ہفتہ, جولائی 11, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین

اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

by Md Yasin Jahazi
اپریل 9, 2026
in مضامین
0
اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 
0
SHARES
30
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد

رابطہ: 8099695186

               مرکزی حکومت نے شہریوں سے اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا پر پوسٹس کی نگرانی کو سخت کرنے اور آئی ٹی قوانین میں ترمیم کا مسودہ پچھلے دنوں جاری کردیا ہے،اس پر اعتراض و عوامی رائے کے لیے 14 دن کی مہلت دی ہے،مرکزی حکومت سے ڈیجیٹل قوانین کو سخت بنانے اور شہریوں کی سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹوں پر قانونی کاروائی کی گنجائش فراہم کرنے وغیرہ ناشرین کے مواد کو بھی قانونی دائرے میں شامل کرنے کے اقدامات کے تحت ان ترامیم پر مختلف گوشوں سے اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے،کہا جارہا ہے کہ اگر ان ترامیم کو حکومت منظور کرتی ہے تو ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمس پر جو کہ آزادانہ رائے رکھتے ہوئے،مخالف حکومت مواد پیش کرنے میں خوف محسوس نہیں کررہے ہیں بلکہ آزاد صحافت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں،ان پر اب نئے قوانین کے ذریعے قدغن لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے،بھارت کی وزارتِ الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی نے آئی ٹی رولس 2021 میں ترمیم کی تجویز پیش کی ہے،جس کے تحت آن لائن خبروں اور حالاتِ حاضرہ سے متعلق مواد پر حکومتی نگرانی مزید سخت ہوسکتی ہے۔ان مجوزہ تبدیلیوں کے بعد سوشل میڈیا پر خبریں یا حالاتِ حاضرہ سے متعلق پوسٹ کرنے والے عام صارفین بھی حکومتی نگرانی کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ اگر سوشل میڈیا پر کوئی ایسا مواد شائع ہو جو خبروں یا حالاتِ حاضرہ سے متعلق ہوتو حکام کو اسے ہٹانے یا اس پر کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہو۔مجوزہ قوانین کے تحت حکومتی ادارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کے ساتھ ساتھ انفرادی صارفین کو بھی براہِ راست نوٹس جاری کرسکیں گے۔ان تبدیلیوں کا مقصد حکومت کے مطابق آن لائن پھیلنے والی غلط معلومات،غیر قانونی مواد کو روکنا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کو زیادہ جواب دہ بنانا ہے۔تاہم بعض ماہرین اور ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے آزادیٔ اظہار  پوری طرح متاثر ہوگی اور حکومت کو آن لائن مواد پر کارروائی کے لئے زیادہ اختیار مل جائے گا۔مزید یہ کہ نئی تجاویز کے تحت حکومت کی طرف سے جاری کی جانے والی ہدایات اور مشورے انٹرنیٹ کمپنیوں کے لیے لازمی قرار دیے جا سکتے ہیں اور اگرآن لائن پلیٹ فارمس ان پر عمل نہ کریں تو انہیں قانونی تحفظ (Safe Harbour) سے محروم بھی کیا جاسکتا ہے۔ 

ملک میں میڈیا اداروں بالخصوص معروف قومی میڈیا پر کارپوریٹ کنٹرول کے بعد حالات کو دیکھتے ہوئے کئی سرکردہ صحافیوں اورشہریوں نے اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمس کا آغاز کر کے آزاد صحافت کو فروغ دینا شروع کیا ہے،مرکزی حکومت کی وزارت الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ڈیجیٹل قوانین کا جو مسودہ جاری کیا اسے انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکنڈ امینڈمنٹ رولس 2026 کا نام دیا گیا ہے،ان قواعد اور رہنمایانہ خطوط کی منظوری کے ذریعے اظہار خیال کی آزادی پر قدگن لگانے اقدامات کیے جارہے ہیں،انٹرنیٹ پر اظہار خیال کی آزادی کے لیے سرگرم اداروں اور تنظیموں کی جانب سے مسودہ پر اعتراض کر کے کہا جارہا ہے کہ حکومت اس طرح کی قانون سازی کے ذریعے جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مخالف حکومت آواز کو دبانے کی کوشش کررہی ہے،قومی سطح پر اس مسودہ قانون کی سختی سے مخالفت کی جانے لگی ہے اور کہا جارہا ہے کہ أئندہ 14 دن میں ان قوانین کے خلاف جمہوریت پسند اداروں تنظیموں اور جہد کاروں سے شعور بیداری مہم چلا کران قوانین کے خلاف رائے بھیجنے،عوام کو آمادہ کیاجائے گا کیونکہ یہ مسئلہ راست ان کی اظہار خیال کی آزادی سے جڑا ہوا ہے۔

ملک میں سوشل میڈیا کے استعمال کے معاملے میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جوسوشل میڈیا کا اسیر نہ ہو کسی بھی مقام پر دیکھا جاسکتا ہے کہ بچے،بوڑھے،جوان،مرد،عورت ہر کوئی وقت ملتے ہی اپنے آپ کو سوشل میڈیا پرمصروف کرلیتا ہے،سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس کے استعمال میں واٹس ایپ کو دیگر پلیٹ فارمس پر سبقت حاصل ہے،واٹس ایپ کے ذریعے نہ صرف خبریں حاصل کی جاتی ہیں بلکہ تجارتی اور نجی سرگرمیوں میں بھی یہ مددگار ثابت ہوتا ہے،حالیہ سروے کے مطابق ہندوستان میں واٹس ایپ کے 535 ملین یوزرس ہیں جبکہ یوٹیوب 467 ملین یوزرس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے،انسٹاگرام اور فیس بک میں مسابقت ہے اور دونوں کے یوزرس علی الترتیب 362 ملین اور 314 ملین ریکارڈ کیے گئے ہیں،ٹیلی گرام کے یوزرس 200 ملین ہیں جبکہ ایکس کے یوزرس کی تعداد 27 ملین درج کی گئی ہے،سوشل میڈیا کے استعمال کے سلسلے میں عوام کی ترجیحات کے اعتبار سے واٹس ایپ کو اولین ترجیح دی جارہی ہے جبکہ حالیہ عرصے میں ایکس یعنی ٹویٹر کا استعمال صرف مخصوص شعبہ جات سے وابستہ افراد تک محدود ہوچکا ہے،موبائل فون کے بڑھتے استعمال نے ہرشخص کو سوشل میڈیا کی طرف راغب کردیا ہے،مذہبی مقامات ہوں یا پھر تجارتی ادارے ہر عمر سے تعلق رکھنے والے افراد کو موبائل فون میں سوشل میڈیا میں مصروف دیکھا جاتا ہے،سماج میں سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعے خبروں سے متعلق رسائی اور معلومات حاصل کرنے کے رجحان میں گزشتہ دنوں اضافہ ہواہے،خبروں کے حصول کے لیے اگرچہ سوشل میڈیا پر کئی ذرائع دستیاب ہیں لیکن ان میں یوٹیوب اور واٹس ایپ سرفہرست تھے عوام کے لیے خبروں کے حصول کے یہ دونوں اہم اور بنیادی ذرائع بن چکے ہیں،ملک میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق انسٹاگرام،فیس بک،ٹیلی گرام اور ایکس کے ذریعے خبروں کے حصول کا رجحان برقرار ضرور ہے لیکن یوٹیوب اور واٹس ایپ کے مقابلے ان کا استعمال کم ہے۔سروے کے مطابق 55 فیصد یوٹیوب کے استعمال کے ذریعے خبروں کی معلومات حاصل کی جارہی ہیں جبکہ واٹس ایپ کا استعمال 46 فیصد ہے 55 فیصد یوزرس یوٹیوب کے استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ واٹس ایپ یوزرس کی تعداد 46 فیصد درج کی گئی ہے، انسٹاگرام کے یوزرس 38 فیصد اور فیس بک کے 35 فیصد جو خبروں کے لیے سوشل میڈیا ذرائع کا استعمال کرتے ہیں،صارفین کے لیے ٹیلی گرام 23 فیصد اور ایکس 16 فیصد قابل ترجیح ہے،سماج میں خبروں کے بروقت حصول اوراسکے رجحان میں اضافے کے پیش نظر یوٹیوب نے سبقت حاصل کر لی ہے۔

ایک دوسری رپورٹ کے مطابق دنیا میں انٹرنیٹ کے استعمال خاص طور پر 5 جی کے استعمال میں اضافے کا رجحان دولت مند اور ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ دیکھا جارہا ہے،2025 کے سروے کے مطابق دنیا کی 55 فیصد آبادی 5 جی کا استعمال کر رہی ہے لیکن دیگر علاقوں میں کافی فرق دیکھا گیا ہے،زائد آمدنی والے ممالک میں 80 فیصد سے زائد عوام کا 5 جی نے احاطہ کیا ہے جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں پانچ فیصد کی کمی ہے،اس طرح دولت مند اور کم آمدنی والے ممالک میں ڈیجیٹل گیاپ دیکھا جارہا ہے،چین،ساؤتھ کوریا اور جاپان جیسے ممالک 5 جی کے استعمال میں سبقت حاصل کرچکے ہیں،افریقی ممالک اور ساؤتھ ایشیا کے ممالک میں 5 جی کے استعمال کا رجحان ابھی بھی کم ہے،اس شعبے میں زائد سرمایہ کاری اور حکومتوں کے موافق ڈیجیٹل پالیسیوں کے ذریعے عالمی سطح پر رابطے کو مستحکم کیا جاسکتاہے،زائد آمدنی والے ممالک میں 84 فیصد آبادی کا احاطہ 5جی نے کرلیا ہے،اوسط آمدنی والے ممالک میں 64 فیصد اور لور مڈل آمدنی والے ممالک میں 46 فیصد آبادی 5 جی کا استعمال کررہی ہے،کم آمدنی والے ممالک میں محض چار فیصد آبادی 5 جی سے متعارف ہے،ابھی بھی 4 جی،3 جی اور 2 جی کے استعمال کا سلسلہ جاری ہے،سروے کے مطابق آنے والے دنوں میں دنیا بھر میں 5 جی کا غلبہ رہے گا۔

 پچھلے سال مئی میں گجرات کے معروف روزنامہ’ گجرات سماچار’کے مالک باہو بلی شاہ کو انفورسمینٹ ڈائریکٹو ریٹ(ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا،گرفتاری کے فورا بعد ان کی طبیعت خراب ہو گئی جس کے بعد انہیں احمد آباد کے وی ایس ہاسپٹل لے جایا گیا،لیکن انہوں نے نجی ہاسپٹل میں علاج کروانے کی خواہش ظاہر کی جس پر بعد میں انہیں زائڈز ہاسپٹل منتقل کردیا گیا،باہو بلی شاہ اوران کے بھائی شریان شاہ گجرات سماچار پبلکیشنز گروپ کے مشترکہ مالک ہیں جس کا آغاز 1932 میں ہوا تھا،میڈیا کے علاوہ باہو بلی شاہ 15 سے زائد کاروباری اداروں سے بھی وابستہ ہیں،مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق 13 مئی کی صبح انکم ٹیکس کی ٹیم نے دونوں بھائیوں کے مختلف دفاتر اور رہائشی مقامات پر چھاپے مارے بعد ازاں ای ڈی کی ٹیم بھی وہاں پہنچ گئی اور مختلف مقامات پر تلاشی کے بعد باہو بلی شاہ کو گرفتار کرلیا گیا،اس کے بعد سے اس کاروائی کو لے کر سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل دیکھی گئی گجرات کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا رکن شکت سنگھ گوہل نے شاہ کی گرفتاری پر سخت رد عمل ظاہر کیا تھا،انہوں نے الزام لگایا کہ شاہ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی،ایکس پر اپنے بیان میں گوہل نے کہا کہ سچ کے لیے کھڑے ہونے کی سزا دینا بی جے پی کا مزاج بن چکا ہے، گجرات سماچار نے حال ہی میں ہند پاکستان کشیدگی کے معاملے پرحکومت کو آئینہ دکھایا تھا اور سوال کیا تھا،انہوں نے مزید کہا کہ چند ہفتے قبل جب شاہ کے یہاں چھاپے مارے گئے تھے،تب ان کا خاندان والدہ اسمرتی بین کے سوگ میں تھا،باہوبلی شاہ نہ صرف ایک بزرگ شہری ہیں بلکہ ایک سنگین طبی مسائل سے بھی دوچار ہیں، گوہل نے اس گرفتاری کو میڈیا کی آزادی پرحملہ قراردیا تھا اور کہا تھا کہ تمام میڈیا گودی میڈیا نہیں ہوتا جو حکومت کے کہنے پر چلے،اسی دوران گجرات سماچار کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس ٹویٹربھی بلاک کردیا گیا،یہ گرفتاری ایسے وقت ہوئی ہے جب حکومت پر پہلے ہی میڈیا کی آزادی کو محدود کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں اور اس سے ملک میں صحافت کی خود مختاری پر ایک بار پھر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگرس کے رہنما راہل گاندھی نے بھی گجرات سماچار کے ڈائریکٹر باہوبلی شاہ کی گرفتاری اور میڈیا ہاؤس پر ای ڈی کی کاروائی کو جمہوریت پرحملہ قراردیا تھا،راہل گاندھی نے سخت الفاظ میں کہا تھا کہ گجرات سماچار کو خاموش کرنے کی کوشش صرف ایک اخبار کی نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کی آواز دبانے کی ایک اورسازش ہے،جب اقتدار کو آئینہ دکھانے والے اخباروں پر تالے لگائے جاتے ہیں،جب سمجھ لیجئے کہ جمہوریت پوری طرح خطرے میں ہے،باہوبلی شاہ کی گرفتاری خوف کی اسی سیاست کا حصہ ہے،جو اب مودی حکومت کی شناخت بن چکی ہے،ملک نہ ڈنڈے سے چلے گا نہ ڈر سے،بھارت چلے گا سچ اور ائین سے، کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے بھی سخت رد عمل دیا تھا،انہوں نے وزیراعظم مودی کے ایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مودی جی نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تنقید جمہوریت کی روح ہے، گجرات سماچار 193 سال پرانا ادارہ ہے جس کے بانی بزرگ باہوبلی شاہ کو ای ڈی سے گرفتار کرا کے مودی جی نے ثابت کردیا ہے کہ تنقید کرنے والوں کی گرفتاری تانا شاہ کے خوف کی پہلی علامت ہے،جس نے بھی اس حکومت کے خلاف آواز اٹھائی اور جس نے بی جے پی سے سمجھوتہ نہیں کیا اسے جیل جانا پڑا،حکومت کی جانب سے آزاد میڈیا پر دباؤ ڈال کر اسے اپنے حق میں استعمال کرنا جمہوریت کے لیے انتہائی ہلاکت خیز ہے۔

آپ کو یاد ہوگا گزشتہ سال ستمبر میں نیپال میں کرپشن اور حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف Gen-Z کے احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں19 افراد ہلاک اور 340 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے،کاٹھمنڈو کے Baneshwar علاقے میں Gen-Z کا احتجاج پُرتشدد ہونے پر پولیس نے گولی باری شروع کردی تھی اور وہاں انقلاب برپا ہوگیا تھا،ہنگامہ آرائی کی روک تھام کیلئے ملک کے مختلف حصوں میں کرفیو نافذ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے۔Gen-Z

احتجاج،Facebook،Instagram، ایکس اور یوٹیوب سمیت سبھی غیررجسٹرڈ،شدہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ملک گیر پابندی عائد کئے جانے کے بعد شروع  ہواتھا اور پورے ملک میں پھیل گیا تھا،اس انقلاب کے نتیجے میں حکومت کو استعفی دینا پڑا تھا،اب تو وہاں نئی حکومت قائم ہوچکی ہے۔ جمہوریت کا جوہر اس کی وسعت ظرفی برداشت اور مکالمے کی روایت میں پنہاں ہوتا ہے،جہاں اختلافات کو دبایا جائے وہاں جمہوریت کا نام لینا محض ایک دکھاوا رہ جاتا ہے،تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمراں تنقید،حق اور سچ سننے سے ڈرنے لگے،جب وہ طنز کے سامنے کمزور پڑنے لگے اور سچائی کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کر کریں تو ان کی جڑیں پہلے سے زیادہ کھوکلی ہوجاتی ہیں،جمہوریت میں طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے اور اگر عوام کی زبان بندی کی جاتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب یہی عوام اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں گے،یہ سلسلہ اگر نہ رکا تو وہ وقت بھی آئے گا جب یہی قانون حکومت حکومتی ایوانوں کی بنیاد ہلانے لگیں گے،کیا بھارتی حکومت رفتہ رفتہ اسی جانب پیش قدمی کررہی ہے اور عوام کے جمہوری حقوق کو سلب کرنے کوشش ہورہی ہے؟پھر ہم اور آپ کب بیدار ہونگے؟

*(مضمون نگار معروف صحافی،سیاسی تجزیہ نگار اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

حقیقی گھر کی طرف واپسی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

حج کی فرضیت کا بیان 

حج کے فرض ہونے کی شرطوں کا بیان 

2 مہینے ago
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

پریم بنام پرستش

7 مہینے ago

مقبول

  • کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • عملی اسلام کہاں ہے……؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • حکومت اپنے شہریوں کو مشکوک کیوں بنارہی ہے؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ظلم کبھی دائمی نہیں ہوتا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.