اہم خبریں

NPRبھارتی شہریوں کو Dووٹر کرنے کی سازش ہے

محمد یاسین جہازی

راقم پچھلے کئی مضامین میں یہ ثابت کرچکا ہے کہ NRCکا پہلا قدم NPRہے، جس کا صاف مطلب یہی ہے کہ NPRکو قبول کرتے ہی آپ NRCکے اسیر ہوجائیں گے، اس لیے NRCکی مخالفت کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم یہی ہے کہ NPRکی مخالفت کی جائے، اور اس استدلال کی سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ NPRبھارتی شہریوں کو ڈاوٹ فل ووٹر بنانے کی گہری سازش ہے۔
ابھی پچھلے مہینوں میں الیکشن کمیشن آف انڈیانے ووٹر آئی کارڈ میں ویری فکیشن اور اصلاح کرنے کرانے کے لیے ڈیڈ لائن دیا تھا، جس کے تحت لاکھوں افراد نے آن لائن اور آف لائن یہ دونوں کام کرائے تھے۔ اب جب کہ اسٹیٹس چیک کرنے کا وقت آیا ہے، تو زیادہ تر یہی شکایتیں موصول ہورہی ہیں کہ پہلے ایک کارڈ میں ایک ہی غلطی تھی، اب دو تین غلطیاں ہوکر آئی ہیں۔ کچھ لوگوں کے کارڈوں میں کوئی بھی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ کچھ کے کارڈوں میں تصویروں کا الٹ پھیر ہوگیا ہے۔ خود راقم کے کارڈ میں کسی بوڑھی عورت کی تصویر چسپاں کردی گئی تھی، جس کے لیے کئی بار اپلائے کیا، لیکن ترمیم نہیں کی گئی، بالآخر مجبور ہوکر آر ٹی آئی کے تحت اپیل کیا، پھر بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی، پھر جب سکنڈ اپیل کی جس کے بعد جواب نہ دینے پر آفیسر کو یومیہ حساب سے جرمانہ بھرنا پڑتا ہے تب جاکر تصویر صحیح کی گئی۔
اسی طرح کاغذات کی درستگی کے جذبہ کے تحت پچھلے تین سالوں سے اپنے کاغذات میں یکسانیت کی کوشش کر رہا ہوں، لیکن اس کے باوجود سابقہ لاحقہ یا پھر اسپیلنگ کی غلطیاں ٹھیک نہیں ہو پارہی ہیں۔ ناچیز اپنے نام کے سابقہ محمد کو انگریزی میں MDکے ہجے سے یکسانیت کی کوشش کر رہا تھا، جب پین کارڈ محکمہ میں اپلائے کیا، تو بتایا گیا کہ میرا سسٹم فرسٹ نام چار حروف سے کم کا نہیں لیتا، اس لیے MDنہیں ہوسکتا؛ اور بالآخر MOHDکردیا جب کہ بقیہ دیگر کاغذات میں MDاسپیلنگ ہے۔
اسی قسم کا ایک اور حادثہ یہ ہوا کہ میری کچھ سندات میں والدہ محترمہ کا نام بی بی کی جگہ آئی آئی کردیا تھا، جسے بارھویں کے سرٹیفکٹ میں درست کرایا اور درست شدہ کاغذ کو بی اے کے داخلہ کاغذات میں لگایا۔ بی اے مکمل ہونے کے بعد جب مارک شیٹ اور سرٹیفکٹ ملا تو اس میں بھی یہی غلطی دوہرائی گئی۔
اب اخراجات اور وقت کی بات کرتے ہیں۔ میرے پاس جنتے بھی کاغذات ہیں ان کی اصلاح کراتے کراتے آج تقریبا تین سال سے زائد ہوگئے، لیکن غلطیاں ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں۔ اور اخراجات کی بات کریں، تو صرف بی اے کے کاغذات، جس میں ایڈمٹ کارڈ، تین سال کی مارک شیٹ اور ایک سرٹیفکٹ کے لیے پینتیس سو روپیے کا مطالبہ کیا گیا اور میں نے دیا بھی، لیکن غلطی جوں کا توں برقرار ہے۔ ابھی ایک ہفتہ پہلے اپنے ایم اے کی سرٹیفکٹ نکالنے کے لیے گذارش کی تو مجھ سے کہا گیا کہ اس کے لیے دو ہزار روپیے لگیں گے، جب کہ ابھی اس میں یہ معاملہ شامل نہیں ہے کہ اگر غلطی پائی گئی تو اس کی اصلاح کے لیے کیا الگ سے چارج دینا ہوگا یا اسی چارج سے کام ہوجائے گا۔
اس حیثیت سے غور کیا جائے، تو کاغذات میں اصلاحات کا کام دراصل رشوت خوری میں تعاون اور غریبوں کے لیے اضافی مالی بوجھ کا دوسرا عنوان ہے۔
اب ذرا ایک اور حیثیت سے غور کیجیے کہ جب NPRکرنے والے اہلکار ہمارے پاس آئیں گے، وہ کاغذات دیکھیں گے، تو جن کے پاس کوئی کاغذ نہیں ہے، تو انھیں یقینی طور پر ڈاوٹ فل ووٹر کی لسٹ میں ڈال دیں گے۔ اور جن کے پاس کئی کئی کاغذات ہیں،بالیقین ان میں اسپیلنگ کی غلطیاں ہوں گی، تو انھیں بھی ڈاوڈ فل ووٹر کی فہرست میں ڈال دیں گے۔ اور پھر یہ دونوں قسم کے افراد NPRکی فہرست میں شامل ہونے کے لیے اپیل کرنے کی مدت کے اندر اندر کاغذات بنوانے یا درست کرانے کے لیے ادھیکاریوں کا چکر کاٹیں گے۔ اور پھر ادھیکاری مجبوری کا فائدہ اٹھا کر دس دس گنا رشوت خوری کریں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی نے اسے ”غریبوں کا ٹیکس“ قرار دیا ہے۔ اور جاوید اختر نے کاغذات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امیر ہندو اور امیر مسلمان تو متاثر نہیں ہوں گے، لیکن غریب مسلمان اور غریب ہندو بہت زیادہ پریشان ہوجائیں گے، اس لیے CAAکے ذریعہ اس مسئلے کو ہندو مسلم رنگ دینے کی جو کوشش ہورہی ہے، وہ دراصل اصل معاملہ سے ذہن بھٹکا کر اپنا کام نکالنے کی سازش ہورہی ہے۔
آسام میں سرکارنے پہلے NRCکیا، تو نتیجے کے طور پر تیرہ لاکھ ہندو اور پانچ لاکھ مسلمان اس فہرست سے باہر ہوگئے، اس سے سبق لیتے ہوئے سرکار پورے بھارت کے لیے یہ کرنا چاہ رہی ہے کہ پہلے NPRکیا جائے، اس سے جسے شامل کرنا ہے کرلیا جائے اور جسے نکالنا ہے اسے ڈاوڈ فل بنادیا جائے، تو گرچہ سرکار نے پہلے NRCکی بات کی پھر CAAکا مدعی اٹھایا اور NPRکا تذکرہ سب سے آخر میں کیا؛ لیکن عملی طور پر یہ پہلے NPRکرائے گی، پھر NRCکا پروسیس شروع ہوگا اور آخر میں CAAکے ذریعہ ہندو مسلم کا کارڈ کھیلا جائے گا۔
NPRکے عملی پروسیس کا تصور کیا جائے، تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ یہ دراصل شہریوں کی شہریت؛ بالخصوص مسلمانوں اور غریب طبقوں کی شہریت کو مشکوک بنانے کی منظم سازش ہے، جس کے بعد NRCمیں پھنس جانے والے غیر مسلموں کو CAAکے ذریعہ نکال کر مسلمانوں کو حق شہریت سے محروم کرنے کا کھیل کھیلیں گے۔ اور چوں کہ ان تمام چیزوں کے پیچھے ہندو راشٹر کا مقصد چھپا ہے، جس کا بنیادی آئین منوسمرتی نظام ہے اور اس نظام کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ کسی نہ کسی طبقہ سے نفرت اور ذاتی واد قائم کیا جائے، اس لیے بعد میں دلتوں اور آدی واسیوں کو ٹارگیٹ کرکے بھارت کو صدیوں پرانے فرسودہ سسٹم کا حصہ بناکر نچلے طبقوں میں شامل ہندوں کو زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم کردیں گے۔ اس لیے سبھی بھارتیوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ اگر اس بھیانک انجام سے بچنا ہے تو NPRکی مخالفت از حد ضروری ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: