اہم خبریں

5؍فیصد مسلم ریزرویشن کا خیر مقدم ،جمعیۃ علماء مہا راشٹر

پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کا فیصلہ وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کا قابل ستائش اقدام ہے : مولانا ندیم صدیقی

ممبئی ۔ 29؍ فروری ( پریس ریلیز ) مہاراشٹر کی مہا وکاس اگھاڑی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو 5 ؍ فیصد ریزرویشن دینے کے اعلان کا برسوں سے مسلم ریزرویشن کے لئے جدو جہد کرنے والی نما ئندہ تنظیم جمعیۃ علما مہا راشٹر نے خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی اسے قانونی حیثیت دے کر صوبے بھر میں نافذ کیا جائے گا ۔پسماندگی کی بنیاد پر تعلیم میں مسلمانوں کو پانچ فیصد ریزرویشن دینے کے فیصلہ پر جمعیۃ علما مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مہا وکاس اگھاڑی کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے،این سی پی صدر جناب شردپوار صاحب ،کانگریس پارٹی کے صدر بالا صاحب تھورات کا قابل ستائش اقدام ہے ، ہم اقلیتی وزیر جناب نواب ملک صاحب کے بھی شکر گذار ہیں کہ انہوں نے مسلم ریزرویشن کا اعلان کرکے مسلم نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا – انہوں نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے ملک کی آزادی کے بعد ۱۹۵۱ء سے ہی مسلمانوں کی سماجی ،معاشرتی، اقتصادی، تعلیمی ،سیاسی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن کے حصول کے لئے جد و جہد کا آغاز کر دیا تھا اور اپنے تمام مر کزی و صو بائی اجلاسوں اور کانفرنسوں میں ریزر ویشن کا مطالبہ کر تی رہی با لآخر جمعیۃ علماء کی کوششیں رنگ لائیں اور ریاست آندھرا پردیش، تمل ناڈ اور مغربی بنگال میں مسلمانوں کو ریزرویشن ملا۔
جمعیۃ علماء ہند کی ہدایت کے مطابق جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے بھی ریزرویشن کے حصول کیلئے صو بے بھرمیں بے شمار اجلاس کانفرنسیںاور دھرنے کئے جس کے نتیجہ میں مہاراشٹر کی سابقہ کانگریس و این سی پی حکومت نے مراٹھا سماج کو ۱۶؍ فیصد اور مسلمانوں کو ۵؍فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔جسے بی جے پی کی فرقہ پرست حکومت نے عدالت کےذریعہ سرکاری تعلیمی اداروں میں مسلم ریزرویشن کو بحال رکھنے کے باوجود محض مسلم دشمنی کی بنیاد پر مسترد کر دیا تھا -جس کے خلاف جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے پوری ریاست میں ریزرویشن کی بحالی کے لئے ضلعی ،شہری ،مقامی جمعیتوں کے تعاون سے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور تمام ضلع کلکٹر ، ڈپٹی کلکٹر اور تحصیلدار کو میمورنڈم دیا،اور اسی سلسلے میں ۴؍ فروری ۲۰۱۵ ء کو جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے ایک نمائندہ وفد نےسابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے ملاقات کرکے میمورنڈم دیتے ہوئے ریزرویشن کا مطالبہ کیا۔ پھر ۱۸؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو ریزرویشن کے لئے ریاست گیر احتجاج کیا گیا جس میں لاکھوں لاکھ لوگوں نے حصہ لیا ،۲۰؍ اکتوبر کو آزاد میدان ممبئی میں بڑا احتجاجی اجلاس منعقد کرکے ریزرویشن کا مطالبہ کیا گیا ، اور پھر ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کو ناگپور میں اسمبلی سیشن کے دوران ایک اجلاس عام منعقد کیا گیاجس میںقائد ملت مولانا سید محمود مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند شریک تھے ،اس موقع پروزیر اعلی سے ملاقات کرکے دستوری بنیادوں پر دیئے گئے ریزرویشن کو بحال کرنے کا پر زور مطالبہ کیا گیا ۔
مولانا صدیقی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علما نے ہمیشہ مسلمانوں کی تعلیمی ،سماجی ،اقتصادی پسماندگی کی بنیاد پر ہی ریزرویشن کا مطالبہ کیا ہے تاکہ دیگر قوموں کی طرح مسلم سماج کے پسماندہ لوگ بھی ملک کی مین اسٹریم میں شامل ہو سکیں ۔ منصوبہ بند طر یقہ پرزندگی کے تمام شعبوں میں مسلمانوں کی نما ئندگی گھٹائی گئی جس شعبہ میں بھی وہ نمایاں تھے وہاں ان کو پست ہونے پر مجبور کر دیا گیا ،ہزاروں مسلم کش فسادات کے ذریعہ ان کی جان ، مال ،عزت کے ساتھ کھلواڑ اور صنعتی و اقتصادی مراکز کو تباہ کرکے سماجی طور پر ان کو بے حیثیت اور اقتصادی طور پر برباد کر دیا گیا ۔جس کی وجہ سے آج مسلمان ہر شعبہ زندگی میں نہ صرف پچھڑے ہیں بلکہ دلتوں سے گئے گذرے ہیں ان کو آگے بڑھانے کے لئے ریزرویشن بحال کرنا انتہائی نا گزیرتھا ۔موجودہ مہا وکاس اگھاڑی حکومت کی جا نب سے ریزرویشن دینے کے اعلان سے مسلم سماج میں خوشی کا ماحول ہے اور حکومت کے تئیں یہ امید کی جارہی ہے کہ اس دیرینہ مطالبہ کو حکومت ضرور پورہ کرے گی ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریزرویشن کا یہ اعلان صرف جی آر تک ہی محدود نہ رہ جائے بلکہ ایسا ٹھوس اقدام کیا جائے جس سے مخالفین کو چیلنج کرنے کا موقع نہ مل سکے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ملازمت کے شعبہ میں بھی ریزرویشن نافذ کیا جائے ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: