال سے،نگاہ کی بصیرت سے، عقائد کی پختگی سے، اصول کی پیروی سے، نصب العین کی محبت سے، قید خانوں کے ضرب سے؛ نہ کہ دولت کی فراوانی، سرکار کی خوشنودی، غنڈوں کی رفاقت اور حکام کی جاسوسی سے۔ اس لیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ لیڈر بنیں تو ہماری ضروری ہے کہ مذکورہ اوصاف حسنہ کو اپنے اندر پیدا کریں اور اوصاف رذیلہ سے اپنے آپ کو بچائیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ آج کے اس خوب صورت پروگرام میں ہم اپنے آپ کواس بات کے لیے تیار کریں کہ اپنی ذاتی خواہشات کو بالائے طاق رکھ کر اجتماعی مقاصد کے لیے جدوجہد کریں گے۔آپ چاہے کسی ادارے میں نوکری کرتے ہوں، ایک کاروباری شخصیت ہوں، یا ایک نوجوان سیاسی قائد ہوں، ہمہ وقت تیار رہیے۔ جب کبھی مشکل حالات اور خطرات کا سامنا ہوتو ایک بہادر جنگجو اور سپہ سالار کی طرح سارے وار اپنے سینے پر کھانے کے لیے سب سے آگے کھڑے ہوں؛کیوں کہ آپ کے پیروکار انتظار کررہے ہوتے ہیں کہ آپ آگے بڑھیں اور جو قوت انھوں نے آپ کو نوازی ہوئی ہے، آپ اسے استعمال کرتے ہوئے خطرات کے مقابلے کے لیے اپنے لوگوں کی قیادت کریں۔اگر آپ اپنے مفادات کو بچانے کے لیے قربانی کے بجائے خود کو بچانے کی کوشش کریں گے تو ظاہر ہے کہ ان میں مایوسی پھیلے گی اور یا تو وہ منتشر ہوجائیں گے یا پھر مدد اور قیادت کے لیے کسی اور طرف دیکھیں گے۔اس لیے اپنے لوگوں کی امیدوں پر پورا اتریئے۔ اپنے لوگوں کی دیکھ بھال اور تربیت ایسی کیجیے جیسے والدین اپنے بچوں کی کرتے ہیں۔ آپ کے اسی رویّے کی وجہ سے وہ آپ کے ساتھ اور آپ کے مقصد کے لیے کسی بھی طوفان سے ٹکرا جائیں گے۔ اور اگر آپ اس امتحان میں پاس ہوجاتے ہیں، تو یقیناً آپ ایک قائد کے روپ میں ابھریں گے۔ یاد رکھیے کہ لیڈرشپ کوئی عہدہ نہیں، یہ ایک ذمہ داری اور ایک اعزاز ہے۔تو کیا آپ لیڈر بننے کے خواہش مند ہیں؟ اگر ہاں تو آگے بڑھیے اور عزم و ہمت کے ساتھ خود میں تبدیلی لاکر اپنے متعلقہ شعبے میں موجود لوگوں کی قیادت کیجیے۔ اس مرحلے میں یقیناً آپ گریں گے، ناکام ہوں گے، مایوس ہوں گے؛ لیکن پھر بھی آگے بڑھتے جائیے، بالآخر فتح آپ کی ہوگی۔ جیسا کہ کسی مشہور لکھنے والے نے لکھا تھا:”کوشش کیجیے، ناکام ہوں، پھر کوشش کیجیے، ناکامی کے تناسب کو کم کیجیے، پھر کوشش کیجیے، فتح آپ کی ہوگی۔“
اگر ہمارا اپنا قائد اور رہبر ہوگا، تو گاوں لیبل کی جو سرکاری اسکیمیں ہوتی ہیں، اسے لانے اور مستحقین تک پہنچانے میں لیڈراہم رول ادا کرے گا۔ گاوں لیبل کی اسکیمیں بے شمار ہیں، جن میں سے کچھ اس طرح ہیں: پردھان منتری سنیچائی یوجنا، گرامین بھنڈار، اسٹوک انشورنس، ہیلتھ اسکیم، مچھلی پالن، نئی روشنی، ٹریننگ سینٹر، سیکھو اور کماؤ، اندراواس، آنگن واڑی، پرائمری اسکول، پانی کا انتظام، اسٹریٹ لائٹ، گلی کی سڑک، نالی، صفائی، منریگا وغیرہ وغیرہ۔ان اسکیموں کو زمین پر اتارنے میں ہم اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں، جب کہ ہمارے پاس مضبوط مقامی لیڈر شپ موجود ہو۔
لیڈر کے تئیں عوام کی ذمہ داری
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اور سماج ترقی کرے اور ہم لوگ کامیابی سے ہمکنار ہوں، تو ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے اندر ماننے کی صفت پیدا کریں چو ں کہ صحابہ کرام کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ انھوں نے نہ صرف آقا کی ذات کو لیڈر مانا تھا؛ بلکہ آقا کی ہر بات کو حرزجاں بنایا تھا۔ معراج کے واقعہ پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس جب مکہ کے مشرکین نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمھارا دوست کہتا ہے کہ راتوں رات بیت المقدس گیا وہاں نماز پڑھی اور جنت و دوزخ کا سیر کرکے واپس آیا،تو ابوبکر صدیقؓ نے کہا کہ اگر یہ بات محمدﷺ کہتا ہے تو سچ ہے۔ اس واقعہ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہم جسے اپنا قائد اور لیڈر مانیں وہ اگر رات کو دن اور دن کو رات کہیں تو ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ یہ غلط ہے؛ بلکہ ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ اگر ہمارا لیڈر کہ رہا ہے تو سچ ہے۔ ہمیں اس مزاج اور سوچ کو بنانے کی ضرورت ہے جس دن ہم نے یہ سوچ بنالیا کہ ہمیں اپنے لیڈر کوماننا ہے، ان کی کہی ہوئی باتوں کو تسلیم کرتے ہوئے عمل کرنا ہے، تو اس دن کامیابی ہمارے قدموں کے نیچے ہوگی۔
عملی سرگرمیاں
جمعیت علمائے بسنت رائے آپ سے گذارش کرتی ہے کہ کہ گئی باتوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے آپ مقامی لیڈر بنائیں۔مقامی لیڈر کو منتخب کرنے کی مختلف شکلیں ہیں۔ایک شکل یہ ہے کہ اس کا آغاز آپ اپنے گھر سے کریں، یعنی اپنے بھائیوں میں سے کسی ایک کو ذاتی اور گھریلوجھگڑوں سے الگ کرکے سماجی کام کے لیے اپنا لیڈر منتخب کریں، اسی طرح گھر سے نکل کر کے ہر کھٹ اور گتیا لیبل پر کمیٹی تشکیل دے کرکے اپنا ایک لیڈر منتخب کریں اور تمام کھٹ اور گتیا کے لوگوں کی ایک کمیٹی تشکیل دیں اور اس میں سے کسی ایک کو اپنا مقامی لیڈر قرار دیں۔ یاد رہے کہ ہمارا یہ لیڈر سماجی اور معاشرتی ذہن کا ہونا چاہیے،ان کے اندر سماج اور معاشرہ میں کار ثواب سمجھ کر کام کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: