انعام الحق قاسمی ناظم لائبریری دارالعلوم وقف دیوبند ۶؍اپریل ۲۰۲۶ء
علم و عمل کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے کردار، اخلاص اور خدمتِ دین کے باعث ایک عہد کی نمائندگی کرنے لگتی ہیں۔ حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ صاحب بھی انہی درخشندہ ہستیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی اشاعت، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر دی۔آپ کی ولادت ۲؍ فروری ۱۹۳۶ء کو موضع گھگرولی، ضلع سہارنپور میں ایک دیندار گھرانے میں ہوئی۔ آپ کے والدِ محترم منشی مغیث الدین ایک نیک، صالح اور علم دوست شخصیت کے مالک تھے، جن کی تربیت کا اثر مولانا کی پوری زندگی میں نمایاں رہا۔ ابتدائی تعلیم و تربیت کا آغاز گھر ہی سے ہوا، جہاں دینی ماحول نے آپ کے اندر علمِ دین کا شوق پیدا کیا۔آپ نے قرآنِ مجید حفظ کرنے کی سعادت ۱۹۴۹ء میں حاصل کی، جو آپ کی علمی زندگی کا ایک اہم سنگِ میل تھا۔ بعد ازاں آپ نے۱۹۵۵ءمیں دارالعلوم دیوبند جیسے عظیم علمی مرکز میں داخلہ لیا،اور ۱۹۵۷ءمیںسندفراغت سے سرفرازکئے گئے اور ۱۹۵۸ء میں تکمیلِ تفسیر کی تکمیل کی۔ اس دوران آپ نے اکابر علم و فضل سے استفادہ کیا اور اپنے علمی ذوق کو جلا بخشی۔تعلیمی و تدریسی خدمات کے سلسلے میں آپ نے ۱۹۶۰ء میں جامعہ گلزارحسینیہ اجراڑہ میں بحیثیت صدر مدرس اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ بعد ازاں ۱۹۶۲ء میں آپ کو مختلف انتظامی و تعلیمی ذمہ داریاں سونپی گئیں، جنہیں آپ نے نہایت دیانت داری اور حسنِ تدبیر کے ساتھ انجام دیا۔ آپ نہ صرف ایک کامیاب مدرس تھے بلکہ ایک بہترین منتظم بھی تھے۔آپ کی نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ آپ نے ہمیشہ ادارے کو خالص دینی و تعلیمی بنیادوں پر چلایا اور اپنے خاندان یا اولاد میں سے کسی کو بھی مدرسے کے امور میں مداخلت کی اجازت نہ دی۔روحانیت کے میدان میں بھی آپ نے بلند مقام حاصل کیا۔ آپ نے ۱۹۶۰ء میں حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور سلوک و احسان کی منازل طے کیں۔ اس نسبت عالیہ نے آپ کی شخصیت میں گہرائی اور پختگی پیدا کی۔ بعد ازاں آپ کی روحانی قابلیت، اخلاص اور استقامت کو دیکھتے ہوئے مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں ندویؒ نے آپ کو ۱۹۹۹ء میں خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا۔ یہ آپ کے روحانی مقام اور اعتمادِ اکابر کی روشن دلیل تھی، جس نے آپ کی اصلاحی و تربیتی خدمات کو مزید وسعت عطا کی۔آپ نے پوری زندگی بیعت وسلوک کے ذریعے لوگوں کی اصلاح و رہنمائی کرتے رہے، جہاں آپ ہزاروں افراد کو روحانی و اخلاقی تربیت فراہم کرتے رہے۔ آپ کی گفتگو میں اخلاص، انداز میں سادگی اور شخصیت میں وقار نمایاں تھا، جو ہر ملنے والے کو متاثر کرتا تھا۔ آپ نے مقامی، ملکی، ملی، سماجی اور ادارتی سطح پر جو گراں قدر خدمات انجام دیں وہ نہ صرف قابلِ تقلید ہیں بلکہ تفصیل سے قلم بند کیے جانے کے بھی لائق ہیں آپ مسلم پرسنل لاء بورڈمرکزی جمعیت علماء ہند، اور جمعیت علمائے ہند جیسے اہم اداروں سے وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ آپ دینی تعلیمی کونسل کے سیکریٹریری، مجلسِ مشاورت کے نائب صدر،صدرآل انڈیاملی کونسل اور مظاہرعلوم وقف کی مجلسِ شوریٰ کے رکن اورندوۃ العلماء کی مجلس مشاورت کےرکن بھی رہے۔ ملک کے مختلف دینی اداروں کی سرپرستی کرتے ہوئے آپ نے ہمیشہ دین کی سربلندی کو اپنا مقصد بنایا۔۴؍ اپریل ۲۰۲۶ء کی رات تقریباً ۱۰ بجے یہ مردِ مجاہد اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ آپ کی وفات سے علمی و روحانی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا۔ دوسرے دن نمازِ ظہر کے بعد آپ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں علاقے کے علماء، عوام اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل غمگین۔حضرت مولانا کی رحلت علمی و روحانی دنیا کے لیے ایک ناقابلِ تلافی خسارہ ہے۔ آپ کی ذات علم، اخلاص اور خدمتِ دین کا حسین امتزاج تھی، اور آپ کی یادیں اہلِ علم و محبت کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ راقم کو زمانۂ طالبِ علمی میں بارہا ملاقات اور کسبِ فیض کا شرف حاصل رہا، جو میرے لیے سرمایۂ حیات ہے۔ آپ کی وفات نے جہاں دلوں کو سوگوار کیا، وہیں آپ کی خدمات ایک روشن چراغ کی مانند آئندہ نسلوں کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔ حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ کی زندگی ہم سب کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ان کی علمی خدمات، روحانی فیوض اور ملی جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔



















