مضامین

اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ اور فلسطین کے مظلوم مسلمان

تحریر *محمد ہاشم اعظمی مصباحی*
نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی
دینا میں ظلم و ستم کی داستانیں ابتدائے افرینش سے آج تک کسی نہ کسی شکل میں اپنی روایات نبھا رہی ہیں۔ چاہے وہ افغانستان و عراق کا معاملہ ہو یا یمن و شام کے مظلوموں کی درد ناک کہانیاں یا کشمیری و روہنگیائی مسلمانوں پر آۓ دن بڑھتے ہوئے ظلم و ستم کے گھنیرے سایے ہوں بہرطور ظلم آج بھی جاری و ساری ہے اسرائیلی جارحیت وسفاکیت کا نشانہ بننے والے فلسطینی مسلمانوں کی تباہی وبربادی کی داستان کسی پر مخفی نہیں ہے شہر کا شہر ملبوں کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے سڑکیں مظلوموں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہیں بے گوروکفن خون میں لت پت بچوں کی تڑپتی ہوئی لاشیں بارود وبم کے نرغے میں سسکتی ہوئی انسانیت ظلم و ستم کی انتہا پر کراہتی ہوئی آدمیت کسی ابابیلی لشکر کا انتظار کررہی ہے سلطان صلاح الدین ایوبی کو صدا لگارہی ہے ماؤں بہنوں کی گود سونی ہوچکی ہیں ظالموں نے خواتین اسلام کی مانگ سے سیندور کھرچ کر بیوگی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور کردیا بوڑھے والدین کی آنکھوں کے سامنے ان کی اولاد کو بارود کے ڈھیر میں دفن کردیاہے اسرائیلی ظالموں نے قبلہ اول مسجد اقصٰی کی حرمت کو بھی پائمال کردیا ہے دنیا بھر کے مسلمان اسرائیل کے حالیہ وحشیانہ حملوں پر سیخ پا اور سراپا احتجاج ہیں اور یہ ہمارے لئے ایک آئینہ بھی ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے یا ملک میں رہنے والا مسلمان اگر تکلیف میں ہے اُس پر ظلم ہو رہا ہے تو بحیثیتِ مسلمان ہمیں بھی تکلیف ہوتی ہے اس لئے کہ ہم اُمتِ مسلمہ میں ہیں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "میری اُمت ایک جسم کی طرح ہے”قول رسول سے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ جنہیں امت کا درد نہیں وہ مر چکا ہے یا امت سے خارِج ہوچکا ہے یا فالج زدہ ہے۔ فلسطین میں جو کچھ ہورہا ہے اُس تناظر میں مسلم ممالک کے حکمرانوں اور اُن کی افواج کی سردمہری کو دیکھیں یا ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی بے بسی کو جو یہ سب کچھ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں لیکن کچھ کرنے سے قاصر ہیں اُن کے لئے اگر ذلت کا لفظ استعمال کیا جائے تو بھی کم ہوگا ایسی صورت حال میں مسلمان کون سی غیرت کے جاگنے کی توقع لگائے بیٹھے ہیں؟ اسرائیل نے مسجدِ اقصیٰ پر رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو حملہ کیا فلسطینی علاقوں پر بمباری کرکے تباہی مچا دی اور سینکڑوں فلسطینیوں کو شہید کر دیا جن میں بچے خواتین سب شامل ہیں لیکن کسی مسلم ملک کی فوج مظلوم فلسطینیوں کی مدد کے لئے نہیں پہنچی غزہ اور دوسرے علاقوں میں گیارہ دن سے مسلسل درندگی جاری تھی جنگ بندی کے اعلان بعد بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
فلسطین میں اس وقت نہ گھر، نہ اسپتال، نہ اسکول کچھ بھی محفوظ نہیں ہے اب تو صورتحال ایسی ہو چکی ہے کہ ایک باپ نے اپنے دو بچوں کو اپنے بھائی کے حوالے کردیا اور اُس کے دو بچوں کو اپنے پاس بلا لیا کہ اگر کوئی ایک خاندان بھی اسرائیل کی اس جارحیت کا شکار ہوتا ہے تو کم از کم اُس خاندان کا کوئی ایک بچہ تو زندہ بچ جائے۔ یہ واقعہ ہو یا روزانہ معصوم بچوں کی تڑپتی ہوئی لاشیں یا فلسطینی عورتوں پر صیہونی فوجیوں کا تشدد ہو یا القدس کی سرزمین پر مردوں کی بکھری ہوئی لاشیں یہ تمام واقعات ابھی تک مسلم ممالک کے حکمرانوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے ناکافی ہیں۔ یاد رکھیے روزِ قیامت آپ سے اس بات کا سوال ضرور ہونا ہے کہ تم نے اس سلسلے میں کیا کیا؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ضمن میں ہم یعنی عوام الناس کیا کریں؟ اور کیسے کریں؟اس تناظر میں جواب کے طور پر راقم الحروف کی باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے انشاءاللہ فکر وعمل کے لئے مہمیز ثابت ہوں گی.
یہ بات مسلم ہے کہ کسی بھی ریاست کی تعمیر و ترقی اور قوت و استحکام کے لئے اس کی معیشت کا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے۔معیشت کی زبوں حالی سے ریاست کی حالت دگرگوں ہوتی چلی جاتی ہے اور اختتام سے قربت اس کا مقدر بن جاتا ہے لہذا ہمارا اخلاقی فریضہ یہ ہے کہ ہم اپنے ملک میں رہتے ہوئے اسرائیلی اشیاء کا بائیکاٹ کریں اس لئے کہ جب اسرائیل کی معیشت کمزور ہو گی تو اس کے پاس تخریب کاری،دہشت گردی اور فساد و غارت کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ ہم یہ قطعاً نہ سوچیں کہ ہمارے بائیکاٹ سے کیا ہوگا ہمارا یہ معمولی عمل اسرائیل کی معیشت پر کیا اثر انداز ہو گا میرے عزیزو اسرائیلی معیشت پر اثر پڑے نہ پڑے کم سے کم ہم اپنی غیرت کے ساتھ تو وفاداری کریں اپنے ضمیر کے زندہ ہونے کا تو ثبوت پیش کریں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی آخرت پر نظر رکھیں کیا یہ عجب معاملہ نہ ہو گا کہ جب بروز محشر رب العالمین کی بارگاہ میں ہماری زبان،ہاتھ، پیر غرضیکہ ہمارا پورا وجود بول کر بتاۓ گا کہ یا رب جب فلسطین کے مسلمانوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جارہا تھا تو اس نے اپنی غیرت کو دفن کر تے ہوئے اپنی حلق میں کوکا کولا انڈیلا تھا اور اس کی قیمت سے ایک ننھا غزہ کی زمین پر تڑپا تھااس نے یونی لیور کے برانڈڈ خوشبودار ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کر کے اپنے وجود اور روح بدبودار کیا تھا بتاؤ اس وقت ہم کیا کہیں گے؟کیا کریں گے؟ اسی لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کھوکھلے دعووں کو خیر آباد کہیں عملی اقدامات کریں تمام اسرائیلی مصنوعات کا ہمیشہ کے لئے مکمل بائیکاٹ کریں یہ یہودی دہشت گرد قوم ہمیشہ سے ہماری دشمن رہی ہے وقتیہ اور جذباتی بائیکاٹ سے ان کا کچھ نہیں ہونے والا بلکہ تاحیات بائیکاٹ کریں اور اپنی اولاد کو بھی وصیت کرجائیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: