محمد یاسین جہازی
1. 1291ء میں حضرت مولانا کمال الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیرو مرشد حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے دھار(مدھیہ پردیش) تشریف لائے ۔
2. بعہد سلطان علاء الدین خلجی، فتح مالوہ کی خوشی میں مولانا کمال الدین چشتی کی تشریف آوری کے پندرھویں سال 1305 ء میں جامع مسجد مولانا کمال کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔
3. اور دو سال بعد 1307میں مکمل ہوا۔
4. مولانا کمال الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ 1332ءیعنی تا وفات مسجد سے متصل تعمیر شدہ کمرہ میں رہے اور وہیں تدفین عمل میں آئی۔
5. مولانا کمال الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے 130 سال بعد 1462 ء میں سلطان محمود خلجی اول نے آپ کے مزار پر مقبرہ اور گنبد کی تعمیر کرائی۔
6. سفر نامہ ابن بطوطہ جلد دوم،ص/ 274(شائع شدہ 1798ء) میں بھی اسے مسجد ہی کے نام سے تذکرہ کیا گیا ہے ۔
ان تمام حقائق کے باوجود اب 2026 میں یعنی 721 سال بعد فرقہ پرست کہہ رہےہیں کہ جامع مسجد مولانا کمال کو مندر توڑ کر بنایا گیا تھا ۔ یہ تو علم و تحقیق اور سچائی کے ساتھ کھلواڑ ہے، جو عدالت کھیل رہی ہے ۔
یاد رہے کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 15/ مئی 2026 بروز جمعہ،مسلم فریق (مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی وغیرہ) کے دلائل مسترد کرتے ہوئے کمال مولیٰ مسجد (بھوج شالہ کمپلیکس) کو ہندو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دے دیا ۔ نعوذ باللہ من ذالک
محمد یاسین جہازی



















