زبان و ادب

رواں دواں قلم آج ہمیشہ کے لیے رک گیا

*
ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی
خادم تدریس
جامعہ نعمانیہ، وی کوٹہ، آندھرا پردیش

ابھی چند دن قبل سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش میں آئی تھی کہ ملک کے مایہ ناز عالم دین قلم و قرطاس کے شہسوار حضرت مولانا سید جلال الدین عمری صاحب دامت برکاتہم کی طبیعت ناساز ہے ان کی صحت یابی کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ عافیت کے ساتھ تادیر باقی رکھے۔ آمین
ابھی ہر طرف ان کی صحت و تندرستی کے لیے دعائیں ہورہی تھی لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، جس کا جو وقت مقرر ہے وہ اسی وقت اس کارگاہ ہستی سے ابدی گھر کے لیے پابہ رکاب ہوتے ہیں۔
آج بعد نماز عشاء واٹس ایپ کے اکثروبیشتر گروپ میں یہ دل خراش خبر ملی کہ ملک کے عظیم عالم دین ملک و ملت کے بے لوث خادم قلم و قرطاس کے نامور ہستی حضرت مولانا سید جلال الدین عمری رحمہ اللہ (سابق امیر جماعت اسلامی ہند) شہر خموشاں کے مکینوں میں شامل ہوگئے، خبر دیکھتے ہی دل کو دھچکا لگا اور کلمہ استرجاع زبان پر جاری ہوا
*انا لله وانا اليه راجعون*
*افان مت فهم الخالدون*
*اللهم اغفر له وارحمه وادخله في فسيح جناتك ياارحم الراحمين آمين*
حضرت مولانا سید جلال الدین عمری صاحب رحمہ اللہ اس وقت ملت اسلامیہ ہندیہ کے لئے ایک بیش قیمت گوہر تھے، آپ رح کی شخصیت اہل علم کے درمیان محتاج تعارف نہیں تھی، آپ ملک کے ایک قدیم اسلامی تنظیم "جماعت اسلامی ہند” کے سابق امیر تھے، اسی طرح ملک کے متحدہ پلیٹ فارم "آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ” کے نائب صدر تھے، نیز سہ ماہی علمی رسالہ "تحقیقات اسلامی” کے مدیر اعلیٰ تھے۔
حضرت مولانا رحمہ اللہ کی شخصیت پاک باز پاک طینت تھی، الحمدللہ! ایک مرتبہ مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں دید ولقا اور مصافحہ کرنے کا موقع ملا تھا، اور پھر غالباً دو چار ماہ میں آپ کی تخلیقی مضامین کے ذریعہ آپ سے ملاقات ہوتی رہتی تھی، آج ہی جمعہ کی نماز سے قبل آپ کا ایک مضمون *”داعیانِ امت کا ذاتی تزکیہ”* ماہنامہ "راہ اعتدال” اکتوبر 2021/ء (جامعہ دارالسلام عمر آباد،تمل ناڈو) پڑھا تھا اس کے مواد سے دل خوش ہوگیا کیونکہ 9/صفحات پر مشتمل مضمون میں 21/آیتیں ہیں، یعنی پورا مضمون "قرآنی آیات کے ہی تانے بانے سے مزین ہے”حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی کسی تقریر یا تحریر میں دیکھا سنا تھا کہ میری تقریر وتحریر” قرآنی الفاظ کے تانے بانے "سے ہی تیار ہوتے ہیں، اس دور میں حضرت مولانا سید جلال الدین عمری رحمہ اللہ حضرت مولانا ندوی رحمہ اللہ کے ثانی تھے۔
اس کے لیے سہ ماہی رسالہ ” تحقیقات اسلامی” علی گڑھ اور ماہنامہ "راہ اعتدال” عمر آباد اور دیگر مؤقر رسائل جس میں مولانا عمری رحمہ اللہ کے مضامین شائع ہوتے تھے ان رسائل کو دیکھا جاسکتا ہے۔
حضرت مولانا زود نویس تھے لیکن اس کے باوجود آپ کا ہر مقالہ علمی نکات سے لبریز ہوتا تھا،اب تک آپ کا قلم رواں دواں تھا لیکن آہ! آج ہمیشہ کے لیے ٹھہر گیا، اللہ تعالیٰ آپ کی کامل مغفرت فرمائے (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: