و تقریب استقبالیہ جمعیت علمائے بسنت رائے
تفصیلی رپورٹ
منعقدہ : 10؍دسمبر 2025، مطابق 18؍ جمادی الثانی 1447ھ، بروز بدھ۔
بمقام: کیمپس جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ
جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ کے زیر اہتمام و انتظام،10؍دسمبر 2025ء کو صبح تقریبا ساڑھے نو بجے ، جامعۃ الہدی جہاز قطعہ ، گڈا جھارکھنڈ کے کیمپس میں، تکمیل حفظ قرآن کانفرنس کے عنوان سے اسی جامعہ کا سالانہ تعلیمی پروگرام ہوا، جس کی صدارت علاقے کی مشہور شخصیت حضرت مولانا قاضی محمد شفیق صاحب بیربلپوری دامت برکاتہم نے کی۔ مولانا محمد یاسین قاسمی لوچنی نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے جامعہ کے ننھا طالب عزیزم صادق ابن یوسف صاحب جہازی کی تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز کیا۔بعد ازاں درج ذیل طلبائے کرام نے تعلیمی مظاہرات پیش کیے:
| 1 | تلاوت | عزیزم صادق ابن یوسف صاحب |
| 2 | نعت | محمد عفان ابن مولانا عبد القیوم صاحب |
| 3 | تقریر: علم | شفیع اللہ ابن عبد الرحمان |
| 4 | تقریر:عدل و انصاف | محمد ساحل ابن جناب جسیم الدین مرحوم |
| 5 | ٹلی ویژن | کاشف ابن حافظ محمد قاسم |
| 6 | تقریر: انگریزی ڈسپلن | محمد احسان ابن مرشد |
| 7 | رسالت | محمد مرغوب ابن محمد عالم گیر |
| 8 | تلاوت | احتشام ابن سیف اللہ صاحب |
| 9 | نعت | انعام الحق ابن اظہار الحق |
| 10 | احادیث | غلام ربانی ابن محمد مستقیم |
| 11 | سونے کی سنتیں | شفیع احمد ابن شبیر احمد |
| 12 | انگریزی: پیغمبر محمد | محمد مبشر ابن عبد الجبار |
| 13 | سوال وجواب دینیات | محمد ذیشان ابن عبدالمنان محمد سالم ابن مولانا مختار صاحب |
| 14 | تقریر:اخلاص | محمد عالم ابن محمد اشفاق |
| 15 | سونے کی سنتیں | محمد احسان ابن معین الدین ریسمبا |
| 16 | تقریر: عظمت قرآن | محمد التمش ابن غلام رسول |
| 17 | انگریزی تقریر:پیغمبر محمد | محمد انتظار ابن محمد شبیر صاحب |
| 18 | سوال وجواب اسلامی معلومات | محمد آصف ابن محمد محسن آفتاب عالم ابن محمد سراج |
| 19 | شرائط نماز | محمد مناظر ابن محمداسماعیل |
| 20 | تقریر: معاشرے میں مدارس کا کردار | محمد حسنین ابن غلام رسول |
| 21 | عظمت قرآن | محمد حسنین ابن عبدالجبار |
| 22 | نماز | محمد مسعود ابن محمد سلطان |
| 23 | نظم: حافظ قرآن | محمد ریحان ابن عبدالمنان |
| 24 | انگریزی تقریر: نماز | محمد منتشر ابن افروز عالم |
| 25 | آخرت | محمد مصطفی ابن محمد اسلم |
| 26 | نظم: صحبت اللہ والوں کی | محمد سجاد ابن محمد عباس بنسی پور |
| 27 | مکالمہ: سلام اور استقبال مکالمہ نگار: مولانا محمد یاسین جہازی ڈائریکٹران قاری کلیم الدین صاحب جامعہ ہذا مولانا محمد بلال صاحب استاذ جامعہ ہذا | محمد حسنین ابن غلام رسول محمد مجاہدابن نثار احمد محمد مسعود ابن محمد سلطان جسیم الدین ابن امن انصارین پھنسیا محمد مصطفیٰ ابن محمد اسلم سانکھی |
سلام اور استقبال کے عنوان سے شان دار پیش کش کے بعد جامعۃ الہدی کے بانی و مہتمم مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے جامعہ کی سالانہ تعلیمی رپورٹ، آمدنی و خرچ کا بجٹ، آئندہ سال کا تخمینی بجٹ اور ادارے کا مشن و ویژن پیش کیا۔
اس کے بعد انعامات کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ سب سے پہلے جامعہ کے سبھی 48 طلبہ کوتشجیعی انعامات کے طور پر فائل میں رکھ کرایک ایک عدد کاپی اور قلم دے کر حوصلہ افزائی کی گئی۔
بعد ازاں جامعہ کے صدر مدرس قاری کلیم الدین صاحب، مولانا بلال صاحب،ماسٹر شمشاد صاحب اور ماسٹر راسخ صاحب کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ملبوسات پیش کیے گئے۔ جامعہ کے باورچی محمد مشاق صاحب کو بھی شرٹ، پینٹ،چپل اور بنیان دے کر ان کی خدمت کو سراہا گیا۔
اورسب سے اہم انعام حافظِ قرآن حافظ احتشام الحق ابن اظہار الحق جہازی کو دیا گیا، جنھیں ایک سائیکل اور ایک جوڑا کپڑا بطور حوصلہ افزائی پیش کیا گیا۔
اسی موقع پر دہلی سے تشریف لائے جناب ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب علیگ، مولانا ادریس صاحب کیواں، مفتی اقبال صاحب اور قاضی شفیق صاحب کا شال اوڑھا کر استقبال کیا گیا، جب کہ مولانا سلیم الدین صاحب کا چادر کے بغیر ہی استقبال کیا گیا۔
بعد ازاں صدرا اجلاس حضرت مولانا قاضی محمد شفیق صاحب بیربل پوری دامت برکاتہم کا صدارتی خطاب ہوا، جس میں انھوں نے علم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ عالم اپنے بلند مقام کو سمجھیں اور جو عالم اخلاص کے ساتھ عمل کریں گے ، ہلاک نہیں ہوں گے۔انھوں نے نوجوانوں کو علاقے میں کام کرتے ہوئے دیکھ کر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے سے تعبیر کیا۔ اور کہا کہ جو کام باپ نہیں کرپایا، وہ بیٹے کر رہے ہیں۔انھوں نے مولانا اسعد مدنی صاحب کا ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے بیان کہا کہ ایک پروگرام میں کسی نے ان سے کہا کہ آپ علی گڑھ کے معاملہ میں کچھ کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ پھر کہا کہ پہلے آپ یہ بتائیے کہ آپ مسلمان بھی ہے یا نہیں؟ اس پر مولانا نے ناراضگی کے اظہار کے بجائے کہا کہ لو میں آپ کے سامنے کلمہ پڑھتا ہوں کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ پھر فرمایا کہ اصل چیز اخلاص ہے۔ اگر اخلاص سے کام کریں گے، تو اللہ تعالیٰ اس مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ اخیر میں انھوں نے جامعۃ الہدیٰ کے تمام ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنا مکمل تعاون پیش کرنے کا اعلان کیا۔
حضرت قاضی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ مدرسہ اور جمعیت دونوں کے کام دینی و ملی خدمات ہیں۔ ہم بچپن سے جمعیت علمائے ہند سے وابستہ رہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ مفتی محمد نظام الدین قاسمی، مولانا محمد یاسین، مفتی زاہد امان اور ان کی نوجوان ٹیم علاقے میں مکاتب، مدارس اور جمعیت کے کاموں کو متحرک طریقہ سے انجام دے رہی ہے۔ ہم ان کی مکمل تائیدکرتے ہیں اور ان کے لیے دعاگو بھی ہیں۔
انھیں کے خطاب کے ساتھ اس نشست کے اختتام اور چائے کے وقفہ کا اعلان ہوا اور گیارہ بج کر تریپین منٹ پر پندرہ منٹ کے لیے چائے کا وقفہ کیا گیا۔
تقریب استقبالیہ
جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے زیر اہتمام، تقریب استقبالیہ کے عنوان سے، تقریبا سوا بارہ بجے پروگرام کا دوسرا سیشن شروع ہوا۔ اس کی صدار ت حضرت مولانا مفتی محمد اقبال صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ضلع گڈا و بانی مہتمم معہد محمود سراج العلوم رجون نے فرمائی۔اس پروگرام کا بنیادی مقصد جمعیت بلاک یونٹ کے صدر مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی کے دہلی چھوڑ کر علاقے ہی میں رہنے کے فیصلے تناظر میں ان کا تہلکہ خیز استقبال کرنا تھا۔ چنانچہ اسکیجیول کے مطابق سب سے پہلے ٹیکر سے لے کر جامعہ تک پیدل مارچ کرتے ہوئے نعرہ ہائے استقبال و خوش آمدید کے مترنم صداوں کے بیچ ، پھولوں کی بارش اور مالا وگل دستوں کے ساتھ ان کی آمد کا خیر مقدم کیا گیا۔ علاقے کے ائمہ، علما اور جمعیت علما سے وابستہ افراد نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے، مفتی محمد نظام الدین کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔ مفتی صاحب علما و عوام کے جلوس کے جلو میں جب تک جمعیت علما کے جھنڈے تک نہیں پہنچے، تب تک فلک شگاف نعرہ ہائے استقبال و تحسین بلند ہوتے رہے۔
بعد ازاں مفتی صاحب نے جھنڈا لہرانے کی رسم ادا کی، اس کے ساتھ ہی ترانہ جمعیت علما پڑھا گیا۔اسے مشہور مداح رسول مولانا شمیم صاحب مہتمم مدرسہ فخر الاسلام کوریانہ نے اپنی دل کش اور من موہ لینے والی آواز میں پیش کیا۔
بعد ازاں نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے ،مولانا شمس تبریز قاسمی نائب صدر ناظم جمعیت علمائے بسنت رائے کو مائک پر بلایا ، جنھوں نے کلمات ترحیب و تشکر پیش کیا۔ اس کے بعد مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ پیش کی، جو 2019سے 2025 تک خدمات پر مشتمل تھی۔ پھر مفتی محمد خلیل احمد صاحب استاذ حدیث مدرسہ اصلاح المسلمین چمپانگر بھاگل پور نے استقبال کی شرعی حیثیت کے عنوان سے خطاب کیا، جس میں انھوں نے کہا کہ آج کل مدارس اور دیگر جلسوں میں مقررین کے لیے جو القاب استعمال کیے جاتے ہیں، وہ حد درجہ مبالغہ آمیز اور حقیقت سے بہت دور ہوتے ہیں، ہمیں شریعت کے حکم کو سامنے رکھتے ہوئے اعتدال سے کام لینا چاہیے۔ انھوں نے حدیث کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کہ جس کی تعریف کی جائے، اسے چاہیے کہ تکبر میں مبتلا ہونے سے بچنے کے لیے تعریف کرنے والے کو تعریف کرنے سے منع کرے۔ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اعتدال کے ساتھ کسی کا استقبال کیا جائے، تو شریعت اس سے منع نہیں کرتی ہے۔
بعد ازاں مولانا شمیم صاحب نے زبردست استقبالیہ نظم پیش کی، جس میں مفتی محمد نظام الدین صاحب کی خصوصیات کے تذکرہ کے ساتھ اس پر مسرت کا اظہار کیا کہ علاقے میں ان کے مستقل طور پر رہنے سے اہل علاقہ کو بڑا فائدہ ہوگا ان شاء اللہ تعالیٰ۔
پھر مولانا مجیب الحق صاحب نائب صدر جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے و امام و خطیب جھپنیاں مسجد نے مفتی محمد نظام الدین کا مختصر سوانحی خاکہ پیش کرتے ہوئے ان کا جامع تعارف پیش کیا، جس میں خاندانی پس منظر، تعلیمی اسفار، خدمات کا وسیع دائرہ، سلوک و تصوف سے وابستگی اور علاقے میں ان کے کارہائے نماں کا نمایاں طور پر تذکرہ کیا گیا تھا۔
تاثرات
اس کے بعد تاثرات کے تحت مولانا محمد سلیم الدین صاحب مہتمم یتیم خانہ باگھاکول نے اپنے قلبی جذبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مفتی محمد نظام الدین صاحب ہمہ گیر شخصیت ہیں، وہ سیاست، قیادت، تعلیم و تدریس اور تحریر وتقریر گویا ہر فن مولیٰ اور گل سرسبد ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ مفتی صاحب اور ان کے رفقا نے علاقے میں تعلیمی و سماجی بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار اداکیا ہے۔
ڈاکٹر مولانا عبدالمجید ندوی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے علاقے کے حالات کے متعلق ’’علاقے میں شیخ برادری کا ذکر جاوداں‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے، جس میں ثابت کیا ہے کہ علاقے میں پرسہ اسکول اور مدرسہ شمسیہ گورگواں کا بڑا اہم کردار ہے، جنھوں نے ہمیں پاؤں پاؤں چلانا سکھایا ہے؛ لیکن یہ ادارے آج زبوں حالی کے شکار ہیں۔ انھوں نےمفتی صاحب کا علاقے میں خیرمقدم کرتے ہوئے ، انھیں مبارک باد پیش کی اور امید جتائی کہ جامعۃ الہدیٰ کا قیام اورمفتی صاحب کی روزو شب کی محنت علاقے کے کھوئے ہوئے وقارکو واپس دلانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
مولانا سجاد ندوی صاحب نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مارٹن لوتھر کا مقولہ نقل کرتے ہوئے مفتی صاحب کو مجاہد کا خطاب دیتے ہوئے ان کی زندگی کو جہد مسلسل سے تعبیر کیا اورکہا کہ کرگس کے بجائے شاہین کی زندگی ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔
دہلی کے معروف ڈرائے فروٹ تاجر جناب ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب-جو دہلی سے اس اجلاس میں شرکت کے مقصد سے ہی تشریف لائے تھے- نے اپنا تاثرات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مفتی محمد نظام الدین صاحب دہلی کی گرین پارک جامع مسجد میں صرف ایک امام اور خطیب ہی نہیں تھے؛ بلکہ وہ ایک مشن اور تحریک کا نظریہ رکھنے والی شخصیت تھے۔ جب انھوں نے وہاں استعفی پیش کیا، تو دل نے قبول نہیں کیا؛ لیکن جب یہاں ان کی خدمات و کارنامے کو دیکھا ، تو معلوم ہوا کہ وہاں سے زیادہ ضرورت یہاں ہے، اس لیے نم آنکھوں کے ساتھ ہمیں مجبورا الوداع کہنا پڑا۔ اور یہاں آج ان کے استقبال کے حسین منظر کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ آپ سب اپنے عالم، اپنے قائد سے کس درجہ محبت کرتے ہیں۔
انھوں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ علاقہ بہت پسماندہ ہے اور کام کی سخت ضرورت ہے، ہمیں جب بھی کسی کام کے لیے آواز دی جائے گی، تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہم لبیک کہیں گے۔
بعد ازاں مرکزی جمعیت علمائے ہند کے شعبہ تصنیف مرکز دعوت اسلام کے معتمد مولانا محمد یاسین جہازی –جنھوں نے مہمان خصوصی کے طور پراس اجلاس میں شرکت کی تھی-نے اپنے خطاب میں کہا کہ موضوع کے اعتبار سے ارادہ یہ تھا کہ علاقے میں جمعیت علمائے ہند کو کم سرمایہ کے باوجود فعال کیسے بنایا جائے کے موضوع پرگفتگو کروں، لیکن قلت وقت کی وجہ سے اس موضوع کو چھوڑتا ہوں۔ انھوں نے آگے کہا کہ مفتی خلیل احمد صاحب نے استقبال کے متعلق حقیقت سے دور القابات استعمال کرنے سے متعلق جو باتیں کہی ہیں، وہ معتدل موقف ہے، تاہم سیرت نبوی اور بزرگان کی سوانح حیات میں اپنی قیادت کی حوصلہ افزائی اور استقبال کے عملی نمونے ملتے ہیں۔ اور مفتی صاحب کا یہ استقبال دراصل اسی فریضہ کی ادائیگی تھی۔ اگرچہ جس آن بان اور شان کے ساتھ ہمیں مفتی صاحب کا استقبال کرنا چاہیے، وہ نہیں ہوپایا، تاہم یہ عمل ہمارے مستقبل کے لیے نمونہ عمل ہے، جس کا سلسلہ مزید وسیع ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
انھوں نے جمعیت والے کو ہدیہ بہت ملتا ہوگا کے تصور پر ایک لطیفہ بھی سنایا کہ مجھےایک بہت بڑی ہستی نے کہا کہ آپ لوگوں کو ہدیہ بہت ملتا ہوگا، جس پر مولانا جہازی نے جواب دیا کہ اتنا ہی ملتا ہے، جتنا آپ نے دیا ہے۔ چوں کہ انھوں نے کبھی کوئی ہدیہ نہیں دیا تھا، اس لیے وہ صاحب اور شریک اجلاس بھی بہت محظوظ ہوئے۔
بعد ازاں مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی نے ان کے لیے استقبالیہ پروگرام منعقد کرنے پر جمعیت علمائے بسنت رائے کے ذمہ داروں اور ممبروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ استقبال دراصل ذمہ داری ہے، اور ان شاء اللہ اس کی ادائیگی میں میں آپ حضرات کی توقع پر پورااترنے کی کوشش کروں گا۔ اور سماج کا ہر ہر فرد اپنی اپنی جگہ ایک ذمہ دار ہے۔ اور اسے اپنی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ نوجوان سماج کا آئینہ ہے، لہذا بہتر سماج کی تعمیر کے لیے ہمارے نوجوانون کو اپنا کردار بھی بہتر بنانا ہوگا۔
مولانا ادریس صاحب صدر جمعیت علمائے گڈا (ارشد مدنی) و مہتمم امداد القرآن کیواں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کام کی توفیق کے لیے صرف صلاحیت کافی نہیں ہے؛ بلکہ مقبولیت بھی ضروری ہے۔ مفتی محمد نظام الدین صاحب کے کارہائے نمایاں اس پر بات گواہ ہیں کہ ان کے اندر صلاحیت بھی ہے اور عند اللہ و عند الناس مقبول بھی ہیں۔ انھوں نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ میں مفتی صاحب کا علاقے میں خیرمقدم کرتا ہوں اور ان کے تمام کاموں کی مکمل تائید کرتا ہوں۔
اخیر میں اس نشست کے صدر مولانا مفتی محمد اقبال صاحب نے صدارتی خطاب پیش کرتےہوئے کہا کہ میں، بحیثیت نائب صدر جمعیت علمائے گڈا، بحیثیت صدر لجنۃ العلما والمفتیین اور بحیثیت صدر رابطہ مدارس اسلامیہ ضلع گڈا، حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کے اس تاریخی بیان کی مکمل تائید کرتا ہوں جو انھوں نے 29 ؍نومبر 2025 ءکو بھوپال میں مرکزی مجلسِ منتظمہ کے اجلاس میں دیا تھا کہ: "جب جب ظلم ہوگا، تب تب جہاد ہوگا”۔
انھوں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں علاقے کے اہل ثروت کو جامعۃ الہدی اور دیگر تمام اسلامی اداروں کے تعاون کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ انھوں نے ترغیب کے لیے دیوبند کی بیوہ کا واقعہ بھی سنایا، جو اپنی کمائی ہوئی دو روٹی میں سے ایک افغانستان کے ایک مجبور و لاچار طالب علم کو دیا، تاکہ وہ طالب علم دارالعلوم دیوبند میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکے۔
چندہ کرتے ہوئے مفتی صاحب نے اعلان کیا کہ کون ایک طالب علم کو حافظ بنانے کا خرچہ اٹھائے گا، جس پر ماسٹر نسیم صاحب لوچنی، جناب یاسین صاحب پکڑیا ، ماسٹر غلام رسول صاحب جہاز قطعہ، ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب دہلی (دو بچے) نے لبیک کہا۔ اور نقد بارہ ہزار پانچ سو چودہ روپے ہوئے۔
مفتی محمد خلیل صاحب سیری چک کی دعا پردو بج کر ایک منٹ پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔ نماز ظہر کے بعد تمام حاضرین کی بریانی اور زردہ سے ضیافت کی گئی، جس کی مجموعی تعداد تقریبا پانچ سو تھی۔
ان دونوں پروگراموں میں عوام کی سینکڑوں تعداد کے لیے جن اہم اہم شخصیات نے شرکت کی، ان میں قاری محمود بسمبر چک، مولانا محفوظ امام مسجدموہن پور، مفتی زاہد حسن بانی مہتمم جامعہ شیخ یونس اسنبنی گڈا، انجینر مقیم الرحمان فاونڈر و پرنسپل الامین اسکول سروتیہ، مولانا خالد اقبال مہتمم جامعہ محی السنہ، مولانا الیاس ثمر ڈائریکٹر و پرنسپل الفتح انٹرنیشنل اسکول کرما، مولانا قاسم بانی مہتمم معہد انور نیموہاں، ماسٹر نظام الدین ناظم اعلیٰ مدرسہ بشیر العلوم کیتھیہ، مفتی زبیر نمائندہ مدرسہ سلیمانیہ سنہولا ہاٹ بھاگل پور، قاری اکرام بانی مہتمم جامعۃ الصالحات کرہریا گڈا، مولانا عبد الرحمان مظاہری ناظم اعلیٰ مدرسہ حمیدیہ ہنوارہ، مولانا آصف قاسمی امام و خطیب مدنی چک، مفتی سجاد قاسمی امام و خطیب موکل چک، حافظ جمشید امام و خطیب سکرام پور، حافظ رئیس مدرسہ اسلامیہ خرد سانکھی، مولانا شمشیر قاسمی امام و خطیب پھنسیہ، قاری محسن بانی مہتمم جامعۃ الطاہرات بنسی پور، قاری محمود بسمبر چک، قاری ضیاء اللہ ناظم اعلیٰ مخزن العلوم دھپرا، مولانا ذیشان قاسمی امام و خطیب بیلا قطعہ، حافظ محسن امام و خطیب بڑی سانکھی، قاری عبدالستار امام و خطیب کپیٹا، مولانا سرفراز قاسمی بڑی سانکھی، قاری کلیم الدین مہتمم مدرسہ اسلامیہ دارالعلوم خورد، مولانا مستقیم پربتہ،حافظ ہاشم امام و خطیب کیتھیا مسجد، جناب آفتاب عالم ناظم اعلیٰ جامعۃ الطاہرات مانجر، ماسٹر نسیم لوچنی خازن جمعیت علمائے بسنت رائے، ماسٹر ازہر کیتھ پورا، ماسٹر ولی سروتیہ خازن جمعیت علمائے ضلع گڈا، ماسٹر مظفر جمنی کولا، مولانا اختر حسین امینی جہازی، مولانا غلام رسول ریسمبا، ماسٹر فیض الدین جہازی، جناب فہیم جہازی، مکھیا صغیر جہازی، جناب انظر احمد پرمکھ بسنت رائے پرکھنڈ، ڈاکٹر خالد جہازی، ماسٹر غلام رسول جہازی، حافظ شفیق امام عیدگاہ جہاز قطعہ،حاجی عبید اللہ جہازی، حافظ اشفاق جہازی، مولانا عبدالقیوم قاسمی جہازی،نسیم بسمبر چک،مفتی عبد اللہ جہازی مدرس مدرسہ اسلامیہ خرد سانکھی،حافظ قمر الہدی رنسی ، قاری سجاد صاحب کیواں،مولانا فیضان قاسمی جہازی، حافظ ہارون رشید پرسیاہائی اسکول اور جناب جمال جہازی صاحب ودیگر اہم شخصیات کےنام قابل ذکر ہیں۔
سامعین کے تاثرات میں اس بات کا کھل کر اعتراف کیا گیا کہ جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کے اس دو سیشن پر مشتمل عظیم الشان پروگرام نے علمی، سماجی اور تنظیمی سطح پر ایک نئی تاریخ رقم کی، جسے علاقے کے لوگ دیر تک یاد رکھیں گے۔
مضامین و مقالات
اس پروگرام میں جو مضامین پڑھے گئے، ان کا مکمل متن درج ذیل ہے:
استقبالیہ
پیش کش: مولانا شمس تبریز قاسمی نائب ناظم جمعیت علمائے بسنت رائے
الحمدُ لِلَّهِ رَبِّ العالَمِينَ، والصَّلاةُ والسَّلامُ عَلَىٰ رَسولِهِ الكَرِيم، أَمَّا بَعْدُ۔
معزز صدرِ محفل، دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب اور مولانا محمد یاسین جہازی صاحب،محترم علما و مفتیانِ کرام، جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کے اراکین ، طلبا، اساتذہ اور عملہ ،جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے ذمہ داران، معزز ائمہ و خطبا، سماجی و سیاسی شخصیات، عمر دراز بزرگوں، نوجوانوں، ساتھیو اور دور و نزدیک سے تشریف لانے ہوئے مہمانانِ گرامی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
میں اپنی بات کا آغاز نا معلوم شاعر کے اس شعر کے ساتھ کرنا چاہوں گا کہ
میں نے آواز تمہیں دی ہے بڑے ناز کے ساتھ
تم بھی آواز ملا دو مری آواز کے ساتھ
آج جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کی جانب سے جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا کی اس علمی و روحانی سرزمین پر ہم آپ سب کا صمیم قلب سے استقبال کرتے ہیں۔جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں یہ پاکیزہ اجتماع دراصل دینی حمیت، ملی اتحاد اور علمی قیادت کے احترام اور پذیرائی کا ایک حسین منظر ہے۔
اجتماع کا پس منظر
آپ لوگوں کو یہ بتا دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آج کا یہ پروگرام خاص طور پر ہر دل عزیز و محترم عالمِ دین،و سماجی قائدحضرت مفتی محمد نظام الدین قاسمی صاحب کی آمد اور ان کے استقبالیہ کے سلسلے میں منعقد کیا گیا ہے، جنھوں نے اپنی علمی خدمات، سماجی کوششوں اور ملی درد مندی سے اس خطے کے دینی شعور کو ہمیشہ نئی توانائی عطا کی ہے۔ آج یہاں آپ سب کی تشریف آوری اس بات کی دلیل ہے کہ یہ علاقہ علما کی قدر، دین کی محبت اور ملی اتحاد کا مضبوط قلعہ ہے۔
مہمانانِ گرامی کا خیر مقدم
ہم احترام اور دل کی گہرائی کے ساتھ خوش آمدید کہتے ہیں اس اجتماع میں تشریف لائے علمائے کرام ، مفتیان عظام ،
جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے ذمہ داران ، مختلف مساجد کے ائمہ و خطبا،سماجی و سیاسی دانشورانِ ، دور و نزدیک سے آنے والے نوجوان اور عوام اور خصوصیت کے ساتھ ہمارے مہمانِ خصوصی مفتی محمد نظام الدین صاحب کو، آپ کی شرکت اس اجتماع کی عزت اور ہماری حوصلہ افزائی ہے ۔
جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے اور جامعۃ الہدی کی کاوش
اس پروگرام کی ترتیب، ضیافت اور حسنِ انتظام میں جمعیت کے مخلص ارکان کی محنت، فکر مندی اور جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کے اراکین کے تعاون کا بڑا حصہ ہے۔ ان کی یہ کوشش قابلِ ستائش ہے کہ انھوں نے علاقہ میں محبت، اتحاد اور دینی قیادت کے احترام کا ماحول پیدا کیا ہے ۔ اس لیےدعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مجمع کو مبارک بنائے
تمام مہمانوں کی آمد کو قبول فرمائے ، علمائے حق کی حفاظت فرمائے ، اپنے علاقہ میں اتحاد، خیر اور دینی بیداری پیدا فرمائے ، اور ہم سب کو دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے ـ آمین یا رب العالمین۔
اپنی بات اس شعر کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ
آپ آئے تو بہاروں نے لٹائی خوشبو
پھول تو پھول تھے کانٹوں سے بھی آئی خوشبو
وآخر دعوانا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
سکریٹری رپورٹ
جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے ضلع گڈا جھارکھنڈ
بموقع : استقبالیہ پروگرام مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی بانی ومہتمم جامعۃ الہدی
بمقام : جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ
بتاریخ : 10؍ دسمبر 2025 ء ۔مطابق
منجانب : مجلس عاملہ جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے گڈا جھارکھنڈ
پیش کش: مفتی زاہد امان قاسمی جنرل سکریٹری، جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے
تمہید
جمعیت علمائے ہند ملک عزیزکی ایک تاریخی، دینی، سماجی اور ملی تنظیم ہے۔ 2019 سے 2025 تک بسنت رائے بلاک میں جو دینی، سماجی، فکری اور تنظیمی بیداری پیدا ہوئی، وہ نہایت قابلِ قدر اور غیر معمولی کامیابی ہے۔یہ رپورٹ انھی خدمات کا اجمالی وجامع رپورٹ ہے۔
بلاک سطح کی جمعیت کے قیام کا پس منظر
2019 تک ضلع گڈا کے کسی بھی بلاک میں جمعیت علمائے ہند کی منظم یونٹ قائم نہیں تھی۔ جب مفتی محمد نظام الدین قاسمی صاحب 2019 میں جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد سے مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ، جہاز قطعہ میں مہتمم کی حیثیت سے تشریف لائے تو ارادہ ہوا کہ جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے جڑ کرکے سماجی کام کیا جائے ،لیکن کوئی مناسب مشیر کار نہیں تھا ۔
دہلی کا سفر اور مشاورت
اسی دوران دہلی کے لیے مفتی صاحب کا سفر ہوا اور جمعیت علماۓ ہند کے مرکزی دفتر میں موجود مولانا محمد یاسین صاحب جہازی دامت برکاتہم العالیہ معتمد شعبہ مرکز دعوت اسلام سے جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کو زمین پر اتارنے کے سلسلہ مفصل مشورہ کیا۔انھوں نے اصول اور ضابطے کی روشنی میں بلاک سطح کی جمعیت بنانے کا لائحۂ عمل بتایا۔
جمعیت علمائےبلاک کا قیام
مشورہ کے بعد بتاریخ : 17؍فروری2019 مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کی مسجد منیر میں اس وقت کے ضلعی صدر ڈاکٹر تمیز الدین صاحب اور نائب صدر مفتی محمد اقبال صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی زیر سرکردگی ایک مجلس منعقد ہوئی۔ جس میں مفتی سفیان ظفر قاسمی کو صدر ، مفتی محمد نظام الدین قاسمی کو جنرل سکریٹری ، مولانا سرفراز قاسمی کو نائب صدر ، مفتی زاہد امان قاسمی نائب سکریٹری اور مولانا سرفراز صاحب قاسمی کو خزانچی منتخب کیا گیا۔
اس طرح سے ضلع گڈا میں جمعیت کی باضابطہ بلاک یونٹ قائم ہوئی۔ اور اب الحمدللہ سبھی بلاک میں جمعیت کی یونٹ ہے۔
لاک ڈاؤن اور تنظیمی سرگرمیاں
2020 میں جب لاک ڈاؤن لگا اور جولائی میں مولانا محمدیاسین صاحب جہازی بھی اتفاق سے گھر آگئے، تو بقر عید کے بعد یہ مشورہ ہوا کہ علاقائی دورہ کرکے جمعیت کے کام کو مضبوط اور پیغام کو عام کیا جائے۔ چنانچہ آپسی تبادلہ خیال کے بعد جن ایجنڈوں کے تحت پورے بلاک بسنت رائے کی مسلم آبادیوں پر مشتمل باون بستیوں کا دورہ ہوا۔ اور درج ذیل سات موضوعات کو گاوں گاوں تک پہنچایا گیا:
- بستی بستی خود کفیل مکاتب کے قیام کی پرزوراپیل
- ہر مسجد میں درس قرآن اور درس حدیث کا اہتمام
- سماجی اور دینی لیڈر کی ضرورت و اہمیت
- جمعیت علمائے ہند کے ممبر سازی کی اہمیت
- ووٹ بیداری مہم
- معاشی بیداری اور تجارت پر زور۔
دورہ میں بالعموم درج ذیل افراد نے پوری لگن اور جذبے کے ساتھ شرکت کی:
- مفتی نظام الدین قاسمی
- مفتی زاہد امان قاسمی
- مولانامحمد یاسین جہازی
- مولانا سرفراز قاسمی جہاز قطعہ
ان چار افراد کی قیادت میں مختلف دنوں میں مختلف لوگوں کی بھی شرکت رہی۔ اتفاقی طور پر جن افراد کی شرکت رہی ان میں مولانا مجیب الحق صاحب قاسمی امام وخطیب جھپنیاں ، قاری محمود صاحب بسمبر چک ،مولانا شمیم صاحب مہتمم جامعہ فخر الاسلام کوریانہ ، مولانا انصار صاحب جہاز قطعہ مظاہری مفتی سفیان ظفر قاسمی کی شرکت پورے دورے میں صرف ایک دن بگھاکول میں اور مولانا سرفراز صاحب کی شرکت صرف ان کی بستی بڑی سانکھی میں رہی۔
دورہ کا طریقہ کار
دورہ کا طریقہ کار یہ تھا کہ پہلے بستی کا انتخاب کرتے ، روزانہ دو بستیوں کا دورہ کرتے ، کبھی مشورہ کے بعد تین میں بھی ہو جاتا ،ہم لوگ اکثر عصر پڑھ کرکے ایک جگہ ملاقات کرتے اور طے شدہ گاؤں میں مغرب اور عشاء پڑھتے ،بعد نماز مغرب اور عشاء مذکورہ عناوین کے تحت مختصر بات چیت اور ملاقات کرکے ترغیب دیتے تھے ،مفتی زاہد امان قاسمی زیادہ تر درس قرآن درس حدیث اور مکاتب پر بات کرتے تھے ، مولانا محمدیاسین جہازی ووٹ بیداری ، مولانا سرفراز صاحب قاسمی جمعیت کی ممبر سازی، مفتی نظام الدین صاحب قاسمی مذکورہ عناوین کا خلاصہ اور دینی و سماجی لیڈر کی ضرورت و اہمیت پر بات کرکے دعا کرا دیتے تھے ، اتفاقی طور پر جن کی شرکت ہوتی ان کو مذکورہ عناوین میں سے کوئی بھی عنوان دے دیا جاتا تھا ، جہاں عشاء پڑھتے وہاں سے کھانے کھاکر واپس آتے تھے یہ سارا نظام مفتی زاہد امان صاحب قاسمی کی نگرانی میں ہوتا تھا ـ یہ ایک ماہ سے زائد کا علاقائی دورہ تھا جو یقینا ایک تاریخی دورہ تھا۔
مندرجہ ذیل بستیوں کا دورہ ہوا
. مدنی چک۔ 2. کدمہ۔3. جگت پور۔4. جمنی کولہ۔5. بیلا قطعہ۔6. نیموہاں۔7. شاہ پور بیلڈھیہ۔8. شاہ پور۔9. سرسہ۔10. سمری۔11. بگھاکول۔12. بسنت قطعہ۔13. موکل چک۔14. پکڑیا۔15. کمرہ کول۔16. بنسی پور۔17. چورا۔18. کیتھ پورہ۔19. جھپنیاں۔20. بسمبرچک۔21. لیتھا۔22. دھپرا۔ 23. سہوڑا۔24. راہا۔
25. کپیٹا۔26. جہاز قطعہ۔27. رسمبا۔28. پھسیہ۔29. بیلسر۔30. لوچنی۔31. پچوا قطعہ۔32. مانجر۔33. مہیش ٹکری۔34. بڑی سانکھی۔35. گوپی چک۔36. کیتھیا۔37. رنسی۔38. چینگے۔39. پھلوڑیہ۔40. بیلڈھیہ۔41. پربتہ۔42. پرسیہ۔43. روپنی۔44. بھٹہ۔45. قاسم علی ٹیکر۔46. کوریا نہ۔47. بودرا ۔48. رانی دیہہ۔49. سیارڈیہہ۔50. پڑوا خورد۔51. پڑوا کلاں۔52. نکٹا۔53. سوڑنیہ۔
اس مہم سے سکسیس اسٹوری
اس مہم اور علاقائی دورہ سے عوام میں نئی فکر پیدا ہوئی ، کئی مقامات پرمکاتب کا قیام ہوا، جو احباب پہلے سے ہی مکاتب چلا رہے تھے ان کو عزم و حوصلہ ملا اور بہت سے ساتھیوں کو یہ احساس ہوا کہ علاقے میں دینی عصری اور سماجی اعتبار سے کام کرنے کی بہت ہی سخت ضرورت ہے اس موقع سے ضمنی الیکشن ہونا تھا ، اس میں زبر دست بیداری آئی اور ووٹ فیصد میں بھی کافی اضافہ ہوا ـ
دورہ کے بعد تاریخی پروگرام
دورہ کے دوران ایک معمول یہ بھی تھا کہ ہر بستی سے تین سے پانچ افراد پر ایک لسٹ تیار کرتے تھے ، جس میں امام ، کوئی عالم اور سماجی ذمہ دار کا نام ہوتا تھا ، جب دورہ مکمل ہوا تو تقریبا تین سو لوگوں پر مشتمل مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ میں ظہر سے عصر تک 15/ اکتوبر 2020 ایک عظیم الشان اجلاس عام ہوا ، مذکورہ عناوین پر مقالہ لکھا گیا تھا ، پروگرام میں سب کو پچاس روپے کے ہدیہ سے ایک ایک فائل دیا گیا اور اس میں مذکورہ عناوین کی فوٹو کاپی بھی دی گئی تھی ـ اور انہی عناوین پر بیان بھی ہواتھا ، بیان کرنے والوں میں مفتی نظام الدین صاحب قاسمی ، مفتی زاہد امان صاحب قاسمی ، مولانا یاسین جہازی ، مولانا سرفراز صاحب قاسمی تھے ، یہ پروگرام مولانا عرفان صاحب مظاہری رحمہ اللہ کی صدارت میں میں ہوا تھا استقبالیہ مفتی سفیان ظفر قاسمی نے پیش کیا تھا، یہ پروگرام بلاک جمعیت کے استحکام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوا۔
ممبر سازی اور انتخاب
اس بیداری مہم کے بعد جمعیت کو لوگوں نے قریب سے جانا اور ممبر سازی میں زبر دست انقلاب آیا اور پہلی بار بلاک سطح پر اڑتالیس سو سے زائد ممبر سازی ہوئی جمعیۃ علماء بلاک بسنت رائے ضلع گڈا کی انتخابی نشست کا انعقاد بعد نماز مغرب مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کے دفتر میں عمل میں آیا، اس انتخاب کی خصوصیت یہ رہی کہ اس میں دستوری انتخابی ضابطہ کی مکمل پاسداری کی گئی، اس میں نگراں کی حیثیت سے مولانا محمد یاسین صاحب جہازی انچارج شعبہ دعوت اسلام جمعیۃ علمائے ہند کی شرکت رہی، مولانا یاسین صاحب نے تلاوت کلام پاک کے بعد انتخاب کے اصول و ضوابط کو نہ صرف پڑھ کر سنایا بلکہ بہت سے مقامات پر استفسار کے بعد مکمل وضاحت کی، اس کے بعد ہی انتخابی کارروائی عمل میں آئی، چنانچہ ضابطہ کے مطابق 59 افراد مجلس منتظمہ کے ممبران قرار پائے پھر مجلس منتظمہ کے ان ممبران کے ذریعہ مجلس منتظمہ کے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا، اس کے مطابق مفتی سفیان ظفر قاسمی استاد مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی کو صدر اور مفتی نظام الدین قاسمی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہازقطعہ کو جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا، جمعیۃ کے خازن مولانا سرفراز قاسمی نائب مہتمم مدرسہ رحمانیہ جہازقطعہ قرار پائے جبکہ نائب صدر کے طور پر مولانا محمد سرفراز قاسمی سانکھی سابق استاذ:دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور قاری ارشاد صاحب کدمہ سابق استاد مدرسہ عربیہ اسلامیہ خرد سانکھی کو منتخب کیا گیا اور نائب ناظم کے طور پر مفتی زاہد امان قاسمی مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبری بسنت رائے اور ڈاکٹر نسیم صاحب مانجر اور معاون کے طور پر محمد شاہد جھپنیاں کو منتخب کیا گیا. اس طرح اس انتخابی نشست میں بسنت رائے سے تعلق رکھنے والے 59 اہم افراد مجلس منتظمہ کے ممبر منتخب کئے گئے اور 8 افراد مجلس عاملہ کے اراکین منتخب ہوئے یہ اب تک کا باقاعدہ پہلا انتخاب تھا ـ اس انتخاب کے کچھ ماہ بعد ہی مفتی نظام الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری ملازمت کے سلسلہ میں دہلی چلے گیے ، کچھ ناگفتہ حالات بھی تھے ، اس لیے زمینی طور پر اس باقاعدہ ٹرم میں جمعیت کا کچھ خاص کام نہیں ہوا جب کہ مفتی نظام الدین صاحب قاسمی کے علاوہ سارے ہی افراد بسنت رائے میں ہی موجود تھے ۔
ٹرم 2025 کا انتخاب
بتاریخ : 24؍ اگست 2025 ء بروز : پیر ،بوقت : دس بجے دن ، بمقام : جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ میں مقامی یونٹ کا انتخابی اجلاس ہوا، جس میں کل ممبران : 3515 کے لیے مجلس منتظمہ اور عہدے داران کا انتخاب عمل میں آیا۔ اس میں بطور صدر مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی کا غائبانہ انتخاب ہوا،نائبین صدرمولانا شہنواز صاحب قاسمی،مولانا مجیب الحق صاحب قاسمی اور قاری ارشاد کا انتخاب ہوا ،جنرل سکریٹری مفتی زاہد امان قاسمی،نائبین مولانا شمیم صاحب، مولانا شمس تبریز قاسمی اور قاری محسن کا انتخاب ہوا ، جبکہ بطور خزانچی قاری کلیم الدین صاحب راہی مدرس جامعۃ الہدی جہاز قطعہ اور ماسٹر نسیم صاحب لوچنی بطور معاون ناظم منتخب ہوئے۔
مستقبل کا لائحۂ عمل
جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے نےجمعیت علمائے ہند کے مقاصد کی روشنی میں آئندہ ٹرم کے لیے درج ذیل اہداف پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ـ
- قائم شدہ مکاتب کو منظم کرنا اور مزید مکاتب کا قائم کرنا
- اصلاح معاشرہ کے تحت طلاق ، وراثت ، سماجی برائیاں ، آپسی تنازعات کا حل ، نشہ ، سود اور جوا سے تحفظ وغیرہ پر کام کرنا ـ
- تعلمی و تربیتی پروگرام کا انعقاد
- مدارس کے اساتذہ کا تربیتی ورکشاپ ـ
- اسکول کے طلبا و طالبات کے لیے دینی بیداری پروگرام ـ
- تجارتی و معاشی بیداری۔
- ایس آئی آر پر محنت اور درست رہنمائی ، تمام ڈاکومنٹ کی درستگی وغیرہ وغیرہ۔
تعارف
پیش کش: مولانا مجیب الحق صاحب نائب صدر جمعیت علمائے بسنت رائے
حضرت مولانا ومفتی نظام الدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ بانی ومہتمم جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا
الحمدُ لِلَّهِ رَبِّ العالَمِينَ، والصَّلاةُ والسَّلامُ عَلَىٰ رَسولِهِ الكَرِيم، أَمَّا بعد
بموقع : استقبالیہ پروگرام
بتاریخ : 10؍دسمبر 2025ء
معزز علمائے کرام! ائمہ عظام،سیاسی و سماجی قائدین، جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے ذمہ داران، جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کے اراکین، اساتذہ و طلبا جہاز قطعہ ، بلاک اور ضلع کے تمام معززین !
السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سامعین ذی وقار ! آج کا یہ مبارک اجتماع،ایک ایسے فرد کے استقبال کے لیے منعقد ہوا ہے ، جو اپنے اندر قیادت، علم، حلم، سادگی، منصوبہ بندی، اور خدمت خلق جیسے اوصاف کو یکجا رکھتا ہے۔
آج ہم لوگ ایک ہمہ جہت قائد کا خیر مقدم کر رہے ہیں جس کی زبان میں تاثیر ہے، گفتگو میں مٹھاس ہے،جس کی سوچ میں وسعت ہے، جس کے دل میں درد ہے،اور جس کی راتوں میں امت کے لیے دعائیں ہیں۔ اس وقت آپ کے درمیان آنے کا مقصد ان کا مختصر تعارف کرانا ہے ـ
خاندانی پس منظر
آج سےتقریبا چار سو سال قبل جن مخصوص لوگوں نے جہاز قطعہ کو آباد کیا تھا اس کا نام شیخ ڈومن تھا ، ان کے چار لڑکے تھے، ان میں سے ایک شیخ عصمت ہے،شیخ عصمت کے تین لڑکے تھے، ان میں سے ایک جماد علی ہے،جماد علی کے دو لڑکے ہیں،الفت اور غیاث الدین، الفت کے چار لڑکے ہیں، جن میں سے ایک جناب مرحوم شریف صاحب ہیں شریف صاحب کے چھوٹے لڑکے نظام الدین ہیں جسے ہم اور آپ مفتی نظام الدین صاحب قاسمی کے نام سے جانتے ہیں ـ
تعلیمی سفر
تعلیمی سفر میں مکتب کی تعلیم سے دور تک چھ مدرسوں کا سفر کیا ہے:
- مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ ۔
- سرہندی بیگم مسجد لاہوری گیٹ دہلی۔
- شاہی مسجد وسنت وہار دہلی۔
- جامعہ اسلامیہ سین پور گڈا۔
- مدرسہ سلیمانیہ سنہولہ ہاٹ بھاگلپور۔
- اور مدرسہ جیلانیہ اشرفیہ نظیر آباد لکھنؤ۔
اعلیٰ تعلیم
حفظ قرآن سے فراغت کے بعد اعلی تعلیم کے لیے حضرت اقدس حضرت مولانا احمد نصر صاحب بنارسی دامت برکاتہم العالیہ کے مشورہ سے مدرسہ ریاض العلوم گورینی جونپور میں داخلہ لیا، وہاں فارسی،عربی اول اور عربی دوم تک کی تعلیم کے ساتھ فن قراءت میں اردو حفص کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد اعلی تعلیم کی تکمیل کے لیے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور سن 2006 ء میں فراغت حاصل کی۔
2007 میں دارالعلوم دیوبند سے ہی اردو ادب کیا ، 2008 میں مظاہر علوم جدید سہارنپور سے عربی ادب کیا اور فقہ میں مزید مہارت حاصل کرنے کے لیے 2009 میں جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد سے افتاء کیا گو کہ آپ حافظ ، قاری ، عالم ، اردو عربی کے ادیب اور مفتی بھی ہیں الحمد للہ
تعلیمی خدمات
2009 میں افتاء کی پڑھائی کرتے ہوئے ماہ نامہ رسالہ ” مفتاح الخیر ” کے لیے بطور ایڈیٹر کے عارضی طور پر تقرر ہوا ، عید کے بعد تدریسی خدمات اور ایڈیٹر کے لیے مستقل تقرر ہوا اور جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد میں دس سالہ قیام کے دوران فارسی سے مشکوٰۃ تک کی مختلف کتابیں پڑھائیں ، پھر 2018 میں مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ میں لوگوں کے اصرار پر اس شرط کے ساتھ کہ مستقل حاضری ایک سال کے بعد ہوگی بطور مہتمم کے تقرر ہوا، اور باضابطہ حاضری 2019 میں ہوئی ۔
2019 اور 2020 میں مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ کو تعلیمی اور تعمیری دونوں اعتبار سے ترقی ہوئی اور پھر خدا کے حکم سے ناموافق حالات پیش آئے اور جولائی 2021 میں مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ سے علاحدگی اختیار کرلی۔
جامعۃ الھدی کا قیام
جولائی 2021 میں مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ سے علاحدگی کے چار ماہ بعد 14؍ نومبر 2021 میں جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کی بنیاد رکھی گئی اور 23؍نومبر 2021 میں دہلی کے اہم ترین علاقہ گرین پارک حوض خاص کی جامع مسجد میں امام و خطیب کی حیثیت سے خد مت کے لیے تشریف لے گئے،جہاں انھوں نے چار سال تک بطور امام و خطیب ایسی خدمات انجام دیں جو ہزاروں دلوں کو جوڑنے کا سبب بنی ان کی تقریریں صرف آواز نہیں تھیں بلکہ لوگوں کو راستہ بھی دکھاتی تھیں اور دلوں میں درد بھی جگاتی تھیں، نوجوانوں میں خود اعتمادی پیدا کرکے زندگی کا وژن متعین کرنے پر مجبور کرتی تھیں ـ ان چار سالوں میں نہ صرف مسجد گرین پارک کی ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دیا ہے بلکہ وہاں رہتے ہوئے اپنے علاقہ جہاز قطعہ میں جامعۃ الہدی جہاز قطعہ جیسے شان دار تعلیمی ادارے کو اس مقام اور معیار پر پہونچایا ہے کہ جس کے کیمپس میں حاضر ہوکر کے ہم اور آپ اس خوبصورت پروگرام میں شریک ہوکر کے یہاں کی تعلیم اور تعمیر دیکھنے کے ساتھ طلبا اور اساتذہ سے ملاقات بھی کررہے ہیں۔ ہمارے گاؤں، ہمارے بچوں، اور آنے والی نسلوں کے لیےعلم و عمل کا مرکز قائم کیا۔ وہ صرف ایک "مدرسہ کے بانی” نہیں بلکہ سوچ دینے والے رہنما،منصوبہ بندی کرنے والے قائد،اور اصلاحِ معاشرہ کا فکری ستون ہیں۔
سماجی خدمات
حضرت مفتی صاحب جب علاقہ میں آئے توشروعات میں بنیادی طور پر سماجی کام یہ کیا کہ آس پاس کی جو بستیاں ہیں ان میں فجر کی نماز پڑھنے کا معمول بنایا ، اپنے گاؤں میں ہفتہ میں تین دن عورتوں میں بیان کرنا شروع کیا ، جس سے علاقائی لوگوں میں جوڑ کا ماحول بنا اور گاؤں میں بہت زیادہ دینی بیداری آئی ـ
جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کا قیام
ضلع گڈا میں ضلعی جمعیت تھی ،لیکن علاقائی جمعیت نہیں تھی ، 2019 میں جب دہلی کا سفر ہوا تو جمعیت علمائے ہند شعبہ دعوت اسلام سے منسلک مولانا محمد یاسین جہازی سے اس پر تبادلہ خیال ہوا کہ جمعیت علمائے بلاک کی کیا ترتیب بنائی جاے؟ چنانچہ مولانا جہازی کے مشورہ کے مطابق سفر سے واپسی پر ، جمعہ کے دن مدرسہ رحمانیہ کی مسجد منیر میں جمعہ کی نماز کے بعد اس وقت کے موجودہ صدر ڈاکٹر تمیز صاحب اور مفتی اقبال صاحب کی موجودگی میں ” جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے ” کا باضابطہ قیام عمل میں آیا ، 2020 میں ٹرم پورا ہونے پر 2021 کے انتخاب کے لیے مفتی صاحب کی قیادت و نگرانی میں پانچ ہزار کی ممبر سازی ہوئی اور آج ضلع گڈا کے ہر بلاک میں جمعیت کا قائم ہونا یہ مفتی صاحب کی فکر کا نتیجہ ہے ۔
آسریٰ فاؤنڈیشن
حضرت مفتی صاحب نے کام کو مزید پھیلانے کے لیے 2021 میں آسری فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی ہے ، جس کا ہیڈ آفس ممبئی ہے ، آسری فاؤنڈیشن کے تحت ہر ماہ ہزار روپے کے اعتبار سے 16/ گھروں میں راشن جاتا ہے ، اسی فاؤنڈیشن کے تحت مفتی صاحب کی سرپرستی و نگرانی میں اپنے علاقہ میں بارہ مکاتب چلتے ہیں ،جس میں کپیٹا ، بنسی پور ، سانکھی اور کیواں وغیرہ شامل ہے ،اس کے علاوہ آدی واسی میں پانچ مرتبہ کپڑا بھی تقسیم ہو چکا ہے اور ہر مرتبہ دو سو پچاس لوگوں میں تقسیم ہوا ہے ـ
اصلاحی تعلق
یوں تو حضرت مفتی صاحب بچپن سے ہی حضرت مولانا احمد نصر صاحب بنارسی دامت برکاتہم کی تربیت میں رہے ، اس کے بعد مسیح الامت حضرت مولانا مسیح اللہ خاں صاحب کے لڑکے صفی الملت حضرت مولانا صفی اللہ خاں صاحب کی تربیت میں رہے البتہ باضابطہ بیعت حضرت مولانا قمر الزماں صاحب الہ بادی دامت برکاتہم سے ہیں اور اس وقت ان ہی کی تربیت و اصلاح سے وابستہ ہیں ۔یہ ہے حضرت مفتی صاحب کا مختصر تعارف اور خدمات ۔
اختتام
ان ہی خدمات اور قربانی کی روشنی میں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ واپسی ایک شخص کی واپسی نہیں بلکہ ایک منظم اور مضبوط تحریک کی واپسی ہےان کا علاقے میں دوبارہ تشریف لاناعلاقے کے لیے ایک نئے دور کاآغاز ہے ان جیسے حضرات کی ہمارے علاقے اور سماج کو ضرورت کل بھی تھی آج بھی ہے اور آگے بھی رہے گی۔
ہم سب خوب جانتے ہیں کہ آج ہمارا معاشرہ انتشار، بے راہ روی، اخلاقی کمزوری، تعلیمی پسماندگی سماجی برائی ، اور سماجی کھچاؤ کا شکار ہے۔ ایسے وقت میں ایک ایسے شخص کی واپسی جس میں علم بھی ہے، عمل بھی ہے، جرأت بھی ہے، حکمت بھی ہے،اور سب سے بڑھ کر بگڑتے ہوئے سماج اور معاشرے کو سنبھالنے اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ اور صلاحیت بھی ہے ، اس لیے ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں ان کی خدمات کو سلام کرتے ہیں۔ ان کی قربانیوں کا استقبال کرتے ہیں۔
ان کے عزم، ان کی محنت، اور ان کے اخلاص کو دل سے سلام پیش کرتے ہیں۔
ہم سب آج یک زبان ہو کر کہتے ہیں کہ آپ کا آنا ہمارے لیے عزت بھی ہے، رہنمائی بھی ہے، اور امید بھی آپ اس علاقے کے لیے صرف ایک عالم ہی نہیں بلکہ پورے علاقے کو ایک رخ اور سمت دینے والے عالم دین ہیں۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ آپ کے ہاتھوں اس علاقے میں علم، تربیت، اخلاق، اور اصلاح کی فضا قائم کرے۔
جمعیت علماء بلاک بسنت رائے، جامعۃ الہدی جہاز قطعہ، حاضرین میں موجود علماء ، ائمہ ، خطبا ، سماجی و سیاسی شخصیات ، علاقائی دانشوران ،اہل علاقہ اور جملہ سامعین کی جانب سے ہم پوری محبت و خلوص اور عزت کے ساتھ
آپ کا استقبال کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ آپ کی قیادت کو قبول فرمائے، آپ کی مساعی جمیلہ کو ثمر آور بنائے اور اس ادارے کو بچوں کے لیے شان دار تعلیمی ادارہ، اور اصلاحِ معاشرہ کا قلعہ بنا دے۔ آمین ثم آمین
و آخر دعوان ان الحمدللہ رب العالمین۔
جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ گڈا کا سالانہ تعلیمی رپورٹ
بموقع : تکمیلِ حفظِ قرآن کانفرنس، 10؍دسمبر 2025)
پیش کش: مفتی محمد نظام الدین قاسمی بانی مہتمم جامعۃ الہدی جہاز قطعہ
تمہیدی کلمات
جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ، ضلع گڈا، جھارکھنڈکا قیام 14؍ نومبر 2021 ء ہوا اور دو سال سے باظابطہ تعلیم ہورہی ہے، جامعہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی دینی و عصری تعلیم کے حسین امتزاج کے ساتھ ایک جامع نظام کی بنیاد رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل، اساتذہ کی محنت اور حضرات کے تعاون سے گزشتہ دو سال میں ادارہ نے نمایاں تعلیمی ترقی حاصل کی ہے۔یہ رپورٹ انہی کامیابیوں کا خلاصہ پیش کرتی ہے۔
سال اول میں داخل طلبا کی تعداد
(2023–24) کے گزشتہ سال میں کل 35 طلبا کا داخلہ ہوا اور اخیر سال تک تقریبا سبھی موجود بھی رہے۔ (2024–25) کے موجودہ سال میں 55 طلبا کا داخلہ ہوا اور تقریبا سبھی اس وقت موجود بھی ہیں گویا کہ دو سال میں طلبہ کی تعداد میں 57 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ـ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جامعہ ہٰذا کے تعلق سے والدین کا اعتماد بہت زیادہ ہے اور یہ جامعہ کے لیے مقبولیت کی واضح دلیل ہے۔
حفظِ قرآن میں نمایاں کامیابی
گزشتہ سال اس غیر آباد جگہ پر داخل طلبا میں سے تین طلبہ نے حفظِ قرآن مکمل کیا تھا اور اس سال ایک طالبِ علم نے حفظِ قرآن مکمل کیا ہے۔ مجموعی طور پر دو سال میں 4 حفاظِ کرام تیار ہوئے، جو جامعۃ الہدیٰ کے لیے اپنے محدود وسائل کے باوجود ایک بڑی کامیابی ہے۔
تعلیمی ماحول اور نظمِ تعلیم
جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ نے اپنے قیام کے خیال سے ہی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری مضامین کو بھی شامل کیا ہے اور جب سال قبل عملی طور پر میدان اترا دینی کے ساتھ عصری کو بھی شامل نصاب کیا اور دونوں کو اعتدال پر رکھنے کے لیے مظبوط حکمت عملی کے ساتھ اپنا رکھا ہے جوکہ کامیابی کی اہم کڑی ہے۔
اس وقت 55 طلبا میں نورانی قاعدہ ، تجوید ، ناظرہ قرآن، عقائد ، دینیات اور حفظ کی تعلیم کے لیے دو اساتذہ اور عصری تعلیم میں ہندی ، انگلش ، ریاضی اور ابتدائی جنرل نالج کے لیے بھی دو اساتذہ موجود ہیں گویا کہ طلبا کی تعلیم اور تربیت کے لیے اس وقت جامعہ میں مجموعی طور پر چار اساتذہ اور طباخ اپنی خدمات سے جامعہ کے نظام کو سنبھال رہے ہیں۔کم وسائل اور کم افراد کے باوجود بہترین نتائج انتظامیہ کے حسنِ انتظام کی خوبصورت علامت ہے۔
مجوزہ نام ہدی اسکول
آج سے پانچ ماہ بیس دن قبل جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کیمپس میں کلاس ایک سے پانچ تک کے لیے مجوزہ نام ہدی اسکول کی بنیاد رکھی گئی تھی ، جس پر الحمدللہ ڈیڑھ لاکھ کا کام ہو چکا ہے اور اس پروگرام کے بعد مزید ڈیڑھ لاکھ کا کام ہوگا۔ اور عمارت وہیں پر ہوگی جہاں سے آپ جامعۃ الہدی کے لیے داخل ہوئے ہیں۔
آخری بات
آج اس غیر آباد جگہ پر جو کچھ بھی ہے یہ محض اللہ کے فضل ، آپ سبھی لوگوں کے تعان اور دعا کی وجہ سے ہوا ہے اور آگے بھی اسی طرح سے آپ لوگوں سے دعا اور تعاون کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ جیسے آج آپ لوگ جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کی منتظمہ کمیٹی کے ساتھ کھڑے ہیں آنے دنوں میں بھی ان شاءاللہ اسی طرح سے کھڑے رہیں گے ۔
وما علینا الاالبلاغ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محمد نظام الدین قاسمی
بانی و مہتمم جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ
10؍دسمبر 2025





















