اسلامیاتمضامین

تمام مسائل کا حل رسول اکرم ص کی سیرت میں ہے

مفتی محمد سفیان القاسمی استاذ مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی گڈا جھارکھنڈ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت طیبہ میں صرف مسلمانوں کے ہی مسائل کا حل نہیں بلکہ دنیا کے تمام انسانوں کے مسائل کا حل موجود ہے، خواہ انسانوں کے یہ مسائل ذاتی نوعیت کے ہوں یا اجتماعی نوعیت کے. اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا( لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ،( سورۃ الاحزاب )تمھارے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و وسلم کی ذات گرامی میں بہترین نمونہ ہے. چنانچہ جب انسان اس نمونہ کو سامنے رکھ کر زندگی گزارے گا تو نہ صرف یہ کہ وہ اچھی زندگی گزارے گا بلکہ زندگی میں پیش آنے والے مسائل و مصائب کو احسن طریقے سے حل بھی کر سکے گا.

یہ بات صرف عقیدہ کی حد تک نہیں بلکہ حقیقت واقعہ بھی یہی ہے. حضور اکرم ص کو بعض وہ لوگ بھی جو نبی و رسول نہیں مانتے لیکن آپ کے عمدہ اخلاق اور بہترین حکمت عملی کے قائل ہیں. وہ وحی کو نہیں مانتے مگر یہ مانتے ہیں کہ حضور اکرم ص نے صرف تئیس سال کے عرصے میں اپنے طریقہء کار، اخلاق اور حکمت عملی کے ذریعہ دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپا کر دیا.

حضور اکرم ص کو نبی و رسول نہ ماننے والے اگر حضور ص کے طریقے کو کامیابی کا ضامن سمجھتے ہیں اور ہم مسلمان جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول کی اتباع کا حکم دیا اور جن کو یہ بتایا گیا کہ بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے( خیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ و وسلم( مسلم شریف ) اگر حضور کے طریقے کو مسائل کا حل اور کامیابی کا ضامن نہ سمجھیں، تو یہ تعجب خیز بات بھی ہوگی اور ایمان سے خارج کرنے والی سوچ بھی.

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضور اکرم ص کے طریقے پر چلنے میں ہی کامیابی ہے اور حضور ص کے طریقے کے خلاف چلنے میں ناکامی، ہلاکت اور بربادی ہے. اس لئے انسان کو بطور خاص ایک ایمان والے کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں جو بھی کام کرے تو پہلے یہ دیکھ لے کہ اس سلسلے میں حضور کا طریقہء کار کیا تھا، اور اس کے لئے ضروری ہے کہ حضور اکرم ص کی سیرت پاک کا مطالعہ برابر جاری رکھا جائے. یہاں پر یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ حضور اکرم ص کے کچھ طریقے ایسے بھی ہیں جو مخصوص حالات کی بنیاد پر حالات کی مناسبت سے مختلف مواقع کے لئے الگ الگ ہیں مثلاً مکی زندگی میں الگ طریقہ، مدنی زندگی میں الگ طریقہ، یا کبھی جنگ اور کبھی صلح. چنانچہ جب بھی ایسے خاص حالات پیش آئیں تو ہمیں یہ جائزہ لینا ہوگا کہ ایسے موقع پر حضور کا کون سا طریقہ درست ہوگا . اگر ہم نے اس کی رعایت کئے بغیر کوئی طریقہ اپنا لیا تو اس میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہوگی بلکہ یہ ناکامی کا باعث بھی ہو سکتا ہے. کیونکہ مختلف حالات میں حضور اکرم ص نے جو مختلف طریقے اپناءے اگر ہم نے اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھا اور جنگ کے موقع پر صلح یا صلح کے موقع پر جنگ اور مکی زندگی جیسے حالات میں مدنی زندگی والا طریقہ یا مدنی زندگی جیسے حالات میں مکی زندگی کا طریقہ اپنایا تو یہ رسول اکرم ص کے طریقے کی پیروی نہیں کہلائے گی بلکہ نفس کی پیروی کہلاءے گی اور کامیابی کی ضمانت رسول کے طریقے کی پیروی میں ہے نہ کہ اپنے نفس کی پیروی میں.

Tags
مزید دکھائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close