محمد یاسین جہازی
9891737350
9 ؍اپریل 2026 کو ہونے والے آسام ریاستی انتخاب کے تناظر میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے اتحاد کرنے پر، 4 ؍اپریل 2026 کو جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمدحکیم الدین قاسمی صاحب نے AIUDF کے سربراہ اور جمعیت علمائے آسام یونٹ کے صدر مولانا بدرالدین اجمل صاحب کو نوٹس جاری کیا، جس سے ہندستانی سوشل میڈیائی سیاست میں ایک غیر ضروری کمنٹس کا سیلاب آگیا۔
اسی تناظر میں ذیل کی تحریر میں نوٹس کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:
برصغیر میں فرقہ وارانہ سیاست کی باقاعدہ تاریخ کا آغاز All-India Muslim League کی تاسیس (30 ؍دسمبر 1906) سے ہوتا ہے۔ اس رجحان کا پہلا واضح اور عملی اظہار 1916 میں Lucknow Pact کے موقع پر سامنے آیا، جو ؍26 دسمبر سے 31 ؍دسمبر 1916 تک لکھنو میں منعقد ہوا۔ اس معاہدے کے تحت جداگانہ انتخابات (Separate Electorates) کا اصول تسلیم کیا گیا، جس کے مطابق ہندو اپنے نمائندوں کو اور مسلمان اپنے نمائندوں کو ووٹ دیں گے۔
بعد ازاں Government of India Act 1935 کے تناظر میں 1937 کے صوبائی انتخابات میں بھی اس فرقہ وارانہ سیاست کے اثرات واضح طور پر دیکھنے کو ملے۔
یہ رجحان اپنے عروج کو اس وقت پہنچا جب 1946-47 کے مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد ہوئے۔ اس موقع پر Indian National Congress اور Jamiat Ulama-e-Hind کے مسلم پارلیمنٹری بورڈ نے متحدہ ہندستان اور آزادی کے نام پر ووٹ مانگا، جب کہ All-India Muslim League نے اسلامی ریاست کے قیام، یعنی پاکستان کے حصول کے نعرے کے تحت انتخابی مہم چلائی۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی، یعنی مرکزی قانون ساز اسمبلی (Central Legislative Assembly)میں مسلمانوں کے لیے مخصوص 30نشستوں میں تمام 30نشستیں (100٪) اور صوبائی اسمبلیوں میں مسلمانوں کے لیے کل مخصوص تقریباً 492 نشستوں میں سے 425 نشستیں (86٪) آل انڈیا مسلم لیگ نے جیت لیں، جس کے نتیجے میں بالآخر15؍اگست 1947 کو Partition of India عمل میں آئی۔ اس تقسیم نے نہ صرف ہندو مسلم تعلقات کو شدید متاثر کیا؛ بلکہ لاکھوں انسانوں کی جانوں کے ضیاع اور وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری کا الم ناک باب بھی رقم کیا۔ ان تلخ تجربات اور حالات سے سبق حاصل کرتے ہوئے، 27-28 دسمبر 1947 کو لکھنو میں امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ کی صدارت میں ایک اہم کانفرنس ’’آزاد کانفرنس لکھنو‘‘منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ فرقہ پرستی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم تمام تنظیموں کو ختم کر دینا چاہیے، البتہ Jamiat Ulama-e-Hind کو اس شرط کے ساتھ برقرار رکھا جائے کہ وہ عملی سیاست سے کنارہ کش رہتے ہوئے صرف دینی اور ملی خدمات انجام دے۔
چنانچہ تجویز کے متن میں کہا گیا کہ:
———– تجویز نمبر-۱———–
فرقہ پرستی کی مخالفت
یہ کانفرنس اپنے اس یقین کا اعادہ کرتی ہے کہ فرقہ وارانہ سیاسی جماعتیں مستقبل میں کسی طرح مفید نہیں ہوسکتیں؛ بلکہ اس کے برخلاف یہ اقلیتوں کے لیے صرف خطرے کا باعث ہوںگی۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ کانفرنس محسوس کرتی ہے کہ مسلمان بعض مذہبی امور ، تمدنی مفادات بھی رکھتے ہیں ، جن کے تحفظ کے لیے ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے، جسے خاص طور سے یہ کام سپرد کیا جائے۔ جمعیت علمائے ہند کی پچھلی اور خدمات کو دیکھتے ہوئے یہ کانفرنس اعلان کرتی ہے کہ ایک زیادہ جمہوری بنیاد پر منظم جمعیت اورشیعوں کے مذہبی مفادات کی حفاظت کے لیے ایک علاحدہ ادارہ ان فرائض کو انجام دینے اور ان کاموں کو اپنی ذمہ داری میں لینے کے لیے موزوں ترین جماعتیں ہیں۔
محرک: مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند۔
———– تجویز نمبر-۲———–
فرقہ وارانہ سیاست سے کنارہ کش ہونے کی اپیل
ہندیونین کے مسلمانوں کی کانفرنس نے اگست 1947ء سے ہونے والے واقعات کا بخوبی جائزہ لیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ ان فسادات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں مذہبی نعروں اور فرقہ وارانہ سیاست کے پس پردہ رجعت پسند طاقتیں کام کر رہی ہیں۔ گذشتہ زمانے میں فرقہ وارانہ جماعتوں نے ملک کو زبردست نقصان پہنچایا ہے ۔ خاص طور پر یہ نقصان اقلیتوں کو سب سے زیادہ پہنچا ہے۔ اور اب بھی یہ فرقہ وارانہ جماعتیں ملک کے مستقبل کے لیے ایک زبردست خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ اب وقت آگیا کہ ہر خیال کے مسلمان ایک آخری اور قطعی فیصلہ کرلیں اور فرقہ وارانہ سیاست سے احتراز کریں ؛ کیوں کہ فرقہ ورانہ سیاست سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ اور نہ اس قسم کی سیاست سے اقلیتوں کا تحفظ ہی ہوسکتا ہے۔ اسی سیاست سے سیاسی اور سماجی رجعت پسندی کی ہمت افزائی ہوئی ہے، جس نے غلط اور غیر حقیقی تقسیم کرکے اور باہمی منافرت اور شک و شبہ کو پھیلا کر ہماری قومی زندگی کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔
محرک: سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہند ۔
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍587-588، از: محمد یاسین جہازی،مطبوعہ الجمعیۃ بکڈپو دہلی)
چنانچہ اس کانفرنس کے تقریبا ایک ماہ بعد یکم فروری 1948 ء کو جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس عاملہ میں اسی موقف کو اختیار کیا اور آج تک اسی پر قائم ہے۔
یکم فروری 1948 ء کے فیصلہ کا متن درج ذیل ہے:
———– تجویز نمبر-۲———–
جمعیت کا سیاسی سرگرمیوں سے قطع تعلق کا اعلان
جمعیت علمائے ہند نے پچھلے تیس سالہ دور تاریخ میں ملک و وطن کی آزادی کے لیے جو جدوجہد کی اور ملک کی مشترک مجلس انڈین نیشنل کانگریس کے تعاون و اشتراک سے اس راہ میں جو کامیابی حاصل کی ،وہ تاریخ ماضی کا روشن واقعہ ہے۔ گذشتہ دور میں جمعیت علمائے ہند کی مذہبی و ملی خدمات کے ساتھ ساتھ ملک و وطن کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنی پڑی۔ اس میں جداگانہ انتخاب کی وجہ سے الیکشن اور اس سے وابستہ سیاسیات میں بھی پیش پیش رہنا پڑا، تاکہ غلط فرقہ وارانہ روش کا مقابلہ کیا جاسکے؛ لیکن اب جب کہ ہندستان آزاد ہوچکا ہے اور ملک کی سیاسی زندگی کو فرقہ وارانہ حلقوں میں تقسیم کرنے کی جگہ ایک عام اور مشترک قومی حلقہ کا پیدا کرنا ضروری ہے، لہذا جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ضروری تصور کرتا ہے کہ جمعیت کے نظام عمل کا مستقبل بھی اسی لحاظ سے قرار دیا جائے اور اس بارے میں جو فیصلے لکھنو کانفرنس میں ہوچکے ہیں، ان کی تائید کی جائے۔ چنانچہ کامل غورو بحث کے بعدطے پایا کہ جمعیت مرکزی کا اجلاس بلاتاخیر طلب کیا جائے اور اس کے سامنے مجلس عاملہ کی یہ تجویز رکھی جائے:
مجلس عاملہ اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ جمعیت کا دائرہ ٔ عمل آئندہ صرف مذہبی اور تمدنی حقوق و فرائض کے دائرے میں محدود رہے۔ اور جہاں تک مسلمانوں کے سیاسی حقو ق و فرائض کا تعلق ہے، مسلمانوں کو غیر فرقہ وارانہ اور مشترک طریق عمل کی دعوت دینی چاہیے۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍594)
چنانچہ 20-21؍مارچ 1948 ء کو کل ہند جمعیت علما کونسل نے، بعد ازاں 26-27؍اپریل 1948ء کو منعقد جمعیت علما کے پندرھویں اجلاس عام نے یکم فروری 1948ء کی مجلس عاملہ کے فیصلے کی توثیق کردی۔(تفصیل کے لیے دیکھیں حوالہ سابق صفحات:595-599)
اگرچہ جمعیت علمائے ہند کو فرقہ وارانہ پارلیمانی سیاست سے علاحدہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، البتہ اس کے کارکنان کے لیے یہ گنجائش رکھی کہ وہ کسی بھی غیر فرقہ وار سیاسی جماعت میں شامل ہوکر قوم ووطن کی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔ چنانچہ مجلس عاملہ منعقدہ:17،18؍ اگست1951ء کی تجویز نمبر(3) میں درج ذیل فیصلہ کیا گیا:
———– تجویز نمبر-۳———–
الیکشن اور ووٹ کے متعلق جمعیت کا موقف
آج ملک میں انتخابات کی تیاریاں زورو شور سے ہورہی ہیں۔ سرکاری طور پرانتخابات کے ایام بھی متعین ہوگئے ہیں۔ اس بنا پر جمعیت علمائے ہند کے ارکان اور جمعیت علمائے ہند سے ہمدردی اور تعلق خاطر رکھنے والوں کی نگاہیں بھی اٹھ رہی ہیں کہ ایسے نازک وقت میں جمعیت علمائے ہند کا موقف کیا ہے؟
جمعیت علمائے ہند اپنی دیرینہ روشن ملکی و ملی تاریخ کے پیش نظر اپنے متوسلین اور ارکان کے سامنے اہم جدوجہد کے موقع پر – جس کے ساتھ ملک کی قسمت وابستہ ہے-حسب ذیل ہدایات رکھنا ضروری سمجھتی ہے:
(الف) جمعیت علمائے ہند کے نیک مقاصد اور اس کے طریق کار کا تحفظ بہرحال انتخابی جدوجہد اور حصول اقتدار کی دوسری کوششوں سے مقدم ہے اور ان کی برتری مسلم؛ بلکہ نظام حیات کے لیے وہ انمٹ ہیں، اس لیے ارکان، یا ہمدردان جمعیت علما کا کوئی عمل ایسا نہ ہونا چاہیے، جو ان نیک مقاصد، یا طریق کار کے لیے مضرت رساں ہو۔
(ب) مشترکہ انتخابات اور تحفظ نشست کے فقدان اور ملک کے سیکولر نظام کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند ، پارلیمنٹری سیاست سے کنارہ کش ہے، تاہم اپنے اہم مقاصد اور طریق ہائے کار میں سے مختلف فرقوں کے درمیان اتحاد اور غیر فرقہ وارانہ نظام کے استحکام اور دستور ہند کے پیش نظر تمام فرقوں کے مذہب اور پرسنل لاء کے تحفظ کی خاطر ارکان و ہمدردان جمعیت کے لیے ضروری قرار دیتی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں کسی بھی فرقہ پرست جماعت سے کوئی تعلق اور وابستگی نہ رکھیں؛ بلکہ ان کے نقطۂ نظر کو شکست دینے کے لیے صرف انھیں جماعتوں میں سے کسی جماعت سے متعلق رہیں، جو قومی نقطۂ نظر کی حامی اور عملا اس کی بقا و قیام کی ذمہ دار ہوں۔نیز یہ بھی ضروری سمجھتی ہے کہ انتخابی جدوجہد کو صرف ملک و سماجی اور اقتصادی عام فلاح وبہبود کے اندر ہی محدود رکھیں، تاکہ فرقہ پرستی کی منافرت بھی جگہ نہ پاسکے اور ملک صحیح معنی میں ترقی پذیر اور خوش حال بن سکے۔
(ج) ہند کے دستور میں گارنٹی دی گئی ہے کہ ہر فرقہ کے پرسنل لاء اور مذہبی معاملات کی حفاظت کی جائے گی۔ اور سیکولرزم اور جمہوریت کے پیش نظر ملک کے تمام باشندے سماجی، ملکی اور اقتصادی معاملات میں برابر سمجھے جائیں گے۔ اس لیے ہماری رائے یعنی ’’ووٹ‘‘ اس قومی جماعت کی امانت ہے، جو عملی طور پر اور تجرباتی اعتبار سے ان امتیازی مقاصد کی آئینہ دار ہو۔
جمعیت علمائے ہند ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو دوہرادینا از بس ضروری سمجھتی ہے کہ مذکورہ بالا اہم امور کا لحاظ رکھتے ہوئے جمعیت علما کا کوئی رکن یا ہمدرد – جو کسی بھی قومی جماعت کا الیکشن میں حامی یا شریک ہو- اس کو یہ ہرگز فراموش نہ کرنا چاہیے کہ مختلف قومی جماعتوں میں رہتے ہوئے بھی ان کی جدوجہد اور ان کا طریق کار جمعیت علمائے ہند کے نظام کی پراگندگی اور انتشار کا باعث نہ بنے۔ اور جمعیت علما کے مذہبی نظام جماعت کی بقا و استحکام کو ہر حالت میں مقدم رکھنا اپنا فرض سمجھے۔
انتخابی جدوجہد سے متعلق جو فیصلہ جمعیت علمائے ہند نے سطور بالا میں دیا ہے، یہی مشورہ اپنے ارکان و ہمدردان کے علاوہ ہند یونین کے تمام مسلمانوں کو دیتی ہے۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍66-67)
لہذا اس موقف کی بنیاد وقتی مصلحت نہیں؛ بلکہ تقریباً نصف صدی کے تجربات، اور تقسیم ہند کے نتیجے میں ہونے والی وسیع تباہی کے مشاہدے پر ہے۔ اسی پس منظر میں جمعیت علمائے ہند نے ایک ایسا اصولی فارمولا اختیار کیاہے، جو کثرت میں رہنے والی اقلیت کے تحفظ کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے تحت اس کے اراکین کے لیے کسی بھی فرقہ وارانہ سیاسی جماعت سے وابستگی پر بازپرس کی جاتی ہے۔ لہٰذا موجودہ حالات میں جو افراد اس مؤقف کو محض جذباتی زاویے سے دیکھتے ہیں اور اس کے تاریخی و فکری پس منظر کو نظر انداز کرتے ہیں، درحقیقت وہ تاریخ سے سبق نہ لینے کی اسی غلطی کو دہرا رہے ہیں، جس کے نتائج ماضی میں نہایت بھیانک صورت میں سامنے آ چکے ہیں۔

















