اسلامیات

نبی اکرم ﷺ کی تاریخ ولادت اور تاریخ وفات کیا ہے؟

محمد یاسین جہازی

سرور کائنات ﷺ کی تاریخ ولادت کے حوالے سے حضرت فاضل بریلوی نور اللہ مرقدہ نے دو الگ الگ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بالاتفاق دو شنبہ اور صحیح و مشہور قول جمہور ماہ ربیع الاول ہے۔ اس کے بعد کئی صفحات تک علماء کے اقوال و تحقیق پیش کی ہے۔ پھر آگے لکھا ہے کہ سائل نے تاریخ کے بارے میں سوال نہیں کیا ہے، تاہم حضرت ؒ نے تاریخ بتاتے ہوئے 12/ کو درست قرار دیا ہے۔ اور پھر مختلف اقوال پیش کیے ہیں۔ تفصیلات کے لیے دیکھیں: نطق الہلال بارخ ولادۃ الحبیب والوصال، ص/4)
تاریخ ولادت کے حوالے سے علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں کہ
”تاریخ ولادت کے متعلق مصر کے مشہور ہیئت دان عالم محمود پاشا فلکی نے ایک رسالہ لکھا ہے، جس میں انھوں نے دلائل ریاضی سے ثابت کیا ہے کہ آپ کی ولادت 9/ ربیع الاول روز دوشنبہ، مطابق 20/ اپریل 571میں ہوئی تھی“۔ (سیرۃ النبی،ج/1، ص/ 136)
اس مقام پر محشی رقم طراز ہیں کہ
”محمود فلکی نے جو استدلال کیا ہے، وہ کئی صفحوں میں آیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے۔ (۱) صحیح بخاری میں ہے کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ (آں حضرت ﷺ کے صغیر السن صاحب زادے) کے انتقال کے وقت آفتاب میں گہن لگا تھا (ابواب الکسوف، باب الصلاۃ فی کسوف الشمس، 1043) اور 10ھ تھا۔ (اور اس وقت آپ کی عمر کا تریسٹھواں سال تھا۔ (۲) ریاضی قاعدے کے حساب لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ 10ھ کا) گرہن 7/ جنوری 632، 8/ بج کر 30منٹ پر لگا تھا۔ (۳) اس حساب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر قمری 63برس پیچھے ہٹیں تو آ پ کی پیدائش کا سال 571 جس مٰں از روئے قواعد ہیئت ربیع الاول کی پہلی تاریخ 12/ اپریل 571کے مطابق تھی۔ (۴) تاریخ ولادت میں اختلاف ہے؛ لیکن اس قدر متفق علیہ ہے کہ وہ ربیع الاول کا مہینہ اور دو شنبہ کا دن تھا اور تاریخ 8سے لے کر 12/ تک میں منحصر ہے۔ (۵) ربیع الاول مذکور کی ان تاریخوں میں دو شنبہ کا دن نویں تاریخ کو پڑتا ہے، ان وجود کی بنا پر تاریخ ولادت قطعا 20/ اپریل 571تھی۔“ (حاشیہ سیرۃ النبی، جلد اول، ص/137)
تاریخ وفات
حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ نطق الہلال بارخ ولادۃ الحبیب والوصال کے فصل دوم میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ”قول و مشہور و معتمد جمہور دوازدہم ربیع الاول شریف ہے۔“ (سلسلہ رسائل فتاویٰ رضویہ، جلد چھبیسویں، رسالہ نمبر4، ص/ 11)۔ پھر کے اس کے بعد متعدد روایتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد قول جمہور کو ہی اقرب الیٰ الصواب بتایا ہے۔
صاحب سیرت النبی ﷺ نے قمری مہینوں کا حساب لگاکر ثابت کیا ہے کہ چوں کہ سوموار کا دن ہونا قطعی الثبوت ہے اور 12ربیع الاول کو سوموار ہوتا ہی نہیں ہے، لہذا یہ تاریخ ہوہی نہیں سکتی؛ البتہ صحیح امکانی صورت یکم ربیع الاول ہے، اس لیے تاریخ وفات نبوی ﷺ یکم ربیع الاول ہے۔ تفصیلات کے لیے سیرت النبی کی مکمل عبارت پیش خدمت ہے۔
”تاریخ وفات کی تعیین میں راویوں کا اختلاف ہے۔ کتب حدیث کا تمام تر دفتر چھان ڈالنے کے بعد بھی تاریخ وفات کی مجھ کو کوئی روایت احادیث میں نہیں مل سکی۔ ارباب سیر کے ہاں تین روایتیں ہیں: یکم ربیع الاول۔ دوم ربیع الاول اور 12/ ربیع الاول۔ ان تینوں روایتوں میں باہم ترجیح دینے کے لیے اصول روایت و درایت دونوں سے کام لینا ہے۔ اور روایت دوم ربیع الاول کی روایت،ہشام بن محمد بن سائب کلبی اور ابو مخنف کے واسطہ سے مروی ہے۔ (طبری، ج/4، ص/ 1815)۔ اس روایت کو گو اکثر قدیم مورخوں (مثلا یعقوبی و مسعود وغیرہ) نے قبول کیا ہے؛ لیکن محدثین کے نزدیک یہ دونوں مشہور دروغ گو اور غیر معتبر ہیں۔ یہ روایت واقدی سے بھی ابن سعد و طبری نے نقل کی ہے۔ (طبقات ابن سعد، جز 2، ص/ 57، جز وفات)۔ لیکن واقدی کی مشہور ترین روایت جس کو اس نے متعدد اشخاص سے نقل کیا ہے، وہ 12/ ربیع الاول کی ہے۔ (ایضا، ص/ 58) البتہ بیہقی نے دلائل میں بسند صحیح سلیمان التیمی سے دوم ربیع الاول کی روایت نقل کی ہے۔ (نور النبراس ابن سید الناس ذکر وفات)۔ لیکن یکم ربیع الاول کی روایت ثقہ ترین ارباب سیر موسیٰ بن عقبہ سے اور مشہور محدث امام لیث مصری سے مروی ہے۔ (فتح الباری، ج/8، ص/ 98)۔ امام سہیلی نے روض الانف میں اسی روایت کو اقرب الیٰ الحق لکھا ہے۔ (ج/2، ص/372 ذکر وفات مطبع جمالیہ مصر: 1332ھ/ 1914)۔ اور سب سے پہلے امام مذکور ہی نے درایۃ اس نکتہ کو دریافت کیا کہ 12/ ربیع الاول کی روایت قطعا ناقابل تسلیم ہے، کیوں کہ دو باتیں یقینی طور پر ثابت ہیں: روز وفات دو شنبہ کا دن تھا(صحیح البخاری1387، و صحیح مسلم60945) اس سے تقریبا تین مہینے پہلے ذی الحجہ 10ھ کی نویں تاریخ کو جمعہ کا دن تھا۔ (صحیح بخاری، تفسیر الیوم اکملت لکم دینکم: 6:460)۔ 9/ ذی الحجہ 10ھ بروز جمعہ سے 12ربیع الاول ذی الحجہ تک حساب لگاؤ۔ ذی الحجہ، محرم، صفر، ان تینوں مہینوں کو خواہ 29-29، خواہ 30-30۔ بعض 30؛ کسی حالت اور کسی شکل سے 12ربیع الاول کو دو شنبہ کا دن نہیں پڑسکتا۔ اس لیے درایۃ بھی یہ تاریخ قطعا غلط ہے۔ دوم ربیع الاول کے حساب سے اس وقت دو شنبہ پڑسکتا ہے، جب تینوں مہینے 29کے ہوں۔ جب دو پہلی صورتیں صحیح نہیں ہیں، تو اب صرف تیسری صورت رہ گئی ہے، جو کثیر الوقوع ہے، یعنی یہ کہ دو مہینے 29کے اور ایک مہینہ 30کا لیا جائے، اس حالت میں یکم ربیع الاول کو دو شنبہ کا روز واقع ہوگا اور یہ ثقہ اشخاص کی روایت ہے۔ ذیل کے نقشہ سے معلوم ہوگا کہ اگر 9/ ذی الحجہ کو جمعہ ہو تو اوائل ربیع الاول میں اس حساب سے دو شنبہ کس کس دن واقع ہوسکتا ہے:
شمار
مفروضہ صورت
سوموار
سوموار
سوموار
1
ذی الحجہ، محرم اور صفر سب 30دن کے ہوں
6
13

2
ذی الحجہ،محرم اور صفر سب29 دن کے ہوں۔
2
9
16
3
ذی الحجہ29، محرم29اور صفر 30کا ہو۔
1
8
15
4
ذی الحجہ 30/ محرم29اور صفر29کا ہو
1
8
15
5
ذی الحجہ29، محرم30اور صفر29کا ہو۔
1
8
5
6
ذی الحجہ 30، محرم29اور صفر30کا ہو
7
14

7
ذی الحجہ 30، محرم30اور صفر29کا ہو۔
7
14

8
ذی الحجہ 29اور محرم30اور صفر30کا ہو
7
14

ان مفروضہ تاریخوں میں میں سے 6-7-8-9-13-14-15خارج از بحث ہیں کہ علاوہ اور وجوہ کے ان کی تائید میں کوئی روایت نہیں۔ رہ گئیں یکم اور دوم تاریخیں۔ دوم تاریخ صرف ایک صورت میں پڑ سکتی ہے، جو خلاف اصول ہے۔ یکم تاریخ تین صورتوں میں واقع ہوسکتی ہے اور تینوں کثیر الوقوع ہیں اور روایت ثقات ان کی تائید میں ہیں، اس لیے وفات نبوی کی صحیح تاریخ ہمارے نزدیک یکم ربیع الاول 11ھ ہے۔ اس حساب میں فقط رویت ہلال کا اعتبار کیا گیا ہے، جس پر اسلامی قمری مہینوں کی بنیاد ہے، اصول فلکی سے ممکن ہے کہ اس پر خدشات وارد ہوسکتے ہیں۔ کتب تفسیر میں آیت: الیوم اکملت لکم دینکم، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت کے یوم نزول (9/ ذی الحجہ10ہجری) سے روز وفات تک کے 81دن ہیں۔ دیکھو ابن جریر، ج/6ص/44و ابن کثیر، ج/2، ص/ 13و بغوی وغیرہ)۔ ہمارے حساب سے9/ ذی الحجہ10ھ سے لے کریکم ربیع الاول تک دو 29اور ایک مہینہ 30لے کر جو ہماری مفروضہ صورت ہے، پورے 81/ دن ہوتے ہیں۔ ابو نعیم نے بھی دلائل میں بسند یکم ربیع الاول تک تاریخ وفات نقل کی ہے۔ (ص/146)۔“ (حاشیہ سیر ت النبی، جلد دوم، ص/ 530-31)
خلاصہ
ماہرین فلکیات اور قواعد ریاضی کی شہادت کے مطابق تاریخ ولادت نو ربیع الاول بروز سوموار ہے، جب کہ تاریخ وفات یکم ربیع الاول بروز سوموار ہے؛ لہذا بارہ وفات نبوی یا عید میلاد النبی کے لیے بارہ ربیع الاول کو جشن منانا حقیقت واقعہ کے خلاف اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

مزید دکھائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close