مضامین

1945میں جمعیت علمائے ہند کے ملی اور سیاسی کارنامے

محمد یاسین جہازی 9891737350

1945میں جمعیت علمائے ہند کے ملی اور سیاسی کارنامے
محمد یاسین جہازی 9891737350
مولانا اطہر صاحبؒ کٹکی رکن جمعیت علمائے ہند کو ڈھائی سال کی نظر بندی کے بعد 6/ جنوری 1945کو رہا کردیا گیا۔
31/ جنوری و یکم و ۲/ فروری 1945کو مجلس عاملہ کا سہ روزہ اجلاس ہوا، جس میں ریاست دھار کی شاہ مسجد اور مقابر کے قضیہ کی تحقیق کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اسی طرح آزاد ہندستان کے دستور میں مسلمانوں کی حقیقی پوزیشن پر بھی کافی غورو خوض کیا گیا۔
رسالہ پرچار میں تعلیمات اسلام کے خلاف باتیں لکھنے کی وجہ سے 7/ اپریل 1945کو ایک تار بھیج کر مہاراجہ اندور سے اسے ضبط کرنے کا مطالبہ کیا۔
14-15/ اپریل 1945کے اجلاس مجلس عاملہ میں آسام لائن سسٹم کو ختم اور مسلمانان برپیٹا پر مظالم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور ہسٹری آف پرشیا میں نبی کریم ﷺ اور جبرئیل امین علیہ السلام کی فرضی تصویر شائع کرنے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے، انھیں کتاب سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔
4،تا7/ مئی 1945کو سہارن پور میں چودھواں عظیم الشان تاریخی اجلاس عام ہوا، جس میں ملک و ملت کے سلگتے مسائل پر طویل بحث و مباحثے کے بعد بائیس تجاویز منظور کی گئیں۔ پہلی تجویز میں امام انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ صاحب سندھیؒ، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، بانی تبلیغی تحریک حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کاندھلویؒ، محدث دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا میاں اصغر حسین صاحبؒ،شہید ملت جناب خان بہادر اللہ بخش سندھی ؒ کے علاوہ دیگر مشاہیر امت کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کو تعزیت مسنونہ پیش کیا گیا۔دوسری تجویز میں پرشوتم داس ٹنڈن اور بعض دیگر کانگریس وزیروں اور عہدیداروں کی اردوکے خلاف معاندانہ سرگرمیوں کی مذمت کی گئی۔ تیسری تجویز میں مرکزی جمعیت کے لیے ایک بڑے دفتر کی ضرورت کا اعلان کرتے ہوئے چندہ کی اپیل کی گئی اور اجلاس ہی میں تقریبا چالیس ہزار روپے جمع ہوگیا۔ دفتر کے چندہ کے لیے حضرت شیخ الاسلام ؒ کی ایک چھڑی ایک ہزار میں اور ٹارچ تین سو روپے میں نیلام کیا گیا۔ چوتھی تجویز میں مدارس عربیہ کے فضلا کے لیے سیاسی تربیت گاہ قائم کرنے پر زور دیا گیا۔ پانچویں تجویز میں حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانویؒ،حضرت مولانا نور الدین صاحب بہاریؒ اور جناب رفیع احمد قدوائی صاحبؒ کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ چھٹی تجویز میں 1942کی ”بھارت چھوڑ دو“ تحریک کے تحت قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں کو مبارک باد پیش کی گئی۔ ساتویں تجویز میں مولانا منیر الزماں صاحب اسلام آبادیؒ کی گرفتاری پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ آٹھویں تجویز میں آئینی مسائل کا حل پیش کرنے کے لیے پیش کی گئی سپرو کمیٹی کی سفارشات میں حق خود ارادیت کی کلیتا نفی، دستور ساز اسمبلی میں اچھوتوں کے لیے جداگانہ نیابت کا استحقاق اور آئندہ آزاد حکومت کی تشکیل کی بعض تفصیلات جمعیت علمائے ہند کے فیصلوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہندستان کے مسئلہ کے حل کے لیے غیر مفید قرار دیا۔ نویں تجویز میں از 25/ اپریل، تا 26/ جون 1945کو سان فرانسسکو کانفرنس میں شرکت کرنے والے وفد کی نامزدگی، چوں کہ حکومت ہند نے برطانوی شہنشاہیت کے مفاد کی ترجمانی کی غرض سے کی تھی، اس لیے اس وفدپر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔دسویں تجویز میں آسام لائن سسٹم کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔ گیارھویں تجویز میں جنگ عظیم دوم ختم ہونے کے باوجود سیاسی جمود و تعطل پر اظہار تعجب کرتے ہوئے، مسلمانوں کے مذہبی، تہذیبی اور سیاسی حقوق کی ضمانت پر مشتمل دستور ہند میں شامل کرنے کے لیے مشہور فارمولہ پیش کیا گیا، جو تاریخ میں ”مدنی فارمولہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ بارھویں تجویز میں برطانوی حکومت ہند کی طرف سے تعلیمی اقدامات کے لیے پیش کیا گیا سارجنٹ پلان (Sargent Plan) میں مسلمانوں کی مخصوص تعلیمی ضروریات کا تذکرہ نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔تیرھویں تجویز میں اے ہسٹری آف پرشیا نامی کتاب میں نبی اکرم ﷺ اور جبرئیل امین علیہ السلام کی فرضی تصاویر کو نکالنے کا مطالبہ کیا۔ چودھویں تجویز میں کنٹرول سسٹم کی وجہ سے دیسی صنعت تباہ ہونے کے باعث اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پندرھویں تجویز میں چمور اور آشتی کے ملزموں کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ سولھویں تجویز میں تحقیقاتی وفد کی رپورٹ کی روشنی میں ریاست دھار کی جامع مسجد کو ہندو مہاسبھا کی طرف سے بھوج شالا گرداننے کی شدید مذمت کی گئی۔ سترھویں تجویز میں لکھنو میں پانچ سال سے مدح صحابہ پر پابندی لگانے کی مذمت کرتے ہوئے اس ناانصافی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اٹھارھویں تجویز میں سگریٹ فیکٹری کے مالکان کا مزدوروں کے ساتھ ناانصافی کرنے پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے گورنمنٹ سے سگریٹ مزدوروں کی شکایات کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انیسویں تجویز میں ریلوے کو موٹرس سروس کی ماناپولی دینے کی تجویز پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ بیسویں تجویز میں جمعیت کے ساتھ مسلم مجلس کے اشتراک کو منظوری دی گئی۔ اکیسویں تجویز میں سفر حج کی رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا۔ اور آخری تجویز شکریہ کے الفاظ پر مشتمل تھی۔
28/ جون 1945کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں جمعیت کے علاوہ دوسری تنظیموں کے لیڈروں کو بھی مدعو کیا گیاتھا۔ اس مشترکہ اجلاس میں ہندستان کے آئینی مسئلے کو حل کرنے اور انگریزوں سے بھارتیوں کو پاور منتقل کرنے کے حوالے سے، 14/ جون 1945 کولارڈ واویل کا پیش کردہ واویل پلان پر غوروخوض کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا کہ یہ پلان عارضی وقت کے لیے مناسب ہے۔ اسی طرح اس بات کا بھی اعلان کیا گیا کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نماہندہ جماعت نہیں ہے۔
واویل نے اپنے فارمولہ کے مطابق ایگزیکیٹو کونسل کے اراکین کو منتخب کرنے کے لیے 25/ جون 1945کو شملہ کانفرنس بلائی، جس میں کانگریس نے نام پیش کردیے؛ مگر مسلم لیگ نے اس بات پر اصرار کرتے ہوئے نام پیش کرنے سے انکار کردیا کہ کانگریس ہندووں کی جماعت ہے، اس لیے اسے مسلمان ممبروں کو نامزد کرنے کا حق نہیں ہے۔یہ حق صرف مسلم لیگ کو ہے؛ کیوں کہ وہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم ہے۔ اس بے جا اصرار کی وجہ سے 14/ جولائی 1945کو کانفرنس کی ناکامی کا اعلان کردیا گیا۔
اس کے بعد واویل نے ہندستان میں خود مختارقومی حکومت قائم کرنے کے لیے ستمبر 1945میں مرکزی اور صوبائی انتخابات کا اعلان کیا، جس کے پیش نظر،جمعیت علمائے ہند کی دعوت پر مختلف مسلم تنظیموں اور لیڈروں پر مشتمل 16تا 19ستمبر1945کو چار روزہ اجلاس کیا گیا، جس میں پہلے دو دن مجلس عاملہ کا اور بعد کے دو دن میں مجلس مرکزیہ کا اجلاس ہوا۔16 / ستمبر1945:پہلے دن کے اجلاس میں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق غلط اور توہیز آمیزمضامین پر مشتمل کتاب کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا اور پھر آئندہ انتخابات پر طویل بحث و گفتگو ہوئی۔ دوسرے دن 17/ ستمبر1945کے اجلاس میں آئندہ انتخابا ت میں مشترک طور پر حصہ لینے کے لیے تمام آزادی خواہ جماعتوں اور نیشنلسٹ مسلمانوں پر مشتمل ”مسلم پارلیمنٹری بورڈ“ تشکیل دی گئی، جس کا صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی صاحبؒ کو بنایا گیا۔اس بورڈ کے اراکین نے الیکشن میں صرف مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے نامزد یا تائید کردہ امیدواروں کو ہی ووٹ دینے کی تحریک چلانے کے لیے پورے ملک کا دورہ کیا۔ لیکن مسلم لیگ کے غنڈوں نے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہوئے اکابرین ملت؛ بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒصاحب صدر جمعیت علمائے ہند و مسلم پارلیمنٹری بورڈ، حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان سیوہاروی ؒصاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند و صدر آل انڈیا کانگریس اور دیگر قومی قائدین کے ساتھ گستاخیاں کیں؛ حتیٰ کہ انھیں جان سے مارنے کی بھی کوششیں کیں۔
18اور 19ستمبر1945کو مجلس مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس کی پہلی تجویز میں ”مسلم پارلیمنٹری بورڈ“ تشکیل دینے پر تمام آزادی خواہ جماعتوں اور افراد کو مبارک باد پیش کی گئی۔ دوسری تجویز میں فلسطین کو وطن الیہود بنانے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا اور2/ نومبر1945کو پورے ہندستان میں یوم فلسطین منانے کی اپیل کی۔ تیسری تجویز میں سفر حج کی رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا۔ چوتھی تجویز میں انڈین نیشنل آرمی کے تمام سپاہیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔پانچویں تجویز میں آزادی خواہ اخبارات و پریس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر حکومت برطانیہ کے رویہ کی مذمت کی گئی۔ اور آخری تجویز میں مسلم لیگ اور خاکسار کارکنوں میں ہوئے تصادم کے نتیجے میں قید خاکساروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
4/ مئی 1945کو جمعیت علمائے صوبہ یوپی نے ریاستی سطح پر امیر شریعت منتخب کرنے کی کوشش کی، جو کامیاب نہ ہوسکی۔
امسال جمعیت کے لیے انتخاب کا سال تھا، جس میں دوبارہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ صاحب کو صدر بنایا گیا۔ (جمعیت علمائے ہند کے سو سال، جلد چہارم)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: