مضامین

CAAکی ہڑتال، صریح درست ہے

رفیوجیوں کے مسائل کو فرداً فرداً حل کیجیے، نہ کہ اُن کی ذات کی بنیاد پر

اداریہ ٹائمز آف انڈیا (24 جنوری 2020ء)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)
Cell:9890245367
CAA کے دستوری موقف کو موجودہ پھیلے ہوئے کُل ہند سطح پر احتجاج جو اس وقت مشتعل ہوچکا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملہ کو بعجلت ممکنہ منفصل کرے۔ جبکہ مرکز کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ CAA میں تبدیلی کرے۔ اس لیے اب صرف عدالت عظمیٰ پر ہی بنیادی طور پر جوابداری ہوتی ہے کہ وہ دستوری اقتدار کے مطابق احکامات صادر کرے۔ پارلیمنٹ نے CAA کا قانون جب منظور کیا ہے تو اُن کے ذریعہ میں مسلمانوں کے خلاف جانبداری ہے۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت کو چار ہفتہ کی مہلت دی ہے کہ وہ CAAکو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی جواب دہی کرے، شاید ہوسکتا ہے کہ انہیں اچھی بحث کرنے کے لیے موقع فراہم کیا گیا ہو۔ تاکہ اب جو کمزور نہ سمجھنے والی باتوں کو وہ بھرپور طریقہ سے سمجھا سکیں۔ مرکز کی یہ بحث ہے CAA کا قانون اقلیتوں یعنی 6/مذہبی اقلیتیں جو پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان سے یہاں غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں جبکہ انہیں اپنے ممالک میں مذہبی بنیادوں پر سختیاں جھیلنے پڑرہی ہیں اور جہاں ان ممالک میں اسلام وہاں کا سرکاری مذہب ہے۔ لیکن اس قسم کی بحث میں بہت سارے تضادات ہیں۔
مثال کے طور پر متحدہ عرب امارت جہاں کا بھی سرکاری مذہب اسلام ہے، اور اگر وہاں کی حکومت مذہبی طور پر اگر اقلیتوں کو ستانا شروع کردے تو پھر مضبوط طور پر ہندوستانیوں کو یا کم سے کم نان مسلم کو وہ ستانا شروع کردیں گے تاکہ وہ آ جا نہ سکیں۔ لیکن اس قسم کی کوئی علامت اس بنیاد پر وہاں دیکھی نہیں جاتی۔ یا پھر دوسری مثال لیجیے۔ سری لنکا کی ریاست میں بدھ ازم کا جو مذہب ہے اور جہاں ہزاروں سری لنکن ٹامل وہاں کے غیر قانونی طور پر منتقل ہوئے ہندوستان میں برسوں سے پڑے ہیں۔ اور وہاں سے اُن کا اخراج عمومی طو رپر شہریت سے جنہیں بے دخل کیا گیا ہے اُس کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔
شاید مرکز کا مطلب یہ ہے کہ کس طریقہ سے ممالک اور قوموں کے درمیان وہاں کے مذہب کی تعریف و تعین کرتے ہیں۔ مذہبی فنڈل ازم جسے وہ پاکستان میں سمجھتے ہیں لیکن اس معاملہ میں بھی کیوں CAA وہ پاکستانی دیگر ممالک کی دوستی کے برابر نہیں رکھا گیا ہے جیسے بنگلہ دیش، افغانستان۔ حالانکہ CAAکے قانون میں بات بتائی گئی ہے وہ مذہبی طور پر بھید بھاؤ، پریشانی، دُشواریاں۔ بحث ہی کی جاتی ہے مذہبی فنڈل ازم کی ٹارگیٹ وہ ایک مجہول اصطلاح ہے جو مذہبی ریاستی مذہب سے یا جو عدم اعتقاد والے لوگ ہیں اُن کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ بلوچ نیشنلسٹ جو ہندوستان سے متصل ہے بنگلہ دیش کے ناستک یا میانمار کے روہنگیا جو مختلف طورپر ظلم و ستم کا شکار ہیں اور وہاں سے غیر قانونی طور پر منتقل ہوکر ہمارے ملک میں رہ رہے ہیں لیکن ہم اُن کے بارے میں اس قانون میں کوئی تعین نہیں کرتے ہیں۔
ہندوستان سٹیزن شپ ایکٹ کے تحت شہریت دینے کا جو طریقہ کار ہے اُس کے مطابقت میں باہری آنے والے رفیوجیوں جن میں 2830 لوگ پاکستان سے، 912 افغانستان سے اور 112 بنگلہ دیش سے ہیں جنہیں شہریت دی گئی ہے۔ جس میں بہت سارے مسلم شامل ہیں۔ جن ہندوستان نے پچھلے چھ سالوں میں قانونی طورپر انہیں شہریت دی ہے۔ شہریت دینے کے اس معاملہ کی توسیع کی سہولت غیر قانونی طور پر ظلم و ستم کی وجہ سے بلا لحاظ ملک اور مذہب ہندوستان میں رہ رہے ہیں انسانی نقطہ نظر سے یہ بات ضروری ہے کہ ہم اپنے CAA کے قانون میں درستی کریں۔ تاکہ ہندوستان کے سیکولر شکل و صورت کی پھر سے تعمیر ہوسکے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: