مضامین

CAAکا جیسے استعمال کیا جارہا ہے اُس کی وجہ سے ہندوستانیوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے

اداریہ ٹائمز آف انڈیا ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)

دلی کے حالیہ انتخابات اور اس کے نتائج نے کم سے کم 42 لوگوں کی جان لی ہے۔ بین الاقوامی ایجنسیوں اور یہاں والوں نے بھی اس بات کا اظہار اور افسوس و تنقید کی ہے۔ دونوں یعنی US Comision of Islami Con (OIC)نے بھی مسلمانوں کے خلاف ہونے والے تشدد کی مذمت کی ہے۔ جبکہ یونائٹیڈ اسٹیٹ کی ہیومن رائٹس نے بھی اپنے عظیم تر غصہ کا اظہار کیا ہے۔ جو یہاں CAA کی اور پولیس کی عدم کارکردگی کی وجہ سے جہاں فسادات ہوئے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ USکے پریسیڈنشل امیدوار برنی سینڈرچ نے اس معاملہ میں ٹرمپ کی CAA کے موضوع اور ہندوستان کی بے چینی سے پہلو تہی کرنے پر اعتراض بھی کیا ہے۔
اس سال کے آخر میں ہونے والے انتخابات میں ٹرمپ کے اس معاملہ کو سینڈرچ اپنے انتخابی مہم کے دوران کرسکتے ہیں۔ جیسے ہی وہ انتخابات میں کامیاب ہوجائیں گے تو ہم دیکھیں گے کہ کس طرح ہندوستان میں ہونے والے ہندوستانی انسانی حقوق کے ریکارڈ کی وہ کیونکر جائزہ لیتے ہیں۔ یہ ہماری عقل مندی نہ ہوگی کہ ہم اپنے تمام انڈے ٹرمپ کے باسکٹ میں ہی رکھ دیں۔ اس لیے کہ امریکہ کا پولیٹکل سسٹم (Political System)ایک رنگی سے بہت دوٗر ہے اور امریکی سینڈرچ اور کانگریس کو بہت زیادہ اختیارات حاصل ہیں۔ جبکہ ڈیموکریٹ اور ریپبلکن ہندوستانی معاملات میں ہم نشست ہوکر مشترکہ بیانات جاری کرچکے ہیں اور انہوں نے ان فسادات کے سلسلے میں نشاندہی اور مثالیں پیش کی ہیں۔ اسی طرح وہاں کی انتظامیہ بشمول CAA,TSA جو نئی دہلی کو ہتھیار کی خریدی سے متعلق پیسے دیتی ہے۔ اور امریکہ خود بھی اس بات کو منتخب نہیں کرے گا کہ وہ یونائٹیڈ نیشن سیکوریٹی کونسل میں کشمیر سے متعلق والا معاملہ جسے پاکستان اور چائنا دونوں اس تعلق سے بیان دے رہے ہیں۔
مشترکہ طور پر سیکولر اور آزادانہ خیال والے لوگ اُن کے تعلقات ہندوستان اور امریکہ کے متعلق ابھی ٹھنڈے بستے میں ہیں۔ لیکن یہ بہتر ہے ان تمام معاملات کے سلسلے میں ہم زیادتی نہ کریں۔ قانون شہری ترمیم اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے تشدد نے ہندوستان کو کمزور کر ڈالا ہے۔ اسے انٹرنیشنل سپورٹ کے لیے حالات کو نارمل کرنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ فساد کرنے والوں اور تفریق کرنے والوں کو جوابدار ٹھہرایا جائے۔ خواہ وہ کسی مذہب کے کیوں نہ ہوں۔ جبکہ بی جے پی کو بھی چاہیے اُن لوگوں کی زبان بند رکھے جن کی تقاریر سے نفرت اور سماج میں پولورائزیشن پھیل رہاہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: