مضامین

95 سال پہلے مولانا سلمان ندوی کو اہل مدارس کو دیا گیا قیمتی مشورہ

مولانا سیّد سلیمان ندوی نور اللہ مرقدہ

ہمارے نوجوان ارکانِ سلطنت کہتے ہیں کہ آج ہم کو نئی نئی ضرورتیں درپیش ہیں، نئے نئے مسائل سامنے ہیں، نئے نئے معاملات اور معاملات کی نئی نئی صورتیں آگے ہیں، جن کا جواب ہم کو اسلام کے قانون سے نہیں ملتا، لیکن اس کی وجہ تو یہ ہے کہ آپ نے ہماری پرانی سلطنتوں کی طرح علمائے مجتہدین کے پیدا کرنے کا سامان نہیں کیا، کون کہہ سکتا ہے کہ فاروقؓ اعظم کی سلطنت کی ضروریات ہارون الرشید کی سلطنت کی ضروریات کے بالکل برابر تھیں، زمانہ کے ہر قدم کے ساتھ معاملات کے نقشے بھی بدلتے رہتے ہیں، مگر ہارون الرشید کے ساتھ قاضی ابویوسف کا بھی وجود تھا۔
حضرات! ترکی میں تعلیم کے اندر جو انقلاب پیدا کیا گیا ہے، اس کی صورت یہ کی گئی ہے کہ دینی اور دنیوی درس گاہیں جو اب تک جدا جداتھیں، بند کردی گئی ہیں، اور دونوں علوم کی جامع درس گاہیں جامعہ ترکیہ قسطنطنیہ کے ماتحت کردی گئیں، اس مجلس کی ترکی تالیفات میں نے ایک نظر دیکھی ہیں۔ علم کلام جدید کی دو جلدیں شائع ہوئی ہیں، ایک ماہوار مذہبی رسالہ اس کی طرف سے شائع ہوتا ہے، مگر جو کچھ اس میں نقص ہے، وہ یہ ہے کہ مذہبی عنصر اس میں کم داخل ہے، ترکی میں جو قوانین نکاح و طلاق و خلع کے بنے ہیں، ان میں یہی نقص ہے، کہ ان کی تعبیر شرعی رنگ میں نہیں کی گئی ہے، جس سے لوگوں میں بدگمانیاں پھیلتی ہیں، حالاں کہ علمائے اسلام کا دعویٰ ہے اور یہ دعویٰ بالکل سچ ہے، کہ شریعت اسلامی ہر قسم کے ضروری مناسب عقل و مصالح قوانین کے لیے بالکل کافی ہے، ضرورت مجتہدانہ تعلیم کی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: