مضامین

محمد سب کے لئے
صرف مسلم کا محمدپر اجارہ تو نہیں
اثرِ خامہ: مولانا سیّدآصف ملّی ندوی (syedaasifnadwi@gmail.com)
صدر جمعیت علماء شہر ناندیڑ

اس عاجز نے رب کریم کی توفیق سے مختلف موضوعات پر متعدد تحریریں حوالہئ قرطاس کی ہے، ہر وقت جب کسی عنوان پرکچھ لکھنا ہوتا ہے تو اس عنوان سے متعلق مواد کی تلاش و مطالعہ اور پھر اس کی روشنی میں اپنے افکار و تاثرات کو حوالہئ قرطاس کرنے میں کچھ زیادہ دقّت پیش نہیں آتی، لیکن اس مرتبہ جب کہ میں رب کریم کی توفیق سے اپنے آقا رسالت مآب ﷺ کی ذاتِ اقدس کے حوالہ سے ایک خاص عنوان پر مضمون لکھ کر اپنا نصیبہ بیدار کرنے اور اپنی آخرت کا سامان کرنے کی مبارک کوشش کرنے لگا ہوں تو ایک عجب سی نشاط انگیز و روح پرور کیفیت میں شرابور ہوا جاتا ہوں، دل و دماغ کی سلوٹوں پر مضامین کا ورود تو ہے لیکن قلم ہے کہ چلنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے، ہرچند کہ میں اسے مہمیز دئے جاتا ہوں لیکن وہ ہے کہ سہم سہم جاتا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس چوبِ خشک کو بھی میری ہی طرح اپنی تنگ دامانی و بے سروسامانی کے احساس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ مقامِ ادب ہے، اوراس کا احترام ہمارے ایمان کا خاصّہ ہے، محبت کے اظہار میں اگر ہوش و بصیرت سے کام نہ لیا گیا تو لغزشوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
ہزار بار بشویم دہن ز مشک و گلاب ہنوز نامِ تو گفتن کمالِ بے ادبی است
اس ذاتِ اقدس ﷺ کے بارے میں جس کے دربارقدسی میں شرفِ باریابی کے لئے جبرئیل امین بھی باادب ہوکر اجازت طلب کرتے ہوں، کچھ تحریر کرنا آسان کام نہیں ہے، لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اپنے آقا ﷺکے ذکرجمیل کے لئے دلِ مضطر کی آگ توبھڑک اٹھ رہی ہو اور میں قلم کو روکے رکھوں، اس لئے جذبہئ نیازمندی کے ساتھ قلم سے یہی کہہ دیتا ہوں کہ:
ضبط کروں میں کب تک آہ چل میرے خامہ بسم اللہ
یہ بات دو اور دو چار کی طرح بالکل واضح ہے کہ میرے آقا رسالت مآب ﷺ (جن کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر) کی عظمت و تقدیس کے اظہار اور آپ کے کمالات کومنوانے کے لئے ہمیں غیر مسلم ارباب دانش و بینش اور محققین و اصحابِ قلم کی تحقیقات و تحریروں سے استناد پیش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے، تاہم عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر اغیار ہمارے اپنوں کی تعریف کرنے لگے یا ہمارے محبو بﷺ کا ذکر خیر کرنے لگے تو خوشی دوبالا ہوجاتی ہے اور مزا زیادہ آنے لگتا ہے اور اپنے آقا رسالت مآبﷺ سے محبت اور مضبوط ہونے لگتی ہے، اور جی یہ چاہتا ہے کہ وہ مزید آپ کی مدح سرائی کرتے رہیں "لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم "۔
سب رقیبوں سے ہوں ناخوش، پر زنانِ مصر سے ہے زلیخا خوش، کہ محو ماہِ کنعاں ہوگئیں
در اصل سچی بات یہ ہے کہ میرے آقا ﷺ کی ذاتِ اقدس ایک ایسا چراغ تھی جو چودہ سو سال گذرنے کے بعد بھی اپنی روشنی سے دنیا کو منور کررہی ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی۔ رسالت مآ ب ﷺ کی رحمت کا دائرہ صرف آپ پر ایمان لانے والوں ہی تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ اغیار بھی آپ کی رحمت کے سائبان میں پناہ لیتے رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب ہم سیرت نگاروں یا آپ کے ثناخوانوں کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ جان کر مسرت انگیز حیرت ہوتی ہے کہ آپ کے سیرت نگاروں اور آپ کے ثنا خوانوں میں یہود ی، عیسائی اور ہندو عقیدت کیش سیرت نگاروں و ثناخوانوں کی بھی ایک بڑی تعداد نظر آ تی ہے جنہوں نے آپ کے تذکرہئ مبارک، سیرت نگاری اور آپ کی شانِ اقدس میں منظوم گلہائے عقیدت پیش کرکے خود اپنے آپ کو اور اپنی تحریروں کو حرمت و وقار بخشا ہے۔ اس مختصر مضمون میں بطور” مشتے نمونہ از خروارے” چند غیر مسلم سیرت نگارں کی کتب سیرت کا اجمالی تذکرہ اور چنددانشوروں کے رسالت مآب ﷺ سے متعلق تاثرات اورغیر مسلم شعراء کی عقیدت و محبت سے لبریزنعت گوئی و ثناخوانی کے نمونے اس اعتراف کے ساتھ پیش خدمت ہے کہ یہ کوئی میری اپنی تحقیق نہیں ہے، بلکہ اس عنوان پر متعدد ماہرین ِسیرت و تاریخ اہلِ قلم حضرات نے نہایت ہی قابلِ قدر و بیش بہا کام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور انہیں رسالت مآبﷺ کی شفاعت و اخروی سرخروئی نصیب فرمائے۔ آمین۔ میں تو بس اپنی روحِ بیتاب کی تسکین اور اپنے دلِ مضطر کی راحت کے لئے ان حضرات کے ذریعے دراز کی گئی لذیذ تر ین حکایت کے کچھ گوشے یہاں پیش کررہاہوں۔

Vie De Mohamet: by Constant V. Georgio
(Vie De Mahomet) یہ کتاب رومانیہ کے مشہور دانش ور، ناول نگاراور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر کانسٹنٹ ورجل جورجیو نے تالیف کی ہے جو ایک مسیحی اسکالر تھے،ایک مشہور مصنف اور صاحب طرز ادیب کی حیثیت سے جیورجیو کا نام اور مقام اہلِ مغرب کے ہاں مسلمہ حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ۵۱/ ستمبر ۶۱۹۱ء کو ویلیا البا رومانیہ میں پیدا ہوئے، اور ۲۲/ جون ۲۹۹۱ء کو پیرس، فرانس میں وفات پائی۔ ۶۳۹۱ء میں اعلیٰ نمبروں کے ساتھ ابتدائی تعلیم مکمل کی، بعد ازاں بخارسٹ یونیورسٹی اور ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے فلسفے اور الٰہیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ جنرل ایان انٹونیسکوکے دورِ حکمرانی (۳۴-۲۴۹۱ء) میں رومانیہ کی وزارتِ خارجہ میں بین الاقوامی امور کے ماہر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کیں۔ لیکن جب ۲۴۹۱ء میں روس کی کمیونسٹ فوجیں رومانیہ پر قابض ہوگئیں تو جیورجیو نے جلاوطنی اختیار کرلی۔ جنگ عظیم دوم کے خاتمے پرامریکی افواج نے اسے گرفتار کرلیا۔ تاہم رہائی کے بعد ۸۴۹۱ء سے فرانس میں سکونت اختیار کرلی، فرانس میں قیام کے دوران موصوف نے مختلف علمی اور مذہبی سرگرمیوں سے وابستگی اختیار کی(وکی پیڈیا)۔
سچائی کی تلاش میں کانسٹنٹ نے سیرت پاک کو اپنے مطالعے کا موضوع بنایااور ایک غیر مسلم ہونے کے باوجود جب اس کے دل نے سیرت مطہرہ کی عظمت کو قبول کیا تو اعترافِ حق کے طور پر جذب و مستی میں یہ کتاب تصنیف کی۔ ۱۶۹۱ء میں اس کتاب کو لیویا لیمور (Livia Lamoure) نے رومانوی زبان سے فرانسیسی میں ترجمہ کیا۔۹۷۹۱ء میں گجرات کی ایک علم دوست شخصیت جناب مشتاق حسین میر نے اسے (محمد پیغمبر اسلام)کے نام سے اردو زبان کے قالب میں ڈھالا، اور یہی اردو ایڈیشن اس عاجز راقم السطورکی نظر سے گذرا ہے۔ فاضل مترجم نے کتاب کے بارے میں اپنا تا ثر ان الفاظ میں بیان کیا ہے : اس کتاب کو کھول کر جیسے ہی آ پ مطالعہ کرینگے، آ پ کو محسوس ہوگا کہ یہ کتاب حیاتِ طیبہ پر لکھی گئی کتب سے مختلف ہے، اور آپ جتنا آ گے بڑھتے جائینگے، آپ کے احساسات،تاثرات اور خیالات میں انقلاب آتا چلا جائیگا۔ جبکہ کتاب کے آغاز میں دنیائے اسلام کے مایہ ناز اسکالر علامہ محمد اسد (سابق یہودی اسکالر: لیوپولڈویز) کا وقیع مقدمہ درج ہے۔

کیرن آرمسٹرانگ
عہدِرواں کی مشہور و معروف برطانوی مصنفہ ہے جو برطانیہ کیویسٹ مڈلینڈ کے علاقے ووسٹر شائر سے تعلق رکھتی ہے۔ اس نے متعدد کتب تصنیف کی ہے جن کا موضوع و مقصد دنیا بھر کے بڑے مذاہب بالخصوص اسلام، مسیحیت اور یہودیت کا ایسا مطالعہ پیش کرنا ہے۔ جس سے ان مذاہب کے ماننے والوں کی آپس میں قربت پیدا ہو، رسالت مآب ﷺ اور اسلام سے متعلق اس نے متعدد کتب تصنیف کی ہے جن میں سے (Mohammed: A Biography of the Prophet) کا اردو ترجمہ جناب نعیم اللہ ملک صاحب نے (محمد ﷺ پیغمبر اسلام کی سوانح حیات)کے نام سے کیا ہے، اور معروف پبلشر نشریات لاہور نے اس ترجمہ کو بڑے اہتمام سے شائع کیا۔ اور ایک دوسری کتاب (The Prophet of our Time) جس کو جناب یاسر جواد صاحب نے (پیغمبر امن: سیر ت النبی اکیسویں صدی کے نئے چیلنجوں کے تناظر میں) کے نام سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے،اس کتاب میں مصنفہ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ رسالت مآب ﷺ نے ایک مختصر سی مدت میں عرب کے وحشی اور گنوار قبائل کو تہذیب و تمدن سے آراستہ کرکے دنیا کی حکمرانی کے قابل بنادیا جو بظاہر ایک ناقابل یقین کام تھا، لیکن مقام افسوس ہے کہ عہدِ رواں کے مسلمانوں نے پیغمبر اسلام کے پیغامِ امن و سلامتی کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے۔ مذکورہ دونوں اردو ایڈیشن اس عاجز کی نظر سے الحمدللہ گذر چکے ہیں۔

Prophet of Deser: by K.L.Guaba
کے ایل گابا معروف قانون دان، سیاست دان، اور ادیب تھے، میں لاہور کے ایک ہندو صنعت کار لالہ ہرکشن لال گابا کے ہاں پیدا ہوئے، بارایٹ لا کرنے کے بعد لاہور میں پریکٹس شروع کی۔ ۳۲۹۱ء میں آل انڈیا ٹریڈ یونین کانفرنس لاہور کی مجلس استقبالیہ کے چیئرمین مقرر ہوئے۔ اخبارات کے لئے مضامیں لکھے اور اپنا ہفتہ وار’دی سنڈے ٹائمز بھی جاری کیا۔ ۶۲۹۱ء میں لاہور کے صنعتی حلقے سے رائے بہادر دھنپت رائے کے مقابلے میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کا الیکشن لڑا، ۲۲۹۱ء میں اسلام قبول کیا۔ مشہور ہے کہ شاعر اسلام علامہ اقبال کی تجویز پر کنہیا لال (کے ایل) گابا سے خالد لطیف (کے ایل) گابا ہوگئے۔ یوں ان کے نام کا انگریزی مخفف اور صوتی و لفظی تاثر قائم رہا (ویکیپیڈیا)۔
قبول اسلام کے بعد جناب کے ایل گابا صاحب نے رسالت مآبﷺ کی سیرتِ طیبہ پر ایک کتاب لکھی جس کا نام(Prophet of Desert) پیغمبر صحرا ہے۔ اس کتاب کی قبولیت کے حوالے سے ویکیپیڈیا میں ایک بہت ہی ایمان افروز واقعہ قلمبند کیا گیا ہے۔ لکھا ہے کہ کنہیا لال گابا نے ۳۳۹۱ء میں اسلام قبول کیا، انہیں دوبارہ ہندو بنانے کے لئے بڑا زور لگایا گیا مگر وہ آخر دم تک اسلام پر قائم رہے۔ آپ کی کتاب (Prophet of Desert) پیغمبر صحرا بڑی مقبول ہوئی۔ کے ایل گابا کسی وجہ سے حکومت وقت کے زیرِ عتاب آگئے اور ایک مقدمے میں قید کردئے گئے، اس دور کے مسلمانوں نے بڑی کوششیں کیں یہاں تک کہ اخبارات میں زرِ ضمانت اور رہائی کے لئے اپیلیں بھی شائع ہوئیں لیکن ضمانت نہ ہوسکی اور جیل سے آپ کی رہائی نہ ہوسکی۔ سیالکوٹ کے ایک ٹھیکیدار ملک سردار علی کو خواب میں نبی کریم ﷺکی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا سردار علی لاہور جاکر نومسلم خالد لطیف گابا کی ضمانت دو۔ اس نے ایک کتاب لکھی ہے جو مجھے بہت پسند ہے۔سردار علی لاہور آئے اور دیڑھ لاکھ کی خطیر رقم کی ضمانت دے کر رہائی دلوائی۔ (ویکیپڈیا)۔ جناب خالد لطیف گابا کی تصنیف جسے بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں قبولیت کا شرف حاصل ہوا سیرت کے موضوع پر لکھی جانے والی انگریزی کتب میں شاہکار کا درجہ رکھتی ہے اور بیسٹ سیلر قرار پائی ہے۔اس عاجز کے زیر مطالعہ اس کتاب کا اردو ایڈیشن (پیغمبر صحرا) رہا ہے جس کو جناب پروفیسر احمدالدین مارہروی نے کیا ہے اور الفیصل ناشران و تاجران ِ کتب، اردو بازار لاہور نے شائع کیا ہے۔
کتاب کی تمہید میں کے ایل گابا صاحب لکھتے ہیں کہ : آج کی دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں سے چند بڑے اور زیادہ اہم اور سنگین مسئلے یہ ہیں: قومیت اور بین الاقوامیت، مرد و زن کا باہم اختلاط، طلاق کی شرح میں روز افزوں اضافہ، آمریت اور جمہوریت کی کشمکش، سرمایے اور محنت کی آویزش، بڑھتا ہو االحاد، خالی گرجا اور بھوکے مبلغ۔ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ انسان خدا سے خفا اور بیزار ہوگیا ہے،یا پوری انسانیت کو انتہائی خطرناک اور مہیب مسائل کا سامنا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے بلکہ قدرتی بات ہے کہ یوروپ اور امریکا میں کثیر الازدواجی، آسان طلاق، میراث کے منصفانہ اصول کی بنیاد پرتقسیم دولت کا بندوبست، مختلف قوموں اور فرقوں میں اخوت اور رواداری پیدا کرنے کی ضرورت، رنگ و نسل و طبقہ و زبان کے تعصبات و امتیازات کا خاتمہ، سود پر مبنی معاشی نظام کا زوال اور دیگر ملتے جلتے مسائل پر مباحثے اورمذاکرات ہونے لگے ہیں۔ یاد رہے کہ چھٹی صدی کے اختتام اور ساتویں صدی کے آغاز میں بھی ایسے ہی مسائل ابھرے تھے، اور ان پر مباحثوں اورمذاکروں کا دور گذرا تھا۔ اس کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوجائیگاکہ اس وقت ایک سادہ مزاج، درویش منش شتربان نے کیونکر ان مسائل و مشکلات کو حل کیا تھا۔ (پیغمبرِ صحرا، مطبوعہ الفیصل ناشران و تاجران کتب صفحہ ۸)۔
رسول عربی : جی۔ اس۔ دارا (گرودت سنگھ دارا)
جناب گرودت سنگھ دارا ابتدا میں لاہور ہائی کورٹ میں بیرسٹر تھے، بعدازاں وہ لندن سے شائع ہونے والے جریدے (انڈیا) کے مدیر رہ چکے ہیں۔ان کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ انگریزی، اردو، عربی، فارسی اور پنجابی زبانوں سے واقف تھے۔ موصوف اپنی کتاب رسول عربی کی تمہید میں رقمطراز ہے : میں ۸۱ سال کی عمر میں نائب تحصیلدار کی حیثیت سے ملازم ہوا، دس سال کئی ایک اسامیوں پر تعینات رہ کر آخر ملازمت سے سبکدوشی اختیار کی۔ ترک ملازمت کی اصل وجہ بھی رشوت اور تعصب کے بھوت تھے جن سے بہت دیر تک میں جدوجہد کرتا رہا، آخر کر ہارکر میدان چھوڑا اور بھاگ نکلا۔ جنگ یوروپ کے ایام میں رخصت (قبل از استعفی)لیکر ۴۱۹۱ء میں انگلینڈ آیا۔ یہاں سے آئیرلینڈ گیااور وہاں سے بیرسٹری کرکے وطن واپس چلا گیا۔ ۹۱۹۱۔ ۰۲۹۱ء میں پھر لندن کا رخ کیا۔ یہاں پہنچ کر رسالہ ہند(انڈیا)شروع کیا، جس کی ایڈیٹری میں اب مجھے انیسواں سال ہونے کو ہے۔
اپنی کتاب رسول عربی کی وجہ تالیف کا تذکرہ کرتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں کہ: میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں پیغمبرِ اسلام ﷺکی زندگی کے حالات پڑھوں اور جو جو باتیں میں نے سنی ہیں، ان کی تصدیق یا تردید کی جستجوکروں۔ پہلی دفعہ جب میں نے اس مضمون پر ایک کتاب دیکھی تو اس کے پڑھنے سے مجھے از حد دلچسپی پیدا ہوگئی۔جوں جوں میرا مطالعہ بڑھتا گیا،اتنی ہی آنحضرت ﷺ کی عظمت میرے دل میں بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ میرے دل میں ایک آرزو پیدا ہوگئی کہ میں ان سب خیالات کو ایک جگہ اکٹھا کروں۔ طرح طرح کی کتابوں کے مطالعے نے جو میں نے اس مضمون پر پڑھی تھیں۔ میرے عالمِ خیال میں ایک پھلواری سی پیدا کردی۔ پنجابی، ہندی،اردو،فارسی، عربی کے پھول جہاں جہاں سے مجھے دستیاب ہوئے میں نے اپنے گلدستے کے لئے چن لئے اور نام اس کا رسول عربی ﷺ رکھ کر قوم کی خدمت میں نذر کیا۔ (رسول عربی۔ مطبوعہ شاہد پبلیکیشنز اینڈ بک سیلرز۔ صفحہ نمبر:۹۱)
جی۔اس۔دارا صاحب کی اس کتاب رسول عربی کی قبولیت، افادیت اور اہمیت کا اندازہ کتاب میں شامل ان نامور شخصیات کے پیشِ لفظ، دیباچہ اور تبصرے سے کیا جاسکتا ہے جو فنِ سیرت نگاری و نعت گوئی اور زبان و ادب میں سند کا درجہ رکھتے ہیں، شاہنامہ ئ اسلام کے خالق جناب ابوالاثر حفیظ جالندھری نے اس کتاب کا پیش لفظ تحریر کیا ہے جبکہ حضرت علامہ سید سلیمان ندوی مصنف سیرت النبی ﷺ نے اس کا دیباچہ تحریر فرمایا ہے۔ آ پ اپنے دیباچے میں کتاب اور صاحبِ کتاب کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: اس کتاب کے مصنف جی۔اس۔ دارا، بی ایل،بیرسٹر ایٹ لاء (لاہور) سے لندن میں ملنے جلنے کا اکثر اتفاق ہوا۔ ان کی بے تعصبی اور توحید پرستی دیکھ کردل بہت خوش ہوا کہ اگر ہندوستان کے مختلف فرقوں میں ایسی انسانیت و محبت کے چند افراد پیدا ہوجائیں تو ابنائے ہند کی باہمی الفت کی دیوار اس قدر مستحکم ہوجائے کہ باہر کے دشمن اس کو کبھی توڑ نہ سکیں۔ دارا صاحب نے پیغمبرِ اسلام ﷺ کی سوانح عمری بڑی بے نفسی اور بے تعصبی کے رنگ میں لکھی ہے۔ کتاب کے حرف حرف سے عشق و محبت کے آبِ کوثر کی بوندیں ٹپکتی ہیں اور معلوم ہوتا کہ لکھنے والے کا قلم کس جوش و خروش کے دریا میں بہتا جارہا ہے۔ میں نے اس کتاب کو شروع سے اخیر تک پڑھا اور ایک رواں کتاب کی حیثیت سے اس کو پسند کیا۔ ممکن تھا کہ یہ کتاب تاریخ کی حیثیت سے اس سے زیادہ بلندپایہ پر لکھی جاسکتی تھی، لیکن یہ ناممکن تھا کہ کوئی نامسلم اس سے زیادہ خلوص و عقیدت کی نذردربارِ رسالت میں پیش کرسکتا۔ اور یہی اس کتاب کی بہترین خصوصیت ہے۔ (علامہ سید سلیمان ندویؒ، دیباچہ رسول عربی، صفحہ نمبر۴۱)۔
معروف ادیب و انشاپرداز مفسر قرآن حضرت مولانا عبدالماجد دریابادی ؒ نے اخبار ہمدرد دہلی میں اس کتاب پر ریویوشائع فرمایا تھا، جس میں آپ تحریر فرماتے ہیں: رسول عربی اس مختصر و جامع رسالہ کا نام ہے، جو دارا صاحب کے تخم محبت کا ثمرِ اولین ہے اس میں سرورِ عالم ﷺ کے حالات حیاتِ مبارکہ اس شروع سے آ خر تک اس انداز سے جمع کردئے گئے ہیں کہ اکثر مقامات پر ایک مسلمان کو بھی اس خلوصِ نیاز پررشک آنے لگتا ہے۔ (مولانا عبدالماجد دریابادی۔ ریویو اخبار ہمدرد، دہلی)۔

عرب کا چاند: سوامی لکشمن پرشاد
میرے آقا رسالت مآبﷺ کے غیر مسلم ہندو سیرت نگاروں میں ایک اور نام نوجوان ادیب و انشاپرداز سوامی لکشمن پرشاد کا ہے، جنہوں نے مذہبی و قومی تعصب سے بالاتر ہوکر رسالت مآبﷺ کی سیرت مبارکہ کو اس قدر عقیدت و محبت کے جذبے کے ساتھ لکھا ہے کہ جگہ جگہ فداہ ابی و امی و روحی الفاً الفاً لکھا ہے۔ اور دوران تحریر میرے آقا ﷺ کی عظمت و تقدیس کا اس قدر پاس و لحاظ رکھا ہے کہ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے آنجہانی سوامی لکشمن پرشاد کو دادِ تحسین پیش کرنے کو دل کرتا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس پر رشک آنے لگتا ہے۔ انداز تحریر اتنا ادیبانہ اور شستہ و شگفتہ ہے کہ پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہی نہیں ہوپاتا ہے کہ یہ کسی غیر مسلم مصنف کی لکھی ہوئی کتاب ہوگی۔ اس کتاب کے اولین ناشر جناب حکیم محمد عبداللہ صاحب لکھتے ہیں : "اس کتاب سے پیشتر کئی ایک ہنود اور سکھ فرقے سے تعلق رکھنے والے غیر متعصب اورانصاف پسند حضرات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات قلمبند کرنے کی سعادت حاصل ہوچکی ہے۔مگر لوگوں نے ان اصحاب کی سیرت کی کتابوں پر کوئی اظہارِ تعجب نہیں کیا کیوں کہ ان کی زبان سادہ اور ان کا انداز وہی تھا جو ایک غیر قوم کا چشم و چراغ دوسرے طبقہ کے کسی بزرگ کو قلمی ہدیہئ عقیدت پیش کرتے وقت ہونا چاہئے۔ مگر بخلاف دیگر غیر مسلم سیرت نگاروں کے عرب کے چاند کا مصنف کچھ اس اندازِ عاشقانہ سے عالمِ وارفتگی میں حبّ نبوی میں سرشار ہوکرقلم کو تھامتا ہے کہ پھر دنیا و مافیھا سے غافل ہوکر سیرتِ مصطفیٰ کی وادی میں سرپٹ دوڑتا چلاجاتا ہے اور سرِ راہ کوئی چیز مانع نہیں بنتی۔حتی کہ معجزات اور جہاد جن کے صحیح مطلب کو نہ سمجھنے کی بناء پر اکثر علّامہائے دہرِ من قومِ مسلم کے راہروانِ قلم بھی صحیح راہ چھوڑ کر تاویل اور پھیر کے راستے اختیار کرنے لگتے ہیں۔ مگریہ عشقِ مصطفوی کے طفیل بڑے بڑے ٹیلوں اور خندقوں کو پھلانگ کر گذرجاتا ہے۔ (عرب کا چاند۔ صفحہ نمبر ۰۱)۔ کتاب کے مصنف سوامی لکشمن پرشاد کتاب کی وجہ تالیف بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: ” بہت ممکن ہے کہ میرے بعض متعصب اور تنگ نظر ہم مذہب اس بات پر ناک بھؤ ں چڑھائیں کہہ میں نے اپنے مشاہیر اوتاروں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو ایک پیغمبر کو کیوں اس لئے منتخب کیا کہ سب سے پہلے اس کی حیات مطہرہ لکھنے کے لئے قلم کو جنبش دی۔ لیکن میرے نزدیک اس اعتراض کی کوئی وقعت نہیں۔ میری نگاہ میں اسے تعصب اور تنگ نظری کے ایک افسوس ناک مظاہرہ کے سوا کسی اور شئے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا کی بلند نظر اور نادرہ روزگار ہستیاں کسی خاص اور مذہب کی میراث نہیں ہوتیں، بلا امتیاز نسل و رنگ اور بلا استثنائے مذہب و ملّت ہر شخص پر ان کا احترام فرض اور ان کی بصیرت افروز تعلیم سے بہرہ اندوز سعادت ہونا واجب ہے۔ خود ایسی مایہ ناز شخصیتوں نے اپنی وسیع النظری کی وجہ سے اپنی تعلیمات و تلقینات سے بنی نوع انسان کو بحیثیت مجموعی فیض یاب کرنے کوشش کی۔ اس بارانِ رحمت کی طرح جس کی لطافتِ طبع کے لئے صحرا اور چمن یکساں ہے۔ پس ہم اس قسم کی تنگ نظری اور تعصب کے مظاہرے کیوں کریں کہ ان کی عالمگیر شخصیت کو کسی خاص قوم اور مذہب سے مخصوص کرکے خود ان کے ارشادات ِ عالیہ کے فیض سے محروم رہیں "۔ (عرب کا چاند۔ سوامی لکشمن پرشاد۔ صفحہ ۲۲)۔
ہائے اس خیال ہی سے میرا دل سیپارہ ہواجاتا ہے اور ایک ہْوک سی سینے میں اٹھنے لگتی ہے کہ عشقِ نبوی میں ڈوب کرسیرت ِ نبوی پر اس قدر عالمانہ کتاب کا مصنف اسلام کا دامانِ رحمت تھامے بنا ہی محض چوبیس یا پچیس سال کی عمر ہی میں آنجہانی ہوگیا۔

کلکی اوتار اور محمد: ڈاکٹر وید پرکاش اْپادھیائے
آنجہانی ڈاکٹر وید پرکاش اْپادھیائے ایک بنگالی نژ اد ہندو برہمن تھے، آپ نے الٰہ آ باد یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔یہ کتاب کلکی اوتار اور محمدآپ نے برسوں کی تحقیقات کے بعد تصنیف کی ہے جس میں آپ نے ہندو دھرم کی پوتر کتھاؤں اور مقدس کتابوں کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ ہندو اپنی آستھا اور عقیدے کی بنیاد پر جس آخری اوتار کی آمد کے منتظر ہیں،جو ان کے عقیدے کے مطابق نہ صرف ہندؤوں کا بلکہ پوری انسانیت کا نجات دہندہ ہوگا، وہ محمدﷺ کی شکل میں بہت پہلے ہی آچکا ہے۔ موصوف نے اپنی اس کتاب کے مسودے کو اشاعت سے قبل آٹھ فاضل ہندو پنڈتوں اور مذہبی اسکالرس کی خدمت میں پیش کیا، ان تمام ہی پنڈتوں اور مذہبی اسکالرس نے کتاب کے مطالعے کے بعدڈاکٹر وید پرکاش اْپادھیائے کی تحقیق اور دلائل سے کلی اتفاق کا اظہار کیا، کتاب میں پیش کئے گئے تمام ہی نکات کو درست قرار دیا۔
جناب حمید اختر صاحب اپنی تحریر” پرسش احوال ” میں اس کتاب کے تعارف کے ضمن میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ” ہندؤوں کے مذہبی عقیدے کے مطابق، ہندو دنیا” کلکی اوتار” کے راہبر اور رہنما کی حیثیت سے منتظر ہے، اس اوتار کی جو تعریف ہندؤوں کی مذہبی کتابوں میں بیان کی گئی ہے، اور ویدوں اور اپنشدوں میں جونشانیاں، علامتیں اور وضاحتیں موجود ہیں ان پر محمد رسول اللہ ﷺ پورے اترتے ہیں۔ پروفیسر موصوف کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے تمام ہندؤوں پر یہ لازم آ تا ہے کہ وہ اپنے اس موعودہ اوتار کا انتظار چھوڑکرحضرت محمد ﷺ کو آخری اوتار تسلیم کرلیں "۔ (پرسش احوال۔ حمید اختر صاحب)۔
مائیکل ایچ ہارٹ (Mechael H. Hart)
ڈاکٹر مائیکل ایچ۔ ہارٹ، ایک امریکی تاریخ دان اور ماہر فلکیات ہے۔ وہ ۸۲/ اپریل ۲۳۹۱ء کو نیو یورک سٹی میں پیدا ہوئے۔ مائیکل ہارٹ نے ایڈلفی یونیورسٹی سے فزکس میں ماسٹر اور پرنسٹن یونیورسٹی سے علم فلکیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کیں۔ طویل مدت تک ناسا کے ساتھ مختلف پروجیکٹس پر کام کیا۔ سسٹمز اینڈ اپلائیڈسایئنسز کارپوریشن کے ساتھ بطور سائنسدان منسلک رہے۔ امریکن فلکیات سوسائٹی کے رکن رہے۔ مختلف سائنسی موضوعات پران کی متعدد کتابیں اور مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ (ویکیپیڈیا)۔
مائیکل ایچ ہارٹ نے ایک کتاب تالیف کی ہے جس کا نام اس نے (The 100 A Ranking of the most influential Persons in History) رکھا ہے۔ اس کتاب میں اس نے تاریخ انسانی کی ایک سو مؤ ثرترین شخصیات کی فہرست مرتب کی ہے۔ اور اس نے اس فہرست میں حضور ﷺ کا نام سرِفہرست رکھا ہے۔ اس نے حضور کو تاریخ کی مؤ ثرترین شخصیت کے طور پر منتخب کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے،وہ کہتا ہے: "میرا یہ انتخاب کہ محمد (ﷺ) دنیا کی تمام انتہائی بااثر شخصیتوں میں سرفہرست ہیں، کچھ قارئین کو اچنبھے میں ڈال سکتا ہے۔ کچھ اور لوگ اس پر معترض ہوسکتے ہیں۔ مگر محمد (ﷺ) تاریخ کے واحد شخص تھے جنہوں نے اعلیٰ ترین مذہب کی بنیاد رکھی اور اس کو پھیلایا، وہ انتہائی مؤثر سیاسی لیڈر بن گئے۔ ان کی وفات کے تیرہ صدیوں بعدآج بھی ان کے اثرات غالب اور طاقتور ہیں۔ اس کتاب میں جن اہم تاریخی شخصیتوں کا انتخاب کیا گیا ہے ان کی اکثریت اس خوش قسمتی کی مالک تھی کہ وہ تہذیب کے مرکزوں میں پیدا ہوئی اور وہاں پلی بڑھی۔وہ ایسی قوموں کے فرد تھے جن میں اعلیٰ تمدن تھا یا ان کو سیاسی مرکزیت حاصل تھی۔ مگر محمد (ﷺ) ۰۷۵ء میں مکہ کے شہر میں پیدا ہوئے جو جنوبی عرب میں واقع تھا۔ اور اس وقت دنیا کا ایک پسماندہ علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ تجارت، آرٹ اور علم میں اس کو کوئی مرکزیت حاصل نہ تھی۔چھ سال کی عمر میں یتیم ہوکر ان کی پرورش ایک معمولی ماحول میں ہوئی۔ اسلامی روایات مزید بتاتی ہے کہ وہ بے پڑھے لکھے تھے۔ محمد ﷺ نے تاریخ انسانیت پر جو بے مثال دینی و دنیوی اثرات ڈالے ہیں وہ میری نظر میں انہیں اس بات کا مستحق قرار دیتے ہیں کہ انہیں تاریخ انسانی کی مؤ ثر ترین شخصیت قرار دیا جائے۔ (تجلیات سیرت۔ صفحہ نمبر ۹۵).
Hero And Hero Worship By Thomas Carlyle
مشاہیر اور مشاہیر پرستی۔ در اصل انیسویں صدی کے ایک معروف برطانوی ادیب تھامس کارلائل کے متعددخطبات کا مجموعہ ہے جنہیں اس نے لندن میں شخصیت اور شخصیت پرستی کے عنوان پر دیا تھا، ان خطبات میں ایک لیکچر ہیرو بحیثیت پیغمبرکے عنوان پر دیا گیا تھا جس کے متعلق یہ بات معروف ہے کہ جس وقت کارلائل کوہیرو بحیثیت پیغمبر کے عنوان پر لیکچر دینا تھاتو ہر شخص یہ امید لگائے بیٹھا تھا کہ وہ اپنے لیکچر میں بطور ہیرو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتخاب کرے گا۔ مگر کارلائل نے اپنے لیکچر میں بطور ہیرو نبی کریم ﷺ کو منتخب کیاتو اکثر سامعین چیں بجبیں ہوگئے،مگر جب کارلائل نے نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو دلائل کے ساتھ بیان کرنا شروع کیا تو آپ ﷺ کی مستند و مدلل سیرتِ پاک کو سن کر وہ لوگ عش عش کرنے لگ گئے۔ یہ لیکچر مستقل کتاب کی صورت میں تو اس عاجز کی نظر سے نہیں گذراہے، تاہم محمد یحی خان صاحب نے اپنی کتاب (پیغمبر اسلام غیر مسلموں کی نظر میں) میں اس لیکچر(ہیرو بحیثیت پیغمبر) کا مکمل ترجمہ پیش کیا ہے جو الحمدللہ اس عاجز کی نظر سے گذرچکا ہے۔ تھامس کارلائل نے اپنے اس خطاب میں متعصب پادریوں کی طرف سے سرور عالم ﷺ پر لگائے گئے ایک ایک الزام کا جواب دیا ہے۔جناب یحییٰ خان صاحب
نے لیکچر کے ترجمہ سے قبل تھامس کارلائل کا مختصر تعارف بھی تحریر کیا ہے، وہ لکھتے ہیں: "ٹامس کارلائل برطانیہ کے شہرہ آفاق ادیب اور فلسفی تھے۔ وہ ۵۹۷۱ء میں اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش اور تعلیم پائی۔ ابتدائی تعلیم ایک معمولی سے دیہی اسکول میں حاصل کی اور ۹۰۸۱ء میں ایڈنبرا یونیورسٹی میں داخل ہوگئے۔چار سال تک یونیورسٹی کے ماحوم میں رہنے کے باوجود ڈگری حاصل نہ کرسکے کیونکہ مروجہ علوم ان کے مزاج سے مناسبت نہیں رکھتے تھے۔ایک مذہبی تعلیمی مدرسہ میں داخل ہوئے کچھ عرصہ شبانہ و روز محنت کرتے رہے مگر پادریوں کے رویہّ سے بدظن ہوکراس سلسلہ کو بھی خیر باد کہہ دیا۔ذریعہ معاش کے لئے ایک اسکول میں ملازمت اختیار کرلی۔ نئی نسل کے ذہنوں کی آبیاری کرتے رہے، وائس پرنسپل کے عہدے تک پہنچ گئے۔ اس مضطرب روح کو آخر مطالعہ کی دنیا میں قرار آیا۔۰۴۸۱ء میں انہوں نے مشاہیر عالم (Heroes)پر معرکۃ الآ راء مقالے لکھے جن کا مجموعہ "Hero And Hero Worship”کے عنوان سے ۱۴۸۱ء میں شائع ہوا، جس میں حضرت محمد ﷺ کے انقلابی کردار پر انہوں نے اپنے فاضلانہ خیالات کا اظہار کیااور اس عمل میں بعض حلقوں کی خفگی مول لی مگر ساتھ ہی دوسرے حلقوں میں انہیں بے پناہ داد بھی ملی”۔(محمد یحیٰ خان۔ پیغمبر اسلام غیر مسلموں کی نظر میں۔ صفحہ نمبر۰۲)۔

برنارڈ شاء
برطانوی مفکر اور مؤرخ برنارڈ شاء کہتا ہے: ” مجھے یقین ہے کہ اگر آج دنیا کی قیادت محمد (ﷺ)جیسے کسی آدمی کے ہاتھ میں دیدی جائے تو وہ دنیا کو درپیش تمام مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہوجائے اور اسے امن، سلامتی اور سعادت کا گہوارہ بنادے "۔ (الاسلام والمستشرقون۔ صفحہ ۶۴۳)۔

تلک عشرۃ کاملۃ۔ یہ میرے آقا رسالت مآبﷺ کی سیرت طیبہ و حیات مبارکہ پر غیر مسلم سیرت نگاروں کی جانب سے لکھی گئیں ان دس کتابوں کا اجمالی تذکرہ ہے جو اس عاجز کی نظر سے گذر چکی ہیں، میں نے اس مختصر مضمون میں (نبی کریم ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں) کے عنوان پر لکھی گئیں متعدد کتابوں میں درج کئے گئے ان سینکڑوں غیر مسلم دانشوروں اور محققین کی کتابوں کے تعارف یا ان کے تاثرات کو زینت تحریر بنانے سے گریز کیا ہے جن کے براہِ راست مطالعہ سے یہ عاجز محروم رہا ہے۔ یار زندہ صحبت باقی۔

اب میں اخیر میں اپنے آقا رسالت مآب ﷺ کی شانِ اقدس میں ہندو شعراکے نذرانہئ عقیدت کے چند نمونے پیش کرکے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ ہندو شعراء کی آپ ﷺ سے محبت و وارفتگی کے پسِ منظرکی تاریخ و تفصیل اور آپ کی شانِ اقدس میں نذرانہئ عقیدت پیش کرنے والے ہندو شعراء کی تعداد و فہرست اتنی طویل ہے کہ بلا مبالغہ ہزارہا صفحات پر مشتمل کئی جلدوں میں بھی یہ تذکرہ سما نہیں سکتا۔ بہت سارے عالی حوصلہ و بلند ہمت اصحابِ قلم نے جذبہئ عشقِ رسول سے سرشار ہوکر ہندو شعراء کے اس بحرِ بیکراں میں دیوانہ وار غوطہ زنی کرکے سینکڑوں آبدار موتیوں کو منتخب کرکے ان کا ایک روشن و تابناک انتخاب پیش کیا ہیں۔ اس دشت کے شناورں میں ایک نمایاں نام جناب نور احمد میرٹھی صاحب کا ہے جنہوں نے (بَہَر زماں بہَر زباں "غیر مسلم نعت گو شعراء کا عالمی تذکرہ و نعتیہ کلام”) کے نام سے تقریباً ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل غیرمسلم شعراء کے حالات اور ان کے نعتیہ کلام کا ضخیم ترین انتخاب پیش کیا ہے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اس کتاب اور صاحبِ کتاب سے متعلق اپنی وقیع رائے پیش کرتے ہوئے رقمطراز ہے: "نعت کے اس نرالے مجموعے کو پڑھ کراس سے بہرہ اندوز
ہونے والے توبہت ہوں گے لیکن یہ احساس بہت کم لوگوں کو ہوگاکہ اس خوانِ نعمت کے سجانے میں میزبان نے محنت و مشقت کے کتنے پہاڑ عبور کئے ہیں ” (بَہَر زماں بہَر زباں، صفحہ نمبر ۸۲۱)۔ کتاب کے آغاز میں غیر مسلموں کی نعتیہ شاعری: تاریخ و تجزیہ کے عنوان سے بہترین تجزیہ پیش کیا گیاہے۔اسی تجزیئے میں مصنف رقمطراز ہے: غیر مسلموں کی نعتیہ شاعری کے حوالے سے جب اردو شاعری کے مختلف ادوار کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ہر دور میں قابلِ ذکر شاعروں کی اچھی خاصی تعداد نمایاں نظر آتی ہے۔ دورِ متوسطین میں پہلے غیر مسلم شعرا منشی شنکر لال ساقی اور راجا مکھن لال مکھن اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں،ان دونوں شاعروں نے نعت گوئی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ دورِ جدید کے شعرا میں علامہ امرچند قیس جالندھری، پروفیسر جگن ناتھ آزاد،پیارے لال رونق دہلوی،کالیداس گپتا رضا،کنور مہندر سنگھ بیدی سحر، اوم پرکاس ساحر ہوشیارپوری،گرن سرن لال ادیب لکھنوی،رانا بھگوان داس بھگوان،لچھمی نرائن سخا میرٹھی اور دامودر ذکی ٹھاکور نے برصغیر کی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان کے علاوہ الّن جون مخلص بدایونی پہلے مسیحی شاعر ہیں جن کا ہدیہئ عقیدت گلدستہئ نعت” ۹۳۹۱ء میں بدایوں سے شائع ہوا اور دوسرے مسیحی شاعرنذیر قیصر ہیں جن کا مجموعہئ نعت "ائے ہوا مؤذن ہو” لاہور سے ۲۹۹۱ء میں منظر عام پر آیا”۔ (بَہَر زماں بہَر زباں، صفحہ نمبر۹۴)۔
ادارہ فروغِ اردو لاہور سے مرحوم محمد طفیل صاحب کی ادارت میں شائع ہونے والے عالمی شہرت یافتہ ادبی مجلہ ماہنامہ نقوش (جس نے ماضی قریب میں اقلیم زبان و ادب پر اپنی بادشاہت و فرمانروائی کے انمٹ نقوش ثبت کئے ہیں)کے شہرہ آفاق خصوصی شمارہ رسول نمبر (جو ۳۱ ضخیم ترین جلدوں میں شائع ہوا ہے)کی دسویں جلد بطور نعت نمبر شائع کی گئی ہے جو تقریباً ۰۷۷ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس خصوصی نمبر میں اگرچہ غیر مسلم شعرا کا مستقل عنوان نہیں رکھا گیا ہے، تاہم نعت کی مختلف صنفوں مثلاً نعت شریف،درود و سلام،قصائد،مثنوی،مسدس،مخمس،نظم،رباعیات و قطعات کے تحت متعدد غیر مسلم ہندو و سکھ شعرا کے کلام کو شامل کیا گیا ہے جو ایک نہایت ہی وقیع ذخیرہ ہے اور اس عنوان پر غالباً سند کا درجہ رکھتا ہے۔
جامعہ احسن العلوم کراچی سے شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا مفتی زرولی خانصاحب قدس سرہ کی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ الاحسن کا ربیع الاول،ربیع الثانی،جمادی الاولیٰ ۹۲۴۱ھ کا مشترکہ خصوصی شمارہ نعت نمبر کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔ اس شمارے میں عہدِ نبوی سے لے کر عہدِ رواں تک کے ہردور کے مختلف زبانوں کے شعراء کرام کی نعتوں کا انتخاب پیش کیا گیا ہے۔ مختلف ادوار اور مختلف طبقات کی اس فہرست میں دوعنوان (ہندو شعرا کا نعتیہ کلام) اور (سکھ شعرا کا نعتیہ کلام) بھی ہیں جن کے تحت متعدد ہندو اور سکھ شعرا کرام کی زبانِ قلم سے نہیں بلکہ خونِ دل سے لکھی گئیں نعتوں کا حسین و جمیل انتخاب پیش کیا گیا ہے۔
یادش بخیر! حضرت مولانا مفتی سید سلمان منصورپوری دامت برکاتہم کی زیر ادارت شائع ہونے والے جامعہ قاسمیہ شاہی مراداباد کے ترجمان ماہنامہ (ندائے شاہی) کی ایک خصوصی دستاویزی یادگار اشاعت نعت النبی نمبر کے نام سے پہلی مرتبہ غالباً اکتوبر ۳۰۰۲ء میں شائع ہوئی تھی، اس عاجز کے پیش نظر اس کا تیسرا ایڈیشن ہے جو اپریل ۵۰۰۲ء میں شائع ہواتھا، اس جدید ایڈیشن کے ایک عنوان "عرضِ مرتب (طبع جدید)” کے تحت مرتبِ نعت النبی حضرت مولانا مفتی سید سلمان منصورپوری دامت برکاتہم جدید ایڈیشن کی ترتیبِ جدید اور تصحیح و اضافہ سے متعلق کئے گئے مختلف امور کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک بات یہ تحریر فرماتے ہیں کہ: ” غیر مسلم شعرا کے کلام والے حصہ کو بھی حذف کردیا گیا ہے” اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ نعت النبی کے پہلے ایڈیشن میں غیر مسلم شعرا کا نعتیہ کلام بھی شامل کیا گیا تھا۔ کاش اس جدید ایڈیشن میں بھی اس کو برقرار رکھا جاتا تو کافی اچھا ہوتا۔
مضمون کے اس آخری پڑاؤ پر ارادہ تو یہی تھا کہ اپنے آقا رسالت مآب ﷺ کی شانِ اقدس میں ہندو شعراکے نذرانہئ عقیدت کے چند
نمونے پیش کرکے قلم کو آرام دے دیا جائے، لیکن ہائے رے میرے محبوب کے تذکرہئ مبارک کی لذت کہ قلم نے رک کر سانس لینے کی بجائے محبوب ﷺکے غیر مسلم مدّاحوں اور ثناخوانوں کا ذکر جمیل کرنے والوں کے ہجوم میں گھْس پڑا۔
بہرحال! حقیقت یہ ہے کہ میرے آ قا حضرت محمدمصطفیٰ،احمد مجتبیٰ، محسنِ انسانیت،فخرِدوراں،راحتِ دلِ مضطر ﷺ کے اخلاقِ عظیمہ و اوصافِ حمیدہ سے متا ثر ہوکران گنت غیر مسلم ہندو و سکھ شعرا نے آپ کی شانِ اقدس میں انتہائی ادب و احترام کے ساتھ نذرانہ ئ عقیدت و محبت پیش کیا ہے۔ بعض غیر مسلم شعرا نے توکچھ اس عجب انداز سے اظہار محبت کیا ہے کہ رشک آتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ آپﷺکسی ایک قوم یا ملّت کی جاگیر نہیں ہوسکتے بلکہ آپ پر ہمارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی ایک مسلمان کا ہوسکتا ہے۔
کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کہتے ہیں:
ہم کسی دین سے ہو، قائل ِ کردار تو ہیں ہم ثناخوانِ شہ حیدرِ کرّار تو ہیں
نام لیوا ہیں محمد کے، پرستار تو ہیں یعنی مجبور پئے احمد ِ مختار تو ہیں
عشق ہوجائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں
چودھری دِلّو رام کوثری کا ایک شعر ہے
کچھ عشقِ پیمبر میں نہیں شرطِ مسلماں ہے کوثری ہندو بھی طلبگارِ محمد
یہ چودھری دِلّو رام کوثری ایک ممتاز نعت گو شاعر گذرے ہیں، ان کی نبی کریم ﷺ سے محبت و عقیدت کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ کی شانِ اقدس میں ایک غیرمنقوط نعتیہ دیوان مرتب کیا ہے۔ ان کا ایک مجموعہئ کلام (ہندو کی نعت اور منقبت) کے نام سے مصوّر فطرت حضرت خواجہ حسن نظامی دہلوی نے جولائی ۴۲۹۱ء میں حلقہئ مشائخ بک ڈپو، دہلی سے شائع فرمایا تھا۔ اور ایک دوسرانعتیہ مجموعہئ کلام (آبِ کوثر) کے نام سے حکیم سید ہاشم علی شاہ جیلانی نے شاہی کتب خانہ، فیض باغ، لاہور سے شائع کیا تھا۔ الحمدللہ ان دونوں ہی مجموعہئ کلام کے نادر و نایاب برقی نسخے اس عاجز کی برقی لائبریری میں موجود ہیں جس سے یہ عاجز گاہے گاہے محظوظ ہوتا رہتا ہے۔ کچھ نمونے آپ بھی ملاحطہ فرمائیں:
شہنشاہِ دو عالم ، محمّد محمد رسول ِ دو عالم، محمّد محمد
زباں کا یہی ہے اشارہ لبوں کو کہیں مل کے باہم محمّد محمد
بہنگامِ معراج چرچا یہی تھا فلک پر تھا پیہم محمّد محمد
وہ ہے ا بنِ آدم وہ ہے فخرِآدم مکرّم معظّم محمّد محمد
یہ دعویٰ سے کہتا ہوں سب کو سناکر خدا کا ہے محرم محمّد محمد
اگرچہ نبی آخری ہے وہ لیکن ہے سب سے مقدّم محمّد محمد
رہائی ہو غم سے اگر کوئی بندہ پکارے دمِ غم محمّد محمد
ہے لازم کہ ہر ایک مسلم کہے یوں نبی ہے مّسَلَّم محمّد محمد
صلہ ہو یہی نعت گوئی کا میری خدا خوش ہو، خْرّم محمّد محمد
الٰہی میرے منھ میں جب تک زباں ہو زبان پر ہو ہردم، محمّد محمد
وظیفہ یہی کوثری جی ہے اپنا جپا کرتے ہیں ہم محمّد محمد
اسی مجموعہ میں شامل ایک اور کلام ملاحظہ فرمائیں :
محشر میں دی فرشتوں نے داور کو یہ خبر ہندو ہے ایک احمد ِ مْرسَل کا مدح گر
ہے بت پرست اگرچہ وہ، لیکن ہے نعت گو احمد کی نعت لکھتا ہے دنیا میں بیشتر
ہے نام دِلّْو رام تخلّْص ہے کوثری لے جائیں اس کو خْلد میں یا جانبِ سقر
سنتے ہی یہ ملائکہ سے ایک انوکھی بات فرمایا ذوالجلال نے جنت ہے اس کا گھر
اللہ اکبر ، احمد ِ مْرسَل کا یہ لحاظ کی حق نے لطف کی سگِ دنیا پہ بھی نظر
روہندر رویندر جین کہتے ہیں:
آپ کے ماننے والوں میں ضروری تو نہیں صرف شامل ہو مسلمان، رسول ِ اکرم

سلام اس پر جو آیا رحمۃ للّعالمین بن کر
پروفیسر جگن ناتھ آزاد
سلام اس ذاتِ اقدس پر،سلام اس فخرِ دوراں پر ہزاروں جس کے احسانات ہیں دنیائے امکاں پر
سلام اس پر جو حامی بن کر آیا غم نصیبوں کا رہا جو بیکسوں کا آسرا، مشفق غریبوں کا
مددگار و معاون بے بسوں کا، زیر دستوں کا ضعیفوں کا سہارا او ر محسن حق پرستوں کا
سلام اس پر جو آیا رحمۃ للّعالمین بن کر پیامِ دوست لے کر صادق الوعد و امیں بن کر
سلام اس پر کہ جس کے نور سے پْر نور ہے دنیا سلام اس پر کہ جس کے نطق سے مسحور ہے دنیا
سلام اس پر جلائی شمعِ عرفاں جس نے سینوں میں کیا حق کے لئے بے تاب سجدوں کو جبینوں میں
سلام اس پر بنایا جس نے دیوانوں کو فرزانہ مئے حکمت کا چھلکایا جہاں میں جس نے پیمانہ
بڑے چھوٹے میں جس نے ایک اخوت کی بنا ڈالی زمانہ سے تمیزِ بندہ و آقا مٹا ڈالی
سلام اس پر فقیری میں نہاں تھی جس کی سلطانی رہی زیر ِ قدم جس کے شکوہ و شانِ خاقانی
سلام اس پر جو ہے آ سودہ زیرِ گنبدِ خضریٰ زمانہ آج بھی ہے جس کے در پر ناصیہ فرسا
سلام اس پر کہ جس نے ظلم سہہ سہہ کر دعائیں دیں وہ جس نے کھائے پتھر، گالیاں، اس پر دعائیں دیں
سلام اس ذاتِ اقدس پر حیاتِ جاودانی کا سلام آزاد کا، آزاد کی رنگیں بیانی کا

ایک عرب نے آدمی کا بول بالا کردیا
پنڈت ہری چند اختر

کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کردیا کس نے قطروں کو ملایااور دریا کردیا
زندہ ہوجاتے ہیں جو مرتے ہیں اس کے نام پر اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کردیا
شوکت مغرور کا کس شخص نے توڑا طلسم منہدم کس نے الٰہی قصرِ کسریٰ کردیا
کس کی حکمت نے یتیموں کو کیا دْر ِ یتیم اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولا کردیا
کہہ دیا لا تقنطوا اختر کس نے کان میں اور دل کو سر بسر محو ِ تمنا کردیا
سات پردوں میں چھپا بیٹھا تھا حسنِ کائنات اب کسی نے اس کو عالم آشکارا کردیا
آ دمیت کا غرض ساماں مہیا کردیا ایک عرب نے آدمی کا بول بالا کردیا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: