اسلامیات

میلاد النبی اور ہم ہندی مسلمان!

توقیر بدر القاسمی

تین دنوں قبل یعنی مورخہ 6نومبر 2019 بعد دوپہر مفتی ارشاد قاسمی صاحب پورنوی نے راقم کے زیر انتظام واٹس ایپ "تعلیمی و ثقافتی گروپ”پر ایک کتاب کے متعلق راقم کے نام ایک مسیج چھوڑا.
انہوں نے راقم سے المعھد العالی للتدريب فی القضاء و الإفتاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ میں تمرین افتا وقضا کی تربیت لی ہے.یہ کل کافی محنتی تھے آج ماشاءاللہ ایک اچھے استاذ ہیں.انگلش زبان کی بھی شد بد اسی راقم آثم سے انہوں لی تھی، آج اپنی محنت سے ماشاءاللہ خوب خوب اس میں ضرورت پڑنے پر لکھتے بھی ہیں پڑھتے بھی ہیں اور بر وقت دو طرفہ ترجمہ بھی کر لیتے ہیں.
خیر انہوں نے جس کتاب کو لیکر مسیج کیا تھا وہ کتاب آج کل واٹس ایپ کی دنیا یا یونیورسٹی میں کافی پھل پھول رہی ہے،پھلنے پھولنے کی وجہ” موقع بھی ہے دستور بھی ہے” والی بات ہے.

*جھوٹ ہی جھوٹ!*

"کتاب”سے میری مراد "النعمة الكبري على العالم في مو لد سيد آدم” ہے اور "موقع” سے مراد ماہ ربیع الاول اور بارہ تاریخ ہے،جبکہ "دستور” سے مراد میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کا شوق و رواج ہے.

یہ کتاب اپنے پہلے صفحے کے مطابق استنبول ترکی میں شایع ہوئی ہے.اس کتاب کے ساتھ دوسری کتاب” کتاب جواھر البحار للنبھانی "اور تیسری کتاب "الحقائق فی قراءة مولد النبی علیه السلام”ہے.

پوری کتاب پڑھنے کی کوشش کیجیے تو پتا چلے گا کہ اس کے ساتھ غیر اعلانیہ طور سے کیی اور رسالے و فتاوی بھی شامل ہیں.یہ سبھی مل جل کر مکمل 320 صفحات تک پھیلتے چلے گئے ہیں.

*تین باتیں:*

قلم و قرطاس کے رسیا اور کتابی دنیا کے شناور کہا کرتے ہیں کہ کسی بھی علمی کتاب میں تین باتیں بطورِ خاص دیکھنے کی ہوتی ہیں:

1۔ایک اس کتاب کا مواد اور مآخذ
2۔اس مواد سے استخراج اور موضوع کا تحلیل و تجزیہ.
3۔تیسرے اس کتاب کی ترتیب اور اسلوبِ بیان.

عجیب بات ہے کہ ان تینوں میں سے ایک بھی چیز ہمیں اس میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملی!

*منطقی اصول اور ناشر کی ہوشیاری:*

محسوس ہوتا ہے کہ ناشر یا مرتب نے کمال ہوشیاری کے ساتھ پوری کتاب میں جدید منطق کے مطابق ایک اصول کو Follow کیا ہے.وہ اصول ہے” Appeal to athourity” جسکو "توسل بالمرجعیت” کہہ سکتے ہیں.یعنی قاری کو مرعوب کرنے کی غرض سے کسی مشہور اسلامی فکری علمی شخصیت کا نام لیا اور من مانی باتیں ان سے منسوب کرکے بیان کردی. نہ کویی حوالہ نہ کسی ماخذ و مرجع کا اتا پتا!

بس تحقیق کا بھرم باقی رکھنے کے لیے متن میں درج صاحب القاب شخصیت کا نیچے ذیلی حاشیے میں سن وفات اور سن ولادت نام سمیت لکھنے کا جزوی اہتمام کیا ہے.ایک جگہ تو یہ انداز دیکھ کر بڑا عجیب سا لگا کہ مولانا رشید احمد گنگوہی قدس اللہ اسرارہ کے نام کے ساتھ "الوھابی” بالتصريح درج ہے.پتا نہیں یہ کون سا علمی یا تحقیقی کام کا حصہ ہے.جسے مرتب نے اہتمام کے ساتھ اپنایا ہے.بقیہ ہر رسالے اور فتاوی کے اختتام یا نتیجہ کلام میں اکثر مقام پر بات قیاس در قیاس ہوتے ہوتے مخالفت عشق رسول سے زندیقیت کے فتوی تک جا پہنچی ہے.

راقم تو عناوین دیکھ دیکھ کر الگ الگ جگہوں سے اچھا خاصا حصہ مطالعہ کرنے کے بعد اس پر کچھ لکھنا چاہ ہی رہا تھا کہ ایک دوسری کتاب بلکہ کتابچہ اسکی رد میں اسی واٹس ایپ یونیورسٹی کے واسطے سے مل گیا.دراصل ایک گروپ ہے "کتب خانہ” اس پر اسی نام سے سترہ صفحات پر مشتمل ایک مقالہ نما یہ کتابچہ ہاتھ آگیا.
یہ مقالہ معروف محقق محمد طلحہ بن بلال احمد منیار کے قلم سے مذکورہ کتاب کے جواب میں منظر عام پر آیا ہے.اور اسے آنا بھی چاہیے بقول علامہ شاطبی یاد پڑتا ہے کہ عالم واقف کار کو غلط باتوں پر روک یا کم از کم ٹوک سے کام لینا ہی چاہیے ورنہ خاموشی یہ ایک علمی خیانت کے زمرے میں آتی ہے.

اس کتابچہ کا تعارف جناب مفتی ابو زاہر سورتی نے پیش کیا ہے.پورا رسالہ پڑھ جایے زیر بحث مجموعہ کتب کا کچا چٹھا سامنے آجایگا.محقق رسالہ نے کمال دیانت داری کے پیش نظر مطبوعات ہی نہیں اصل مخظوطات کو سامنے رکھا اور پھر علامہ ہیتمی رحمہ اللہ کی مولد سے متعلق تینوں کتاب کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ وایرل "النعمة الكبرى” نامی کتاب سراسر من گھڑت اور ملمع سازی کی شاہ کار ہے.یعنی جھوٹ ہی جھوٹ کا پلندہ ہے.
الحاصل دونوں ہی کتابیں اہل علم کے لیے دلچسپی کا سامان رکھتی ہیں.عربی زبان دونوں کی رواں ہے.

*راقم کی زبانی تاثرات کی کہانی:*

بہر کیف مفتی ارشاد صاحب نے جس کتاب کو بھیج کر اس پر راقم کا تاثر مانگا تھا وہ بادی النظر میں ترکی عالم یا ناشر کی کاوش کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے.اس کتاب کا ابتدائی حصہ جو کہ اس کے پیغامات کا خلاصہ ہے.وہ اس بات پر دال ہے کہ یہ لوگ "میلاد النبی اور اس موقع سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی روح کی حاضری کے متعلق عقیدہ حاضر و ناظر "میں ہمارے بریلوی بھائیوں کی طرح انکے قدم بقدم ساتھ ساتھ ہیں.
*ہندوستان سے باہر میلاد النبی:*

ویسے جامعہ ازہر مصر میں قیام کے دوران کیی ساری علمی فکری ،سماجی و معاشرتی چیزیں دیکھنے سیکھنے اور سمجھنے کو ملی تھیں.سو ترکی احباب بھی وہاں نظر آیے.انکا مخصوص ایک دعائیہ مجلس یا پروگرام بھی ہوتا ہے.وہ بھی بہت موثر ہوا کرتا ہے.

بات جب چلی ہے تو بتادوں کہ مصر میں بلاشبہ یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ قبر پر بھی لوگ جاتے ہیں جمعی کے دن سیدہ نفیسہ رضی اللہ عنھا کا مرقد آج بھی مرجع الخلایق بنا ہوا ہے،اسی طرح جہاں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک دفن ہے. وہاں بھی بھیڑ رہتی ہے.محرم میں جلوس بھی نکلتا ہے اور میلاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کی مناسبت سے "تذکرہ حبیب اور درود و سلام” پر مشتمل پروگرام بھی منعقد ہوتا ہے.البتہ أن میں بھی اہل علم اور عوام کا فرق دیکھنے أور سمجھنے کو ملا.عوام میں بھی وہاں وہ ہو ہا اور شور و شر جلوس کے نام پر دیکھنے کو نہیں ملا جس سے ہم یہاں ہر جلوس میں نبرد آزما ہوتے ہیں!

ویسے بھی سارے عالم کے مسلمان گھرانوں کے چشم و چراغ، بلکہ بسا اوقات مدرسے کے معلم و مدرس اور اپنے اپنے دیار کے جامعہ سے فارغ شدہ فضلاء فیضان علوم نبویہ سے سرشار ہونے کے لیے ازہر مصر میں اکٹھے ہوتے ہی ہیں.
سو یوں کہہ لیجیے کہ *ازہر دیکھیے عالم اسلام کی سوچ دیکھیے*

*سبھی نظریات کا مطالعہ!*

وہاں کے اہل علم ،اساتذہ، دکاترہ و عباقرة میں کمال کی بات بلکہ ان سے قابل اخذ بات یہ بھی ہاتھ لگی کہ کسی بھی سوچ و فکر اور مظہر و عمل کے ایک یا سبھی پہلو پر فتوی یا رایے دینے سے قبل ایک بار سبھی مخالف و موافق نظریات و افکار کا معروضی مطالعہ کر لیا جایے،اسکے بعد کسی نتیجے پر پہونچ کر اپنی بات رکھی جایے.
اسکا فایدہ یہ ہوتا ہے کہ سوچ میں تشدد کی جگہ اعتدال اور علمی نفرت کی جگہ بسا اوقات فکری محبت پیدا ہوجاتی ہے.اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ دروان مطالعہ وہ قابل قبول گوشے سامنے آتے ہیں جو بسا اوقات یکطرفہ مطالعہ کی وجہ سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور طبیعت میں ضد اور انا میں پختگی گھر کر جاتی ہے.

سو راقم کا بھی میلاد النبی کے حوالے سے اس ماہ شروع سے یہ التزام رہا کہ سیرت النبی کے موضوع پر مطالعہ کے ساتھ ساتھ مروجہ میلاد کی بابت بریلوی اور دیوبندی دونوں مسالک کے نمایاں اہل علم و صاحب کمال کو پڑھا جایے.مضامین و مقالات کھنگالا جایے اس امید کہ ساتھ کہ شاید کچھ نیی چیزیں ہاتھ آجایے.

چناچہ اسی احساس کے ساتھ میلاد النبی کے حوالے سے بریلوی مسلک کے نمایاں اہل علم میں احمد رضا خان مرحوم،ارشد القادری مرحوم اور مولانا طاہر القادری صاحب مدظلہ موجود کو پڑھا.
جبکہ دیوبندی مکتب فکر کے نمایاں افراد و أشخاص میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ سے لیکر مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ ورعاہ تک کی تحریر و فتاوی کو دیکھا.

اسی طرح اس پر موجود دونوں طبقے کے اپنے اپنے حلقے میں مشہور و معروف سنے جانے والے علماء کے یوٹیوب پر موجود ویڈیوز دیوبندی میں مثلاً مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ اور مولانا الیاس گھمن دامت برکاتہ وغیرہ کو سنا اور بریلوی میں مولانا طاہر القادری و دیگر قادری و مصطفائی صاحبان کے ویڈیوز دیکھے.

*دلچسپ باتیں:*

اسی دوران یہ بھی بتادوں کہ اس دوران ایک دو دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ جس بارہ ربیع الاول کو ہمارے دیار میں ہمارے بریلوی احباب "جشن ولادت” مناتے ہیں اس تاریخ کو انکے سرخیل و امام احمد رضا خان صاحب مرحوم نے اپنی تحقیق سے اس "بارہ تاریخ کو یوم وفات” ثابت کیا ہے.فتاوی رضویہ کی چھبیسویں جلد میں موجود ایک رسالہ "نطق الھلال بارخ ولاد الحبیب والوصال” کافی کچھ بتاتا ہے.اسی طرح کوثر نیازی جیسے مشہور بریلوی قلمکار نے میلاد النبی کو اسکے بانی کے حوالے سے اسے رام لیلا کا جوابی پروگرام لکھا ہے.
"دریتیم” لکھنے والے ماہر القادری نے تو میلاد النبی جیسے پروگرام میں بچشم خود جو کچھ دیوبندی اور بریلوی علماء سے دیکھا سنا اور بقلم خود لکھا ہے اسے ہم واقعی بہت بڑا جگر و ہنر والا کام کہہ سکتے ہیں.
انہوں نے ساتھ رہ مجلس میں بریلوی علماء کی ہو ہا اور گالی گلوچ والے انداز نیز دیوبندی علماء کی سادگی اور فقط ایمان و توحید کی تبلیغ کو جس طرز وادا سے خراج عقیدت پیش کیا ہے.اسے ہم "آبائی مسلک (بریلوی)سے برگشتگی(بغاوت) "سے ہی تعبیر کر سکتے ہیں. یہ حوصلہ سبھی میں نہیں ہوتا!

ان تمام باتوں سے باحوالہ روبرو ہونے کے لیے آپ "مروجہ محفل میلاد”از عبدالرشید کا مقدمہ پڑھ سکتے ہیں.

خیر بات چل رہی تھی مطالعہ کی،تو عرض ہے کہ سبھی کچھ پڑھنے سننے اور دیکھنے کے بعد راقم اس نتیجے پر پہنچا کہ اتفاق تقریباً سبھی کا اس پر ہے کہ ” مجلس میں یا تنہائی میں ذکر حبیب صلی اللہ علیہ و سلم نہ فقط قابل تحسین عمل اور عشق رسول کا نمایاں ثبوت و سامان ہے،بلکہ یہ مدار ایمان اور جزو کلمہ اسلام ہے.یومیہ التزام کے ساتھ کثرت درود،اوراد و وظایف میں ایک مہتمم بالشأن وظیفہ ہے”
بس اختلاف انکے مابین نفس میلاد النبی
کو لیکر ہے. اس بابت جوہری اختلاف یہی نظر آیا کہ "اسے عید و جشن کے طور پر منایا جاتا ہے.آخر کیوں؟”

اس نکتے کے متعلق *اہل دیویند* یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ الف:اسلام میں عید تو فقط دو ہی ہیں یہ تیسرا کہاں سے آیا؟
ب:اگر یہ بھی دین کا حصہ ہے تو کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے خود یا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کبھی اسکو انجام دیا؟آخر ایک آزاد خیال بادشاہ کو یہ عقیدت ساتویں صدی میں کیوں سوجھی؟کہیں یہ سب ایک سیاسی ہتھکنڈہ تو نہیں تھا؟
ج:اسکو دین سے الگ تو کہہ ہی نہیں سکتے کیونکہ کویی اگر شریک نہیں ہوتا تو اسے گستاخ کہا جاتا ہے اسکا مطب ہے کہ اسکو شرعا لازم سمجھا جاتا ہے،اگر دین سے ہٹ کر عام پروگرام ہوتا تو دنیا جہاں کے دیگر پروگرام اور جشن تو شرعا ایسے لازم نہیں سمجھے جاتے؟

*بریلوی حضرات* کہتے ہیں کہ
الف:عید کی دو قسمیں ہوتی ہے ایک عید شرعی جیسے عیدالفطر اور بقرعید یہ لازمی ہوتی ہیں، اسے پوری دنیا مناتی ہے.دوسری عید مسرت و عید سرور یہ پسندیدہ ہے واجب شرعی نہیں،جیسے جمعہ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پیدایش پر خوشی کا اظہار وغیرہ.(مستفاد از تقریر و تحریر مولانا طاہر القادری صاحب)
یہ دلیل کے طور پر کہتے ہیں کہ مشہور دو عیدوں کے علاوہ جمعہ کو بھی عید قرار دیا جانا حدیث سے ثابت ہے،جو کہ ظاہر ہے کہ عید الفطر اور بقرعید سے الگ ہے.تو اب اسکو کیا کہیں گے؟بدعت؟ ابن ماجہ میں وہ حدیث موجود ہے.
{گویا اصول فقہ کی زبان میں یہ عام مخصوص منہ البعض کے قبیل سے ہوگیا.ت بدر آزاد}

ساتھ ہی ساتھ انکی طرف سے اس محفل میلاد کو لیکر فلسفہ یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ ویسے بھی جب دنیا جہاں کی تمام تر نعمت قابل ذکر ہوتی ہے،تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت کیا یہ کویی کم تر نعمت ہے؟کہ اسکے تذکرہ کے لیے محفل کا انعقاد بدعت ہو؟ تذکرہ عام انبیاء و رسل خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے دل جمعی و اطمینان خاطر کی بات ہے،(سورہ ھود 120)تو پھر سردار انبیاء کا تذکرہ کیا ہم جیسوں کے لیے سامان سکون اطمینان نہیں ہوسکتا؟ آخر جمعہ اور قیام جمعہ کی طرح تذکرہ حبیب کو شعائر اسلام کیوں نہ سمجھا جایے؟اسکی عظمت کیوں نہیں؟
تم دیوبندی چھبیس جنوری یوم فلاں و چلاں تو خوب شوق سے مناتے ہو؟تب بدعت نظر نہیں آتی؟ مدرسے اور خانقاہیں کیوں قایم کرتے ہو؟یہ بھی تو دین کا حصہ سمجھ کر قایم کیا جاتا ہے!خانقاہوں میں وظیفہ اور مدرسے میں تعلیم کیوں دیتے ہو؟وغیرہ وغیرہ!

*خلاصہ بحث*

دونوں فریق کے تحقیق و تمحیص کا خلاصہ یہی سامنے آتا ہے کہ دیوبندی حضرات جس عید عام کو لیکر ان بریلوی حضرات معترض ہوتے ہیں وہ تو وہ بھی نہیں مانتے!اور جس "عام یوم فلاں چلاں” کو لیکر بریلوی کے علماء دیوبندی حضرات پر معترض ہوتے ہیں،اسے دیوبندی حضرات اس طرح نہیں لیتے کہ اگر کویی شریک نہیں ہوا تو اسے دین کا مسیلہ بناکر شرعا گستاخ کہتے پھریں!گھر گھر اسکا التزام کیا جایے!چھٹی اور عام تعطیل کرکے مستقل اسے ایک تہوار کا روپ دے دیا جایے!جلوس نکال کر سڑکوں پر بھیڑ اکٹھی کی جایے!جیسا کہ وہ کہتے اور کرتے پھرتے ہیں.
لہذا نتیجا یہی نکلتا ہے کہ اگر یوم فلاں اور دیگر تقریب جو دیوبندی حضرات مناتے ہیں،بھلے جس ارادے اور نیت سے منائیں،ٹھیک اسی طرح وہ سیرت النبی کے عنوان سے بغرض تعلیم نبوی بطور تقریب کویی پروگرام کیوں نہیں کرتے اور مناتے؟یعنی یہ کیا جایے!علماء اپنے ہاتھ میں اسے رکھیں تو یہ عوام کے اعتقاد اور بگاڑ کا سبب نہیں بن سکتا! اور نہ اس میں خرافات راہ پاسکتی ہیں. آخر تبلیغی جماعت کا کام بھی تو دین نبوی کے شیوع کے لیے صدیوں بعد زمانہ نبوت رواں دواں ہے.

اس بابت ایک کتاب "فتاوی میلاد شریف” ہاتھ آئ، اس میں میلاد النبی سے متعلق حضرت مولانا احمد علی سہارنپوری، مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا اشرف علی تھانوی رحمھم اللہ کے فتاوی کو جمع کیا گیا ہے.انہیں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اگر بنا اہتمام و اصرار بلا تداعی، منکرات سے خالی اتفاقیہ مجلس میلاد جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات و پیغامات اور ہدایات کا تذکرہ ہو اور ان پر درود بھیجا جایے، تو نہ صرف یہ مطلوب ہے، بلکہ باعث خیر اور موجب برکات ہے.

دلایل و شواہد اعتراضات و جوابات دونوں فریق کے پاس اور بھی ہیں.ان سب کا فردا فردا جایزہ لیا جایے تو ایک دفتر تیار ہوجایے!

*آپ کا مشاہدہ کیا کہتا ہے:*

دلیل و نظر سے ہٹ کر عام مشاہدے میں یہ آتا رہتا ہے کہ بریلوی عوام میلاد النبی جشن کے نام پر وہ درون محلہ جلسے سے لیکر عام سڑک چوک چوراہوں پر جلوس کے عنوان سے وہ سب کچھ کرتے ہیں،جس کی اجازت کسی عام مہذب سماج میں قطعا نہیں دی جاسکتی!حالیہ دنوں میں انکے بڑے بڑے علماء خود اب ان کی ان حرکات سے بیزار نظر آتے ہیں.
کیونکہ شب میں چوری کی بجلی سے رات بھر جلسہ ہوتا ہے.نہ چہرہ باشرع نہ زندگی میں تبدیلی لانے کا کوی عندیہ!توبہ اور رجوع الی اللہ کا خیال تو ذہن و دماغ کو چھو کر نہیں گزرتا
! سیرت النبی کی جگہ مقرر فلاں گستاخ فلاح جہنمی کے نعرے سے پورا محلہ جگاے رکھتا ہے!
تو صبح کو سبھی دیکھتے ہیں کہ کلمہ طیبہ لکھا ہوا بینر سبز کپڑے والا گاڑی پر لٹکا ہوا ہوتا ہے.اور اس پر پاؤں رکھے گاڑی پر نوجوان کھڑے ہوتے ہیں.زور لگانے کے لئے ہای فای ساؤنڈ سسٹم کا نظم کیا جاتا ہے. سننے میں یہ بھی آیا کہ اوباش قسم کے لڑکے انرجی کی غرض سے اس موقع سے اس کو بھی منھ لگا لیتے ہیں جس پر بہار سرکار نے پابندی عائد کر رکھی ہے.
درود کی جگہ کان پھاڑ پر شور نعرہ ہوتا ہے.گانے کے دھن پر نعت بجاتے ہیں.کہیں کہیں تو سلیبیرٹی کے نام پر نچنینا بجنیا کو رقص و موسیقی کے لیے بلایا جاتا ہے.اللہ کرے یہ سب جھوٹ ہو یا جو ایسا کرتا ہے وہ آیندہ کرنے کے لایق نہ رہے!
بعض مقامات پر عورت ومرد یعنی نامحرم کا ملاپ و اختلاط بھی ہوتا ہے.چوراہے اور سڑکیں جام ہوتی ہیں.دوکاندار کاروباری اور اسی طرح مریض أفراد گاڑی میں پھنسے جام کھلنے کے منتظر ہوتے ہیں.
سب سے بڑھ کر یہ کہ نماز، روزہ کی پابندی اور بد نگاہی وغیرہ سے بچنے اور سنت رسول و عشق رسول حقیقی سے سرشار ہونے کے بجاے ہڑبونگ سے پُر انہی عمل کو نجات کا مضبوط ذریعہ سمجھ لیا جاتا ہے.کہیں کہیں تو فلاں چلاں طبقے کو چِڑھانا ہی عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا پیمانہ معلوم ہوتا ہے.استغفر اللہ واتوب الیہ!

ادھر دیویندی عوام کا بھی حال یہ ہوتا ہے کہ وہ فقط انہیں کوس لینے کو ہی اپنا فریضہ ربیع الاول سمجھ بیٹھتے ہیں.نماز سے انہیں بھی کویی سروکار نہیں،سنت نبوی کے مطابق زندگی تو دور فرایض و واجبات انکے یہاں بھی عنقا،عشق رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا کویی پاس و لحاظ تو ہوتا نہیں،مگر "میلاد النبی اور بدعت”پر سنی ان سنی لیکچر کا ایک سیریز انکی *”زبان پُر پان”* سے ہر جا سنا جا سکتا ہے.کاش کویی ان دونوں فریق کے گوش گزار کردیتا!
اذان سنتے ہی جو مسجدوں میں آجائیں
مشن نبی کا وہی کامیاب کرتے ہیں!

رہ گیے اہل علم تو انکے متعلق کہا نہیں جاسکتا،بلکہ ان کے پاس اٹھ بیٹھ کر دیکھ کر سب کچھ محسوس کیا جاسکتا ہے!
یعنی یوں کہہ لیجیے سبھی اپنے اپنے طور پر جیسے تیسے جلسے جلوس کی شکل میں تقریب مناتے اور پروگرام کرتے ہی ہیں.بس غلو یہی ہوتا ہے کہ اگر ایک فریق گھر گھر، در در، بازار بازار اسکا التزام و اہتمام ایسے کیا کرتا ہے کہ نہ کرنے والے کو گستاخ کہا یا سنا ہی جاتا ہے،تو ردعمل میں دوسرے فریق کی طرف سے بعض جگہ یہ ہوتا ہے کہ پورا ماہ گزر جاتا ہے،مگر نہ درود و سلام کی نوبت آتی ہے نہ یہ جاننے کا موقع مل پاتا ہے کہ ہمارے لیے محسن انسانیت کیا تھے؟انکی نسل کو کوچنگ و اسکولنگ کے توسط سے فلاں فلاں أشخاص و رجال کا خوب خوب علم ہوتا ہے،تاہم محبوب خدا وجہ تخلیق کاینات آقا صلی اللہ علیہ و سلم کا کچھ اتا پتا نہیں ہوتا!پایے افسوس!جو نا تھا خوب بتدریج وہی خوب ہوا!!
کہیں یہ بھی دیکھنے کو ملتا کہ جلسہ ہورہا ہے، سیرت کے عنوان سے،مگر سیرت النبی کے عنوان پر سنجیدہ گفتگو کم،بنا فریق و مقابل کے یکطرفہ مناظرہ کا منظر زیادہ پیش کر رہا ہوتا ہے.الا ماشاءاللہ!

*کاش عہد لیتے:*

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دونوں طبقے کے اہل علم و عوام اپنے اپنے نظریات،عقیدت و محبت اور ضابطہ صیانت عقیدہ و شریعت اپنے اپنے پاس رکھتے!اور اسکے باوجود مل جل کر گاہے گاہے پورے ماہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت و کردار کو عنوان و مرکز بناکر بنا تفریق مذہب و ملت سبھی دھرم کے ماننے والے عوام کے درمیان جاتے!اس ماہ ایک خانقاہی نظام ترتیب دیکر ہی سہی پورے مہینے صلاة و سلام کا اہتمام اپنے اپنے گھر کرتے اور اپنی اولادوں سے کرواتے!پورے ماہ ایک مدرسہ کی شکل دیکر صبح یا شام کو وقت نکالتے روز اپنے گھر والوں میں بیٹھتے آقا صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت بیان کرتے!اسکے مطابق اپنی اپنی زندگی کا جایزہ لیتے اور اسکے مطابق زندگی گزارنے کا عہد لیتے!کاش ایسا ہم کرپاتے اور ایسا ہوتا!
گھر کے بعد گھر سے باہر نکل کر Get together کے طور مکمل سوز و ساز کے ساتھ تجار کی جماعت کے درمیان جاکر "آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور تجارت، برکت ہدایت” پر ان سے مخاطب ہوتے! ڈاکٹرز گروپ کے پاس جاتے اور انہیں "نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور شفاء و نجات”پر باتیں کرتے!اسٹوڈنٹ اور اساتذہ و ٹیچر سنگھ کے بیچ جاتے اور "نبی کریم صلی اللہ علیہ:ایک معلم راہبر انسانیت اور کامیابی "پر ان سے باتیں کرتے!سیاست دانوں کے درمیان جاکر "آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور کامیاب حکمران” اسی طرح وکلا و ججز کے بیچ جاکر” آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور مثالی منصف” پر انہیں ہر سال آشنا کرکے کتابیں گفٹ کرتے!خواتین کے بیچ خواتین اسکالرز جاتیں اور”سیرت رسول اور صنف نازک پر انکے احسانات "پر گفتگو کرتیں!اور سننے والے سنانے والے یہ عہد کرتے کہ "نہ ہم کویی تاریخ سن رہے نہ سنا رہے ہیں.یہ کویی کھولنی یا میوزک نہیں ہے، کہ کانوں کی لذت کا سامان اور بس باقی پھر ہوس!بلکہ سیرت کو اس قدر منظم
مرتب موثر اس طرح مسایل اور اسکا حل بناکر پیش کریں کہ وہ سارا واقعہ چلتا پھرتا کامل نمونہ محسوس ہو وہ بھی ایسا کہ اسے اب آییڈیل مان لینے میں ہی خیر و فلاح اور نجات ہے”
سچ پوچھیے اگر اس طرح یہ کام قریہ قریہ بستی بستی کو بکو ہوتا رہتا تو شاید فضا وہ نہ ہوتی جو آج پورے عالم میں بنا دی گئی ہے.اگر آج بھی اس پیٹرن کو پوری سنجیدگی سے ہم اپنانے کی کوشش کریں،اپنے ساتھ ساتھ اپنے اہل خانہ اور مسلم سماج کو سیرت النبی کے مطابق ڈھال لیں! آقا مدنی صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت اور فلاح انسانیت کا نسخہ ہم سبھی تک پہونچا دیں تو شاید بھاری بھرکم” ایکتا سمیلن "اور "یہ بچاؤ وہ بچاؤ "اجلاس و کانفرنس کی اس قدر نوبت نہیں آیگی!

*مغربی سوالات اب مشرق کے آلات*

آج تو عالم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر کویی تعدد ازدواج کو لیکر حملہ آور ہے،تو کویی فتوحات و جہاد کو لیکر مس گائیڈ کا شکار ہورہا ہے.کویی غلام لونڈی باندی کا مسیلہ سنتا ہے،اور اس وقت کے سیاسی سماجی و تمدنی حالات نیز ہر موقع سے غلام،باندی کی آزادی سے متعلق فرمان نبوی جانے سمجھے بغیر رٹے رٹاے انداز میں سوال کر رہا ہے،تو کویی توہین رسالت و ارتداد کی سزا پر اظہار رائے کا فلسفہ پڑھکر اس پر ایمان لایے اشارے اشارے میں ذات اقدس صلی اللہ علیہ و سلم پر وحشی پن کا فتوی ٹھونک رہا ہے.افسوس اور المیہ یہ ہے کہ مسلم گھرانے کے بچے اور نیی نسلیں بھی اس زہر سے مسموم ہورہی ہیں،کیونکہ کل تک یہ ہفوات مستشرقین کے مقالات کا حصہ ہوتی تھیں.صرف اہل علم اس سے رو برو ہوتے تھے،مگر آج یہ ہندی الکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے لیکر یوٹیوب چینل تک گھر گھر پہونچ کر آلات فساد بنا ہوا ہے.ہر عام نا پختہ ذہن تک اسکی کی رسائی ہے.الامان الحفیظ!

*ہم اور آج ہماری ذمہ داری:*

اے کاش!ہم عشق رسول حقیقی سے لیس ہوں اور ان سب پر عصر حاضر کے حوالے سے از سر نو پھر سے انکی ہی زبان و انداز میں مروجہ منطق و فلسفے کے ساتھ تیاری کریں.اس سوز و ساز میں جواب دینے کے اہل ہوں اور اہل افراد تیار کرسکیں جو اُس دور کا کردار بن پاییں جسے رازی،غزالی اور رومی و جامی کا دور کہا جاتا ہے! خود بھی محسوس کرتے اور دنیا کو کرواتے! ع
ارسال اب کے حق نے کیا ایسا اک رسول
جس نے سروں کے ساتھ دلوں کو جھکا دیا

چنانچہ آییے کچھ عزم کریں اور اس موقع سے اپنی اپنی ذمہ داری کا ادراک کریں!تاکہ آیندہ نسل اس حقیقت کو سمجھ سکے کہ محفل میلاد النبی کے تقاضے کیا ہوتے ہیں اور ہم ہندی مسلمانوں کی اس بابت ذمہ داری کیا ہے؟!

=============*
ڈایریکٹرالمرکزالعلمی للافتاء والتحقیق سوپول بیرول دربھنگہ بہار
muftitmufti@gmail.com
T51337.wordpress.com
+918789554895
+919006607678

مزید دکھائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close