اسلامیات

فرض مسح

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (19) تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-05-1919_00-06-1976) نور اللہ مرقدہ

ہاتھ کی چھوٹی تین انگلی کی مقدار موزہ کے ظاہر حصہ پر مسح کرنا فرض ہے ۔
عن علی انہ قال: لو کان الدین بالرأی لکان اسفل الخف اولیٰ بالمسح من اعلاہ و قد رأیت رسول اللّٰہ ﷺ یمسح علیٰ ظاھر خفیہ۔ (رواہ ابو داؤد باسناد حسن و للدارمی معناہ و فی التلخیص اسنادہ صحیح)
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ اگر دین کا تعلق رائے سے ہوتا تو موزہ کے نچلے حصہ کا مسح کرنا زیادہ مناسب ہوتا اوپر کے حصے کے مسح کرنے سے ، حالاں کہ میں نے موزہ کے اوپر کے حصہ پر رسول اللہ ﷺ کو مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
اگر کسی کے پاؤں کا اگلا حصہ تین انگلی کی مقدار بھی باقی نہ رہے تو اس کے لیے موزہ پر مسح کرنا جائز نہیں ہے، گرچہ ایڑی موجود ہو، کیوں کہ مسح کا محل باقی نہیں رہا۔
سنت مسح
اور سنت یہ ہے کہ ہاتھ کی انگلیوں کو پاؤں کی انگلیوں پر رکھے اور کھینچتے ہوئے ٹخنے تک لائے۔ دائیں موزہ پر دایاں ہاتھ اور بائیں موزہ پر بایاں ہاتھ رکھے۔
عن المغیرۃ بن شعبۃ قال: رأیت رسولَ اللّٰہ ﷺ بالَ ثم توضأ و مسح علیٰ خفیہ ووضع یدہ الیمنیٰ علیٰ خفہ الیمنیٰ ویدہ الیسریٰ علیٰ خفہ الیسریٰ، ثم مسح اعلاھما مسحۃ واحدۃ حتیٰ کانی انظر الیٰ اصابع رسول اللّٰہ ﷺ علیٰ الخفین۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ و رویٰ البیھقی نحوہ)
حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آں حضرت ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ آپ ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ دائیں موزہ پر رکھا اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں موزہ پر رکھا۔ پھر دونوں موزہ کے اوپر والا حصہ پر ایک ہی مرتبہ مسح کیا گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کو موزہ پر دیکھ رہا ہوں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: