اسلامیات

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم: شمائل و خصائل! (دوسری قسط)

از قلم۔محمد اشفاق عالم نوری فیضی رکن۔مجلس علماے اسلام مغربی بنگال شمالی کولکاتا نارائن پور زونل کمیٹی کولکاتا۔136 رابطہ نمبر۔9007124164

گوش مبارک :
آپکی آنکھوں کی طرح آپ کے کان میں بھی معجزانہ شان تھی ۔چنانچہ آپ نے خود اپنی زبان اقدس سے ارشاد فرمایا کہ "میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے”(خصائص کبریٰ ج1ص67)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے سمع و بصر کی قوت بے مثال،اور معجزانہ شان رکھتی تھی کیونکہ آپ دور ونزدیک کی آوازوں کو یکساں طور پر سن لیا کرتے تھے۔چنانچانچہ آپکے حلیف بنی خزاعہ نے تین دن کی مسافت سے آپ کو پکارا تو آپ نے انکی فریاد سن لی۔ علامہ زرقانی نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا کہ” لَا بُعۡدَ فِیۡ سَمَا عِهٖ صَلَّیا اللّٰهُ عَلَیۡهِ وَسَلَّمَ فَقَدۡ كَانَ يَسۡمَعُ اَطِیۡطَ السَّمَاءِ” یعنی حضور اکرم ﷺ نے تین دن کی مسافت سے ایک فریاد سن لی تو یہ آپ سے کوئی بعید نہیں ہے کیونکہ آپ تو زمین پر بیٹھے ہوئے آسمانوں کی چر چراہٹ کو سن لیا کرتے تھے بلکہ عرش کے نیچے چاند کے سجدے میں گرنے کی آواز سن لیا کرتے تھے۔(خصائص کبری ج 1/ص53)گوش مبارک کے تعلق سے عظیم البرکت امام اہلسنت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ کیا فرماتے ہیں؀
دور ونزدیک کے سننے والے وہ کان : کان لعلِ کرامت پہ لاکھوں سلام۔

دہن مبارک:
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ آپ کے رخسار نرم و نازک اور ہموار تھے اور آپ کا منھ فراخ ، دانت کشادہ اور روشن تھے۔ جب آپ گفتگو فرماتے تو آپ کے دونوں اگلے دانتوں کے درمیان سے ایک دن نکلتا تھا۔ اور جب کبھی اندھیرے میں آپ مسکرا دیتے تو دندانِ مبارک کی چمک سے روشنی ہو جاتی تھی( شمائل ترمذی ص 2 وخصائص کبری ج 1 ص74)
آپ کو کبھی جمائی نہیں آئی۔ اور یہ تمام انبیاء علیہم السلام کا خاصہ ہے کہ ان کو کبھی جمائی نہیں آئی کیونکہ جمائی شیطان کی طرف سے ہوا کرتی ہے۔ اور حضرات انبیاء علیھم السلام ، شیطان کے تسلط سے محفوظ معصوم ہیں۔(زرقانی ج 5 ص 248)اسی کے تناظر میں اعلی حضرت عظیم البرکت امام اہلسنت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ "وہ دہن جس کی ہر بات وحی خدا : چشمہ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام۔

زبان اقدس:
آپ کی مقدس زبان وحی الہی کی ترجمان،داور سرچشمہ آیات و مخزن معجزات ہے ، اس کی فصاحت و بلاغت اس قدر حد اعجاز کو پہنچی ہوئی ہے کہ بڑے بڑے فصحا ء وبلغا آپ کے کلام کو سن کر دنگ رہ جاتے تھے۔اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔؀

تیرے آگے یوں ہیں دبے لچے فصحا عرب کے بڑے بڑے کوئی جانے منھ میں زباں نہیں، نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں۔
آپ کی مقدس زبان کی حکمرانی اور شان کا یہ اعجاز تھا کہ زبان سے جو فرما دیا وہ ایک آن میں معجزہ بن کر عالم وجود میں آگیا ؀
وہ زباں جس کو سب کن کی کنجی کہیں : اسکی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام۔
اس کی پیاری فصاحت پہ بے حد درود : اس کی دل کش بلاغت پہ لاکھوں سلام۔

لعاب دہن:
آپ کا لعاب دہن (تھوک ) زخمیوں اور بیماریوں کیلئے شفاء، اور زہروں کے لئے تریاق اعظم تھا۔چنانچہ در کتابوں میں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاوں میں غار ثور کے اندر سانپ نے کاٹا۔اس کا زہر آپ کے لعاب دہن سے اتر گیا اور زخم اچھا ہوگیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آشوب چشم کے لئے یہ لعاب دہن” شفاءالعین ” بن گیا۔ حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ تعالی عنہ کی آنکھ میں جنگ بدر کے تیر لگا اور پھوٹ گئی مگر آپ کے لعاب دہن سے ایسی شفاء حاصل ہوئی کہ درد بھی جانا جاتا رہا اور آنکھ کی روشنی بھی برقرار رہی ۔(زادالمعاد غزوۂ بدر)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرے پر تیر لگا۔ آپ نے اس پر اپنا لعاب دہن لگا دیافوراہی خون بند ہوگیا۔اور پھر زندگی بھر ان کو کبھی تیر و تلوار کا زخم نہ لگا۔(اصابہ تذکرہ ابو قتادہ)

آواز مبارک:
یہ حضرات انبیاء کرام کے خصائص میں سے ہے کہ وہ خوبصورت اور خوش آواز ہوتے ہیں ۔لیکن حضور سید المرسلین ﷺ تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے زیادہ خوبرو،اور سب سے بڑھ کر خوش گلو، خوش آواز اورخوش کلام تھے ۔ خوش آوازی کے ساتھ ساتھ آپ اس قدر بلند آواز بھی تھے کہ خطبوں میں دور اور نزدیک والے سب یکساں اپنی اپنی جگہ پر آپ کا مقدس کلام سن لیا کرتے تھے۔(زرقانی ج 4ص 178)

پرنور گردن:
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی گردن مبارک نہایت ہی معتدل ،صراحی اور سڈول تھی خوبصورتی اور صفائی میں نہایت ہی بے مثل،خوبصورت اور چاند کی طرح صاف و شفاف تھی۔(شمائل ترمذی ص 2)

شکم و سینۂ مبارک:
آپ کا شکم اور سینہ اقدس دونوں ہموار اور برابر تھے ۔نہ سینۂ شکم سے اونچا تھا ۔نہ شکم سینۂ سے ۔آپ کا سینۂ چوڑا تھا اور سینہ کے اوپری حصہ سے ناف تک مقدس بالوں کی ایک تتلی سی لکیر چلی گئی تھی۔مقدس چھاتیاں اور پورا شکم بالوں سے خالی تھا،ہاں شانوں اور کلائیوں پر قدرے بال تھے ۔(شمائل ترمذی ص 2)؀
کل جہاں ملک ،اور جو کی روٹی غذا : اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام۔

پاؤں مبارک:
آپ کے مقدس پاوں چوڑے،پرگوشت ،ایڑیاں کم گوشت والی،تلوا اونچا جو زمین میں نہ لگتا تھا۔ دونوں پنڈلیاں قدرے پتلی اورصاف و شفاف ، پاؤں کی نرمی اور نزاکت کا یہ عالم تھا کہ ان پر پانی ذرا بھی نہیں ٹھہرتا تھا۔ (شمائل ترمذی ص2 و مدارج النبوۃ) آپ چلنے میں بہت ہی وقار وتواضع کے ساتھ قدم شریف کو زمین پر رکھتے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ چلنے میں میں نے حضور ﷺ سے بڑھ کر تیز رفتار کسی کو نہیں دیکھا۔ گویا زمین آپ کے لئے لپیٹی جاتی تھی ۔ ہم لوگ آپ کے ساتھ دوڑا کرتے تھے اور تیز چلنے سے مشقت میں پڑ جاتے تھے ۔مگر آپ نہایت ہی وقار و سکون کے ساتھ چلتے رہتے تھے۔مگر پھر بھی ہم سب لوگوں سے آپ آگے ہی رہتے تھے۔(شمائل ترمذی ص2)

لباس مبارک:
حضور ﷺ زیادہ تر سوتی لباس پہنتے تھے۔ اون اور کتان کا لباس بھی کبھی کبھی آپ نے استعمال فرمایا ہے۔ لباس کے بارے میں کسی خاص پوشاک یا امتیازی لباس کی پابندی نہیں فرماتے۔جبہ،قبا،پیرہن ،تہبند ،حلہ ،چادر ،عمامہ ،ٹوپی ،موزہ ، ان سب کو آپنے زیب تن فرمایا ہے ۔پائجامہ کو آپنے پسند فرمایا۔ اور منی کے بازار میں ایک پائجامہ خریدا بھی تھا لیکن یہ ثابت نہیں کہ کبھی آپ نے پہنا ہو۔

عمامہ شریف:
آپ عمامہ میں شملہ چھوڑ تے تھے جو کبھی ایک شانہ پر اور کبھی دونوں شانوں کے درمیان پڑا رہتا تھا آپ کا عمامہ سفید ، سبز ،زعفرانی اور سیاہ رنگ کا تھا۔ فتح مکہ کے دن آپ کالے رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے۔(شمائل ترمذی ص9) عمامہ کے نیچے ٹوپی ضرور ہوتی تھی فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے اور مشرکین کے عماموں میں یہی فرق وامتیاز ہے کہ ہم ٹوپیوں پر عمامہ باندھتے ہیں ۔( ابو داؤد باب العمائم ص209 ج2)

چادر مبارک:
یمن کی تیار شدہ سوتی دھاری والی چادر یں جو عرب میں "حبرہ ” یا برد یمانی کہلاتی تھیں آپ کو بہت زیادہ پسند تھیں ۔اور آپ ان چادروں کو بکثرت استعمال فرماتے تھے کبھی کبھی سبز رنگ کی چادر بھی آپ نے استعمال فرمائی ہے( ابو داؤد جلد دوم ص 207)

کملی مبارک:
آپ کملی بھی بکثرت استعمال فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ بوقت وفات بھی ایک کملی اوڑھے ہوےتھے۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ایک موٹا کمبل اور ایک موٹے کپڑے کا تہبند نکالا۔اور فرمایا کہ انھی دونوں کپڑوں میں حضور اکرم ﷺ نے وفات پائی۔(ترمذی شریف جلد اول ص 206)

نعلین مبارک:
حضور اقدس ﷺ کی نعلین اقدس کی شکل و صورت اور نقشہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے ہندوستان میں چپل ہوتے ہیں ۔ چمڑے کا ایک تلا ہوتا تھا جس میں تسمے لگے ہوتے تھے آپ کی مقدس جوتیوں میں دو تسمے عام طور پر لگے ہوئے تھے جو کروم کے ہوا کرتے تھے۔ (شمائل ترمذی ص7)

انگوٹھی مبارک:
جب آپ نے بادشاہوں کے نام دعوت اسلام کے خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے کہا کہ سلاطین بغیر مہر والے خطوط کو قبول نہیں کرتے۔ تو آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس پر اوپر تلے تین سطروں میں ” محمد رسول اللہ ” کندہ کیا ہواتھا۔(شمائل ترمذی صفحہ7)

خوشبو :
آپ کو خوشبو بہت زیادہ پسند تھی۔آپ ہمیشہ عطر کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔حالانکہ خود آپ کے جسم اطہر سے ایسی خوشبو نکلتی تھی کہ جس گلی میں سے آپ گزر جاتے تھے وہ گلی معطر ہوجاتی تھی۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ مردوں کی خوشبو ایسی ہونی چاہیئے کہ خوشبو پھیلے،اور رنگ نظر نہ آئے۔اور عورتوں کے لئے وہ خوشبو بہتر ہے کہ خوشبو نہ پھیلے اور رنگ نظر آئے۔کوئی آپ کے پاس خوشبو بھیجتا تو آپ کبھی رد نہ فرماتے۔ اور ارشاد فرماتے کہ خوشبو کے تحفہ کو رد مت کرو کیوں کہ یہ جنت سے نکلی ہوئی ہے۔(شمائل ترمذی ص15)

سرمہ مبارک:
حضور ﷺ روزانہ رات کو ” اثمد ” کا سرمہ لگایا کرتے تھے۔ آپ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی اس میں سے تین تین سلائیاں دونوں آنکھوں میں لگایا کرتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ اثمد کا سرمہ لگایا کرو یہ نگاہ کو روشن اور تیز کرتا ہے اور پلک کے بال اگاتا ہے( شمائل ترمذی ص5)

سواری مبارک :
گھوڑے کی سواری آپ کو بہت زیادہ پسند ہیں گھوڑوں کے علاوہ ان کا چہرہ ہمارا عربی گا جو گھوڑے سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے پر بھی سواری فرمائی ہے صاحب یہ غلط بیانی سے وصیت۔

نفاست پسندی:
حضور اکرم ﷺ کا مزاج اقدس نہایت ہی لطیف و نفاست پسند تھا۔ ایک آدمی کو آپنے میلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو ناگواری کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ اس سے اتنا بھی نہیں ہوتا کہ یہ اپنے کپڑوں کو دھو لیا کرے۔ اسی طرح ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے بال الجھے ہوے ہیں تو فرمایا کہ اس کو کوئی ایسی چیز( تیل کنگھی) نہیں ملتی کہ یہ اپنے بالوں کو سنوارے۔ (ابو داود شریف ج دوم ص 207)
اسی طرح ایک آدمی آپ کے پاس بہت ہی خراب قسم کے کپڑے پہنے ہوئےآ گیا تو آپ نے اس سے دریافت فرمایا
کہ تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ جی ہاں ! میرے پاس اونٹ ،بکریاں، گھوڑے ،غلام اور سبھی قسم کے مال ہیں تو آپ نے فرمایاکہ جب اللہ تعالی نے تم کو مال دیا ہے تو چاہیے کہ تمہارے اوپر اس کی نعمتوں کا کچھ نشان بھی نظر آئے۔یعنی اچھے اور صاف ستھرے کپڑے پہنو۔(ابوداد شریف ج 2 ص207)

مرغوب غذا ئیں:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی چونکہ بالکل ہی زاہدانہ اور صبر و قناعت کا مکمل نمونہ تھی ۔اس لۓ آپ کبھی لذیذ اور پر تکلف کھانوں کی خواہش ہی نہیں فرماتے تھے۔یہاں تک کہ آپ نے کبھی چپاتی نہیں کھائی۔ پھر بھی بعض کھانے آپ کو بہت پسند تھے جن کو بڑی رغبت کے ساتھ آپ تناول فرماتے تھے مثلاً عرب میں ایک کھانا ھوتا ھے جو” میس” کہلاتا ہے ۔یہ گھی ،پنیراور کھجور ملا کر پکایا جاتا ہے۔اسکو آپ بڑی رغبت کے ساتھ کھاتے تھے۔
جو کی موٹی موٹی روٹیاں اکثر غذا میں استعمال فرماتے،سالنوں میں گوشت،سرکہ ،شہد،روغن زیتون،کدو خصوصیت کے ساتھ مرغوب تھے ۔گوشت میں کدو پڑا ہوتا تو پیالہ میں سے کدو تلاش کرکے کھاتے تھے۔آپ نے بکری ،بھیڑ،اونٹ،گورخر،خرگوش،مرغ،بٹیر دنبہ وغیرہ کا گوشت اور مچھلی بھی کھایا ہے۔اسی طرح کھجور اور ستو بھی بکثرت تناول فرماتے تھے۔تربوز کھجور کےساتھ ملا کر ،کھجور کے ساتھ ککڑی ملا کر،روٹی کے ساتھ کھجور بھی کبھی تناول تناول فرمایا کرتے تھے۔انگور ،انار وغیرہ فروٹ بھی کھایا کرتے تھے۔ٹھنڈا پانی بہت مرغوب تھا۔دودھ کبھی خالص کبھی اس میں پانی ملا کر نوش فرماتے۔کبھی کشمش اور کھجور پانی میں بھگو کر اس کا رس پینے تھے ۔جو کچھ پیتے تین سانس میں نوش فرماتے۔
ٹیبل اور میز پر کبھی کھانا تناول نہیں فرمایا۔ہمیشہ کپڑے یا چمڑے کے دسترخوان پر کھانا کھاتے ۔مسند یا تکیہ پر ٹیک لگا کر ،یا لیٹ کر کبھی کچھ نہ کھاتے نہ اس کو پسند فرماتے۔کھانا صرف انگلیوں سے نوش فرماتے ۔چمچہ کانٹا وغیرہ سے کھانا پسند نہیں فرماتے ۔ہاں ابلے ہوت گوشت کو کبھی کبھی چھری سے کاٹ کر بھی کھاتے تھے۔(شمائل ترمذی ) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان محبوب چیزوں کو ہمیں بھی اپنی زندگی میں بسانے کی توفیق عطافرمائے۔آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: