مضامین

تاریخ، اقبال کے لفظوں میں

رخشندہ جلیل (27/اکتوبر 2019ء انڈین ایکسپریس) ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا) Cell:9890245367

میری ابتدائی یادداشت جب اسکول میں گایا جاتا تھا ”لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری“ جو تمام لڑکوں کے اسمبلی میں یکساں طور پر ہاتھ جوڑ کر، آنکھیں بندکئے ہوئے خوشی و خضوع سے گایا جاتا تھا۔ یہ تمام باتیں میرے ذہن میں نقش۔ میرے دادا پروفیسر آل احمد سرور جو اُردو کے اسکالر اور اقبالیات کے ماہر تھے، اُن کی وجہ سے یہ تمام میرے ذہن میں ہیں۔ جنہوں نے اقبال کی شاعری کو پھیلایا۔ بہت ہی بچپن کا زمانہ تھا۔ جہاں سے یہ فلسفی، یہ سوالات، نظریات میرے ذہن میں چھپے ہوئے ہیں۔ حالانکہ اس موسیقی کے ذریعہ سے آنے والے الفاظ میرے ذہن و دما غ میں ہیں۔
جب میرے ابا جس وقت ”او غافل افغان، جنگ یرموک کا ایک واقعہ، نیا شیوالہ، حقیقت حسن، جبرئیل و ابلیس، یا روہیلہ، اپنی درد بھری آواز میں پڑھتے تھے جس کے ذریعہ وہ نہ صرف میرے کانوں میں شہد گھولتے تھے جس کی وجہ سے میرے ذہن و دماغ میں اس بات کی بنیاد پڑ گئی تھی کہ کس طرح اُردو شاعری سے مذہبی پیروی کا آغاز ہوا۔
اس طرح میں کئی برسوں کے بعد یعنی 1877ء سے لیکر 1938 کے دوران اقبال کو پڑھا۔ تاکہ انہیں سمجھ سکوں کہ کس طرح انہوں نے اپنے زمانے و عہد کے مطابق شاعری کی۔ جس میں انہوں نے بنیادی طور پر بعض باتوں سے انحراف بھی کیا۔ اور پھر اخلاقیت کی بنیاد بھی رکھی۔ جس کی وجہ سے لوگ انہیں علامہ یعنی اسکالر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ جو عوام کو سامراجی نظام کے خلاف اپنی نظموں سے جگاتے تھے۔ جس طرح ”پنجاب کے دہقان“سے اور ”فرمان خدا“میں اپنے کلام سے ناصحانہ انداز کی وجہ سے اُردو شاعر بن گئے تھے۔ جنہوں نے مغربی تہذیب کے نہ صرف روشن خیالات سے استفادہ کیا بلکہ اس کی وجہ سے کس طرح جدیدیت اور اپنے عقائد سے مفاہمت کو خصوصی طور پر توجہ دی۔ جس کی وجہ سے نئی صدی میں اُن کی شناخت کی وجہ سے اُن کی شخصیت متلاطم قرار پاتی ہے۔
علامہ اقبال نے 1899ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویٹ کی تکمیل کی۔ بعد ازاں اسی کالج میں فلاسفی کے لیکچرار مقرر ہوئے۔ جس کے بعد فلاسفی کی اعلیٰ تعلیم کے لئے ٹرینٹی کالج کیمبرج اور ہیڈلبرگ کے علاوہ میونخ جرمنی گئے جہاں سے انہوں نے 1905ء اور 1908ء کے درمیان Bar at Law کی ڈگری حاصل کی۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد دو برس تک گورنمنٹ کالج میں پڑھایا۔ جس کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی اور بحیثیت وکیل اپنے آپ کو بالکلیہ طور پر تیار کیا۔ اور اس کے بعد انہوں نے پڑھنے لکھنے کا بھی آغاز کیا۔ جس میں ان کی تنقیدیں شاہی حکومت کے خلاف بھی ہوا کرتی تھیں۔ لیکن تعجب ہوتا ہے کہ کس طرح انہوں نے 1922 ء میں Knighthood کے خطاب کو قبول کیا۔ 1927ء میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے لئے بھی منتخب ہوئے۔ اس دوران ان کے فلسفیانہ لیکچرار 1928-29 ء میں علی گڑھ، حیدرآباد، مدراس میں ”اسلام میں مذہب کی تعمیر نو کے خیالات“کے عنوان سے مخاطب کیا۔ 1931ء میں انہوں نے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس لندن میں بحیثیت ہندوستانی مسلم مندوب شرکت کی۔ جس کی قیادت آغا خان کررہے تھے۔
جب ان سے مغربی روشن خیالی اور انگلش مادہ پرستی کا فلسفہ اور مذہب پر اثرات کے بارے میں وہ پوری طریقہ سے واقف تھے کہ کس طریقے سے مسلمانوں کا دانشور طبقہ سماجی طور پر کیونکر متاثر ہے اور عوام سامراجی نظام کے انتظامیہ میں چھوٹی موٹی نوکریوں میں شامل ہیں۔ جو شاہی حکومت انہیں دے رہی ہے۔ اقبال اسلامی نشاۃ ثانیہ سے کچھ کم نہیں چاہتے تھے۔ قلب کو گرمانے والی نظموں کے ذریعہ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو جگایا تاکہ وہ اپنی ماضی کے عظیم ورثہ کے مطابقت میں کھڑے ہوسکیں۔ اور اپنے عقیدے کے مطابق اسلام کے تاریخی واقعات پر توجہ دیں۔
شاعری کے ابتدائی ایام میں متحدہ آزاد ہندوستان جہاں ہندو اور مسلم باہمی اتحاد سے رہیں اُس کے بارے میں نظمیں کہیں۔ ترانہئ ہند 1904ء میں لکھا گیا، جبکہ ترانہئ ملی 1910ء میں لکھا گیا، جو ہندی ہے وطن ہندوستان ہمارا، سے اوپر اُٹھتے ہوئے لکھا کہ مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا، اس طرح عالمی برادری کی بات کی گئی۔ بات ازاں مسلم لیگ کی میٹنگ منعقدہ الہٰ آباد 1930ء میں صدارتی خطبہ کے ذریعہ مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کا تصور جو پان اسلام ازم کا نظریہ جمال الدین افغانی سے متاثر تھے۔ اس طرح انہوں نے تاریخ کے افتادہ خیالات کو پھر سے روشن کیا۔ اُن کا جو نظریہ تھا کہ سپرنیشنل ازم آف اسلام انسانی حدود سے پرے ہیں۔ اس طرح قومیت پرستی کی انہوں نے مخالفت کی۔ جس کا اظہار یکم جنوری 1938ء کو ریڈیو سے نشر ہوا۔ وہ چاہتے تھے کہ عالمی انسانی برادری جس میں مشرق و مغرب کا کوئی لحاظ نہ ہو۔ جس سے وہ عقل و شعور عقیدے کے لحاظ سے سارے عالم کے لئے کو اس نظریہ کو انہوں نے شاعری کے ذریعہ پیش کیا۔ اقبال ہمیشہ ناانصافی اور نامساوات کے خلاف جدوجہد کی۔ خواہ وہ اپنے کلام کے ذریعہ ہو یا مختلف تحریروں سے، جس میں ہندوستانی فطرت، فطری خوربصورتی اور یہاں کی روایتی کثیرالجہتی کو ذکر کرتے۔
اقبال کا رومانی نیشنل ازم میں تبدیلی پر اثرات Friedich nietzche اور Henry Bergsun اور کارل مارکس کی وجہ سے آل احمد سرور نے کہا اُن کا یہ عہد اُردو شاعری کے ذریعہ ہمیں اُن کے مجموعہ کلام بال جبرئیل 1935ء، ضرب کلیم 1930، ارمغان حجاز 1938ء، جو ہمیں ہماری انسانی جدوجہد کے لامحدود امکانات کا درس دیتے ہیں۔ جبکہ ہندوستان میں خطرے کی حد تک شدت پسندی تھی۔ لیکن اقبال کی شاعری ہمیں اس بات سے آگاہ کرتی ہے کہ ہماری دینی بیداری میں کس طریقہ سے اُس جذبہ کی طرف راغب ہو اور بہر قیمت اُسی وجہ کے تابع رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید دکھائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close