Deprecated: Function create_function() is deprecated in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/plugins/urdu-keyboard/urduwriting.php on line 35
تعلیمی اداروں پر نشانہ کیوں؟ – جہازی میڈیا
اہم خبریں

تعلیمی اداروں پر نشانہ کیوں؟

زین العابدین ندوی دارالعلوم امام ربانی، نیرل۔ مہاراشٹر

یہ تو ایک بدیہی حقیقت ہے کہ لوہار کو سونے کی نزاکت اور اس کی قیمت کا اندازہ نہیں ہو سکتا کیوں کہ دونوں کی دنیا میں زمین وآسمان کی دوری ہے، یہی معاملہ علم وجہل کا بھی ہے،جس کا جائزہ ملک میں جاری حالات سے بآسانی کیا جا سکتا ہے، آج ملک کی باگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کا اول تعلیم سے کوئی واسطہ نہیں رہا اور اگر رہا بھی تو تعمیر کے بجائے تخریب کو فروغ دینے کے ہی غرض سے رہا، اس کا نتیجہ کہ بھارت کے موجودہ حالات انتہائی تشوشناک اور تکلیف دہ ہوتے جا رہے ہیں، اور آٗے دن ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں، جس سے ملک تباہی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے اور ملک میں بد امنی کی فضا بنتی جا رہی ہے، تعلیمی اداروں پر اور تعلیم حاصل کر رہے طلباء پر ظلم وہی کر سکتا ہے جسے نہ تو تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہو اور نہ ہی تعلیم گاہوں کی افادیت کا پتہ ہو، اور ایسا کرنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کوئی تعلیمی ادارہ تک قائم نہیں کیا، پچھلے ایک روز قبل جے این یو میں حکومت وقت کے اشارہ پر پولیس فورس کی نگرانی میں اور آر ایس ایس کے غنڈوں کی مدد سے جس درندگی اور وحشیانہ انداز میں طلباء پر حملہ کیا گیا ہے وہ ایک طرف جہاں حکومت کے خوف وہراس کا پتہ دیتا ہے وہیں دوسری جانب تعلیم دشمنی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔
یاد رہے کہ یہ ان کا کوئی نیا کارنامہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی جن لوگوں نے ان کے باطل نظریات کے خلاف آواز اٹھایا ان کے ساتھ بھی ان کے پروجوں نے یہی ننگا ناچ کیا تھا، تعلیم پسند بودھسٹوں کے ذریعہ قائم کردہ نالندا یونیوسٹی کو کسی اور نے نہیں انہیں کے آباء واجداد نے برباد کیا تھا اور یونیورسٹی میں آگ لگا دی تھٰی اور کتابوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کو بھی جلا ڈالا تھا، اس لئے ان کے اس ناپاک عمل سے گھبرانے کے بجائے ان کی اور بھی شدت سے مخالفت کی جائے، اور یہ یاد رہے کہ انہیں تعلیم گاہوں سے اٹھنے والی صداوں سے اتنا ہی ڈر لگتا ہے جتنا ایک نہتے انسان کو شیر سے ڈر لگتا ہے، انہیں ڈر ہے ملک کے طلباء سے ملک کی تعلیم گاہوں سے اس لئے کہ ان کا خاتمہ یہیں سے ہونے والا ہے، یہی وجہ ہے کہ لگاتار تعلیم گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور طلباء پر جان لیوا حملہ کیا جا رہا ہے، جس کا سلسلہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے شروع ہوا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہونچا اور اب جے این یو بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا، اس سے یہ بات سمجھنے لینی چاہئے کہ انہیں کسی مذہب سے نہیں صرف دنگے اور فساد سے ہی مطلب ہے، اور اسی فساد کی آڑ میں یہ ملک پر راج کرتے ہوئے چلے آٗے، اس لئے تمام بھارت واسیوں کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم سب اس آتنک پسند حکومت اور ظلم پسند تحریک آر ایس ایس سے ملک کو پاک کریں گے اور کسی بھی پل حکومت کے مظالم برداشت نہیں کریں گے، ہمیں ایسے مواقع پر گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں کہ تمام محکموں میں ان کے افراد بیٹھے ہوئے ہیں، تمام ملکی معاملہ ان کے ہاتھوں میں ہے، اس لئے ہم کیا کریں، نہیں بالکل نہیں بلکہ ہمیں ہر حال میں یہ یاد رکھنا ہے کہ ہم ایک جمہوری ملک کے رہنے والے ہیں جہاں سب سے بڑی طاقت عوام کو اور ملک کے قانون کو حاصل ہوتی ہے، اس لئے ہمیں ان کے خلاف حق کی لڑائی جاری رکھتے ہوئے، اپنے حقوق لے کر ہی رہنا ہے اور باطل طاقت کو بتا دینا ہے کہ بھارت کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو ہم جینے نہیں دیں گے، چہ جائیکہ وہ ہم پر حکومت کرے۔
تعجب ہوتا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم جی تعلیم کے حوالہ سے گوتم بودھ کا نام لیتے نہیں تھکتے، اور خود گوتم بودھ کی تعلیمات کو دفن کرنے میں ذرا بھی دریغ نہیں کرتے، اور تعلیم گاہوں پر ایسا حملہ کرنے کا اشارہ کرتے ہیں گویا وہاں چوروں اور اچکوں کا ٹولہ رہتا ہو،یہ بات نہیں بھولنا چاہئے کہ کسی بھی ملک اور سماج کا مستقبل وہاں کے طلباء ہوا کرتے ہیں، اور جس ملک میں طلباء پر صرف اس لئے گولیاں برسائی جارہی ہیں کہ وہ قانون کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ہمیں امید یہ خون رائیگاں نہیں جائیں گے، شرط یہ ہے کہ عوام ان معاملات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے طلباء کی حمایت کریں، اس حملہ کا دوسرا مقصد سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جاری مظاہروں کے اثرات کو کم کرنا اور لوگوں کی توجہات کو پھیرنا ہے، اور یہی اس حکومت کا حربہ ہے، اس لئے ہمیں پوری ہوشمندی کے ساتھ کالے قانون کے خلاف اپنی آواز کو مزید بلند کرتے ہوئے جمہوریت کی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے، اور یہ بات کسی بھی صورت میں نہیں بھولنا ہے کہ اس حکومت سے پورے ملک کو خسارہ ہونے والا ہے اور برابر ہو رہا ہے، اسلئے ہمیں آر ایس ایس مکت بھارت بنانے کے اس مشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہنا ہوگا، کیونکہ ملک سے آر ایس ایس کو ہٹائے بغیر امن وامان نہ صرف یہ کہ مشکل ہے بلکہ نا ممکن ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close