مضامین

حضرت مولانااسرارالحق صاحب قاسمیؒ :چند اہم خصوصیات اور ذاتی تعلقات

مفتی اشرف عباس قاسمی صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

حضرت مولانااسرارالحق صاحب قاسمیؒ (۱۹۴۲ء ۔۔۲۰۱۸ء)ان نابغہء روزگارشخصیات میں ہیں جنھوں نے اپنے کرداروعمل ،عالی حوصلگی اور نامساعد حالات کے باوجوددرخشاں کارناموں کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔وہ کئی جہتوں سے ملت کا قابل قدر سرمایہ تھے۔
ان کی وفات سے بیک وقت تعلیم وسیاست اورطریقت وخدمت خلق کے شعبوں کو بڑا نقصان پہنچاہے۔وہ مجاہدملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ؒ کے پروردہ ،اپنے بزرگوں کی صفات کے پرتو اور ان کی روایات کے امین تھے۔دوبار پارلیمان کے لیے منتخب ہونے کے باوجوداپنے قلندرانہ رہن سہن اور درویشانہ زندگی پرکبھی شہنشاہیت اورموجودہ سیاست کی آلائشوں کوحاوی نہیں ہونے دیا۔بلکہ ایسا معلوم ہوتاتھا جس تیزی کے ساتھ ظاہری وباطنی رفعتوں کی منازل طے کررہے ہیں ؛اسی رفتار سے سادگی ،تواضع ،ملت کی فکر اوردوسروں کے لیے گھلنے کے جذبے میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔سرکاری مراعات کے بے دریغ استعمال پر بہت کڑھتے تھے،چناچہ جہاز میں سرکاری سطح پربزنس کلاس کی رعایت کے باوجود اکانومی کلاس سے ہی سفر کرتے تھے۔
مولانااسرارالحق صاحبؒ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ انھوں نے اپنی شرعی وضع قطع، مولویانہ پہچان اور مومنانہ شناخت سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔اور اپنے بزرگوں کا سر نیچے نہیں ہونے دیا۔وہ کانگریس کے ایم پی اور ۲۰۱۴ء کے سخت الیکشن میں بھی کشن گنج سے اس کی نیا کو پار لگانے والے کامیاب کپتان تھے،اس کے باوجود وہ اپنی پارٹی کی بعض پالیسیوں کے سخت ناقد تھے،اور کئی مواقع پر انھوں نے پارٹی لائن سے ہٹ کراپنے ملی اور مذہبی مفادات کو مقدم رکھا ہے،دراصل انھوں نے سیاست اور حصول اقتدار کو اپنا مقصد اور منزل نہیں قرار دیا،اس لیے وہ کانگریس میں بھی اسی قلندرانہ اور آزادانہ روش پر قائم رہے۔پچھلی بار لوک سبھا سے طلاق بل پاس ہونے کے وقت حضرت مولانا کو بہت سے لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا،اورلاعلمی کی وجہ سے کئی طرح کے مفروضے قائم کرلیے،جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
پہلی بار مولانا کی زیارت کب ہوئی؟یہ تو یاد نہیں ہے، البتہ پہلی تفصیلی ملاقات اور آپ کے تجربات سے مستفید ہونے کا موقع اس وقت ملا،جب ۲۰۰۰ء میں بزم سجاد جس کا ہنگامی طور سے مجھے صدر بنادیاگیاتھا،کے ششماہی پروگرام میں ارکین بزم کی خصوصی دعوت پرتشریف لائے،اور جمعیت سے علاحدگی کے بعد غالبا طلبہ کے پروگرام میں پہلی بار شرکت ہورہی تھی، اس لیے طلبہ میں بھی خاصا جوش تھا،اور آپ بھی بڑے اہتمام سے جناب ایم ودودساجد صاحب کے ہم راہ دیوبند پہنچے،اور دارالحدیث تحتانی میں اپنے خاص انداز میں کھڑے ہوکر مبسوط تقریر فرمائی،جسے خوب پسندیدگی اور شہرت نصیب ہوئی۔ اس کے بعد کئی بارمولانا کو سننے اور استفادے کے مواقع میسر آئے،جب بھی ملاقات ہوتی تو احقر کی کج مج تحریروں پرتشجیع کے کلمات ضرورفرماتے۔اور یہ خرد نوازی اور چھوٹوں کی حوصلہ افزائی آپ کا عام مزاج تھا۔
دارالعلوم دیوبند سے آپ کو جذباتی وابستگی اور عشق کی حد تک لگاؤ تھا،آپ اس کے باکمال اور قابل فخر سپوت تھے،۱۳۸۴ھ۱۹۶۴ء میں آپ کی فراغت ہوئی تھی،آپ کے نمایاں رفقاء درس میں اس وقت حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی محدث دارالعلوم دیوبند ہیں۔جب بھی دارالعلوم کا تذکرہ آتا توآپ کھل اٹھتے اور ایسا معلوم ہوتا کہ کسی نے دل کے تاروں کو چھیڑدیا ہے، ایک بار آپ نے بڑی تفصیل سے احاطۂ دارالعلوم میں بیتے ہوئے واقعات اور علمی نشاطات کے بارے میں بتلایا،قرطاس وقلم کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے سلسلے میں مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ کے مجلہ ’’البرہان‘‘ کا تذکرہ ضرور فرماتے،دارالعلوم سے تعلق خاطر کا ہی نتیجہ تھا کہ اس کے کسی بھی کام کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے،اور اس نسبت سے ہم چھوٹوں پر بھی بڑی شفقت رہتی تھی،دیوبند ریلوے اسٹیشن پر ٹرین سے متعلق بعض امور کے سلسلے میں وزیر ریل سے ملنا طے ہوا تو مولانا نے وزیر کو دارالعلوم کے حوالے سے ایک خط لکھا،اور بہ راہ راست ملاقات کرکے بھی ان کی توجہ مبذول کرائی۔
امیرشریعت حضرت مولانا نظام الدین صاحبؒ کے انتقال کے بعدصفر ۱۴۳۹ھ کی مجلس شوری میں آپ اپنی مادرعلمی اور عقیدت ومحبت کے مرکز دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے رکن کی حیثیت سے منتخب کیے گئے،جب میں نے فون پر کلمات تہنیت پیش کیے توآب دیدہ ہوگئے،اور اس کو اپنی بڑی سعادت قرار دیا۔اس کے بعد پورے اہتمام سے شوری کے ہونے والے اجلاس میں شرکت فرمائی۔
دیوبند میں آخری ملاقات گزشتہ صفر ۱۴۴۰ھ کے اجلاس شوری کے موقع پر ہی ہوئی،آپ کے سفر وحضر کے معاون ودست راست مولانا نوشیر صاحب بھی ہم راہ تھے، اس بارشوری کے مصروف ترین اجلاس کے باوجود آپ نے طلبہ سے ملاقات کا غیر معمولی اہتمام کیا،اور خصوصیت کے ساتھ کشن گنج اور مضافات کے طلبہ کوجو دیوبند میں سینکڑوں کی تعداد میں ہیں؛ایک جگہ اکٹھا کرکے دیر شب تک انھیں نصیحت فرماتے اور ذمہ داریوں کا احساس دلاتے رہے،دسیوں سوالات کے جواب بھی دیئے۔صبح مہمان خانے میں حضرت سے ملاقات کے وقت جب میں نے سجاد لائبریری کی تعمیر نو کے متعلق عرض کیا،تو فوری طور سے اکتالیس ہزار کا وعدہ فرمالیا،اور مولانا نوشیر صاحب سے فرمایا:میرے بیگ میں سردست جتنی رقم ہے،دے دیجیے۔باقی دہلی سے بھیج دیں گے۔لیکن اس مرد درویش کے بیگ اور جیب کی کل کائنات بہت معمولی رقم تھی،میں نے عرض کیا: آپ کودہلی پہنچناہے،اس لیے تھوڑی رقم آپ کے پاس بھی ہونی چاہئیے۔اخیر میں مولانا نے طے کیا کہ دہلی پہنچ کر ہی ساری رقم بھیج دی جائے گی۔چنانچہ حسب وعدہ دو یا تین دن بعد ہی نوشیر صاحب کا فون آیا کہ حضرت نے وہ رقم سجادلائبریری کے اکاؤنٹ میں بھیجوادی ہے۔
مولانا کی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی،آخری سانس تک اپنے آپ کو علمی اور ملی کاموں میں لگائے رکھا،تاہم تعلیمی خدمت مولاناؒ کی زندگی کا نمایاں وصف ہے،دراصل وہ ایک عالم دین تھے، دارالعلوم میں اپنے اساتذہ سے جو علم بڑی محنت،توجہ اور اخلاص سے حاصل کیاتھا،زندگی بھر اس کی روشنی بکھیرتے رہے،کیا دینی اور کیا عصری علم،جہاں جس کی ضرورت محسوس ہوئی وہیں ایک چراغ جلادیا،کیامکتب اور کیا کالج اور یونی ور سٹی،قوم کو اس بوریہ نشیں مولوی نے کیا نہیں دیا؟
وسائل اور مواقع کی کمی کے باوجود تعلیمی میدان میں آپ نے جو خدمات انجام دی ہیں،وہ یقیناًآب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔اور نوآموزوں وکسل مندوں کو مہمیز کرنے کے لیے کافی ہیں جو وسائل کی کمی کا شکوہ کرکے صرف مددغیبی کے منتظر رہتے ہیں۔
غرض حضرت مولاناؒ بڑی خوبیوں کے مالک اور انتہائی مغتنم ہستیوں میں تھے۔ایسے قائد تھے جولوگوں کے دلوں میں بستے تھے،یہی وجہ ہے کہ ان کی ناگہانی موت سے ہرکوئی سکتے میں ہے،آنکھ اشک بار اور زبان دعاگوہے۔
آسماں تیری لحدپر شبنم افشانی کرے سبزہء نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: