اسلامیات

رحلت نبوی کے دو دن

محمد یاسین جہازی

روح قدس کو عالم جسمانی میں اسی وقت تک رہنے کی ضرورت تھی کہ تکمیل شریعت اور تزیہ نفوس کا عظیم الشان کام درجہ کمال تک پہنچ جائے۔ حجۃ الوداع میں یہ فرض اہم ادا ہوچکا تھا۔ توحید کام اور مکام اخلاق کے اصول عملا قائم کرکے عرفات کے مجمع عام میں اعلان کردیا گیا کہ آج کے دن میں نے تمھار لیے دین کو کامل کردیا اور اپنی نعمتیں پوری کردیں۔ (سیرت النبی جلد دوم، ص/ 529)
وفات سے ایک دون پہلے بروز اتوار
(۱) سب غلاموں کو آزاد کردیا، جو چالیس کی تعداد میں تھے۔
(۲) اثاث البیت کا جائز ہ لیا گیا، تو سات دینار ملے، جسے علیٰ الفور غریبوں میں تقسیم کرادیا گیا۔
(۳) گھر میں جو ہتھیار موجود تھے، مسلمانوں کو ہدیہ کردیا گیا۔
(۴) غشی طاری ہونے کی وجہ سے دردمندوں نے آپ کے منع کرنے کے باوجود دوا پلادی، تو ہوش میں آنے پر سزا کے طور پر دوا پلانے والوں کو دوا پلائی گئی۔
یوم رحلت بروز سوموار
(۱) فجر کے وقت سرور کائنات نے مسجد اور کمرہ کا درمیانی پردہ سرکایا۔ صحابہ دیدار نبوی سے مشرف ہوئے۔
(۲) آپ ﷺ کی بے چینی دیکھ کر حضرت فاطمہ نے کہاکہ واکرب اباہ، اس پر آپ ﷺ نے انھیں تسلی دی۔
(۳) حضرات حسنین کو غم گین دیکھ کر چوما اور ان کے احترام کی وصیت کی۔
(۴) ازواج مطہرات کو بھی وصیت کی۔
(۵) پاس میں پانی کا برتن موجود تھا، آپ اس میں ہاتھ ڈالتے اور چہرے پر ملتے تھے، اسی بے چینی کے عالم میں آپ نے فرمایا کہ یہودو و نصاریٰ پر لعنت ہو جس نے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ اور آپ اسی کیفیت میں تھے کہ فرمایا کہ الصلاۃ، الصلاۃ وما ملکت ایمانلم۔ کہ غلام اور باندی کا خاص خیال رکھو۔
(۶) حضرت عبد الرحمان مسواک لے کر آئے تو آپ نے تندرست آدمی کی طرح مسواک کی۔پھر اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور زبان اقدس سے یہ الفاظ ادا کیے کہ بل الرفیق الاعلیٰ، بل الرفیق الاعلیٰ۔ تیسری آواز پر ہاتھ نیچے کو لٹک آئے، پتلی اوپر کو اٹھ گئی اور روح منور عالم قدس کے لیے ہمیشہ ہمیش کے لیے پرواز کر گئی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

مزید دکھائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close